چائے کے ساتھ ٹیلی پیتھی

نور سعدیہ شیخ نے 'محفل چائے خانہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 2, 2018

  1. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,552
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    بے شک اس میں حرج ہی کیا ہے ۔ ایک موضوع پر جب گفتگو ہوتی ہے تو اس کے ہر ایک پہلو کو زیر بحث آنا چاہیئے ۔ سائنسی مزاج کے دوست اور مذہبی یا روحانی معاملات کو نہ سمجھنے والے پر علم کا دروازہ بند تو نہیں ہونا چاہیئے ۔ اسی لیئے ہم دونوں پہلوؤں کو ساتھ ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کریں گے ۔ تاکہ ملٹی ڈائمنشن علم کی پھوار برسے اور سب اس سے مستفید ہو سکیں ۔ کچھ ہم سیکھیں کچھ ہم سکھا سکیں ۔ یہی ایک علمی گفتگو کا مزاج ہونا چاہیئے ۔
     
    آخری تدوین: ‏دسمبر 27, 2018
  2. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,552
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    اب ہم اس موضوع پر دو متوازی طرق سے بحث کریں گے ۔ ایک سائنسی پہلو جس میں اب تک کی تحقیقات اور ان پر اعتراضات و اعتراضات کے جوابات پر بات ہوگی جسےظفریاور میں مل کر چلائیں گے ۔ ان شاء اللہ اور دوسرا پہلو خودشناسی اور روحانیت کے پہلو سے اس پر گفتگو ہوگی جسےنور سعدیہ شیخ اور میں مل کر چلائیں گے ان شاء اللہ۔

    اور اگر کوئی بھی ساتھی اس موضوع کے احاطے کے لیئے کوئی ایسا پہلو جس سے ہم غافل ہوں زیر بحث لانا چاہے تو بھی ان کے ساتھ مل کر میں اس پر گفتگو کرنے کو تیار ہوں کیونکہ معلومات کا تبادلہ اور اس کے تجربات میں تنوع ہی علم کے لیئے زرخیز زمین کا کام کرتا ہے۔

    یہ میری تجویز ہے امید ہے کہ ظفری اور نور اس پر غور فرما کر اپنے فیصلے سے آگاہ فرمائیں گے تاکہ بات کو آگے لے کر چلا جائے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    13,915
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    مجھے یہاں آپ صاحب علم شخصیات سے ایک سوال کا جواب درکار ہے ،
    کیا خیال خوانی یا خیال رسائی کے عمل کرنے کے لیے مطلوبہ شخص کی آواز کا ذہن میں محفوظ ہونا ضروری ہے ؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,552
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں ۔ ریڈیو پر چلنے والے پروگرامز ایک فری کوئنسی پر ہوتے ہیں جنہیں اس فری کوئنسی والے کسی بھی سیٹ پر سنا جا سکتا ہے جبکہ ٹیلیفون کمپنیوں کے موبائل فونز پر کال کرنے یا اسے وصول کرنے کے لیئے ایک مخصوص نیٹ ورک پر ایک مخصوص نمبر ہونا ضروری ہے اسی طرح سے خیال خوانی کے عمومی طریقے کے لیئے آواز یا تصویر کا ہونا بہتر سمجھا جاتا ہے لیکن اگر آپ اس کے بغیر مطلوبہ فریکوئنسی تک پہنچ سکیں تو بالکل ضروری نہیں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    13,915
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    مطلب یہ کہ یہ آپ کی قابلیت پر منحصر ہے ۔
    بہت شکریہ فیصل بھائی ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,552
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    سائنس کی نظر میں ٹیلی پیتھی کی تعریف

    ٹیلی پیتھی کی تعریف (یونانی لفظ ٹیلی کا مطلب "بعید" اورپاتھیا سے مراد درد ، احساس، ادراک، جذبہ، مصیبت، تجربہ") ہے
    اسے کسی شخص کی طرف سے معلومات کے بغیر کسی ظاہری واسطے یا تعلق کے انتقال کے لیئے بطور اصطلاح استعمال کیا جاتا ہے۔ پہلی باربطور اصطلاح اسےایک کلاسیکی اسکالر فریڈرک ڈبلیو ایچ ایرس،جو ایک ذہنی تحقیق کے لئے سوسائٹی کے بانی تھے ، کی طرف سے 1882 میں استعمال کیا گیا - ٹیلی پیتھی کو تجربات میں مناسب کنٹرولز اوردہرایا جانے کی صلاحیت کی کمی کے لئے تنقید کا نشانہ بنایا جا چکا ہے . تجربات، مشاہدہ اور یکساں حالات میں یکساں نتائج حاصل کرنے کی صلاحیت میں مادی طور پر قابل تصدیق نہ ہونے کی وجہ سے موجودہ سائنس اسے خود ساختہ ہونے اور عطائیت کا نام دیتی ہے-

    یورپ میں ٹیلی پیتھی کی تاریخ

    ۱۸۷۳ کا سال ہے ۔ برطانیہ کا شہر لیورپول ہے روحانیت پر کام کرنے والے کچھ لوگ ایک جگہ پر اکٹھے ہوتے ہیں جن میں چارلس مورس ڈیویس، ایڈمنڈ روجرز، تھامس ایوریٹ ، موریل تھیوبالڈ، ولیم سٹان موزیس، ایشام چارلس، سپیر ٹیمپل مین و غیرہ شامل تھے - یہاں ایک ایسوسی ایشن بنانے کا فیصلہ ہوتا ہے تاکہ روحانیت اور ماوراء النفسیات کے مسائل پر تجربات کیئے جا سکیں اس تجویز کو پیش کرنے والے ایڈمنڈ راجرز اور تھامس ایوریٹ تھے ، ابتدائی طور پر اس تنظیم کا کوئی مذہب نہیں تھا لیکن وہ لوگ عیسائیت کے ہم خیال جانے جاتے تھے ۔ اس ایسوسی ایشن کا نام برطانوی روحانیت کاروں کی قومی انجمن رکھا گیا ۔ ا س کی پہلی کھلی میٹنگ سولہ اپریل اٹھارہ سو چوہتر کو سیموئیل ہال کی زیر صدارت ہوئی ،ایک سال میں ہی اس کے ارکان کی تعداد سینکڑوں میں ہو گئی ۔ اسے ۱۸۷۵ میں لندن میں رسل اسٹریٹ پر منتقل کیا گیا - اس کے ارکان میں بڑے بڑے نام شامل تھے جن میں ایک جرمن سائنسدان جو سماوی طبیعیات (آسٹرو فزکس) کا ماہر تھا بھی شامل تھا ۔ خداع بصری پر ابتدائی کام اسی نے کیا تھا اس کا نام تھا جوہان کارل فریڈرک ژالنر - یہاں سے روحانیت پر تحقیقات کا آغاز ہوا اور یہی تحقیقاتی کام آگے چل کر لندن اتحاد بین الروحانیین اور نفسیاتی مطالعہ کے کالج کی بنیاد بنا -

    یہیں سے یورپ میں حیوانی مقناطیسیت اور روحانیت اور پیرا سائیکولوجی کا آغاز ہوا ، یورپ میں اس کا پہلا مظاہرہ بشپ واشنگٹن ارونگ نے کیا لیکن اس کا دعویٰ ٹیلی پیتھی کا نہیں بلکہ عضلہ شناسی کا تھا ۔ اس وقت کے سائنسدانوں کا بھی یہی خیال تھا کہ وہ عضلات کی حرکت سے اندازے لگاتا ہے-

    یہ تو یورپ میں اس کا آغاز ہے (اس علم کی طرف توجہ اور اس کی تاریخ کل ملا کر کل عمر ۱۴۵ برس کم و بیش ) ۔ لیکن مسلمانوں میں اس کا آغاز کیسے ہوا اور اس کا نام کیا تھا اس پر ہم بعد میں بات کریں گے
     
    آخری تدوین: ‏دسمبر 27, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. نور سعدیہ شیخ

    نور سعدیہ شیخ مدیر

    مراسلے:
    5,177
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
  8. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,552
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    پھر یہ تھریڈ بھی بند کر دیجئے ۔ یاد رہے کسی کو خراج تحسین پیش کرنے کا بہترین طریقہ ان کی دی گئی تعلیمات کو اپنانا اور اسے اپنانے والوں کی مدد کرنا ہے ۔ امید ہے کم کو زیادہ سمجھیں گی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  9. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    13,915
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    نور سعدیہ شیخ بہن نایاب بھائی مرحوم بڑی علمی اور روحانی شخصیت ہیں ۔ میں فیصل بھائی سے بھر پور طریقے سے متفق ہوں ۔
    محفل پر نایاب بھائی مرحوم نے 13,423 مراسلے پوسٹ کیے ہیں ، یعنی ان 13,423 مراسلوں میں محفلین کے لیے علم حکمت سے معمور نایاب بھائی کی گفتگو شامل ہے ۔ان کی دعاؤں کی خوشبو محفل کے ہر زمرے میں مہک رہی ہے ۔میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح علمی گفتگو سے آپ کا منہ موڑ لینا کسی طور مناسب عمل نہیں ہوگا ۔ آپ نایاب بھائی کے علمی ذوق سے بے حد لگاؤ رکھتی ہیں۔ آپ سمیت تمام اہل اردو محفل فورم غم اور افسردگی کی کیفیت میں ہے ۔نایاب بھائی کے چلے جانے کا بعد جو خلاء پیدا ہوا ہے شاید وہ کوئی پُر ہی نہیں کرسکتا ۔آپ ان کے ذوق علم کو مدنظر رکھتے ہوئے علم کی روشنی کو خوب پھیلائیں ،یہ طریقہ نایاب بھائی سے بہترین طریقے سے عقیدت کا اظہار ہوگا۔
     
    آخری تدوین: ‏دسمبر 28, 2018
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  10. نور سعدیہ شیخ

    نور سعدیہ شیخ مدیر

    مراسلے:
    5,177
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    آپ صاحبان علم سے متفق ہوں .... ذرا وقت ..... تھوڑا سا
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  11. نور سعدیہ شیخ

    نور سعدیہ شیخ مدیر

    مراسلے:
    5,177
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    میں ان کی تمام روایات برقرار رکھوں گی، ان شاء اللہ
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  12. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    13,915
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    جزاک اللہ خیرا اجر کثیرا ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  13. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,552
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    اب جب تک نور سعدیہ شیخ اور ظفری کا جواب موصول نہیں ہوگا ہم خاموشی سے انتظار کریں گے تاکہ دو کام ہو جائیں۔
    ۱۔ نور کو خود کو سمیٹنے کا موقع مل سکے
    ۲۔ ظفری کا جواب مل سکے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. امجد میانداد

    امجد میانداد محفلین

    مراسلے:
    4,872
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dead
    جسم، اس کی حسیات اور جسم کے کمانڈ سسٹم کے ساتھ ہم آہنگی ہونے کے لیے کسی Fear element کا ہونا ضروری تو نہیں۔ ایک دوسرے کی acceptance یعنی قبولیت کا factor بھی تو ہو سکتا ہے۔ ایک دوسرے سے ربط اور ایک تعلق کا احساس بھی اس اطاعت کا محرک ہو سکتا ہے۔
    بالکل اسی طرح جس طرح کسی گھر میں کوئی خاتون اپنے شوہر کا خیال اس کے یا کسی کے ڈر سے نہیں بلکہ اپنی چاہ کے ہاتھوں رکھے۔ جیسے شوہر پر بیگم کے امورِ خانہ داری میں ہاتھ بٹانے کی وجہ بیگم کی جانب سے کسی قسم کا جذباتی استحصال یا کوئی برتری حاصل ہونے کے بجائے اس کا احساس اور ہاتھ بٹانے کی نیک نیتی کا جذبہ شامل ہو۔ بالکل اسی طرح جیسے کسی گھر کے بچے اپنے والدین کا کہنا اس لیے نہیں مانتے کہ ان سے ڈرتے ہیں بلکہ ان کا کہنا اس لیے مانتے ہوں کہ انہیں ان کے والدین کی باتیں اچھی طرح سمجھ آ چکی ہوں اور وہ اچھا برا سمجھانے سے سمجھ چکے ہوں۔
     

اس صفحے کی تشہیر