کراچی کی جیت میں آنجہانی ڈین جونز المعروف پروفیسر ڈینو کے کردار کو نہیں بھلایا جا سکتا۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کی 2 بار جیت میں بھی ان کا کردار اہم تھا۔
 

سیما علی

لائبریرین
پاکستان سُپر لیگ 2020 فائنل: کراچی کنگز نے لاہور قلندرز کو پانچ وکٹوں سے شکست دے کر فائنل جیت لیا
17 نومبر 2020
_115535746_dsc_8264.jpg

،
تصویر کا ذریعہPBC

،تصویر کا کیپشن
بابر اعظم اس ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ سکور بنا چکے ہیں

پاکستان سپر لیگ کے پانچویں ٹورنامنٹ کے فائنل میں کراچی کنگز نے لاہور قلندرز کو شکست دے کر پہلی مرتبہ ٹی ٹوئنٹی میچوں کا یہ ٹورنامنٹ اپنے نام کر لیا ہے۔:applause::applause::applause::applause::star2::star2::star2::star2::applause:

کراچی کنگز نے لاہور قلندرز کو پانچ وکٹوں سے شکست دے کر فائنل جیت لیا - BBC News اردو
سید عاطف علی شمشاد محمد خلیل الرحمٰن محمد عدنان اکبری نقیبی سید عمران اور اکمل زیدی بھیا محمد تابش صدیقی ماہی احمد بٹیا۔ سب کو کراچی کنگز کی جیت بہت بہت مبارک :applause:
 
آخری تدوین:

محمداحمد

لائبریرین
اگر کسی پی ایس ایل دونوں پنجابی بلکہ تیسری کوئی پنجابی ٹیم بھی فائنل میں پہنچ گئی تو ٹائٹل کوئی اور جیت جائے گا۔


پی ایس ایل میں "اوریجن" کا کوئی خاص دخل نہیں ہے۔ لاہور بھی ضرور جیت جائے گی اللہ نے چاہا تو جلد!
 
سب تو پہلے یہ جو ڈاکٹر صاب ہیں اللہ پاکستان کرکٹ اور ٹی وی کو ان سے محفوظ فرمائے۔
دوسرا اوریجن کا تعلق ضرور ہے۔ مثلاً بابر اگر لاہور سے کھیلیں گے تو الگ ہی لطف ہوگا۔ (بابر کو لاہور سے کھیلتے دیکھنے کی تمنا اتنی ہی پرزور ہے جتنی کوہلی کو دہلی سے کھیلتے دیکھنا۔)
ابھی 10-12 سیزن کے بعد آپ دیکھیں گے مقامی کھلاڑی ہی اہم رول ادا کریں گے جیسے اب آئی پی ایل میں ٹیمز کا فارن پلئیرز پر انحصار کم ہو رہا ہے۔
اور ڈاکٹر صاب کے کیا ہی کہنے صاحب انگلش پریمئیر لیگ کب حقوق خرید کر اور لیورپول بمقابلہ مانچسٹر یونائیٹڈ میچ کے وقت شعیب اور راشد کو بیٹھا کر خود گیان بک رہے ہوتے ہیں۔ پاؤ جہیڑا پنو اوہی لال اے ایتھے۔ بس آھو نی آھو۔۔۔



پی ایس ایل میں "اوریجن" کا کوئی خاص دخل نہیں ہے۔ لاہور بھی ضرور جیت جائے گی اللہ نے چاہا تو جلد!
 

محمداحمد

لائبریرین
دوسرا اوریجن کا تعلق ضرور ہے۔ مثلاً بابر اگر لاہور سے کھیلیں گے تو الگ ہی لطف ہوگا۔ (بابر کو لاہور سے کھیلتے دیکھنے کی تمنا اتنی ہی پرزور ہے جتنی کوہلی کو دہلی سے کھیلتے دیکھنا۔)

یہ بات درست ہے۔

لیکن اس طرح کی لیگز میں علاقائی وابستگی سے زیادہ کمرشل ازم کی اہمیت ہوتی ہے۔ جب کھلاڑی خریدے اور بیچے جائیں تو کہیں کا مال کسی اور منڈی میں مل جانا ایسا بعید از قیاس بھی نہیں ہے۔ ایسے میں بات وابستگی کی نہیں بلکہ ڈیمانڈ سپلائی کی رہ جاتی ہے۔
 
یہ بات بھی درست ہے۔

لیکن جیسے میں کوہلی کی مثال دے چُکا۔ ایسے ہی روہت شرما ہے جو ابتدائی تین ٹورنامنٹ میں حیدر آباد کی طرف سے کھیلا اور وہاں سے ٹورنامنٹ بھی جیتا لیکن 2010 میں ممبئی آنے کے بعد وہ انٹرنیشنل کرکٹ میں بھی بڑے کھلاڑی بن کر آئے ہیں۔
برسبیلِ تذکرہ دہلی نے 2008 میں کوہلی کو پک کرنے کی بجائے پردیب سنگوان کو پک کیا کہ اس وقت انکی ٹیم میں وارنر، اے بی ڈی ویلئیرز، سہواگ ، دلشان، اور شاید گوتھم بھی تھے۔

اور اسی سے یاد آیا کہ 2020 میں جب کووڈ کی سچوئشن میں دبئی بورڈ نے پریکٹس باؤلر سے منع کیا اور سب ٹیمز کے کہا کہ نیٹ پریکٹس کے لئے باؤلر ساتھ لائے جائیں تو دہلی نے پھر پردیپ سنگوان کو پک کیا۔

بات یہ نہیں تھی کہ علاقائی وابستگی سے پرفارمنس پر فرق پڑتا ہے۔ بات یہ ہے کہ اپنے شہر قصبے گلی سے کھیلتے ہوئے کچھ الگ ہی جوش ہوتا ہے۔

یہ بات درست ہے۔

لیکن اس طرح کی لیگز میں علاقائی وابستگی سے زیادہ کمرشل ازم کی اہمیت ہوتی ہے۔ جب کھلاڑی خریدے اور بیچے جائیں تو کہیں کا مال کسی اور منڈی میں مل جانا ایسا بعید از قیاس بھی نہیں ہے۔ ایسے میں بات وابستگی کی نہیں بلکہ ڈیمانڈ سپلائی کی رہ جاتی ہے۔
 

سیما علی

لائبریرین
یہ بات درست ہے۔

لیکن اس طرح کی لیگز میں علاقائی وابستگی سے زیادہ کمرشل ازم کی اہمیت ہوتی ہے۔ جب کھلاڑی خریدے اور بیچے جائیں تو کہیں کا مال کسی اور منڈی میں مل جانا ایسا بعید از قیاس بھی نہیں ہے۔ ایسے میں بات وابستگی کی نہیں بلکہ ڈیمانڈ سپلائی کی رہ جاتی ہے۔
بہت خوب تجزیہ ہے ۔۔۔
 
ابھی تک فکسچر تو اناؤنس نہیں ہوا لیکن پی ایس عمومی طور پو فروری/مارچ میں کھیلا جاتا ہے۔
شاید ایک ماہ کے اندر ڈرافٹ کا مرحلہ طے کر لیا جائے گا اور پھر شیڈول وغیرہ بنایا جائے گا۔
چونکہ کرونا کی وجہ سے انٹرنیشنل شیڈول بھی متاثر ہے تو شاید انتظامیہ اسکے لئے شیڈول آگے پیچھے کر لے کہ وہ ونڈو مل جائے جس میں زیادہ تر انٹرنیشنل کھلاڑی دستیاب ہوِں۔

دور نہیں، مطلب، پھر کب شروع ہو رہا ہے؟
 
Top