گلزار کتنی گرہیں کھولی ہیں میں نے

نیرنگ خیال

لائبریرین
کتنی گرہیں کھولی ہیں میں نے
کتنی گرہیں اب باقی ہیں

پاؤں میں پائل
باہوں میں کنگن
گلے میں ہنسلی
کمر بند، چھلّے اور بِچھوے
ناک کان چِھدوائے گئے ہیں
اور زیور زیور کہتے کہتے
رِیت رواج کی رسیوں سے میں جکڑی گئی

اُف
کتنی طرح میں پکڑی گئی

اب چِھلنے لگے ہیں ہاتھ پاؤں
اور کتنی خراشیں اُبھری ہیں
کتنی گرہیں کھولی ہیں میں نے
کتنی رسّیاں اتری ہیں

اَنگ اَنگ، میرا روپ رنگ
میرے نقش نین، میرے بول بین
میری آواز میں کوئل کی تعریف ہوئی
میری زلف سانپ، میری زلف رات
زلفوں میں گھٹا، میرے لَب گلاب
آنکھیں شراب
غزلیں اور نظمیں کہتے کہتے
میں حُسن اور عشق کے افسانوں میں جکڑی گئی

اُف
کتنی طرح میں پکڑی گئی

میں پوچھوں ذرا
آنکھوں میں شراب دِکھی سب کو
آکاش نہیں دیکھا کوئی
ساون بھادو تو دِکھے مگر
کیا درد نہیں دیکھا کوئی

فن کی جِھلّی سی چادر میں
بُت چِھیلے گئے عریانی کے
تاگا تاگا کر کے، پوشاک اُتاری گئی
میرے جسم پہ فن کی مشق ہوئی
اور آرٹ کا نام کہتے کہتے
سنگِ مرمر میں جکڑی گئی

اُف
کتنی طرح میں پکڑی گئی

بتلائے کوئی، بتلائے کوئی
کتنی گرہیں کھولی ہیں میں نے
کتنی گرہیں اب باقی ہیں​

 

باباجی

محفلین
واہ

اَنگ اَنگ، میرا روپ رنگ​
میرے نقش نین، میرے بول بین​
میری آواز میں کوئل کی تعریف ہوئی​
میری زلف سانپ، میری زلف رات​
زلفوں میں گھٹا، میرے لَب گلاب​
آنکھیں شراب​
غزلیں اور نظمیں کہتے کہتے​
میں حُسن اور عشق کے افسانوں میں جکڑی گئی

میں پوچھوں ذرا​
آنکھوں میں شراب دِکھی سب کو​
آکاش نہیں دیکھا کوئی​
ساون بھادو تو دِکھے مگر​
کیا درد نہیں دیکھا کوئی​

فن کی جِھلّی سی چادر میں​
بُت چِھیلے گئے عریانی کے​
تاگا تاگا کر کے، پوشاک اُتاری گئی​
میرے جسم پہ فن کی مشق ہوئی​
اور آرٹ کا نام کہتے کہتے​
سنگِ مرمر میں جکڑی گئی
 

جاسمن

مدیر
گلزار اتنے منفرد انداز سے لوگوں کے نازک نازک اور حساس احساسات کو کیسے محسوس کر لیتے ہیں۔۔۔۔!!!
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
واہ

اَنگ اَنگ، میرا روپ رنگ
میرے نقش نین، میرے بول بین
میری آواز میں کوئل کی تعریف ہوئی
میری زلف سانپ، میری زلف رات
زلفوں میں گھٹا، میرے لَب گلاب
آنکھیں شراب
غزلیں اور نظمیں کہتے کہتے
میں حُسن اور عشق کے افسانوں میں جکڑی گئی

میں پوچھوں ذرا
آنکھوں میں شراب دِکھی سب کو
آکاش نہیں دیکھا کوئی
ساون بھادو تو دِکھے مگر
کیا درد نہیں دیکھا کوئی​

فن کی جِھلّی سی چادر میں
بُت چِھیلے گئے عریانی کے
تاگا تاگا کر کے، پوشاک اُتاری گئی
میرے جسم پہ فن کی مشق ہوئی
اور آرٹ کا نام کہتے کہتے
سنگِ مرمر میں جکڑی گئی
شکریہ فراز بھائی :)

لاجواب شراکت۔
گلزار صاحب کی شاعری محسوسات کی عکاس ہوتی ہے۔
بلاشبہ سر۔۔۔۔ :)

گلزار اتنے منفرد انداز سے لوگوں کے نازک نازک اور حساس احساسات کو کیسے محسوس کر لیتے ہیں۔۔۔۔!!!
میری طرح ۔۔۔۔ :p

دل کو چھو لینے والا انتخاب۔
بہت عمدہ۔
شکریہ نیرنگ بھائی
جنااااب۔۔۔۔ :)

نہایت عمدہ شراکت ہے۔
شکریہ لاریب۔۔۔ :)

شکریہ سر۔۔۔۔۔ :)
 

محمداحمد

لائبریرین
واہ واہ!

کیا کمال نظم ہے۔ سچی کھری، تلخ اور لاجواب کر دینے والی۔

میں پوچھوں ذرا
آنکھوں میں شراب دِکھی سب کو
آکاش نہیں دیکھا کوئی
ساون بھادو تو دِکھے مگر
کیا درد نہیں دیکھا کوئی​

واہ

فن کی جِھلّی سی چادر میں
بُت چِھیلے گئے عریانی کے
تاگا تاگا کر کے، پوشاک اُتاری گئی
میرے جسم پہ فن کی مشق ہوئی
اور آرٹ کا نام کہتے کہتے
سنگِ مرمر میں جکڑی گئی

سچ کہا!

افسوس !

سچ کہا!
 

غدیر زھرا

لائبریرین
میرے پسندیدہ کلام میں سے ایک..اسے سنا پہلے پڑھا بعد میں..کیا خوبصورت شراکت ہے شکریہ نین بھیا :)
 
Top