کرونا وائرس: بائیولوجیکل ہتھیار یا قدرتی آفت؟

La Alma نے 'طب اور صحت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 29, 2020

  1. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    16,467
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    It is very interesting that a politician decides that no quarantine is required and physicists and electrical engineer debate over biological issue like an expert as they has access to research journals.
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  2. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    2,861
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    کیا آپ کو واقعی نہیں پتہ کہ ویکسین کا امیون سسٹم کے ساتھ کیا تعلق ہوتا ہے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1
  3. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    16,467
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    سنجیدہ نہ لینے کا مطلب یہ ہے کہ ذاتی حملے کیے جائیں تو میں خاموشی پر اکتفا کروں گا۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  4. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    16,467
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    It is very interesting that a politician decides that no quarantine is required and physicists and electrical engineer debate over biological issue like an expert as they has access to research journals.
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  5. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    2,861
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    We do have access to research journals. Just because you refuse to read and understand them, the journals or access to them does not stop existing.
     
    • زبردست زبردست × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    16,467
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    let a subject expert be given an authority to decide. we can not be master of all trades.
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  7. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    2,861
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    اچھا نکتہ ہے۔ کیا آپ کے خیال میں نیچر جیسے تحقیقی جریدے کو کوئی "چھوٹی موٹی" اتھارٹی سمجھا جا سکتا ہے؟
     
    • زبردست زبردست × 3
  8. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    16,467
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    ایک میڈیکل ڈاکٹر فزکس کے ریسرچ پیپر پڑھ کر کسی طبیعاتی مسئلے کے بارے میں حتمی رائے دے سکتا ہے ؟
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  9. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    2,861
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    کیا وہ ریسرچ پیپر میں نکالا گیا نتیجہ پڑھ کر بتا سکتا ہے کہ محقق کیا کہہ رہا ہے؟ کیا اگر وہ چاہے تو اس کے بارے میں مزید مطالعہ کر سکتا ہے؟
     
    • زبردست زبردست × 3
  10. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    2,861
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    مزید یہ کہ اتھارٹی پر سوال کریں گے تو سوال آپ کی اتھارٹی پر بھی آئے گا۔ خاص طور پر اگر آپ کا دعویٰ ہو کہ آپ ڈاکٹر نہ ہونے کے سبب کسی اصل اتھارٹی سے تصدیق شدہ ریسرچ پیپر کا نکالا گیا نتیجہ پڑھ کر بھی یہ نہیں سمجھ پاتے کہ اس میں لکھا کیا ہے۔ ایسے میں آپ کے پیش کیے گئے مفروضوں کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے، اس کا فیصلہ آپ خود ہی کر کے بتا دیں۔
     
    • زبردست زبردست × 3
    • متفق متفق × 1
  11. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    16,467
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    ایک ریسرچ پیپر بہت سپیسفک مسئلے پر بات کر رہا ہوتا ہے اور اس بنیاد پر جنرک فیصلہ دینا غلط ہے۔ اس ریسرچ پیپر کی بنیاد پر آپ مضمون میں تبحر کا دعوی نہیں کر سکتے لہذا جنرک فیصلہ یا رائے بھی نہیں دے سکتے ۔یہ رائے صرف سبجیکٹ ایکسپرٹ ہی دے سکتا ہے۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  12. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    16,467
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    بالکل درست
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  13. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    2,861
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    سبجیکٹ ایکسپرٹ اس ریسرچ پیپر میں رائے دے چکا ہے۔ اس ایکسپرٹ کو پئیر ریویو کے پراسیس کے ذریعے دیگر ایکسپرٹس نے جائزہ لے کر تصدیق کر دی ہے کہ اس کی بات میں وزن ہے۔ پیپر کے الفاظ بھی کوئی مبہم نہیں ہیں، بہت واضح الفاظ میں وہ اپنا نتیجہ پیش کرتا ہے۔ اب بتائیں کہ آپ اس پر بات کرنے سے اتنا کترا کیوں رہے ہیں؟ نتیجہ پسند نہیں اس لیے؟
     
    • زبردست زبردست × 3
  14. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    16,467
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    ڈیٹ کنکلوڈ۔ کیری آن۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  15. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    2,861
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    جی بالکل۔کیری آن۔ باقی ہر شے کو ثبوت کے طور پر مان لینا ہے لیکن آتھنٹک ریسرچ کا نام آتے ہی دوڑ لگا دینی ہے۔
     
    • زبردست زبردست × 2
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • متفق متفق × 1
  16. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    16,467
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    بھیا مزید بحث سے اجتناب کرنا اچھا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  17. سین خے

    سین خے محفلین

    مراسلے:
    2,329
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    ممراض (pathogens) کا کسی جانور سے انسان کو ہوسٹ بنانا متعدد مراحل میں ممکن ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سازگار حالات کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی اور جاندار سےکوئی بھی رینڈم وائرس ایسے ہی انسانی آبادی کو ٹارگٹ کرنے نہیں لگ جاتا ہے۔ اس کے پیچھے پورا میکنزم ہے۔

    Addressing Complexity in Microbial and Host Communities - Ending the War Metaphor - NCBI Bookshelf

    A species jump requires several steps to be successfully completed. These have been described as exposure, infection, spread, and adaptation (Antia et al., 2003; Woolhouse et al., 2005). Exposure refers to potentially infectious contacts between the new and existing host populations. This will reflect their geographic distributions, ecologies, and behaviors, as well as the modes of transmission of the pathogen (e.g., vector-borne pathogens do not require close contact between the two hosts).

    اگر کوئی تفصیل پڑھنے میں دلچسپی رکھتا ہو تو ان مراحل کے بارے میں پیپر کے سیکشن Species Jump میں اس کے بارے میں پڑھا جا سکتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 1
  18. سین خے

    سین خے محفلین

    مراسلے:
    2,329
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    پہلا آرٹیکل چینی بائیولوجیکل ویپنز پروگرامز کے بارے میں ہے۔ زیادہ شک ووہان انسٹیٹیوٹ پر کیا گیا ہے جو کہ اس مارکیٹ سے کچھ ہی دور واقع ہے جہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ SARS-COV-2 وائرس کا آؤٹ بریک ہوا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ چین میں بائیو ویپنز بنانے کے لئے جتنے بھی وائرسز کا اس آرٹیکل میں ذکر ہے وہ سارے کے سارے انسانوں کو پہلے ہی انفیکٹ کرتے رہے ہیں۔ اسی آرٹیکل میں بیان دیکھئے

    “This means the SARS virus is held and propagated there, but it is not a new coronavirus unless the wild type has been modified, which is not known and cannot be speculated at the moment,” he said.

    کیا کہا جا رہا ہے؟ مسلسل اس آرٹیکل میں SARS وائرس کی بات کی گئی ہے جس کا آؤٹ بریک 2004 2002 میں ہوا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس پر ریسرچ ہوتی تھی لیکن یہ کوئی نیا وائرس نہیں ہے اور سارس کی وائلڈ ٹائپ کو اگر تبدیل کیا گیا ہے تو اس کے بارے میں معلومات نہیں ہیں۔

    جب تک SARS COV 2 پر ریسرچز سامنے نہیں آئی تھیں یہی سمجھا جاتا تھا کہ سارس وائرس کی جینیاتی تبدیلی کر کے یہ نیا وائرس بائیو ویپن کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ لیکن ریسرچز سے ثابت ہو چکا ہے کہ SARS COV 2 جانوروں سے منتقل ہوا ہے اور یہ انسانوں کو انفیکٹ کرنے والے وائرسز میں سے کسی کی بھی تبدیل شدہ شکل نہیں ہے۔

    جہاں تک دوسرے آرٹیکل کا تعلق ہے اس میں امریکا کے بائیو ویپنز فیسلٹیز اور کسی کورونا وائرس کی ویکسین، پیٹنٹ وغیرہ پر بات کی گئی ہے۔ سائنسی بنیادوں پر ثبوت فراہم نہیں کئے گئے ہیں۔ اور جہاں تک اسرائیل میں بننے والی ویکسین کی خبر کا تعلق ہے تو وہ فیک نیوز ثابت ہوئی ہے۔

    False claim: Coronavirus vaccine approved in Israel, set for mass production and distribution
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • زبردست زبردست × 1
  19. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    3,239
    آپ لے دماغ میں اس طرح کی باتیں آتی کیسے ہیں. بس یہ بتادیجیے
     
    • پر مزاح پر مزاح × 6
  20. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    3,239
    کیا آپ کے کمپیوٹر میں پر مزاح کا آپشن نہیں ہے
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1

اس صفحے کی تشہیر