متروکہ کلام سے ایک اور پرانی نظم پیش کرنے کی جسارت کررہا ہوں کہ آپ دوستوں کا یہی تقاضا تھا ۔ اس نظم کا نام اردو میں نہ ہونے کے لئے معذرت۔ باوجود کوشش کے ڈیژا وُو کا اردو متبادل مجھے نہیں مل سکا ۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ڈیژا وُو عالمی طور پر شاید ہر زبان میں معروف ہے اس لئے اسی عنوان کو برقرار رکھتا ہوں ۔ آپ اپنی رائے سے ضرور آگاہی بخشئے گا ۔ ممنون رہوں گا۔


ڈیژا وُو

(جھیل مشی گن کےکنارے)

٭

جھیل کی سرد ہوا ہے یہ مرے چاروں طرف
یا کسی بھولی ہوئی یاد کا جھونکا ہے کوئی
مجھے چُھوتی ہوئی گذری ہے تو محسوس ہوا
جیسے اک یاد کے یخ بستہ دریچے پہ کہیں
عکسِ امروز نے موہوم سی دستک دی ہے
اسقدر ماند ہے اس موجۂ احساس کی رو
سرمئی دھند میں لپٹا ہوا دن ہو جیسے
یادِ ماضی کا یہ بھولا ہوا لمحہ بھی کبھی
وقت کی رو میں گلابوں کی طرح تازہ تھا
اپنے ماحول کے سب رنگوں کی ساری حدت
اپنے دامن میں لئے پوری طرح زندہ تھا
جیسے ہوتا ہے مگر ویسے ہی رفتہ رفتہ
فکرِ فردا کے زمستانوں کی ژالہ باری
تہ بہ تہ دل کی زمیں پرہوئی ایسے شب و روز
منجمد ہو گئے سوئی ہوئی یادوں کے نقوش
آج اس جھیل مشی گن کے کنارے سے اِ دھر
ہلکی برسات میں بھیگے ہوئے گیلے پتے
اپنی رعنائی کی خوشبو سے مہک کر خود ہی
تال پر بوندوں کی بجنے لگے دھیرے دھیرے
دُور اک موجۂ بےتاب نے اٹھ کر جیسے
ساتھ اُڑتے ہوئے سِیگل کا چمکتا سا بدن
ذرا دھیرے سے چُھوا اور یونہی چھوڑ دیا
جانے کیا وعدۂ و پیماں ہوئے اُس لمحے میں
پاس اک شرمگیں چہرے پہ دھنک پھیل گئی
گل ستاں جیسے سمٹ جائے کسی غنچے میں
رقص کرتی ہوئی کچھ شوخ سی بیباک ہوا
اک کھلی زلف سے اُلجھی تو یہ سوچا میں نے
جھیل کی سرد ہوا ہے یہ مرے چاروں طرف
یا کسی بھولی ہوئی یاد کا جھونکا ہے کوئی
یہ سمے مجھ پہ کہیں پہلے بھی ہو گذرا ہے
یا کہیں میرے تصور کا یہ دھوکا ہے کوئی

٭٭٭

ڈور کاؤنٹی (وسكانسن)۔۔۔۔ ۲۰۰۲

 
آخری تدوین:

فاخر رضا

محفلین
چاہے یہ ڈیجاوو ہو یا ہو، اس پریشانی میں اس جھیل کا مزہ کیوں کرکرا کیا جائے. جب بھی یہ والی فیلنگ آئے ایسے سوچیے.
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس جگہ پھر سے چلے جائیے. اس کے بعد یہ فیلنگ نہیں ہوگی

بہت اچھی منظر کشی کی ہے آپ نے
 
ماضی میں کچھ (ترقی پسند مزاحمتی وغیرہ ) تحریکوں سے باقاعدہ وابستگی رہی ؟ :)
یا محض لفظوں کی حد تک اثر قبول کیا
مجھے ایک "چھاپ" سی جھلکتی نظر آرہی ہے نظم میں :)
ویسے نظم پسند ائی ظہیر بھائی ۔کلام کو بیک قلم مرفوع کرنا بہر حال ٹھیک نہیں شاید پہلے بھی کہیں کہہ چکا ہوں ۔
شاد آباد رہیں ۔ مولیٰ سلامت رکھے ہمیشہ ۔
رقص والی لائن میں شاید "اک" کتابت میں چھوٹ گیا ہے اور قاری کو لڑکھڑا دے رہا ہے۔۔
 
آخری تدوین:
چاہے یہ ڈیجاوو ہو یا ہو، اس پریشانی میں اس جھیل کا مزہ کیوں کرکرا کیا جائے. جب بھی یہ والی فیلنگ آئے ایسے سوچیے.
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس جگہ پھر سے چلے جائیے. اس کے بعد یہ فیلنگ نہیں ہوگی

بہت اچھی منظر کشی کی ہے آپ نے
فاخر بھائی ، اس جگہ چلا تو جاؤں لیکن بیس سال پہلے والا ظہیر کہاں سے لاؤں گا ۔ اور پھر یہ کہ بات صرف جگہ کی نہیں بلکہ اس وقت کے ماحول اور محاکات کی بھی ہے ۔ وہ تو اب دہرانے سے رہے ۔ اگر ہوسکے تو ہماری یہ غزل پڑھئے گا ۔
اے وقت ذرا تھم جا ، یہ کیسی روانی ہے
آنکھوں میں ابھی باقی اک خوابِ جوانی ہے
 
بہت خوب ظہیر بھائی، عمدہ کلام
ایک مفت مشورہ :)
سردیوں میں ایسے کلام سے پرہیز کریں یقین مانیں ایک بار تو جھرجھری آ کے رہ گئی :p
مفت کا ہے تو قبول ہے ۔
چنانچہ آئندہ نظم پوسٹ کرتے وقت شروع ہی میں لکھ دیا کروں گا کہ یہ نظم سوئٹر اور دستانے پہن کر پڑھنی ہے یا پنکھا چلا کر ۔
 
ماضی میں کچھ (ترقی پسند مزاحمتی وغیرہ ) تحریکوں سے باقاعدہ وابستگی رہی ؟ :)
یا محض لفظوں کی حد تک اثر قبول کیا
مجھے ایک "چھاپ" سی جھلکتی نظر آرہی ہے نظم میں :)
ویسے نظم پسند ائی ظہیر بھائی ۔کلام کو بیک قلم مرفوع کرنا بہر حال ٹھیک نہیں شاید پہلے بھی کہیں کہہ چکا ہوں ۔
شاد آباد رہیں ۔ مولیٰ سلامت رکھے ہمیشہ ۔
رقص والی لائن میں شاید "اک" کتابت میں چھوٹ گیا ہے اور قاری کو لڑکھڑا دے رہا ہے۔۔
سید عاطف علی بھائی ، پچھلی نظم پر آپ کے مشورے کے بعد ہی سرکلر فائل سے نکال کر یہ نظم پوسٹ کی ہے ۔مشورے اور پذیرائی کے لئے بہت ممنون ہوں ۔ اللہ سلامت رکھے ۔ ٹائپنگ کی خامی درست کردی ہے ۔نشاندہی کے لئے ممنون ہوں ۔
میں نوجوانی میں "سرخا" رہا ہوں ۔ مارکسی ادب کو بہت زیادہ پڑھا اور کسی حد تک اثر بھی قبول کیا ۔ لیکن الحمدللہ ، مالک نے کبھی مذہبی عقائد میں خلل نہیں آنے دیا ۔ میں سماجی انصاف (سوشل جسٹس) کا بڑا حامی ہوں اور سمجھتا ہوں کہ اسلام کے معاشرتی ڈھانچے میں سماجی انصاف اور مساوات کو بہت اہمیت ہے ۔ ہمیں سوشلزم سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے ۔ ہر نظام میں کچھ نہ کچھ اچھی باتیں ضرور موجود ہیں ۔
اس تھوڑا لکھے کو بہت جانئے ورنہ فتویٰ بریگیڈ حرکت میں آجائے گا اور پھر جواب در جواب در جواب کا وقت کہاں سے لاؤں گا۔ :)
 
عمدہ
یادداشت کا حصہ ہے کہ یونیورسٹی میں ڈیژا وو سنڈروم کے بارے میں سر نے ایک مصرع کے ذریعے سمجھایا تھا
یہ تو وہی جگہ ہے گزرےتھے ہم جہاں سے

میرا بھی یہی خیال ہے کہ تقریباً ہر اردو دان ہی ڈیژا وو کے لفظ سے واقف ہے اور اب اس لفظ کو اردو کا حصہ ہی جاننا چاہئے ۔
 
'چاہئے' دُرست ہے یا 'چاہیے'، یہ بھی آپ کو ہی بتانا ہو گا۔
املا کمیٹی کی سفارشات کے مطابق چاہیے لکھنا چاہیے کہ اس میں "ی" کا ماقبل مکسور ہے ۔
ایک جگہ پہلے بھی کسی مراسلے میں لکھا تھا کہ صدیوں سے رائج متنازع الفاظ کے املا کی بحث درست اور غلط سے متعلق نہیں ہے بلکہ ایک معیاری املا کو فروغ دینے کی ایک سعی ہے ۔ میری پوری کوشش ہوتی ہے کہ املا کمیٹی کی سفارشات پر عمل کیا جائے لیکن جیسا کہ پہلے بھی کئی دفعہ عرض کیا ایک عمر کی عادت ہے جاتے جاتے ہی جائے گی۔ کبھی کبھی بے دھیانی میں عادت کے مطابق چاہئے لکھ جاتا ہوں لیکن آپ اسے چاہیے ہی پڑھا کریں ۔ :)
 
باباجی بھائی ، اس ربط پر جو تحریر ہے اس کے مصنف کا نام کہیں نظر نہیں آیا ۔ جس طرح ان صاحب نے وضاحت کی ہے اس سے تو یہ دیدِ قبلاً مجھے "ایجادِ بندہ" لگ رہا ہے ۔ اگر خود ہی گھڑنا ہے تو اس سے زیادہ بہتر ترکیب گھڑنا بھی ممکن ہے ۔
 
آخری تدوین:

بابا-جی

محفلین
باباجی بھائی ، اس ربط پر جو تحریر ہے اس کے مصنف کا نام کہیں نظر نہیں آیا ۔ جس طرح ان صاحب نے وضاحت کی ہے اس سے تو یہ دیدِ قبلاً تو مجھے "ایجادِ بندہ" لگ رہا ہے ۔ اگر خود ہی گھڑنا ہے تو اس سے زیادہ بہتر ترکیب گھڑنا بھی ممکن ہو ۔
اِسے دیکھ لیں۔
 
آخری تدوین:
Top