پاکستان کا لبیک دھرنا

یعنی کہ کل کلاں آپ کی مخالف سوچ سے متعلق ایک بڑا گروہ اپنی بات اسی طرح منوا لے تو آپ کو کوئی اعتراض نہ ہو گا۔
کیا تو تھا مگر قوم کی اکثریت کا سخت ردعمل سامنے آیا تو ن لیک ختم نبوت قانون پر پیچھے ہٹ گئی۔ یعنی پہلے خرابی کی گئی پھر واپس اصل حالت میں بحال کر دیا گیا۔
 

فرقان احمد

محفلین
کیا تو تھا مگر قوم کی اکثریت کا سخت ردعمل سامنے آیا تو ن لیک ختم نبوت قانون پر پیچھے ہٹ گئی۔ یعنی پہلے خرابی کی گئی پھر واپس اصل حالت میں بحال کر دیا گیا۔
حضرت! آپ بات کو کسی اور طرف لے گئے۔ ہمیں یہ خدشہ ہے کہ جس طرح تحریکِ لبیک نے سڑکیں بند کروا کر اپنے خلاف مقدمات میں رعایات حاصل کی ہیں، اسی طرح دیگر بڑے گروہ یا مذہبی و سیاسی جماعتیں بھی یہی لائحہ عمل اختیار کر سکتے ہیں جو کہ نامناسب ہے۔ بہرصورت، ہمیں آپ کی رائے کا احترام ہے۔ :)
 
ٹھیک ہے۔ آپ کی بات پہنچ گئی۔ یعنی کہ تحریکِ لبیک نے یہ طرزِ عمل ماضی کی مثالوں سے کشید کیا۔
یہ بات درست ہے کہ تحریک لبیک نے ملک میں جاری نا پسندیدہ سیاسی کلچر ہی پر عمل کیا ، مگر کیا اس پر صرف تحریک کو ہی قصوروار ٹھہرانا انصاف ہے؟ اس دھاگے میں آپ سمیت بہت سے افراد یہ ثابت کرنے پر تلے بیٹھے ہیں کہ بس تحریک لبیک کو ہی غلط ثابت کیا جائے اور انہیں ہی فساد کی جڑ قرار دیا جائے۔
 

فرقان احمد

محفلین
یہ بات درست ہے کہ تحریک لبیک نے ملک میں جاری نا پسندیدہ سیاسی کلچر ہی پر عمل کیا ، مگر کیا اس پر صرف تحریک کو ہی قصوروار ٹھہرانا انصاف ہے؟ اس دھاگے میں آپ سمیت بہت سے افراد یہ ثابت کرنے پر تلے بیٹھے ہیں کہ بس تحریک لبیک کو ہی غلط ثابت کیا جائے اور انہیں ہی فساد کی جڑ قرار دیا جائے۔
چلیے، آپ نے اسے ناپسندیدہ سیاسی کلچر تسلیم کر لیا؛ یہی بہت کافی ہے۔
 
حضرت! آپ بات کو کسی اور طرف لے گئے۔ ہمیں یہ خدشہ ہے کہ جس طرح تحریکِ لبیک نے سڑکیں بند کروا کر اپنے خلاف مقدمات میں رعایات حاصل کی ہیں، اسی طرح دیگر بڑے گروہ یا مذہبی و سیاسی جماعتیں بھی یہی لائحہ عمل اختیار کر سکتے ہیں جو کہ نامناسب ہے۔ بہرصورت، ہمیں آپ کی رائے کا احترام ہے۔ :)
تو آپ کے خیال میں پہلے کسی اور سیاسی جماعت نے ایسے کام نہیں کئے؟
 
معلومات میں اضافے کے لیے شکریہ! تاہم، ہمیں اس ناپسندیدہ کلچر سے نجات حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
جی بالکل اور اس سے نجات محض تحریک لبیک کی مذمت سے حاصل نہیں ہوگی بلکہ حکمرانوں کو اپنا رویہ بدلنا ہوگا اور عوام کو مطالبات منوانے کے مناسب طریقوں کے بارے میں تربیت دینے سے ہوگا۔ ہونا کیا چاہئے اور ہو کیا رہا ہے اس بارے میں بھی بات ہوسکتی ہے۔
 

شاہد شاہ

محفلین
اگر انگریز کی تربیت یافتہ اسٹیبلشمنٹ (فوجی و سول بیورو کریسی) پر انحصار نہ کیا جاتا
اگر اسوقت کے اسلامی مدرسے جدید فوج اور بیروکریسی کے ماہرین فراہم کر دیتے تو یقیناً انگریز کی تربیت یافتہ پود کی ملک کو ضرورت نہیں تھی۔
 

شاہد شاہ

محفلین
کچھ روشنی ڈالیں گے کہ کون کون سے اقدامات کئے جانے چاہییں تھے۔
انکے کہنے کا مطلب ہے کہ قیام پاکستان کے بعد ملک کو علما کرام کے حوالے کر دینا چاہئے تھا تاکہ وہ اسکو مکمل اسلامی دھارے میں ڈھال دیتے۔ اسلامی حکومت کے مطالبہ کا مطلب اصل میں علما کرام کی حکومت کا دوسرا نام ہے۔
 

یاز

محفلین
انکے کہنے کا مطلب ہے کہ قیام پاکستان کے بعد ملک کو علما کرام کے حوالے کر دینا چاہئے تھا تاکہ وہ اسکو مکمل اسلامی دھارے میں ڈھال دیتے۔ اسلامی حکومت کے مطالبہ کا مطلب اصل میں علما کرام کی حکومت کا دوسرا نام ہے۔
بھائی ہم نے تو سنجیدہ سوال کیا تھا کہ ایسے کونسے اقدامات ہوتے ہیں جس سے کوئی ملک اسلامی ریاست بن سکتا ہے۔ فورم کے علاوہ ابھی تک ہم نے جس کسی سے بھی گفتگو کی، انہوں نے جو نکات بیان کئے ہیں ان میں جمعے کی چھٹی سرِفہرست ہے۔ باقی کے نکات یا تو پرمزاح تھے یا فقط لفاظی تھی۔
 
آخری تدوین:
بھائی ہم نے تو سنجیدہ سوال کیا تھا کہ ایسے کونسے اقدامات ہوتے ہیں جس سے کوئی ملک اسلامی ریاست بن سکتا ہے۔ ابھی تک ہم نے جس کسی سے بھی گفتگو کی ہے، انہوں نے جو نکات بیان کئے ہیں ان میں جمعے کی چھٹی سرِفہرست ہے۔ باقی کے نکات یا تو پرمزاح تھے یا فقط لفاظی تھی۔
جمعے کی چھٹی۔ بہت خوب!
یہ تو ڈھیر پرمزاح ہے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
بھائی ہم نے تو سنجیدہ سوال کیا تھا کہ ایسے کونسے اقدامات ہوتے ہیں جس سے کوئی ملک اسلامی ریاست بن سکتا ہے۔ فورم کے علاوہ ابھی تک ہم نے جس کسی سے بھی گفتگو کی، انہوں نے جو نکات بیان کئے ہیں ان میں جمعے کی چھٹی سرِفہرست ہے۔ باقی کے نکات یا تو پرمزاح تھے یا فقط لفاظی تھی۔
واللہ مزا ہی آ جائے۔ اتوار کی چھٹی پہلے ہی ہے، جمعہ کی چھٹی اسلامی ریاست دے دے، ہفتے کی میں خود ہی کر لیا کرونگا۔ :)
 
اگر اسوقت کے اسلامی مدرسے جدید فوج اور بیروکریسی کے ماہرین فراہم کر دیتے تو یقیناً انگریز کی تربیت یافتہ پود کی ملک کو ضرورت نہیں تھی۔
ایک بنیادی بات سمجھنے کی ضرورت ہے، انگریز کی تربیت یافتہ بیوروکریسی کا مقصد کیا تھا؟ ہندوستانی عوام کی فلاح و بہبود یا انگریز حکومت کا استحکام اور یہاں کی عوام کو قابو میں رکھنا؟ یقینا اس بات کا جواب یہی ہے کہ اس کا مقصد یہاں کے عوام کو قابو میں رکھنا تھا تاکہ انگریز اپنے مقبوضہ علاقوں پر قبضہ مستحکم رکھ سکے ۔ سرکاری ملازمین یہی کام کرتے تھے ۔ اگر آزادی کے بعد بھی سرکاری ملازموں نے یہی کام کرنا تھا تو آزادی کا فائدہ عوام کو کیا ہوا؟ صرف تبدیلی آقاؤں کی جلد کے رنگ میں آئی؟ پہلے گورے حکمران تھے پھر براؤن ہو گئے۔ سب سے پہلے سرکاری ملازموں کی نئے تربیت کی ضرورت تھی جس میں سب سے پہلا نکتہ یہ سمجھایا جانا تھا کہ اب سرکاری ملازمین انگریز حاکمین کے نمائندے نہیں بلکہ عوام کے خدمتگار ہیں ان کا کام عوام کو قابو میں رکھنا نہیں بلکہ عوام کو سہولت پہنچانا ہے۔ دوسرا نکتہ یہ ہوتا کہ ملازمین کو ان کی ذمہ داری کے حساب سے دینی تربیت دی جاتی۔
ایسے ہی بہت سے اقدامات سے بہتری کی طرف پیش رفت کی جاسکتی تھی مگر ایسا ہوا نہیں۔
 

یاز

محفلین
واللہ مزا ہی آ جائے۔ اتوار کی چھٹی پہلے ہی ہے، جمعہ کی چھٹی اسلامی ریاست دے دے، ہفتے کی میں خود ہی کر لیا کرونگا۔ :)
سوموار کی میڈیکل لیو، منگل بدھ کا گوشت کا ناغہ، جمعرات کے دن ختم شریف۔۔۔ یہ لیں جی ہفتہ تمام ہوا۔
 
بھائی ہم نے تو سنجیدہ سوال کیا تھا کہ ایسے کونسے اقدامات ہوتے ہیں جس سے کوئی ملک اسلامی ریاست بن سکتا ہے۔ فورم کے علاوہ ابھی تک ہم نے جس کسی سے بھی گفتگو کی، انہوں نے جو نکات بیان کئے ہیں ان میں جمعے کی چھٹی سرِفہرست ہے۔ باقی کے نکات یا تو پرمزاح تھے یا فقط لفاظی تھی۔
جناب یہ موضوع ایک الگ دھاگے کا محتاج ہے وہاں بات ہوسکتی ہے۔ :)
 

یاز

محفلین
جناب یہ موضوع ایک الگ دھاگے کا محتاج ہے وہاں بات ہوسکتی ہے۔ :)
جی بالکل۔ اس پہ کسی اور لڑی اور وقت میں مناظرہ و مباحثہ کیا جا سکتا ہے۔
فی الوقت تو کریڈٹ کارڈ، لونڈی اور دھرنا وغیرہ پہ دلائل کی اولمپکس چل رہی ہے، وہی بہت کافی ہے۔
 
Top