شکیب جلالی چوٹ ہر گام پہ کھا کر جانا - شکیب جلالی

NAZRANA

محفلین
عزیزانِ محترم،
آداب و تسلیمات،
جنابِ شکیب جلالی کا کلام آپ دوستوں
کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں ۔
امید ہے پسند فرمائینگے ۔

چوٹ ہر گام پہ کھا کر جانا
قُربِ منزل کے لئے مر جانا​

ہم بھی کیا سادہ نظر رکھتے تھے
سنگ ریزوں کو جواہر جانا​

مشعلِ درد جو روشن دیکھی
خانہِ دل کو منّور جانا​

رشتہِ غم کو غمِ جاں سمجھے
زخمِ خنداں کو گلِ تر جانا​

یہ بھی ہے کارِ نسیمِ سحری
پتّی پتّی کو جدا کر جانا​

اپنے حق میں وہی تلوار بنا
جسے اک پھول سا پیکر جانا​

(کلامِ شکیب جلالی)​
 

محمد وارث

لائبریرین
آپ نے بالکل صحیح کہا اعجاز صاحب، یہ غزلیں کافی دیر سے میری نظر میں تھیں کہ غزل پر "نظر" رکھنا میں آپ اپنا فرض سمجھتا ہوں :)

اور آپ کے شکریے کیلیئے بہت شکریہ آپ کا۔
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top