افکارِ بسملؔ

  1. مزمل شیخ بسمل

    گردشِ دوراں کی چائے --- مزمل شیخ بسملؔ

    میں چائے کے معاملے میں ہمیشہ سے حساس طبیعت واقع ہوا ہوں۔ اب آپ پوچھیں گے کہ کوئی ایسا معاملہ بھی ہے جس کے حوالے سے میری طبیعت حساس نہ ہو؟ لیکن اس سوال کا میرے پاس کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ہے۔ عالم یہ ہے کہ اپنے گھر میں ہوں تو چائے خود بناتا ہوں اور کسی دوسرے گھر میں چائے اگر پینی پڑ جائے تو گمان...
  2. مزمل شیخ بسمل

    مرے گناہوں سے معصیت بھی اب اپنا دامن جھٹک رہی ہے۔۔۔مزمل شیخ بسملؔ

    نگاہِ مسلم جو زورِ باطل کو آج حیرت سے تک رہی ہے یہ ساری طاقت غلام بن کر کہ عرصۂ طول تک رہی ہے عمل سے برقِ یقین کوندی ، اب اسکی مدت کڑک رہی ہے زمانہ حیرت سے تک رہا تھا، یہ کونسی شے چمک رہی ہے وہی چمک تو نگاہِ باطل میں آج تک بھی کھٹک رہی ہے وصالِ مومن کی جستجو میں جو آج در در بھٹک رہی ہے...
  3. مزمل شیخ بسمل

    وہ کسی کا میری جانب مسکرا کر دیکھنا-----مزمل شیخ بسملؔ

    ایک غیر طرحی مشاعرے میں لکھی گئی غزل۔ قارئین کی نذر۔ غزل اشکِ شبنم سے مجھے نرگس کا رو کر دیکھنا بعد مُردن تم مری تربت پہ آ کر دیکھنا پاؤ گے گل کاریِ خنجر سراسر دیکھنا زخمِ دل کا تم ذرا پھاہا چھٹا کر دیکھنا رنگ لائے گی فغاں کیا سر پہ چھا کر دیکھنا کھا ئے گا یہ آسماں چکر پہ چکر دیکھنا ایک...
  4. مزمل شیخ بسمل

    غزل: گر چہ گلشن میں علاجِ تنگیِ داماں بھی تھا : مزمل شیخ بسملؔ

    ہنوز نا تمام تازہ غزل پیش خدمت ہے ابھی وارد ہوئی ہے۔ اصحابِ ذوق کی نذر: گر چہ گلشن میں علاجِ تنگیِ داماں بھی تھا پر وہیں خانہ خرابوں کے لئے زنداں بھی تھا ہم خرابے میں پڑے مرتے ہیں وقتِ نزع آج تھوڑا آگے بڑھتے تو عشرت کا ہر ساماں بھی تھا دل میں ڈر اور ہاتھ میں ساغر لئے پھرتا رہا گو بظاہر رند...
  5. مزمل شیخ بسمل

    بسمل غزلیات میں ایک اور غزل کا اضافہ برائے تنقید:::: کچھ ایسی ہی لگی ہے چوٹ میرے رازِ پنہاں پر

    غزل (مزمل شیخ بسملؔ) کچھ ایسی ہی لگی ہے چوٹ میرے رازِ پنہاں پر جو آنسو آنکھ سے چل کر رکا ہے نوکِ مژگاں پر نہیں آغازِ خط اے ہم نشیں رخصارِ جاناں پر یہ قدرت نے لکھا ہے حاشیہ صفحاتِ قرأں پر یہ فصلِ گل حقیقت میں بری شے ہے کہ دیکھا ہے اسی موسم میں اکثر برق گرتی ہے گلستاں پر کچھ ایسا لطف...
  6. مزمل شیخ بسمل

    اساتذہ کی توجہ!!!!

    میر کی زمین میں یہ غزل گو کہ مشاعرے میں پیش کر چکا ہوں لیکن اب ماہرین کے مشوروں کا طالب ہوں اس غزل کے بارے میں:::: غزل (مزمل شیخ بسملؔ) جو کل تھی آج ہم میں وہ سیرت نہیں رہی وہ دبدبہ وہ ہوش وہ شوکت نہیں رہی جو کل تھی آج ہم میں وہ جرات نہیں رہی وہ حوصلہ وہ جوش وہ ہمت نہیں رہی جو کل تھی آج...
Top