چائے کے ساتھ ٹیلی پیتھی

نور وجدان نے 'محفل چائے خانہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 2, 2018

  1. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,645
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ‏{‏وَأَن لَّيْسَ لِلإنسَانِ إلاَّ مَا سَعَى‏}‏ ‏[‏سورة النجم‏:‏ آية 39‏]

    خود پر انسان کا قابو تو اتنا ہے کہ ایک پاؤں اٹھا لے تو دوسرا اٹھانے کے لیئے سہارا درکار ہوتا ہے ۔ باقی سیلف ریگولیٹ کرنے سے پہلے خود کو حوالے کرنا پڑتا ہے اللہ رسول کے جو ہمارا تزکیہ فرماتے ہوئے ہم پر احسان فرماتے ہیں - اور اس راستے پر آپ کی سعی کے علاوہ کچھ نہیں ہے جو آپ کے لیئے ہے الا یہ کہ مالک حقیقی اپنے کرم سے بے حساب عطا فرما دے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  2. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,645
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    خلاصہ تو اتنا ہی ہے کہ
    اللہ کی رسی کتاب اللہ اور سنت رسول ہے ، جس کے سرکار دوعالم علیہ الصلوٰۃ و السلام مولا ہیں حضرت علی علیہ السلام و رضی اللہ عنہ اس کے مولا ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی عترت یعنی اہل بیت کے متعلق بہت محبت کی ہدایت ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  3. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,645
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    وساوس سے بچاؤ کے لیئے ہدایات بھی ہیں اور آیات بھی ہیں تو ایسے میں کیا وساوس سے بے خوف ہوجایا جائے۔۔؟؟ بعینہ بغیر تربیت کے لاشعور سے چھیڑ چھاڑ شیطانی دھوکوں اور گمراہی سے محفوظ رکھنے کے لیئے ضروری ہے ۔ کیا نزع کے وقت میں اچک کر لیجانے والوں کا ذکر کہیں سنا پڑھا (نعوذ باللہ من ذالک)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  4. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,645
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    جسے آپ مرشد کامل کہتی ہیں اسے ہم معلم بھی کہتے ہیں ۔ جو خود شریعت پر عمل پیرا ہو اور ہمیں شریعت پر چلتے ہوئے اس منزل تک پہنچا دے جو مرشد حق پیر کامل سیدنا و مولانا محمد مصطفےٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام کے در تک پہنچا دے۔کسی بھی ولی کے ولی ہونے کا پیمانہ اطاعت رسول اور تعلق باللہ ہے ۔ یہاں شور مچانے والے جھوٹے بھی ہو سکتے ہیں اور چپ چاپ والے پہنچا بھی دیا کرتے ہیں ۔ جو خود رسی سے منسلک ہو وہی آپ کو رسی تک پہنچا بھی سکتا ہے جو خود ہی لڑھکتا پھر رہا ہو وہ کیا کسی کو پہنچائے گا۔۔؟؟شریعت کی حدوں سے باہر کوئی قابل تقلید و تعلق ولی نہیں ہوتا ، اگر کوئی دعویٰ کرے تو سمجھ جائیں فارغ ہے رانگ نمبر ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  5. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,645
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    لیکن ہر سوال کا جواب ملنے کا وقت اور کیفیت ہوتی ہے لہذا اس وقت کا انتظار ہی واحد باقی قابل قبول حکمت عملی ہوگا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. ظفری

    ظفری لائبریرین

    مراسلے:
    11,807
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Question
    بات کہیں اور نکل جائے گی پھر بھی ایک سوال ہے کہ " غیب " ہے کیا ۔ ؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. ظفری

    ظفری لائبریرین

    مراسلے:
    11,807
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Question
    ٹیلی درحقیقت ہے کیا ۔ یہ دو دماغوں کے درمیان ایک کمیونکیشن ہے جو کسی بھی physical interaction کے رونما ہوسکتا ہے ۔ اس کی فریکوئنسیز کیا ہیں اور کس طرح کام کرتیں ہیں ۔ یہ سب ذاتی مشاہدات اور تجربات تک ہی محدود ہے ۔ سائنس ابھی اس کا مشاہدہ کرنے سے قاصر ہے ۔ مگر اس پر کام ہو رہا ہے ۔مگر دماغ کی فریکوئنسیز اور ان کے کمیونیکیشن پر کافی تحقیقات ہوچکی ہے ۔ مگر ٹیلی پیتھی کو ہم جس تناظر میں لیکر بحث کر رہے ہیں ۔ سائنس اس کا مشاہدہ نہیں کر پائی ہے۔ کیونکہ جب انسان سے بشر یا بشر سے انسان تک کا سفر یا فاصلے کی بات کریں گے تو پھر باتPhysical Evidence سے آگے نکل جائے گی۔ بات گھوم پھر کے پھر ماورائی اور تصوف کی دنیا کی طرف آجاتی ہے ۔ جب ہمیں بات ہی اس دنیا کی کرنی ہے تو پھر ہمارے پاس کس قسم کے شواہد اور ثبوت موجود ہونگے ۔ جو اس بات کو باور کراسکیں کہ یہ صرف ذاتی مشاہدات اور تجربات نہیں بلکہ حقیقتیں ہیں ۔ اور جب حقیقت کی بات کی جائے گی تو پھر ثبوت بھی درکار ہونگیں۔ تو معاملہ یہاں سلجھتا ہوا نظر نہیں آتا ۔ تو پھر کیا جائے ۔ پھر وہی کیا جائے جس کا میں نے پچھلے تبصرے میں مشورہ دیا جائے کہ پہلے علمِ نفسیات اور مڈیکل سائنس کی رو سے دماغ اور اس کے فنکشنز کو سمجھا جائے ۔ ورنہ ایک ٹانگ دنیا میں اور دوسری خلاء میں لٹک رہی ہوگی ۔ :)
     
  8. ظفری

    ظفری لائبریرین

    مراسلے:
    11,807
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Question
    دیکھیں ۔۔۔۔ بات پھر ذاتی مشاہدے کی آگئی ۔ اگر بات اسی ذاتی مشاہدے کو سامنے رکھ کر صرف وہی بات کہنی ہے ۔ جو تصوف کی دنیا کی طرف لے جاتی ہے ۔ تو پھر ہم ادھر اُدھر بھٹکنے کے بجائے اپنے اصل مدعا پر ہی کیوں نہ آجائیں ۔ یعنی صرف روحانی دنیا کی بات کریں ۔ اور وہاں تو ہم کچھ بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ ذاتی تجربات اور مشاہدات پر تو کوئی بحث نہیں کرسکتا کہ ان کی تصدیق ناممکن ہے ۔ :)
     
  9. ظفری

    ظفری لائبریرین

    مراسلے:
    11,807
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Question
    جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ اس دنیا میں آکر کوئی بھی بات کہی جا سکتی ہے ۔ کیونکہ ان کی تصدیق ممکن نہیں ہوتی ۔ تو آپ کی بات کو کیسے رد کیا جاسکتا ہے ۔ :)
    مگر میں بھی آپ کی طرح ایک سوال داغ دوں کہ آپ کیسے ثابت کرسکتیں ہیں کہ کسی شخص کا لاشعور ، شعور سے پیوست ہوتا ہے اور ایسا شخص مادرذاد ولی بھی ہوسکتا ہے ؟
     
  10. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    6,340
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    میں تو کہیں بھی نہیں، بس جان رہی ہوں کہ میں کون ہوں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    6,340
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    کیا خود بھی لاشعور سے چھیڑ چھاڑ ممکن ہے؟ کیسے؟ اس پر ذرا روشنی کیجیے
     
  12. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    6,340
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    یہ تو تجربے سے جان لیا ہے کہ واقعتا خاموش رہتے ہیں حریمِ ناز کے خادم و غلام ....
     
    • متفق متفق × 1
  13. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    6,340
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    اگر اس لمحے سے پہلے موت آگئی تو؟
     
    • متفق متفق × 1
  14. ظفری

    ظفری لائبریرین

    مراسلے:
    11,807
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Question
    فیصل بھائی جتنی معلومات ماشاءا للہ آپ کو ہے اس کی مجھے 10 فیصد بھی نہیں ۔ میں تو آپ سےخود سیکھ رہا ہوں ۔ میں نے آپ کے اقتباس کو لیکر جس بحث کا آغاز کیا تھا ۔ دراصل اس کا مقصد یہ تھا کہ ہم علوم کے ان مختلف موضوعات کو علیحدہ رکھیں تاکہ یہ علوم ایک دوسرے سے متصادم نہ ہوں ۔ اور آپ نے اپنے اس تبصرے میں اس تصادم کو بہت اچھے طریقے سے وضع کیا ہے ۔ کیونکہ جب ہم علم نفسیات کی بات کر رہے ہوتے ہیں تو پھر اس میں مذہب کوضم کرنا ایک الگ ہی فلسفے کو وجود دیتا ہے ۔ یہی بات میں نے سعدیہ شیخ کےاقتباس کے جواب میں بھی کہی ہے ۔کیونکہ میں محسوس کررہا ہوں کہ ابھی تک ہم نے کوئی علمی اختلاف نہیں کیا ہے ۔ بس معلومات شئیر کیں ہیں ۔ اور وہ بھی مختلف علوم کے مختلف موضوعات کا مجموعہ ہیں ۔ تو میری یہی گذارش ہے کہ ہم پیاز کی پرت پہ پرت کھولنے کے بجائے پہلے یہ متعین کرلیں کہ ہمیں بحث کیا کرنی ہے ۔ یعنی مکالمہ کیا ہونا چاہیئے ۔ سوالات تو اچھے ہیں ۔ مگر کسی خاص موضوع سے منسلک ہوں تو نہ صرف جواب دینے میں آسانی ہوگی بلکہ کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے بعد آگے بڑھنے کی بھی تحریک پیدا ہوگی ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  15. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    6,340
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    سائنس، جدید سائنس کچھ beliefsپر مشتمل ہے وگرنہ غور و فکر، تدبر ...یہ بنیاد جو سائنس کی ہیں وہی دینِ اسلام کی بھی ہیں. مسئلہ اتنا ہوتا ہے کہ ذی روح چاہے وہ سائنسی اعتقاد کی ہو، چاہے دینی، صوفی کی وہ ہر شے کی positivity پر یقین رکھتی ہے. Positivity in a sense کہ مادی شواہد چاہیںے ہر شے دیکھنے کو. اللہ تعالی نے خود کو قران پاک میں یوں کہا ہے
    اللہ نور السماوت الارض ....

    یہ نور مادی وجود نہیں رکھتا مگر دیکھنے والے دیکھتے رہ گئے جب پتھروں نے سجدہ کیا، دیکھنے والے دیکھتے رہ گئے جب چیونٹی پیامبر سے مخاطب ہوتی ہے یا جب پلک کے جھپکنے میں تخت حاضر ہوجاتا ہے. پھر اگر positivity of matterکو دیکھتے رہیں تو ہم عقیدہ ء آخرت کی نفی کردیتے ہیں جب کفار نے کہا تھا بھلا ہم جب مٹی ہو جائیں، فنا ہو جائیں تو کیسے دوبارہ زندہ کیے جائیں گے؟ سورہ "ق " میں اللہ نے اس سوال کا مفصل جواب دیا ہے کیسے انسان عدم سے وجود میں آیا ہے، کیسے وجود سے عدم کی جانب جانا ہے اور کیسے عدم سے وجود کی جانب آنا ہے ...اپنی ناقص سی عقل جس میں سو فیصد اصلاح کی گنجائش ہے یہ خیال کرتی ہوں positivity of matter صرف وجود کو ثابت نہیں کرسکتی ہے مگر بس اسکو آنکھ دیکھ سکتی ہے ظاہری آنکھ جبکہ بصارت محسوس کرسکتی ہے. منصور حسین حلاج نے بھی اللہ کے وجود کو دیکھنے کی خواہش کی تھی اور کیا حال ہوا. کچھ سرمد کا قصہ بھی ایسا ہے ...ٹیلی پیتھی کو شاید نہ مانتی اگر خود اس تجربے کا حصہ نہ ہوتی. مگر اسکو کیسے operateکرنا اس سے قصداً لا علم ہو. ... شعور جوں جوں ترقی کرتا ہے تو ہمیں احساس ہوتا ہے احساس بھی ایک وجود کی مانند طاقت ور ہے مگر اس حوالے سے میں آئن سٹائن کی بات quoteکرتی ہوں کہ مادے کو "انرجی، فریکوئنسی، ارتعاش سے جانچ سکتے ہیں .... اس لیے اس نے کہا مادہ "انرجی " ہے اور "انرجی "مادہ ہے. دونوں interchangeable ہیں ...اس لیے یہ تو نہیں کہا سکتا یہ ہوائی فائر ہیں ورنہ string theory کا خیال پیدا نہ ہوتا مگر سچ ہے اس لڑی میں سائنس پہ بحث کرنے کا فائدہ کم ہی ہونا ہے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  16. ظفری

    ظفری لائبریرین

    مراسلے:
    11,807
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Question
    ساری دنیا کے علوم کھنگال لیں ۔ مراتبِ علمیہ کا تعین کرلیں مگر ساری علمی جستجو کا صرف ایک ہی مقام نکلتا ہے وہ "خود شناسی" ہی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  17. ظفری

    ظفری لائبریرین

    مراسلے:
    11,807
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Question

    میرا خیال ہے اب صحیح ہے ۔ اب متعین ہوگیا کہ بحث کیا کرنی ہے ۔ " خود شناسی " یعنی اپنی تلاش ۔ اب اچھی بحث ہوگی ۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  18. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    6,340
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    اس کا احساس بہت دیر سے ہوتا ہے کہ خود شناسی ہے کیا ....یہ دنیاوی کامیابی کا بھی زینہ ہے اخروی بھی .... یہی سوچ رہی تھی علم کی ہر شاخ ہمیں سوچنا سکھاتی ہے یہی سوچ کا وضع کردہ طریقہ ہمیں سکھلاتا ہے خود کو کس طریقے سے جاننا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  19. ظفری

    ظفری لائبریرین

    مراسلے:
    11,807
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Question
    سوچ کا وضع کردہ طریقہ " غور و فکر اور تدبر " ہے ۔ اور غور و فکر ، دلیل سے منتج ہوتا ہے ۔ اللہ خود کہتا ہے کہ اگر تم میری لیئے کوئی دلیل نہیں رکھتے تومجھے بھی چھوڑ دو۔ جو ہلاک ہوا وہ دلیل سے ہلاک ہوا اور جو زندہ ہوا وہ دلیل سے زندہ ہوا ۔ اللہ سننے والا اور علم والا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ علم وہموں پر یقین نہیں رکھتا بلکہ دلیل کی بات کرتاہے ۔ خود شناسی پہلا قدم ہے اور دوسرا قدم " خدا شناسی " ہے ۔ ان شاءاللہ بات بڑھے گی تو ان موضوعات پر تفصیلی مکالمہ ہوگا ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  20. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    6,340
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    علم واہمہ ہے ہی نہیں بلکہ علم حجاب اکبر ہے. حجابات اٹھتے جاتے ہیں، یقین بڑھتا جاتا ہے. پانی جتنا ملتا ہے آسمان سے، زمین اتنی سیراب ہوتی ہے .... کبھی بجلی کڑکتی ہے تو کسی کی بصارت بڑھ جاتی ہے تو کسی کی بینائی چلی جاتی ہے کچھ خوف کے مارے دبک جاتے ہیں ... دلیل کی بنیاد پر یقین بنتا ہے اور مجھے اللہ پر یقین ہے اور اسکے دیدار کی سعی بھی ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر