پُتلی مشاعرہ - فاروق قیصر کے قلم سے

شمشاد

لائبریرین
آج ایک پرانا رسالہ 'اردو میگزین' ہاتھ لگ گیا تھا۔ ورق گردانی کرتے ہوئے فاروق قیصر صاحب کا " پُتلی مشاعرہ" بہت پسند آیا۔ آپ بھی پڑھیں اور لطف اٹھائیں۔

پُتلی مشاعرہ

انکل سرگم : معزز قارئین، آج کا یہ پُتلی مشاعرہ آپ کی نذر کیا جاتا ہے۔ یہ مشاعرہ چونکہ اس اعلی سطح پہ منعقد کیا گیا ہے جو سطح عوام سے کئی ہزار فٹ بلند ہوتی ہے اس لیے اگر اس کا کوئی شعر آپ کے سر سے گزر جائے تو مائند نہ کیجیئے۔ محفل مشاعرہ کا میزبان ہونے کے ناطے سب سے پہلے میں اپنے اشعار پیش کروں گا۔ عرض کیا ہے :

دو بار چمن مہکا دو بار بہار آئی
اس بار ہے منموہن اس بار واجپائی

دعوت پہ بلانا تو ملنے کا بہانہ ہے
بس دو ہی کھلاڑی ہیں باقی ہیں تماشائی​

سب سے پہلے میں وزیر تعلیم محترمہ انیسہ زیب طاہر خیلی صاحبہ سے درخواست کروں گا کہ اپنے تعلیمی کلام سے مشاعرے کا آغاز کریں۔

مشیروں سے جو دھوکہ کھا رہی ہوں
منسٹر اب میں ہوتی جا رہی ہوں

وزارت کا نشہ پورا نہیں ہے
میں کیوں کرسی پہ سوتی جا رہی ہوں

محبت میری کیوں بٹنے لگی ہے
میں خلقت کی کیوں ہوتی جا رہی ہوں

نصاب علم ہے کس نے بنایا؟
جسے پڑھ کے میں روتی جا رہی ہوں​

سرگم : انیسہ جی کے بعد مشاعرے کی پٹری پہ اپنا انجن دوڑائیں گے وزیر ریلوے جناب شیخ رشید صاحب۔

شیخ رشید : ایک پرانی اطلاع میں لپٹی نئی نظم پیش کرتا ہوں۔ نظم کا عنوان ہے " چلا گیا"۔

قاضی صاحب : شیخ صاحب آپ کو کسی نے غلط اطلاع پہنچائی ہے۔ سب موجود ہیں، گیا کوئی نہیں، اس لئے آپ اپنی نظم کا عنوان ڈش انفارمیشن رکھ لیں تو مناسب ہو گا۔

شیخ رشید : جناب آپ نے اگر مشاعرہ چلوانا ہے تو جو میں کہوں صرف اسے غور سے سنیے۔ عرض کیا ہے :

میں پاڑٹی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا
جو چھوڑ گیا اس کو بھلاتا چلا گیا

جو روٹھ گیا اس کو منانا فضول تھا
جو مل گیا اسی کو ملاتا چلا گیا

پہنچوں گا کبھی میں بھی کسی شاہراہ پر
اس عزم سے میں سڑکیں بناتا چلا گیا​

(جاری ہے ۔۔۔)
 

شمشاد

لائبریرین
سرگم : شیخ صاحب نے نالہ لئی کے پس منظر میں اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ اب باری ہے جناب خالد مقبول کی۔

خالد مقبول : صدر صاحب کی اجازت سے فوجی دھن میں ایک سویلین نظم پیش کرتا ہوں۔ عرض کیا ہے :

جو کام ہم نے کر دیئے کوئی کر کے دکھائے
جس چھت پہ ہم چڑھے ہیں کوئی چڑھ کے دکھائے

پھینکا جو ہم نے جال، فن علم و ادب کا
پکڑے ہیں علم ساز کہ کوئی پھڑ کے دکھائے​

پرویز مشرف : گورنر صاحب " پھڑ " پنجابی کا لفظ ہے جسے آپ نے بڑی مہارت سے استعمال کر لیا۔ ویل ڈن۔

سرگم : پُتلی مشاعرے میں اب وزیر داخلہ جناب شیر پاؤ صاحب کی باری ہے۔

فضل الرحمان : کس چیز کی باری؟ ٹرانسفر ہونے کی؟

شیر پاؤ : مولانا صاحب، یہ آپ کا سوال نہیں بلکہ پوری نہ ہونے والی خواہش ہے۔ بہرحال نظم پیش کرتا ہوں۔ عنوان ہے " تجھے ہوا کیا ہے؟"

فضل الرحمان تجھے ہوا کیا ہے؟
آخر اس ضد کی وجہ کیا ہے؟

پھڈے بازی میں آٹھ برس بیتے
آٹھ برسوں میں تجھے ملا کیا ہے؟

ہم نے مانا کہ ہم نہ مانیں گے
تُو بتا دے تیری رضا کیا ہے؟​

سرگم : مشاعرے کی ایک مہمان شاعرہ محترمہ بے نظر بھٹو صاحبہ جو ارجنٹ ویزہ نہ ملنے کی وجہ سے تشریف نہ لا سکیں مگر انہوں نے اپنا اوورسیز کلام سیلولر فون پہ ریکارڈ کروایا ہے جو پیش کیا جاتا ہے :

بے نظیر : میرے ہموطنو، گڈ ایوننگ، مشاعرے میں میرا ایک تازہ نظم بجے گا۔ عرض کیا ہے :

چپکے چپکے رات دن جلسے کرانا یاد ہے
ہم کو اب تک آرمی کا وہ زمانہ یاد ہے

وہ تیرا کرسی کو میری کھینچ لینا دفعتا
اور میرا دوڑ کر باہر کو جانا یاد ہے​

(جاری ہے ۔۔۔)
 

شمشاد

لائبریرین
فضل الرحمان : میری نظم کا عنوان ہے " کیا ہو گیا زمانے کو؟" عرض کیا ہے :

کوئی آتا نہیں منانے کو
جانے کیا ہو گیا زمانے کو؟

ہر نئے کو سلام کرتا ہے
بھول جاتا ہے کیوں پرانے کو؟

کرسی پکی بنا رہے ہو شوکت
فوج آئے گی پھر ہٹانے کو​

سرگم : مولانا کے بعد باری ہے کرکٹ کے ہیرو اور سیاست میں زیرو جناب عمران خان صاحب کی۔

عمران : سرگم صاحب آپ نے مجھے سیاست میں زیرو کا جو خطاب دیا ہے اس کا بدلہ میں وزیر اعظم بننے کے بعد لوں گا۔

صدر پرویز : ہی ہی ہی ۔۔۔ یہ تو بدلہ نہ لینے والی بات ہوئی۔

عمران خان : مشرف صاحب میں آپ سے نہیں عوام سے مخاطب ہوں، عوام میرے ساتھ ہے۔

شوکت عزیز : جو چیز آپ کے پاس نہیں آپ اس کا کلیم کیوں کرتے ہیں؟

عمران خان : اس بات کا جواب میں کسی ٹی وی چینل پہ آپ کو دوں گا۔ میری نظم کا عنوان ہے " دیکھو "، عرض کیا ہے :

اسمبلی ممبر ہوں وزیر اعظم بنا کر تو دیکھو
وزیر اعظم نہ سہی ناظم ہی بنا کر دیکھو

ووٹ مانگا تھا تم سے میں نے چندے میں
سیاست میں کبھی مجھے لازم بھی بنا کر دیکھو​

سرگم : ہمارے کچھ پردیسی شاعروں نے اس مشاعرے میں حصہ لیتے ہوئے اپنا ٹیلیفونک کلام ہمیں ریکارڈ کرایا ہے۔ جسے جوں کا توں پیش کیا جاتا ہے۔ پہلے شاعر ہیں جناب نواز شریف پردیسی جی۔

نواز شریف : میری نظم کا عنوان ہے " یہ کبھی سوچا نہ تھا "

فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا
پاسپورٹ تو پاس تھا، اس پر لگا ویزہ نہ تھا

یاد کر کے اور بھی تکلیف ہوتی ہے میاں
پارٹی تو میری تھی جس پہ میرا قبضہ نہ تھا​

(جاری ہے ۔۔۔)
 

شمشاد

لائبریرین
شوکت عزیز : نواز صاحب آپ کہتے رہیں، آپ کی کون سنے گا ہمارے سوا؟ اب میری بھی دھیان سے سنئے، میں اپنی یہ نظم صدر پرویز مشرف کو ڈونیٹ کرتا ہوں۔ عرض کیا ہے :

وہ چودھری کی بات تھی، شب بھر رہا چرچا میرا
کچھ نے کہا دشمن ہے یہ، کچھ نے کہا چمچہ تیرا

ہم بھی وہیں موجود تھے، ہم سے بھی سب پوچھا کیئے
ہم ہنس دیئے، ہم چپ رہے، مقصود تھا خرچہ تیرا​

اور یہ آخری شعر صدر صاحب کی نذر کرتا ہوں :

تو رحمدل، تو مہرباں اور سب ہیں تیرے چاپلوس
کالے تیرے، گورے تیرے، یورپ اور امریکہ تیرا​

سرگم : شوکت عزیز کے بعد اب باری ہے جناب قاضی حسین احمد جی کی۔

امین فہیم : یہ تو سراسر زیادتی ہے۔ ہماری باری کدھر گئی؟

سرگم : میں وزیر اعظم بننے کی باری کی بات نہیں کر رہا، شعر پڑھنے کی باری کی بات کر رہا ہوں۔

قاضی حسین احمد : بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔۔۔۔ میری نظم کا عنوان ہے "مجلس و عمل" عرض کیا ہے :

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ ہمارا کام ہوا
مجلس بھی برخاست ہوئی اتحاد و "عمل" ناکام ہوا

بیت چکے وہ وقت سہانے، پھرتے تھے ہم سینہ تانے
تنخواہ لی اور ڈیسک بجائے، باقی وقت آرام ہوا​

امین فہیم : قاضی بھائی کے شکوہ پہ جواب شکوہ پیش کروں گا۔ عرض کیا ہے :

ہنگامہ ہے کیوں برپا، مفاہمت ہی جو بس کی ہے
ڈاکہ تو نہیں ڈالا، چوری تو نہیں کی ہے

جب ہلتا ہے ہر پتا، اک حکم الہٰی سے
یوں غیروں سے مل جانا، اللہ کی مرضی ہے​

سرگم : اب درخواست گزار ہوں صدر محفل، صدر مشرف سے کہ وہ ہمیں اپنے صدارتی آرڈیننس سے نوازیں۔

صدر مشرف : عرض کیا ہے۔

شوکت عزیز : سر جی، عرض کو چھوڑیں، آپ حکم کریں حکم۔

صدر مشرف : افتخار بھائی کے پلاٹ پہ میں نے چند اشعار تعمیر کیئے ہیں :

میرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
میں سربراہ ہوں مجھے آئیندہ بھی صدر کر دے

میں بڑھ کے تھام لوں گا ہاتھ دوستی کے لیے
جو منموہن اپنا ہاتھ بھی ادھر کر دے​

سرگم : جناب صدر صاحب کے اس صدارتی کلام کے ساتھ ہی ہمارا پُتلی مشاعرہ اختتام پذیر ہوا۔ امید ہے اس مشاعرے سے ہماری حکومت اور سیاستدان عبرت اور عوام سبق حاصل کریں گے۔
 

فرحت کیانی

لائبریرین
سرگم : شیخ صاحب نے نالہ لئی کے پس منظر میں اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ اب باری ہے جناب خالد مقبول کی۔

خالد مقبول : صدر صاحب کی اجازت سے فوجی دھن میں ایک سویلین نظم پیش کرتا ہوں۔ عرض کیا ہے :

جو کام ہم نے کر دیئے کوئی کر کے دکھائے
جس چھت پہ ہم چڑھے ہیں کوئی چڑھ کے دکھائے

پھینکا جو ہم نے جال، فن علم و ادب کا
پکڑے ہیں علم ساز کہ کوئی پھڑ کے دکھائے​

پرویز مشرف : گورنر صاحب " پھڑ " پنجابی کا لفظ ہے جسے آپ نے بڑی مہارت سے استعمال کر لیا۔ ویل ڈن۔

سرگم : پُتلی مشاعرے میں اب وزیر داخلہ جناب شیر پاؤ صاحب کی باری ہے۔

فضل الرحمان : کس چیز کی باری؟ ٹرانسفر ہونے کی؟

شیر پاؤ : مولانا صاحب، یہ آپ کا سوال نہیں بلکہ پوری نہ ہونے والی خواہش ہے۔ بہرحال نظم پیش کرتا ہوں۔ عنوان ہے " تجھے ہوا کیا ہے؟"

فضل الرحمان تجھے ہوا کیا ہے؟
آخر اس ضد کی وجہ کیا ہے؟

پھڈے بازی میں آٹھ برس بیتے
آٹھ برسوں میں تجھے ملا کیا ہے؟

ہم نے مانا کہ ہم نہ مانیں گے
تُو بتا دے تیری رضا کیا ہے؟​

سرگم : مشاعرے کی ایک مہمان شاعرہ محترمہ بے نظر بھٹو صاحبہ جو ارجنٹ ویزہ نہ ملنے کی وجہ سے تشریف نہ لا سکیں مگر انہوں نے اپنا اوورسیز کلام سیلولر فون پہ ریکارڈ کروایا ہے جو پیش کیا جاتا ہے :

بے نظیر : میرے ہموطنو، گڈ ایوننگ، مشاعرے میں میرا ایک تازہ نظم بجے گا۔ عرض کیا ہے :

چپکے چپکے رات دن جلسے کرانا یاد ہے
ہم کو اب تک آرمی کا وہ زمانہ یاد ہے

وہ تیرا کرسی کو میری کھینچ لینا دفعتا
اور میرا دوڑ کر باہر کو جانا یاد ہے​

(جاری ہے ۔۔۔)

:ہی ہی: :ہی ہی:
 

ساجد

محفلین
شمشاد بھائی !
بہت اعلی انتخاب ہے۔ کچھ اور بھی پوسٹ کیجئیے نا ، اسی طرح کے مزاح پر مبنی۔
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
بہترین

بہت ہی عمدہ !

فاروق قیصر بہت بہترین تخلیق کار ہیں ! ہمیشہ بہت بہترین

شمشاد بھائی ، اتنی اچھی تخلیق شیئر کی آپ نے !
 

ظفری

لائبریرین
شمشاد بھائی کیا خوب ہی شئیرنگ کی ہے آپ نے ۔ بہت اعلیٰ ۔
اور فاروق قیصر کیا خوب ہی بندہ ہے ۔ اتنا معیاری مزاح اور طنز اسی کا خاصہ ہے ۔
 

خرم

محفلین
بہت اچھا ہے لیکن افسوس بھی ہوا پڑھ کے۔ افسوس اس لئے کہ اگر آج سے بیس برس بعد بھی پڑھیں گے تو ناموں کی تبدیلی کے سوا شاید سب کچھ ایسا ہی ہوگا۔
 

شمشاد

لائبریرین
کیا کسی نے نوٹ کیا ہے کہ فاروق قیصر نے مندرجہ ذیل فقرے میں جو "۔۔۔نظم بجے گا " لکھا ہے، تو اس سے انہوں نے کس بات کی طرف اشارہ کیا ہے؟

بے نظیر : میرے ہموطنو، گڈ ایوننگ، مشاعرے میں میرا ایک تازہ نظم بجے گا۔ عرض کیا ہے :
 
Top