محمد وارث

لائبریرین
آسٹریلیا سے ناک آؤٹ میں ہارنا میں اپنے لڑکپن سے دیکھ رہا ہوں، 1987ء ورلڈ کپ لاہور سیمی فائنل میں بھی ہمارے دل اسی طرح ٹوٹے تھے اور کسی کرکٹ میچ کے بعد میں پہلی بار رویا تھا، پھر 2010 ء سیمی فائنل میں مائیک ہسی نے میرے تینوں بچوں کو رلا دیا تھا اور اب وہ بھی ہنس ہنس کر برداشت کر گئے ہیں۔

پھر چلیں اب آسٹریلیا ٹیم کچھ ماہ بعد پاکستان آئے گی تو خوب بدلہ ودلہ لے لیں گے۔

چل یار کوئی نئیں، ویل پلیڈ! :)
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
255954100_10158489064347555_3263682087984563181_n.jpg
 

یہ بات قابلِ ستائش نہیں ہے اور ہرگز نہیں ہے۔ لا محالہ ہم یہ میچ جیت بھی جاتے تب بھی یہ امر قابلِ تعریف نہ تھا اور ہے۔ ٹیم مینجمنٹ اور کپتان کو رضوان کو ریسٹ دینا چاہیے تھا اگر وہ خود کھیلنا بھی چاہتا تھا تو۔
اگرچہ رضوان بہت اچھا کھیلا اور میں اس اننگ کے لئے تا حیات اسکا فین رہوں گا۔ لیکن ایک فٹ پلئیر شاید کافی الگ کھیل سکتا تھا۔ اگرچہ رضوان کی اننگ کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے لیکن شاید سو فیصد فٹ کھلاڑی شاید بہتر کھیل کھیل جاتا۔ ٹیم کو اگر مستقبل میں اچھا کرنا ہے تو ایسے سخت فیصلے لینے پڑیں گے اور اگر انفرادی کاوشوں پر ہی انحصار کرنا ہے تو پھر سب ٹھیک ہے۔
 

علی وقار

محفلین
یہ پچ دو سو رنز والی تھی، پاکستانی اوپنرز آہستہ کھیلے۔ پہلے دس اوورز میں آسٹریلیا نے عمدہ باؤلنگ کروائی۔ یہ میچ آسٹریلیا نے مشکل سے جیتا، مگر وہ ہم سے بہتر کھیلے، حالانکہ بہت بہتر کارکردگی ان کی بھی نہیں تھی؛ ہم نے ایوریج کھیل پیش کیا۔ کسی شعبے میں بھی غیر معمولی کارکردگی مجھے نظر نہیں آئی۔ کچھ کھلاڑی بھرتی کے تھے اور بعض ایسے ہیں کہ انہیں پانچ سال قبل ریٹائر ہو جانا چاہیے تھا۔ ورلڈ کپ جیتنا آسان نہیں، اور ہر میچ میں کسی کی انفرادی کارکردگی کام نہیں آتی، یہ ٹیم گیم ہے۔
 

اکمل زیدی

محفلین
بھیا اب ایسی بھی اندھی نہیں چل رہی ۔۔۔پاکستانی ٹیم کے بارے میں صرف ایک جملہ ہی کافی ہے کے اگر وہ جیتنے کے موڈ میں ہوں تو دنیا کی کوئی ٹیم اسے نہیں ہرا سکتی ۔۔۔بس موڈ کی بات ہے جو آج کل بنا ہوا ہے ۔۔۔ ;)
ہماری بات صحیح نکلی نا۔۔۔آخر میں ان کا موڈ بدل گیا ۔۔موڈ تو بابر اعظم کا بھی اسٹرینجر لگا سب کھلاڑیوں کو بھی سکرین پر نظر آرہا ہوتا ہے کے گالی دی گئی ہے یا ایپریشی ایٹ کیا گیا ہے ۔۔۔:sad:
 

سید عاطف علی

لائبریرین
یہ بات قابلِ ستائش نہیں ہے اور ہرگز نہیں ہے۔ لا محالہ ہم یہ میچ جیت بھی جاتے تب بھی یہ امر قابلِ تعریف نہ تھا اور ہے۔ ٹیم مینجمنٹ اور کپتان کو رضوان کو ریسٹ دینا چاہیے تھا اگر وہ خود کھیلنا بھی چاہتا تھا تو۔
صرف ایک تصویر پر یہ فیصلہ نہیں ہو سکتا کہ کھیلا جائے یا نہ کھیلا جائے دو دن پہلے ہسپتال میں ہونا کوئی اہم بات نہیں ۔ شعیب کا پیغام محض ایک مائلڈ سا ستائشی اظہار ہے ۔
اس ایک تصویر کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ رضوان کو ریسٹ کی ضرورت ہے اور وہ اچھی طرح کھیل ہی نہیں سکتا۔ نہ اس کے کھیل سے ایسا کچھ پتہ چلا۔
 
آخری تدوین:

علی وقار

محفلین
صرف ایک تصویر پر یہ فیصلہ نہیں ہو سکتا کہ کھیلا جائے یا نہ کھیلا جائے دو دن پہلے ہسپتال میں ہونا کوئی اہم بات نہیں ۔ شعیب کا پیغام محض ایک مائلڈ سا ستائشی اظہار ہے ۔
اس ایک تصویر کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ رضوان کو ریسٹ کی ضرورت ہے اور وہ اچھی طرح کھیل ہی نہیں سکتا۔ نہ اس کے کھیل سے ایسا کچھ پتہ چلا۔
عاطف بھائی، مجھے لگتا ہے کہ رضوان اپنی بہترین اننگز کھیل نہ پایا، گو کہ اس کا عزم قابل ستائش ہے۔ شروع کے اوورز کی ہائی لائٹس دیکھیے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ رضوان کو فٹنس کے مسائل درپیش تھے اور حتیٰ کہ وہ آؤٹ آف فارم پلیئر لگ رہا تھا مگر چونکہ یہ جی جان لگا کر کھیلنے والا کھلاڑی ہے تو شاید اس خوبی کے باعث اسے ٹیم میں شامل کیا گیا۔ بڑے میچ میں بڑے فیصلے لیے جانے چاہئیں تھے۔ ہمارے ہاں بد قسمتی سے پلیئرز نام پر ٹیم میں شامل کیے جاتے رہے ہیں۔ حسن کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ بابر اعظم کا حسن پر اندھا اعتماد مجھے پسند نہیں آیا۔ حسن کے متعلق ورلڈ کپ سے قبل بھی تجربہ کار سابقہ ماہرین کے تحفظات موجود تھے اور ورلڈ کپ کے دوران بھی یہی کہا جاتا رہا کہ حسن اس سکواڈ میں مِس فٹ ہے مگر ذاتی پسند ناپسند پر سیلیکشن ہو گئی اور اس کا نتیجہ بھی برآمد ہو گیا۔ حسن علی اچھا باؤلر تھا مگر ویری ایشن نہیں رہی، محنت نہیں رہی اور جو کھلاڑی اس زمانے میں پریڈیکٹ ایبل ہو جائے اس کا توڑ کر لیاجاتا ہے۔ نئے باؤلرز کی فوج ظفر موج میں اب شاید حسن علی کی جگہ باقی نہیں رہی۔ مزید یہ کہ حفیظ اور شعیب کو ٹیم میں شامل کر لیا گیا۔ بلا شبہ یہ اچھے کھلاڑی ہیں مگر چالیس کی عمر کے بعد عام طور پر ریفلیکسز ویسے نہیں رہتے اس لیے اصولی طور پر ان کی ٹیم میں جگہ نہیں بنتی تھی۔
 

سید عاطف علی

لائبریرین
عاطف بھائی، مجھے لگتا ہے کہ
بہت سی باتیں ٹھیک ہیں اور کرکٹ کے نظام میں یہ بہتریاں یقینا ممکن ہے اور ہونی بھی چاہئیں اس سے انکار نہیں ۔
جہاں تک عمر کا تعلق ہے اس سے متفق نہیں ۔ جب میدان کا بازار لگتا ہے تو صرف اور صرف کارکردگی کا سکہ چلتا ہے عمر سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔
ریفلیکسز کی اپنی تھراپیز ہوتی ہیں لیکن اصل معیار کا انحصار کارکردگی اور نتیجے پر ہوتا ہے ۔
آپ کتنا ہی اچھا کھیل لیں ،اگر ہار جائیں تو کپ اور انعام کی رقم نہیں پا سکتے ۔ یہ نہیں تو کچھ نہیں ۔اسے ہر کوئی اچھے سے اچھا تجزیہ کار اور مجھ جیسا نادان بھی سمجھتا ہے۔
اگر میں یہ تصویر نہ دیکھوں یا خبر نہ پڑھوں ،تو کبھی یقین نہ کروں کہ کل رضوان اس وجہ سے اچھا نہیں کھیلا ۔
خیر یہ میری رائے ہے ۔
 
آخری تدوین:
Top