پسندیدہ اقتباسات

ساقی۔ نے 'اردو ادب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 8, 2014

  1. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    7,807
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    اس براعظم میں عالمگیری مسجد کے میناروں کے بعد جو پہلا اہم مینار مکمل ہوا، وہ مینار پاکستان ہے۔ یوں تو مسجد اور مینار آمنے سامنے ہیں لیکن انکے درمیان یہ ذرا سی مسافت تین صدیوں پر محیط ہے، جس میں سکھوں کا گردوارہ، ہندوؤں کا مندر اور فرنگیوں کا پڑاؤ شامل ...ہیں۔ میں مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھا ان گمشدہ صدیوں کا ماتم کر رہا تھا کہ مسجد کے مینار نے جھک کر میرے کان میں راز کی ایک بات کہہ دی “جب مسجدیں بے رونق اور مدرسے بے چراغ ہو جائیں۔ جب حق کی جگہ حکایت اور جہاد کی جگہ جمود لے لے۔ جب ملک کی بجائے مفاد اور ملت کی بجائے مصلحت عزیز ہو اور جب مسلمانوں کو موت سے خوف آئے اور زندگی سے محبت ہوجائے، تو صدیاں یونہی گم ہو جایا کرتی ہیں۔“

    اقتباس "آواز دوست " از مختار مسعود
     
  2. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    7,807
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ’’بھنڈارا نے کہا، میں پاکستان اور ایران کی باہمی تجارت کے فروغ اور پاکستان کی برآمد میں اضافے کی ایک اہم تجویز لے کر آیا ہوں۔ اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے آر سی ڈی کے تعاون کی ضرورت ہوگی۔ کچھ عرصے سے میں اپنے کارخانہ شراب کی بنی ہوئی بیئر ایران برآمد کر رہا ہوں۔ سڑک کے راستے بھیجتا ہوں اور مشہد میں فروخت کرتا ہوں۔ اس علاقے کے لوگوں کو اس بیئر کا ذائقہ پسند آیا اس لیے کھپت میں بہت اضافہ ہوگیا۔ ولایتی شراب بیچنے اور مقامی آب جو بنانیوالوں کو تشویش ہوئی۔ دونوں نے مل کر وزارت بازرگانی سے کسٹم ڈیوٹی میں تبدیل کرادی ہے تاکہ میرے کارخانے کا مال آنا بند ہوجائے۔ پہلے کسٹم ڈیوٹی قیمت پر لگتی تھی، اب وزن پر لگائی جاتی ہے۔ بیئر شیشے کی بوتل میں بھری جاتی ہے جب کہ ولایتی اور ایرانی بیئر ٹین کے ہلکے پھلکے ڈبے میں بند ہوتی ہے۔ شراب کا وزن ایک ہوتا ہے مگر ظرف کے وزن کے فرق کی وجہ سے ہماری شراب پر دگنا چوگنا محصول پڑجاتا ہے۔ جب سے یہ نیا قاعدہ رائج ہوا ہے پاکستان سے ایران کے لیے بیئر کی برآمد بند ہوگئی ہے۔ ایران کی وزارت بازرگانی سے قاعدہ میں یہ تبدیلی کرانی ہے کہ کسٹم ڈیوٹی میں ظرف کے وزن کی کٹوتی دی جائے، محصول خالص شراب پر لیا جائے۔ یہ بڑا اہم اور ضروری کام ہے۔

    پاکستان کی برآمدات اور زرمبادلہ میں اضافے کا مسئلہ ہے۔ آپ تہران آنے سے پہلے پاکستان کی وزارت تجارت کے سیکریٹری تھے اس لیے ایران کی وزارت بازرگانی میں آپ کے تعلقات سے کام چل سکتا ہے۔ شنید تو یہی ہے‘‘

    مختار مسعود ’’لوح ایام‘‘
     
  3. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    7,807
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
  4. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    7,807
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
  5. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    7,807
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
  6. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    7,807
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
  7. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    7,807
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
  8. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    205,049
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    میرے پیر و مرشد سلسلہ یوسفیہ کی بانی مشتاق احمد یوسفی مرحوم و مغفور کے ایک خاکے "چارپائی اور کلچر" سے اقتباس

    چارپائی ایک ایسی خودکفیل تہذیب کی آخری نشانی ہےجونئےتقاضوں اورضرورتوں سےعہدہ برا ہونےکےلیےنِت نئی چیزیں ایجادکرنےکی قائل نہ تھی۔ بلکہ ایسےنازک مواقع پرپُرانی میں نئی خوبیاں دریافت کرکےمسکرادیتی تھی۔ اس عہدکی رنگارنگ مجلسی زندگی کاتصّورچارپائی کےبغیر ممکن نہیں۔ اس کاخیال آتےہی ذہن کےافق پرپہت سےسہانےمنظراُبھر آتے ہیں۔اُجلی اُجلی ٹھنڈی چادریں، خس کےپنکھی، کچّی مٹّی کی سن سن کرتی کوری صُراحیاں، چھڑکاؤ سےبھیگی زمین کی سوندھی سوندھی لپٹ اور آم کےلدےپھندےدرخت جن میں آموں کے بجائے لڑکے لٹکے رہتےہیں۔اوراُن کی چھاؤں میں جوان جسم کی طرح کسی کسائی ایک چارپائی جس پردِن بھرشطرنج کی بساط یارمی کی پھڑجمی اورجوشام کودسترخوان بچھاکرکھانےکی میزبنالی گئی۔ ذراغورسےدیکھئےتویہ وہی چارپائی ہےجس کی سیڑھی بناکرسُگھڑبیویاں مکڑی کےجالےاورچلنلےلڑکےچڑیوں کےگھونسلےاتارتےہیں۔ اسی چارپائی کووقتِ ضرورت پٹیوں سےبانس باندھ کراسٹیریچربنالیتےہیں اوربجوگ پڑجائےتوانھیں بانسوں سےایک دُوسرےکواسٹیریچرکےقابل بنایاجاسکتاہے۔ اسی طرح مریض جب گھاٹ سےلگ جائےتوتیماردارمؤخرالذِکرکےوسط میں بڑاساسوراخ کرکےاوّل الذِکرکی مشکل آسان کردیتےہیں۔ اورجب ساون میں اُودی اُودی گھٹائیں اُٹھتی ہیں توادوان کھول کرلڑکیاں دروازےکی چوکھٹ اوروالدین چارپائیوں میں جُھولتےہیں۔ اسی پربیٹھ کرمولوی صاحب قمچی کےذریعہ اخلاقیات کےبنیادی اُصول ذہن نشین کراتےہیں۔ اسی پرنومولودبچّےغاؤں غاؤں کرتی، چُندھیائی ہُوئی آنکھیں کھول کراپنےوالدین کودیکھتےہیں اور روتے ہیں اوراسی پردیکھتےہی دیکھتےاپنےپیاروں کی آنکھیں بندہوجاتی ہیں۔

    کھاٹ، کھٹا، کھٹیا، کھٹولہ، اڑن کھٹولہ، کھٹولی، کھٹ ، چھپرکھٹ، کھرّا، کھری، جِھلگا، پلنگ ، پلنگڑی، ماچ، ماچی، ماچا، چارپائی، نواری، مسہری، منجی۔
    یہ نامکمل سی فہرست صرف اردوکی وسعت ہی نہیں بلکہ چارپائی کی ہمہ گیری پردال ہےاورہمارےتمّدن میں اس کامقام ومرتبہ متّعین کرتی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    7,807
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    مہا راجہ رنجیت سنگھ

    مہا راجہ رنجیت سنگھ پنجاب کے مہا راجہ تھے - اور ان کا نام رنجیت سنگھ تھا - اس لیے انھیں مہا راجہ رنجیت سنگھ کہتے ہیں -

    مہا راجہ رنجیت سنگھ کا انصاف مشہور ہے ، ویسے تو ہندوستان کے سبھی راجاؤں کا انصاف مشہور ہے لیکن یہ واقعی سب کو ایک آنکھ سے دیکھتے تھے -
    سزا دینے میں مجرم اور غیر مجرم کی تخصیص نہ برتتے تھے -

    جو شخص کوئی جرم نہ کرے وہ بھی پکڑا جاتا تھا - فرماتے تھے علاج سے پرہیز بہتر ہے -
    اس وقت اس شخص کو سزا نہ ملتی تو آگے چل کر ضرور کوئی جرم کرتا -

    بعد کے حکمرانوں نے انہی کی تقلید میں جرم نہ کرنے والے کو حفظ ما تقدم کے طور پر سزا دینے اور جیل بھجوانے کا اصول اختیار کیا -

    کبھی مجرم کو بھی سزا دیتے ہیں اگر وہ ہاتھ آجائے اور اس کا وکیل اچھا نہ ہو -

    از ابن انشاء (اردو کی آخری کتاب )
     
  10. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    205,049
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ان کے متعلق مشہور ہے کہ رعایا مہاراجہ کو بہت عرضداشت بھیجتی تھی۔ وہ جمع ہوتی رہتی تھیں۔ پھر کسی دن ان کو خیال آتا، وہ ساری عرضیاں منگواتے اور کہتے کہ ان کو آدھا ادھا کر دو۔ حکم کی تعمیل ہوتی، تو کہتے یہ دائیں طرف والی منظور اور بائیں طرف والی نامنظور۔ چلیں جی فوری فیصلہ ہو گیا۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر