کلیم عاجز وہ محفل جو اپنی سجائی ہوئی تھی گزراب وہاں بھی ہمارانہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔کلیم عاجز

ابن جمال

محفلین
وہ محفل جو اپنی سجائی ہوئی تھی گزراب وہاں بھی ہمارانہیں ہے
کبھی گل ہمارے ،گلستاں ہمارا،کبھی آشیاں بھی ہمارانہیں ہے


کہیں سوزش دل کی روداد کس کو ،سنائیں تپ غم کی فریاد کس کو
بجز شمع محفل تری انجمن میں، کوئی ہم زباں بھی ہمارانہیں ہے


محبت توہے اپنی فطرت میں داخل ،کئے جارہے ہیں کئے جائیں گے ہم
مگرآپ قدر محبت کریں گے ،یہ وہم وگماں بھی ہمارانہیں ہے


بھٹکتے ہیں یوں بے سہارے کہ جیسے ،مسافر بھٹکتاہے تاریکیوں میں
کوئی شمع منزل ہماری نہیں ہے ،کوئی کاررواں بھی ہمارانہیں ہے


یہی بے نیازی یہی بے رخی ہے ،توہم سے بھی دشوار اب بندگی ہے
اگرتیری محفل ہماری نہیں ہے تراآستاں گر ہمارانہیں ہے


بھرم اپنے نالوں کا رکھیں گے کب تک کسی کے تغافل کو الزام دے کر
حقیقت تویہ ہے کہ اے ہم صفیرو،وہ جوش فغان بھی ہمارانہیں ہے

کلیم عاجز
 

الف عین

لائبریرین
میری طرف سے بھی شکریہ، کلیم عاجز کی ای بک بن سکتی ہے، وہ تمہارے نام!! اب تک کا کلام کاپی کر لیا ہے۔
 

ابن جمال

محفلین
تومیں ایساکیوں نہ کروں کہ روز یاجب کبھی فرصت ہو کلیم عاجز کی غزل ترتیب وار اردو محفل میں شائع کرنے کیلئے دے دوں۔کیایہ بہتررہے گا۔
 

فرخ منظور

لائبریرین
تومیں ایساکیوں نہ کروں کہ روز یاجب کبھی فرصت ہو کلیم عاجز کی غزل ترتیب وار اردو محفل میں شائع کرنے کیلئے دے دوں۔کیایہ بہتررہے گا۔

بہت شکریہ ابنِ جمال صاحب۔ آپ ایسا ہی کیجیے یوں ایک ای بک مرتب ہوتی رہے گی۔
 
Top