پاکستان کا لبیک دھرنا

بابری مسجد کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہو رہی ہے کیا؟
بابری مسجد کا معاملہ عدالت میں ہے پارلیمان میں نہیں۔ جو بھی سپریم کورٹ آف انڈیا فیصلہ کریگی، بھارتی باشندے اسپر عمل کرنے کے پابند ہوں گے۔
جبکہ ادھر پاکستان میں دو فریقین کے مذہبی عقائد کو اکھاڑا بنا کر ایوان تک لے جایا گیا۔ جہاں حکومت وقت کو غیرجانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تنازع سپریم کورٹ میں حل کروانا چاہئے تھا، وہیں اسٹیٹ خود فریق بن گئی۔ اور اپنے ہی ملک کے شہریوں کیخلاف آزادی مذہب کی آئینی دھجیاں اڑاتے ہوئے مذہبی پابندیاں عائد کردیں۔ ایسی مضحکہ خیزی شاید تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔
 
بابری مسجد کا معاملہ عدالت میں ہے اور بابری مسجد وجود ہی نہیں رکھتی ۔۔۔ !!! معاملہ بہت پہلے کا نپٹ چکا۔ :)
بابری مسجد کی شہادت حکومتی انتظامیہ یعنی پولیس کی نااہلی تھی۔ لاکھ دو لاکھ مجمع کے سامنے چند ہزار کی حفاظتی فورس کیا کر سکتی تھی؟ اس خاص کیس کو جہاں ایک ہندو کٹر ٹولے نے سیاست کا رنگ دیکر پہلے عوام کو مشتعل کیا، پھر ایک مسجد کو نظر آتش کرنے کیلئے استعمال کیا۔ اسے سیکولرازم کی ناکامی نہیں کہا جا سکتا۔ کیونکہ مسجد کی شہادت کے فوراً بعد اسی حکومت نے پورے احاطہ مسجد کو سیل آف کر کے معاملہ عدالت میں اٹھایا جو ابھی تک سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔
وہاں پاکستان والا معاملہ نہیں ہوتا جہاں احمدی مخالف فسادات کے وقت انتظامیہ یعنی پولیس خود مولویوں کیساتھ ملکر ہماری مساجد سے کلمے مٹانے، انہیں شہید کرنے اور ہماری املاک کو نقصان پہنچانے میں پیش پیش نظر آتی ہے۔ سیکولر اور مذہبی آئین میں یہی بنیادی فرق ہے کہ سیکولر قانون تمام ادیان، مذاہب، فرقوں اور مسالک کو ایک حیثیت دیتا ہے۔ کسی کو دوسرے پر فوقیت حاصل نہیں ہوتی۔ نیز دو مذہبی گروپوں کے مابین تنازعہ کو عوامی پارلیمان میں عددی برتری کی بنیاد پر ٹھونسنے کی بجائے انصاف کے تقاضوں کے تحت عدالت میں حل کیا جاتا ہے۔
 

فرقان احمد

محفلین
بابری مسجد کی شہادت حکومتی انتظامیہ یعنی پولیس کی نااہلی تھی۔ لاکھ دو لاکھ مجمع کے سامنے چند ہزار کی حفاظتی فورس کیا کر سکتی تھی؟ اس خاص کیس کو جہاں ایک ہندو کٹر ٹولے نے سیاست کا رنگ دیکر پہلے عوام کو مشتعل کیا، پھر ایک مسجد کو نظر آتش کرنے کیلئے استعمال کیا۔ اسے سیکولرازم کی ناکامی نہیں کہا جا سکتا۔ کیونکہ مسجد کی شہادت کے فوراً بعد اسی حکومت نے پورے احاطہ مسجد کو سیل آف کر کے معاملہ عدالت میں اٹھایا جو ابھی تک سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔
وہاں پاکستان والا معاملہ نہیں ہوتا جہاں احمدی مخالف فسادات کے وقت انتظامیہ یعنی پولیس خود مولویوں کیساتھ ملکر ہماری مساجد سے کلمے مٹانے، انہیں شہید کرنے اور ہماری املاک کو نقصان پہنچانے میں پیش پیش نظر آتی ہے۔ سیکولر اور مذہبی آئین میں یہی بنیادی فرق ہے کہ سیکولر قانون تمام ادیان، مذاہب، فرقوں اور مسالک کو ایک حیثیت دیتا ہے۔ کسی کو دوسرے پر فوقیت حاصل نہیں ہوتی۔ نیز دو مذہبی گروپوں کے مابین تنازعہ کو عوامی پارلیمان میں عددی برتری کی بنیاد پر ٹھونسنے کی بجائے انصاف کے تقاضوں کے تحت عدالت میں حل کیا جاتا ہے۔
جناب! جو وہاں ہوا، جو یہاں ہوا، اس میں مذہب کا عمل دخل کافی زیادہ ہے۔ کیا ایسا نہیں ہے؟ تو، آپ سیکولرازم کو کہاں رواج دیجیے گا؟ آپ کوشش کر دیکھیے! فیض آباد آپ کا منتظر ہے۔ ویسے ہمارا مشورہ ہے، انتہاپسندی کے بادل ذرا چھٹ لینے دیں۔
 
جناب! جو وہاں ہوا، جو یہاں ہوا، اس میں مذہب کا عمل دخل کافی زیادہ ہے۔ کیا ایسا نہیں ہے؟ تو، آپ سیکولرازم کو کہاں رواج دیجیے گا؟ آپ کوشش کر دیکھیے! فیض آباد آپ کا منتظر ہے۔
جی مذہب کا عمل دخل کافی زیادہ ہے لیکن یہ بھی دیکھئے کہ انڈیا کے آئین میں کسی مسلمان کو یہ نہیں کہا جاتا کہ فلاں فلاں ہندو عہد لو تب ہی تمہیں انتخاب لڑنے، کسی جگہ بھرتی ہونے یا ایک سچے انڈین کے طور پر مانا جائے گا۔ وہاں مسلمانوں کا ٹرمپ اسٹائل ڈیٹابیس بنانے کا مطالبہ بھی موجود نہیں ہے۔ کیونکہ ملکی امور میں مذہب کی شق شامل ہی نہیں ۔ اپنی قابلیت کی بنیاد پر ہر ہندوستانی کہیں بھی انتخاب لڑ سکتا ہے، بھرتی ہو سکتا ہے، اور اسکی حب الوطنی کو ثابت کرنے کیلئے کسی ہندو پنڈٹ کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت بھی نہیں ہے۔
جبکہ ادھر پاکستان میں جگہ جگہ سرکاری فارمز پر مذہب کے سیکشن میں احمدیوں کا الگ خانہ ہے۔ الیکشن لڑنے جاؤ تو مولویوں کے تشریح والے ختم نبوت پر عہد لو نہیں تو کھڑے نہیں ہو سکتے۔ سرکاری جاب کرو تو احمدی ڈیٹابیس کا حصہ بن جاؤ۔ فوج میں جاؤ تو حب الوطنی پر طرح طرح کے سوالات کا نشانہ بنو۔ یہ ہے آپکا اسلامی پاکستان بمقابلہ سیکولر بھارت۔
 

جاسمن

لائبریرین
اول تو یہ خود قربانیاں دیتے نہیں دلواتے ہیں۔ دوسرا سرٹیفکیٹ والی بات بالکل درست ہے۔ مسلمان بنانے اور کافر قرار دینے کا دائم.ی سرٹیفکیٹ اس مولوی برادری کے پاس ہے۔ یہ خود جو چاہیں بکواس، گالی، گلوچ کرتے رہیں ، عاشقین رسول ٹھہرے ہیں۔ لیکن انکی برادری سے ہٹ کر کوئی ایسا سوچے بھی تو اسکا سرتن سے جدا ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ دھرنا ڈرامے کے بعد پاکستان کا ایک بڑا طبقہ ان کے اسلام کی دکان سے بھاگ کھڑا ہوا ہے اور اب اپنے طور پر ختم نبوت، احمدیت وغیرہ پر تحقیق کر کے ان پر تھو تھو کر رہا ہے۔
مجھے آپ سے اختلاف ہے لیکن یہ لڑی اس بحث کے لئے نہیں۔
 

محمد وارث

لائبریرین
آپکے خیال میں علما کرام جو گلی محلے میں اکٹھے نہیں ہیں، وہ اپنے عوامی نمائندہ اگلے الیکشن تک کھڑے کر پائیں گے؟
عوامی نمائندے کھڑے کرنا مشکل نہیں ہے، وہ تو ہر گلی میں بیسیوں تیار ہوتے ہیں۔ مسئلہ ووٹ حاصل کرنے کا بھی نہیں ہے، بہت سے معصوم ووٹرز مذہب اور ناموسِ رسالت کے نام پر ووٹ بھی دے دیں گے۔ مسئلہ جیتنے کا ہے اور یہ ممکن نہیں۔ لیکن جب امیدوار کھڑا کر کے کچھ ووٹ لیں گے تو وہ ووٹ کسی نہ کسی دوسری پارٹی کو ضرور نقصان پہنچائیں گے، اور فی الحال لگتا یہی ہے کہ پنجاب کے دور دراز دیہاتوں میں یہ نقصان نون لیگ کو پہنچے گا۔
 
مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انڈین سیاست، آر ایس ایس، جَن سَنگھ، بی جے پی، کانگریس کا اسی کی دہائی میں ہندو کارڈ، بابری مسجد وغیرہ پر آپ کا مطالعہ انتہائی محدود اور ناقص ہے۔
جس رفتار سے یہ لکھ رہے ہیں مجھے تو اور بھی بہت سے موضوعات پر ان کا مطالعہ ناقص لگنے لگا ہے:)
 

فرقان احمد

محفلین
جس کسی نے دینِ اسلام کی محبت میں سرشار ہو کر کچھ بھی کرنا ہے تو اسے دنیاوی منفعت سے کوئی سروکار نہ رکھنا چاہیے۔ اِس جتھے کا سیاسی میدان میں کودنا اس بات کی علامت ہے کہ انہیں ووٹ لینے اور پریشر گروپ بنانے سے کافی گہری دلچسپی ہے۔ مزید یہ کہ انہیں اپنے مسلک سے وابستہ افراد کو 'تخت' پر بھی بٹھانا ہے۔ گو کہ ان کے مریدوں کی آنکھوں پر عقیدت کی پٹی بندھی ہے اور انہیں ہزاروں افراد بھی لاکھوں کروڑوں لگنے لگ جاتے ہیں، تاہم یہ بات بھی اپنی جگہ سچ ہے کہ مذہب کو سیاسی معاملات میں استعمال کیا جائے تو اتنے ووٹ ضرور پڑ جاتے ہیں کہ مخالف پارٹیوں کا ووٹ بنک متاثر ہوتا ہے۔ دیکھیے، اب لبیک لبیک کے نعرے لگانے والے ووٹ کیسے نہ ڈالیں گے؟ گر ہم سے پوچھیں تو مذہب کا نام استعمال کر کے ایک خاص مسلک سے وابستہ پارٹی کا ووٹ مانگنا یا دنیاوی منفعت کا طلب گار ہونا کسی بھی صورت مناسب طرز عمل نہیں ہے۔ اگر ایسی مذہبی جماعتوں نے ایک خاص مسلک کی بنیاد پر ووٹ لینے ہیں تو کم از کم اپنی زبان ہی سیدھی کر لیں اور قوم کو آگاہ کریں کہ برسراقتدار آنے کے بعد ان کا ایجنڈا کیا ہو گا، داخلی اور خارجی مسائل سے نپٹنے کے لیے ان کے پاس کیا لائحہء عمل ہو گا۔ سب سے بڑا خدشہ تو یہ ہے کہ ایک مسلک سے متعلقہ افراد آگے آئیں گے تو اسی مسلک اور مخالف مسلک سے متعلقہ کئی چھوٹی بڑی پارٹیاں سیاست بازی میں ملوث ہو جائیں گی۔ یاد رہے کہ یہ پارٹیاں دین کی نمائندگی کم کریں گی اور اپنے مسلک کی ترجمانی زیادہ کریں گی اور گلی محلے میں سیاست کے نام پر فرقہ وارایت کو الگ سے ہوا ملے گی۔ اس کے علاوہ بھی ذہن و دل میں بہت سے خدشات ہیں، جن کا تذکرہ پھر کبھی سہی۔
 

فاخر رضا

محفلین
میں نے تو دل بھر کر لکھ لیا پھر تھڑیڈ مقفل ہوگیا، ہی ہی ہی ہی. مزہ آگیا، اب بلبلاتے رہو. ویسے جاسمن کی نظم بہت اچھی تھی.
ابھی تک میں نے رضوی صاحب کی گفتگو نہیں سنی ہے مگر مختلف لڑیوں میں پڑھ کر مزہ آرہا ہے. اگر اس دھرنے کے دوران کی کوئی تقریر مل جائے جس میں پین کی ٹپ کا ذکر ہو تو بتائیں. ویسے عمران اور رضوی اس طرح کی اوچھی حرکتیں، اوئے وغیرہ سستی شہرت کے لئے کرتے ہیں. مگر سن کر لوگوں کو مزہ آتا ہے
 

ضیاء حیدری

محفلین
عوامی نمائندے کھڑے کرنا مشکل نہیں ہے، وہ تو ہر گلی میں بیسیوں تیار ہوتے ہیں۔ مسئلہ ووٹ حاصل کرنے کا بھی نہیں ہے، بہت سے معصوم ووٹرز مذہب اور ناموسِ رسالت کے نام پر ووٹ بھی دے دیں گے۔ مسئلہ جیتنے کا ہے اور یہ ممکن نہیں۔ لیکن جب امیدوار کھڑا کر کے کچھ ووٹ لیں گے تو وہ ووٹ کسی نہ کسی دوسری پارٹی کو ضرور نقصان پہنچائیں گے، اور فی الحال لگتا یہی ہے کہ پنجاب کے دور دراز دیہاتوں میں یہ نقصان نون لیگ کو پہنچے گا۔
دھرنے سے قبل جناب خادم حسین رضوی سے واقفیت رکھنے والے لوگ اتنے زیادہ نہیں تھے۔ وہ آیا اور چھا گیا، کہ مصداق خادم رضوی نمودار ہوئے اور اپنے بلند آہنگ اور بے تکلف اندازِ گفتگو کے ساتھ مولانا نے اسلامی سیاست کا آغاز کیا۔ مولانا رضوی نے اعلان کیاتھا کہ وہ مسلم لیگ (ن) کا ہر جگہ سامنا کریں گے۔ جس کے بعد انہوں نے تحریک لبیک یارسول اللہ ؐ کے قیام کے لئے الیکشن کمشن کو درخواست دی۔وہ بڑے فخر سے اپنے آپ کو شان ناموس رسالت کا چوکیدار' پہریدار اور خدمت گذار قرار دیتے ہیں یہی شناخت انہیں شہرت کے موجودہ مقام تک لے آئی۔
 

ضیاء حیدری

محفلین
جی مذہب کا عمل دخل کافی زیادہ ہے لیکن یہ بھی دیکھئے کہ انڈیا کے آئین میں کسی مسلمان کو یہ نہیں کہا جاتا کہ فلاں فلاں ہندو عہد لو تب ہی تمہیں انتخاب لڑنے، کسی جگہ بھرتی ہونے یا ایک سچے انڈین کے طور پر مانا جائے گا۔ وہاں مسلمانوں کا ٹرمپ اسٹائل ڈیٹابیس بنانے کا مطالبہ بھی موجود نہیں ہے۔ کیونکہ ملکی امور میں مذہب کی شق شامل ہی نہیں ۔ اپنی قابلیت کی بنیاد پر ہر ہندوستانی کہیں بھی انتخاب لڑ سکتا ہے، بھرتی ہو سکتا ہے، اور اسکی حب الوطنی کو ثابت کرنے کیلئے کسی ہندو پنڈٹ کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت بھی نہیں ہے۔
جبکہ ادھر پاکستان میں جگہ جگہ سرکاری فارمز پر مذہب کے سیکشن میں احمدیوں کا الگ خانہ ہے۔ الیکشن لڑنے جاؤ تو مولویوں کے تشریح والے ختم نبوت پر عہد لو نہیں تو کھڑے نہیں ہو سکتے۔ سرکاری جاب کرو تو احمدی ڈیٹابیس کا حصہ بن جاؤ۔ فوج میں جاؤ تو حب الوطنی پر طرح طرح کے سوالات کا نشانہ بنو۔ یہ ہے آپکا اسلامی پاکستان بمقابلہ سیکولر بھارت۔

انڈیا کے لئے راگ و راگنی گانے سے قبل وہاں کے مسلمانوں کی حالت زار پر غورفرمالیتے۔ جہاں گائے کا گوشت کا الزام لگا کر لوگوں کو قتل کردیا جاتا ہے۔ سیکولر انڈیا میں مذہب کے نام پر الیکشن لڑ کر مودی سرکار برسراقتدار ہے، اور وہاں کے مسلمان ہندو توا کے زیر اثر ایک عام شہری کی حثیت کھو چکے ہیں۔
 
Top