چاند

اوکے ، اب بتایں تمام بلیوں والے اوتار بدل گئے؟ آپ کی ہر وقت شعر کی عادت بدل گئی؟

آپ کو ایک مفت مشورہ دوں؟ جناب عزیزامین !
خود کو بدل لیجئے۔ خوش دلی اختیار فرمائیے۔ اپنی مرضی دوسروں پر ’’نافذ‘‘ نہ کیجئے۔
تصویر والی بلی اور چلتی پھری بلی میں بہت فرق ہوتا ہے، چوہوں کی مانند ڈرنا ترک کر دیجئے۔ کوئی خاتون آپ کو ’’انکل‘‘ کہتی ہے تو وہ اپنا اور آپ کا دونوں کا احترام کر رہی ہے، اس پر چِڑنے کی بجائے اس جذبے کی قدر کیجئے۔ اور ہاں، شعر کی بات بھی عرض کرتا چلوں۔ ہر موقع شعر کا موقع ہوتا ہے اگر ذوق ہو، تب!
جس محفل میں جائیے وہاں کے ماحول کو دیکھئے، آپ کو اچھا لگے تو وہاں رہئے نہیں تو وہ جو داخلے کا دروازہ ہوتا ہے نا، وہی دروازہ واپسی کا بھی ہوتا ہے۔

عینی شاہ
 
میں آپ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے آپ کے حلقے میں شامل ہوا ہوں۔ جناب عزیزامین !
آپ چاہیں تو اُسی دروازے سے واپس چلا جاؤں؟ یقین جانئے مجھے کچھ بھی نہیں ہو گا!!۔


مدیحہ گیلانی
ماشاءاللہ انکل بہت خوب معلومات فراہم کی ہیں آپنے ۔۔۔جزاک اللہ۔
موضوع آگے بڑھایئے اور ہمارے علم میں اضافہ فرمایئے۔
 

عزیزامین

محفلین
میں آپ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے آپ کے حلقے میں شامل ہوا ہوں۔ جناب عزیزامین !
آپ چاہیں تو اُسی دروازے سے واپس چلا جاؤں؟ یقین جانئے مجھے کچھ بھی نہیں ہو گا!!۔


مدیحہ گیلانی
مجھے آپ کی آمد سے بے حد خوشی ہو گی میری خواہش ہے یہ ساتھ بنا رہے آمین
 

قیصرانی

لائبریرین
میں آپ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے آپ کے حلقے میں شامل ہوا ہوں۔ جناب عزیزامین !
آپ چاہیں تو اُسی دروازے سے واپس چلا جاؤں؟ یقین جانئے مجھے کچھ بھی نہیں ہو گا!!۔


مدیحہ گیلانی
محترم، مجھے شرمندگی ہے کہ پھر ایک بار سے وہی سلسلہ شروع ہو رہا ہے جس سے ہم نے بصد شرمندگی پیچھا چھڑایا تھا۔ آپ کو ایک مختصر سا ذاتی پیغام بھیج رہا ہوں۔ نظر کرم ڈال لیجئے گا
 

شمشاد

لائبریرین
بھتیجی میں نے کہا تھا ناں کہ عثمان بھائی غصہ ہوں گے۔ اب دیکھ لو ان کے پیغام۔

اور اب تو عزیز امین نے بھی کہہ دیا ہے کہ مجھے بلیوں کی تصویروں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
 

عثمان

محفلین
اور اگر چودہ جنوری تک اوتار میں مانو واپس نہ آئی تو محفل کے احتجاجی زمرے تک لانگ دھاگہ ہوگا۔
 
ہماری زندگی میں ماموں جان کی کتنی اہمیت ہے کہتے ہیں ماما کچھ لے کر ہی آتے ہیں کبھی خالی ہاتھ نہیں۔
ٹھیک ویسے ہی چندہ ماما بھی ہمیں چاندنی اور سہانی روشنی دیتا ہے۔ چاند سے بھرا آسمان اور چاندنی سے بھری زمین دلفریب لگتی ہے دل کو لبھانے والی راتیں جی ہاں !!راتیں تو راتیں ہیں۔مگراندھیری اور چاندنی راتوں میں کتنا فرق ہے۔کیا کبھی آپ نے سوچا کہ آسمان میں اگر چاند نہیں ہوتا تو زمین پر ہماری زندگی کیسی ہوتی۔ راتیں کتنی بھیانک ہوتی بھائیں بھائیں کرتی ڈراونی اتیں شکر ہے اس خدا وند قدوس کا جس نے آسمان کی چھاتی پر چاند کو ٹانک دیا ہے۔کبھی مکمل تو کبھی آدھا جیسا بھی دیکھئے، چاند تو چاند ہے۔
چاندنی رات میں خوشیوں سے بھر جاتا ہے؟ دل کی اس سہانی کیفیت کو بیان کرتے کرتے ادیبوں نے چاند کو بھی پریت (خوبصورتی) کی علامت مان لیا۔ محبوباؤں کے چہرے کے مقابلے چاند سے کر دی۔ لیکن تلسی داس نے رام کے منہ سے سیتا کے چہرے کی خوبصورتی کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ۔
سندرتا کہوں سندر کرئی !
چھوی گرہ دیپ شیکھاجنو برئی !
سب اوپما کوی رہے جٹھاری!
کیہیں پٹتروں ویدیہ کماری!
یعنی خوبصورتی کے لئے تمام اشیا کو شاعر نے جھوٹا کر رکھا ہے۔ ہم ودیہ کماری کی خوبصورتی کا موازنہ کس سے کریں۔
ہندو عقیدت مندوں کے مطابق رام کے سامنے یہ مسئلہ رہا ہوگا تبھی انہوں نے سیتا سے اولین ملاقات میں ان کے حسن کا بیان چاند سے نہیں کیا، لیکن تب سے لے کر آج تک شاعر حضرات محبوباؤں کے خوبصورتی کے مقابلے چاند سے ہی کرتے رہے ہیں۔
چاند کے اندر چرکھا کاتتی بیٹھی بڑھیا کی الگ کہانی ہے، چاند کے اندر کالے دھبے سماج کا عکس ہے ۔
جس طرح صحن، چھت اور کھلے دروازے کا ہماری زندگی میں خاص اہمیت ہے۔سورج کی روشنی ہر جگہ پہنچ جاتا ہے ۔ سورج سے ہم آنکھیں نہیں ملا سکتے۔ سورج جتنا تپتا ہے، ہم اس سے دور ہو جاتے ہیں۔لیکن چاندنی کی رات کو ہم کھلے میں کھانا، کھلے میں سونا، دریا میں نہانا پسند کرتے ہیں۔بعض عقیدت مند مکمل چاندنی رات میں کھیر بنا کر چاندنی میں رکھتے ہیں۔خیال ہے کہ اس رات امرت اوس پڑتی ہے۔کامیابی کےحصول کے متمنی اس رات برسے امرت اوس کو اپنی کھیر کی کٹوری میں سنبھال لیتے ہیں ۔
جس طرح ہمارے یہاں اسلام میں چاند کی اہمیت ہے اسی طرح (میں اس کا ذکر یہاں پر جان بوجھ کر چھوڑ رہا ہوں کہ اوپر لوگوں نے اس پر کافی گفتگو کی ہے) قدیم مذاہب کی کتابوں میں بھی چاند کی خاص اہمیت ہے۔کہا جاتا ہے ’’شیو کی جٹا سے گنگا بہتی ہے،اسی جٹا کے اوپر چاند بھی ہے‘‘۔
ان کتابوں میں سمندر اور چاند کابھی ذکر ہے اور اس میں اسکی خصوصی اہمیت بتائی گئی ہے۔
مگر افسوس زمینی فضاوں میں ہلچل مچانے والا چاند اب ہمارے میٹرو زندگی سے اوجھل ہو رہا ہے۔آنکھوں کوخیرہ کر دینے والی بجلی ۔ بغیر آنگن کے فلیٹ کے سبب چاند آسمان پر آتا تو ہے، مگر ان شہروں میں نظر نہیں آتا۔ لطف کی تلاش میں پانچ ستارہ ہوٹل اور فلیٹوں میں ہم قید ہو جاتے ہیں۔ چاند کسی کھڑکی سے جھانک نہیں سکتا۔ موٹے پردوں کی پرتیں ہیں۔ ایئرکنڈیشن کمرے ہیں۔جس کی وجہ سے چاند اب ہم تک نہیں پہونچ سکتا۔
اس سے نقصان چاند کانہیں، ہماراہو رہا ہے۔ سائنس دوریاں مٹانے کا کام کرتا ہے۔ مگر آج انسان اور چاند کے درمیان دوریاں بڑھ رہی ہیں۔ شاید اسی لیے ہماری زندگی سے خوشیاں اور مسرت بھی ختم ہو رہی ہے۔
میری دادی کہتی ہیں ۔
اب بچوں کے گیتوں میں چندہ ماما نہیں ہے۔
چندہ ماما ارے آب، پارے آب
’’سونا کے کٹوریوں میں دودھ بھات لے لے آببوا کے منہ میں دے گھٹک‘‘۔
بقول دادی اماں ببوا چاند کو دیکھتے دودھ کی کٹوری خالی کر دیتا تھا۔ مگرآج کا منا دودھ چاول نہیں کھاتا۔ ’’میگی‘‘ اور ’’پزا ‘‘کھاتا ہے۔
کھانے دیجئےوقت بدلا ہے۔ مگر چاند نہیں بدلا ہے۔ بے چارا ویسے ہی طلوع ہوتا اور ڈوبتا ہے۔ چاندنی پھیلاتا ہے۔
چاند کو اپنا دوست برقرار رکھنے کی ذمہ داری ہماری ہے۔ کیونکہ چاند ہمارے لئے فائدہ مند ہے، چاند کے لیے ہم نہیں۔ہمارے خاندانی نظام میں بھی ماموں جان بہت دور ہو گئے۔ بہت سے بچے اپنے ماموں جان کو ہی نہیں پہچانتے تو چندہ ماماتو دور کی ماما ہیں ۔چاند سے دور رہ کر ہماری زندگی بد مزہ ہو سکتی ہے ۔چاند پر لوگ جانے لگے۔مستقبل قریب میں چاند پر بیاہ شادی بھی رچاے جا سکتے ہیں۔ پر ماموں جان اور سورج کی چاند بہن والے چاند کی بات ہی کچھ اور تھی۔ چندہ ماماتو سننے میں ہی اچھا لگتا ہے۔مگر اب ۔۔۔۔۔۔۔
 

حسان خان

لائبریرین
ابھی پچھلے محرم میں ہی بوہری فرقہ کے لوگوں نے دو دن پہلے عاشورہ منایا تھا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ بوہری چاند دیکھنے کے بجائے اپنی فاطمی دور کی تشکیل کردہ جدولی تقویم استعمال کرتے ہیں۔ اُس میں نہ صرف عاشورہ، بلکہ ہر تہوار دیگر مسلمانوں کے دنوں سے ایک دو دن پہلے پڑتا ہے، اور یہ صدیوں سے ہوتا آ رہا ہے۔
 
Top