چھانگا مانگا جنگل

الف نظامی

لائبریرین
لاھور شہر سے پچھتر کلومیٹر کے فاصلے پر تحصیل چونیاں میں چھانگا مانگا کا جنگل واقع ہے جو سیاحت کے ایک مقام کے طور پر تو کافی معروف ہے لیکن گزشتہ ڈیڑھ صدی میں اس کی کس قدر افادیت رہی ہے اس سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔

برطانوی دور میں اٹھارہ سو چھیاسٹھ کے لگ بھگ یہاں جنگل لگانے کا کام شروع ہوا تھا اور تقریباً دو عشروں بعد ہی یہاں لگائے گئے شیشم کے درخت پنجاب کی ایندھن اور عمارتی لکڑی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے لگےتھے۔ اُس کے بعد یہاں شہتوت کے درخت لگائے گئے اور آج بھی سیالکوٹ میں کھیلوں کے سامان میں استعمال ہونے والی اس لکڑی کا بیشتر حصہ چھانگا مانگا کے شہتوت ٹمبر سے پورا کیا جاتا ہے۔ یہاں پاپلر کے درخت بھی لگائے گئے جو ماچس فیکٹریوں کو لکڑی فراہم کرتے ہیں۔

محکمہ جنگلات پنجاب کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ بارہ ہزار پانچ سو دس ایکڑ رقبے پر پھیلے اس جنگل میں اور بھی کئی قسموں کے درخت موجود ہیں جن میں سمبل اور بانس وغیرہ شامل ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اٹھارویں صدی میں اس علاقے میں چھانگا اور مانگا نام سے دو ڈاکو رہتے تھے اور اُنیسویں صدی کے وسط میں جب یہاں جنگل لگانا شروع کیا گیا تو اس کا نام چھانگا مانگا پڑ گیا اور بعد میں یہی نام سرکاری ریکارڈ کا حصہ بن گیا۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ اس جنگل کو پنجاب کا پہلا ایسا درختوں کا ذخیرہ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے جو نہری پانی سے سیراب ہوتا تھا۔ اُنہوں نے بتایا کہ شروع میں عارضی کنویں کھود کر یہاں پانی فراہم کیا جاتا تھا لیکن نہری نظام آنے کے بعد یہ جنگل اُس نظام سے منسلک ہوگیا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں محکمہ جنگلات کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ چھانگا مانگا میں اب بھی بھاپ سے چلنے والے پرانے انجن چل رہے ہیں جو سیاحوں کی خصوصی دلچسپی کا مرکز بنتے ہیں۔ جن ٹرینوں پر جنگل سے لکڑی کاٹ کر باہر لائی جاتی ہے اُن کو یہی انجن چلاتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ چھانگا مانگا میں سیاحوں کے لیے بھی فارسٹ ٹرین چلائی جاتی ہے اور یہاں بِچھے، چھوٹے ٹریک کے ذریعے لوگ جنگل کی سیر بھی کرتے ہیں اور پھر چھانگا مانگا کی جھیل تک پہنچتے ہیں جس کے اِردگرد پکنک کرنے کا انتظام موجود ہے۔

چھانگا مانگا کی جھیل کا نام مہتابی جھیل ہے اور یہاں سیاحوں کے لیے کشتیاں بھی رکھی گئی ہیں۔ اس علاقے میں ایک چڑیا گھر ہے اور سوئمنگ پول بھی، لکڑی کے جھونپڑے بھی ہیں اور ساتھ ہی رہائش کے لیے کئی ریسٹ ہاؤس بھی موجود ہیں۔

تحصیل چونیاں کے ایک رہائشی نے بتایا کہ چھانگا مانگا اور اس کے گرد ونواح میں کئی ایسے گھرانے موجود ہیں جو ریشم کے کیڑے پالنے کا کام کرتے ہیں۔ اس رہائشی کا کہنا تھا کہ یہ جنگل شہتوت کے درختوں سے بھرا ہوا ہے اوراسی کے پتوں
پر ریشم کے کیڑے پلتے ہیں۔

ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر عبدالعلیم چوہدری نے وائس آف امریکہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ چھانگا مانگا کے گرد ونواح کے علاقے میں ریشم کے کیڑے پالنے کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ہوتا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہاں ٹمبر مافیا کی شکل میں کئی گروہ موجود ہیں جو اس جنگل کو مسلسل نقصان پہنچا رہے ہیں۔

اُنہوں نے بتایا کہ شیشم کے جن درختوں سے برسوں بعد انتہائی قیمتی عمارتی لکڑی حاصل ہوسکتی ہے اُن کو مافیا کے یہ لوگ قبل از وقت کاٹ لیتے ہیں جس سے جنگل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتاہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پنجاب کا محکمہ جنگلات اس مافیا کے خلاف کافی موثر کاروائیاں بھی کررہا ہے لیکن اُن کے بقول چھانگا مانگا کے جنگل کو نقصان بھی اس مافیا کی وجہ سے مسلسل پہنچ رہا ہے۔

پنجاب میں درختوں کی صورتحال کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالعلیم چوہدری نے کہا کہ صوبے میں چھانگا مانگا کے علاوہ لوگوں کی ملکیت زمینوں کے کوئی دو لاکھ ایکڑ رقبے پر درخت موجود ہیں تاہم اُن کا کہنا تھا کہ ان میں اور بھی اضافہ ہو تو بہتر ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ دُنیا میں ملک کے پچیس فیصد حصے پر جنگلات کی جو بات کی جاتی ہے اُس کا انحصار ملک میں ہونے والی بارشوں اور پانی کی فراہمی پر ہوتا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بارشیں بھی کم ہوتی ہیں اور پانی کی فراہمی بھی اتنی وافر نہیں ہے لہذا یہاں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ملک کے چار اعشاریہ آٹھ حصے پر درخت موجود ہیں۔

واضح رہے کہ بھارت میں یہ شرح تیئس فیصد ہے۔ ڈاکٹر عبدالعلیم کا کہنا تھا کہ جنگلات کے ضمن میں پاکستان کا بھارت سے موازنہ نہیں ہوسکتا۔ وہاں بارشیں بھی زیادہ ہوتی ہیں اور پانی کی بھی فراوانی ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ جن ملکوں میں اس سے زیادہ بارشیں اور پانی کی فراوانی ہے جیسے یورپ میں ناروے، سویڈن اور ڈنمارک ہیں جہاں ان ملکوں کے چھیاسٹھ فیصد حصے پر جنگلات ہیں۔ اسی طرح ایشیا میں بنگلہ دیش، ویت نام اور کمبوڈیا کے نام لئے جا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر عبدالعلیم چوہدری کا کہنا تھا کہ پنجاب میں سرکاری طور پر جنگلات کا رقبہ کُل رقبے کا تین فیصد ہے جبکہ لوگوں کی ملکیت زمینوں پر جو درخت اُگائے گئے ہیں اُن کو شامل کر لیا جائے تو کُل رقبہ چھ اعشاریہ دو فیصد بن جاتا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ صحیح منصوبہ بندی سے اس میں اضافہ ہوسکتا ہے لیکن جب تک سال میں اوسط بارش بیس انچ نہ ہواُس وقت تک جنگلات میں اضافہ ہونا محال ہوتا ہے لہذا اُن کے بقول پاکستان میں جو جنگلات موجود ہیں اُن کی حفاظت ہونی چاہیے اور لوگوں کی ملکیت زمینوں پر زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جانے چاہئیں تاکہ پاکستان اس صدی کے ماحولیاتی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوسکے۔

بحوالہ : چھانگا مانگا جنگل
 

میم نون

محفلین
یہ چوہدری صاحب کیا فالتو سی بات کر رہے ہیں۔
پاکستان میں درختوں کی کمی کی یہ وجہ نہیں کہ یہاں بارشیں کم ہوتی ہیں، بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ لکڑی کے حصول کے لیئے بہت سے درخت کاٹے جا رہے ہیں جبکہ انکی جگہ نئے درخت نہیں لگائے جاتے، اور اس میں حکومت سب سے بڑی مجرم ہے۔
اگر چھانگا مانگا کو انیسویں صدی میں کنوؤں کے پانی سے سیراب کیا جا سکتا ہے تو اب تو نہری نظام موجود ہے جو کہ بہت ہی آسانی سے استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن اسکے لیئے محنت کرنی پڑتی ہے جوکہ ہم کرنے کو تیار نہیں۔
اورعوام بھی کسی سے کم نہیں، انھیں بھی اپنے حصے کی غلطی ماننی پڑے گی۔
 

بلال

محفلین
ایک بہترین تحریر شریک محفل کرنے کا بہت شکریہ۔
جہاں تک میرا خیال ہے کہ درخت کم ہونے کی وجہ بارش نہیں بلکہ ہم خود ہیں کیونکہ ہمارے گاؤں میں جہاں کبھی بے شمار درخت ہوتے تھے اور ہم وہاں کھیلتے تھے آج وہاں ایک جھاڑی تک نہیں۔ لوگوں نے پرانے درخت تو کاٹ ڈالے لیکن نئے درخت نہیں لگائے۔ ہمارے قریبی شہر سے جو سڑک ہمارے گاؤں کی طرف آتی ہے کسی زمانے میں وہاں اتنے درخت تھے کے سڑک کی کوئی جگہ ایسی نہیں تھی جہاں پر سایہ نہ ہو لیکن آج وہاں کہیں کہیں کوئی درخت نظر آتا ہے۔ اسی طرح اور بھی بے شمار جگہیں ہیں۔ اور تو اور ناران سے آگے لالہ زار میں جب ہم 2006ء کو گئے تھے تب جہاں درخت تھے اب 2010ء میں وہاں درخت کی بجائے کھلا میدان تھا۔ پرانے درخت تو کاٹ ڈالے لیکن نئے کسی نے نہیں لگائے۔
میں نے کئی دفعہ اپنی زمینوں میں درخت لگائے، باقی لوگوں کو بھی درختوں کے فوائد بتاتے ہیں لیکن ہماری عوام کے دماغ میں کوئی بات بیٹھتی ہی نہیں۔بلکہ جو درخت میں لگاتا تھا وہ گاؤں کے بچے خراب کر دیتے یا ”پٹ کے رکھ دیندے“۔ میرے خیال میں ہمیں درخت کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے عوام کو شعور دینا ہو گا۔
پرانے لوگوں کو پتہ نہیں کیا کیا کہنے والی نئی نسل ویسے بڑی باتیں کرتی ہے لیکن اس طرح کے کاموں کی طرف دھیان ہی نہیں دیتی۔ میرے دادا جان کہتے تھے پودا اپنی اولاد کی طرح ہوتا ہے اور جس طرح بچے کو پالا جاتا ہے ایسے ہی درخت کو پالا جاتا ہے اور جس طرح اپنی اولاد سے محبت کرتے ہیں ویسے ہی درختوں سے بھی محبت کرنی چاہئے۔
 

میم نون

محفلین
جی الف نظامی بہت شکریہ،
پچھلے سال تو میں نے بہت زیادہ سبزیاں لگائیں تھیں، لیکن وہاں مٹی کم اور بجری زیادہ تھی تو اگا تو کوئی خاص نہیں تھا لیکن پہلا تجربہ تھا اسلیئے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔
اب امی پاکستان گئیں تھی تو بہت سارے پھلدار درختوں کے بیج منگوائے ہیں(امرود، آم، جامن وغیرہ جوکہ یہاں نہیں ملتے)، لیکن یہاں پر زمین ڈھونڈنا بھی ایک مسئلا ہے، اس سال وقت کم ہے لیکن کوشش کرونگا کہ کچھ نا کچھ اگا سکوں۔
 

mfdarvesh

محفلین
شکریہ، بہت عمدہ تحریر، میں ذاتی طور پر درختوں کا شیدائی ہوں اور کوشش کرتا رہتا ہوں کہ شجرکاری کی جائے، زمین کا حسن درخت ہیں
 
Top