ڈینگی مچھر پرریسرچ کاامریکی مرکزبرسوں لاہور میں کام کرتا رہا

dxbgraphics نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 10, 2011

  1. dxbgraphics

    dxbgraphics محفلین

    مراسلے:
    5,249
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. عسکری

    عسکری معطل

    مراسلے:
    18,520
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Daring
    امت اخبار والوں کا دماغ خراب ہو گیا ہے اور کچھ نہیں ہر چیز میں امریکہ سی آئی اے سازش بس؟ یہ بیماری سینکڑوں سال پرانی ہے اور ہر اس جگہ ہو گی جہاں آپ صفائی نہیں کریں گئ پانی جمع کریں گے ۔ حد ہوتی ہے پروپیکنڈے کی بھی ۔:biggrin: کبھی یہ خود بھی کچھ کرتے ہیں؟ یا ساری دنیا کو وہی چلا رہے ہیں؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  3. دوست

    دوست محفلین

    مراسلے:
    13,075
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Fine
    چلو جی انہوں نے تو ہزاروں میں ادھر چھوڑے ہوں گے۔ مملکت خداداد کے عوام کی مہربانی سے کروڑوں ہو گئے۔ اور بڑھ رہے ہیں۔ بس ایسی خبروں سے ہی دل پشوری ہو سکتی ہے اب، ڈینگی تو آمُکے گا نئیں۔
    اوئے امت والیو۔ کیہڑا ماما اہے تہاڈا جیہڑا سازشی نیوز "ان سائیڈ" جا کے لے کے آندا اے۔:confused:
     
  4. ام نور العين

    ام نور العين معطل

    مراسلے:
    2,026
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
  5. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    تازہ ترین اور نہایت معتبر اطلاعات کے مطابق امریکیوں نے ایک وائرس تخلیق کیا ہے جسکا نام ڈینگی رکھا گیا ہے۔۔۔ماہرین نے بتایا ہے کہ یہ وائرس جس شخص کو کاٹ لے وہ ڈینگیں مارنا شروع ہوجاتا ہے اور ڈنگ ٹپاؤ پالیسیاں اختیار کرتے ہوئے ہر وہ کام سرانجام دینے لگتا ہے جسے بزبان پنجابی ڈینگا کہا جاتا ہے۔ شنید یہ ہے کہ اسے سوات اور قبائلی شورش زدہ علاقوں میں کچھ ڈھور ڈنگروں پر آزمایا گیا جس کے نتیجے میں انہیں اپنے سوا ہر شخص صراط مستقیم سے بھٹکا ہوا یعنی ڈینگے راستوں کا راہی لگنے لگا ہے جنانچہ تمام وائرس زدہ اشخاص بڑی شد و مد سے اپنے سے مختلف سوچ رکھنے والوں کا قلع قمع ایک مقدس فریضے کی طرح پوری تندہی سے انجام دے رہے ہیں۔۔۔
    ہم امریکیوں کی اس مکروہ سازش کی مذمت کرتے ہیں اور شہباز شریف سے استدعا کرتے ہیں کہ متاثرہ علاقوں پر فوری طور پر ڈیئنگی مار سپرے کیا جائے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
  6. اظفر

    اظفر محفلین

    مراسلے:
    782
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    علاج کی سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے ڈینگی مشہور ہو گیا ہے :eek:
     
  7. عظیم اللہ قریشی

    عظیم اللہ قریشی محفلین

    مراسلے:
    2,583
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Tolerant
    اصل میں اس قسم کی خبروں کی تردید یا استہزائ وہ لوگ اڑاتے ہیں جن کو اس بات کا پتہ نہیں ہوتا ہےیا ان کا ذہن اس بات کو ماننے کو تیار نہیں ہوتا ہے کہ بھلا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ترقی ہافتہ قومیں جراثیمی ہتھیار بھی بناتی ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    205,279
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ روس، امریکہ، بریطانیہ وغیرہ جراثیمی اور مختلف قسم کی زہریلی گیسوں کے ہتھیاروں سے لیس ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  9. دوست

    دوست محفلین

    مراسلے:
    13,075
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Fine
    ڈینگی مچھر کی کہانی چالیس سال پہلے افریقہ سے شروع ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے وہاں بھی امریکہ نے ہی کوئی مرکز قائم کیا ہو۔
     
  10. عسکری

    عسکری معطل

    مراسلے:
    18,520
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Daring
    نہیں دوست بھائی یہ اس سے پرانا ہے اس کو 1775 میں پہلی بار دیکھا گیا تھا اسوقت بھی امریکہ ایسا نا مراد تھا ؟:rollingonthefloor:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. mfdarvesh

    mfdarvesh محفلین

    مراسلے:
    6,524
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    ڈینگی بخار تو بڑی عام سی مثال ہے، امریکہ کے پلیگ بم ایسی لاتعداد بیماریوں سے لیس ہیں
    ہاں
    یہ اور بات ہے کہ نہ تو فواد مانے گا اور نہ پیٹریاٹ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. دوست

    دوست محفلین

    مراسلے:
    13,075
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Fine
    لو جی فیر تے موج ہو گئی۔ انڈیا میں دماغ کا بخار چار سو بچے نگل چکا ہے۔ وہ بھی مچھر سے پھیلتا ہے۔ یہ بخار ادھر آ گیا تو امریکہ کا کوئی اور ریسرچ سنٹر نکل آئے گا لاہور میں۔
     
  13. ساجد

    ساجد محفلین

    مراسلے:
    7,113
    موڈ:
    Question
    موسمیاتی تغیرات ، درجہ حرارت میں اضافہ ، اوزون کی تہہ میں شگاف ، گرین ہاوس گیسز کا زیادہ اخراج ، صحت و صفائی کی ناقص صورت حال ، غیر متوازن خوراک ، کیمیائی و صنعتی فضلےکی تلفی کا غیر مناسب انتظام ، آلودہ پانی ، رِستے ہوئے زیر زمین سیوریج ، جنگلات کی کٹائی، دڑبوں جیسے تازہ ہوا سے محروم گھر، آبادی کا ارتکاز اور اس قسم کے درجنوں عوامل خطرناک بیماریوں کی ابتداء اور افزائش کا سبب بنتے ہیں۔ اسلام کے تمدنی نظام کے باب میں نبی پاک علیہ صلوۃ والسلام نے بھی شہروں کی بے ہنگم آبادی کی بجائے نئے شہر آباد کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس حکم کی حکمت نہ جانے اب بھی ہم لوگوں کی سمجھ میں کیوں نہیں آ رہی۔
    تفصیل سے بعد میں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  14. فرحان دانش

    فرحان دانش محفلین

    مراسلے:
    3,078
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    1982 کےڈینگی کا 2011 کے ڈینگی سے کیا تعلق ؟؟؟؟

    ڈینگی انسانوں کو مارتا ہے اور امت ڈینگیاں مارتا ہے۔ کم عقل طبقہ ہی اس کی خبروں پر یقین کرتا ہوگا۔
     
  15. Fawad -

    Fawad - محفلین

    مراسلے:
    2,163
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    اس طویل مضمون کو پڑھنے کے بعد ايسا لگتا ہے کہ اس مصنف کو مضحکہ خیز سازشی نظریات پر مضبوط يقین ہے. يہ کس طرح ممکن ہے کہ ايک طرف تو امریکہ پاکستان میں ڈینگی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور دوسری جانب پاکستان میں صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے لاکھوں ڈالر خرچ کر رہا ہے؟

    ميں اس سلسلے میں کچھ حقائق اور اعداد و شمار فراہم کرنا چاہوں گا۔ مالی سال 2010 ء کے دوران، امریکی حکومت نے پاکستان میں صحت کے متعلق درپيش خطرات سے نمٹنے کے لئے 221 ملين ڈالر خرچ کيے۔ جس سے نئے حفاظتی ٹیکوںاور ويکسينيشن کی فراہمی کو يقينی بنايا گیا، متعدی اور دیگر بیماریوں پر اعداد و شمار کا جمع کرنا، ان کی تشریح اور عمل درآمد کرنے ميں حکومت پاکستان کی مدد کرنا، انسانی وسائل کی منصوبہ بندی اوران کی صلاحیت کو بہتر بنانا، لاجسٹک اور بنیادی طبی سامان کی حصولی کے نظام ميں بہتری لانا اس امدادی پيکج کا حصہ ہے۔

    امریکی حکومت اکتوبر 2005ء میں شمالی پاکستان ميں آنے والے زلزلے کے بعد امداد اور تعمیر نو کے سلسلے ميں سب سے آگے رہا۔ دیگر عطیہ دہندگان کے ساتھ مل کر امريکہ نے 2.6 ملین زندہ بچ جانے والے لوگوں کے لئے طبی امداد اور سماجی حمایت فراہم کے ساتھ ساتھ ان کی آباد کاری میں مدد کی۔

    يہ قابل غور بات ہے کہ ضرورت مند اور بيمار لوگوں کی مدد کرنے کے بجائے کچھ عناصر ان بے بنیاد الزامات پر اپنی توجہ مرکوز کيے ہوئے ہيں کہ امریکہ ڈينگی کو پاکستان میں ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے جبکہ حقيقت يہ ہے کہ قدرتی طور پر ڈینگی کو حیاتیاتی جنگ کے طور پر استعمال کرنا ممکن ہی نہیں ہے يہ مرض صرف مچھر کاٹنے کی وجہ سے ہی پھیلتا ہے۔ یہ آسانی سے پھیلنے والا جراثيم نہيں ہے مثال کے طور پر ہوا میں بوندوں کے ذریعے پھيلاؤ جو کہ حياتياتی جنگ کے ليے ضروری ہوتا ہے۔

    ڈينگی دنیا بھر ميں ویکٹر سے پيدا ہونے والی وائرل بیماری ہے، يہ Aedes مچھر جس ميں کوئ ايک بھی ڈينگی وائرس ہو، کے کاٹنے کی وجہ سے انسان کے جسم میں منتقل ہوتی ہے۔ يہ بيماری دنیا کے ابر آلود اور نیم ابر آلود عالقوں میں پائ جاتی ہے۔ يہعلامات متاثرہ مچھر کے کاٹنے کے بعد 3-14 دن ظاہر ہوتی ہیں، ڈينگی بخار نومولود بچوں، کمسن بچوں اور با لغوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ورلڈ ہيلتھ ارگنائزیشن کے تخمينے کے مطابق دنیا میں 2.5 ارب افراد جو کہ دنیا کی آبادی کا ایک تہائ سے زائد ہے ايسے علاقوں میں رہائش پذیر ہیں جہاں ڈینگی کے خطرات کا احتمال رہتا ہے ۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    www.state.gov
    http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall
     

اس صفحے کی تشہیر