وہ کسی کا میری جانب مسکرا کر دیکھنا-----مزمل شیخ بسملؔ

فارقلیط رحمانی

لائبریرین
اوہ۔۔۔ ! تو یہ چکر ہے۔
اب مجھے یاد آرہا ہے ایک دھاگے میں ہمارے محفل کے ایک شاعر (کاشف عمران کاؔمل)جنھیں کچھ ہی دنوں میں استاد بھی مان لیا گیا تھا، انھوں نے ایک دھاگے میں شاعری میں جدت پیدا کرنے کی سنجیدہ بحث چھیڑی تھی، پھر اس بات پر ناراض ہوگئے تھے کہ محفل کے کچھ ساتھیوں نے اتنے سنجیدہ دھاگے میں مذاق شروع کردیا ہے، جن باتوں کو انھوں نے مذاق سمجھ کر برا مانا تھا ان میں سے ایک یہ تھی کہ ان کے شعر میں لفظ نرگس(بغیر ھ) پر کسی نے نشاندہی کرنے کے لیے حیرت سے لکھا تھا: ”نرگھس!“ ، شاید وہاں بھی اشکال کرنے والے کو نرگس ھ کے ساتھ نظر آرہا ہوگا۔

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جی ہاں! علامہ صاحب!
وہ مذاق نہیں تھا۔ جیسا کہ الف عین صاحب فرما چکے وہ"
جمیل نوری نستعلیق کی لگیچر کی غلطی ہے۔ اگر ڈفالٹ تھیم بدل کر دیکھیں تو درست نظر آتا ہے۔​
"اس بات سے آپ کاشف عمران کامل صآحب کو مطلع فرما دیجیے۔ تاکہ ان کی نا راضگی دور ہو جائے۔
 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جی ہاں! علامہ صاحب!
وہ مذاق نہیں تھا۔ جیسا کہ الف عین صاحب فرما چکے وہ"
جمیل نوری نستعلیق کی لگیچر کی غلطی ہے۔ اگر ڈفالٹ تھیم بدل کر دیکھیں تو درست نظر آتا ہے۔​
"اس بات سے آپ کاشف عمران کامل صآحب کو مطلع فرما دیجیے۔ تاکہ ان کی نا راضگی دور ہو جائے۔

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
کاشف صاحب تو اب ہاتھ آنے سے رہے۔ البتہ اس فونٹ نے جو بدگمانی پھیلائی اس پر حیرت ہوئی کافی۔ اُس دھاگے میں مجھے بھی برا محسوس ہوا تھا کہ نرگھس والا مذاق کیوں کیا جارہا ہے، مگر یہ تو معاملہ ہی اور تھا۔
خیر جانے دیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کے خیر و عافیت والا معاملہ فرمائے۔
 

فارقلیط رحمانی

لائبریرین
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
کاشف صاحب تو اب ہاتھ آنے سے رہے۔ البتہ اس فونٹ نے جو بدگمانی پھیلائی اس پر حیرت ہوئی کافی۔ اُس دھاگے میں مجھے بھی برا محسوس ہوا تھا کہ نرگھس والا مذاق کیوں کیا جارہا ہے، مگر یہ تو معاملہ ہی اور تھا۔
خیر جانے دیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کے خیر و عافیت والا معاملہ فرمائے۔


:)
 

محمداحمد

لائبریرین
رنگ لائے گی فغاں کیا سر پہ چھا کر دیکھنا
کھا ئے گا یہ آسماں چکر پہ چکر دیکھنا
حسرت و ارماں کی یارب خیر تیرے ہاتھ ہے
روز حملے کر رہا ہے غم کا لشکر دیکھنا
نزع کے آنسو میں ڈوبی کشتیِ عمرِ رواں
ایک قطرہ ہوگیا بڑھ کر سمندر دیکھنا
کر گئی برباد ترکِ آرزو کی جستجو
وہ کسی کا میری جانب مسکرا کر دیکھنا


بہت خوب مزمل بھائی !

عمدہ غزل ہے۔ داد قبول فرمائیے۔
 
ایک غیر طرحی مشاعرے میں لکھی گئی غزل۔ قارئین کی نذر۔​
غزل
اشکِ شبنم سے مجھے نرگس کا رو کر دیکھنا
بعد مُردن تم مری تربت پہ آ کر دیکھنا
پاؤ گے گل کاریِ خنجر سراسر دیکھنا
زخمِ دل کا تم ذرا پھاہا چھٹا کر دیکھنا
رنگ لائے گی فغاں کیا سر پہ چھا کر دیکھنا
کھا ئے گا یہ آسماں چکر پہ چکر دیکھنا
ایک مشکل دونوں جانب ہے برابر دیکھنا
سخت جانی پر مری یہ کند خنجر دیکھنا
میری مِٹّی کا تو اک ذرّہ بھی ہے تربت مری
اپنے ہاتھوں سے مری تربت مٹا کر دیکھنا
حسرت و ارماں کی یارب خیر تیرے ہاتھ ہے
روز حملے کر رہا ہے غم کا لشکر دیکھنا
نزع کے آنسو میں ڈوبی کشتیِ عمرِ رواں
ایک قطرہ ہوگیا بڑھ کر سمندر دیکھنا
کر گئی برباد ترکِ آرزو کی جستجو
وہ کسی کا میری جانب مسکرا کر دیکھنا
عشق کی سوزش سے بسملؔ خاک ہو جائے گا سب
میری تربت پر ذرا سبزہ اُگا کر دیکھنا

واہ صاحب۔لطف آگیا۔بہت دادا قبول ہو۔ کیا خوبصورت غزل ہے
ایک مشکل دونوں جانب ہے برابر دیکھنا
سخت جانی پر مری یہ کند خنجر دیکھنا
 
خوب است! کمال است! :) :) :)
زخمِ دل کا تم ذرا پھاہا چھٹا کر دیکھنا

یوں چُھٹانے کا استعمال عام بول چال میں تو سنا ہے لیکن ادبی تحریروں میں غالباً ایسے موقع کے لیے "پھاہا ہٹانا" جیسا کچھ استعمال ہوتا ہے۔ ویسے بھی چھٹانا کے بجائے چھڑانا زیادہ فصیح لگتا ہے۔ :) :) :)
میری مِٹّی کا تو اک ذرّہ بھی ہے تربت مری
سچ پوچھیں تو اس مصرع کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ایسے لگ رہا ہے جیسے "تو" اور "بھی" وغیرہ کے استعمال میں کسی قسم کی زبردستی یا ہیر پھیر ہوئی ہے جس سے معنی مبہم ہو کر رہ گیا ہے اور شاید ما فی ضمیر کو مناسب الفاظ نہیں مل سکے ہیں۔ یا شاید ممکن ہے کہ ہم ہی درست طور پر سمجھ نہیں پا رہے۔ :) :) :)
 
Top