وجود باری تعالی کےسائنسی، عقلی اور نقلی دلائل

قسیم حیدر

محفلین
میں نے زکریا صاحب کے شروع کیے ہوئے سلسلے ''خدا عظیم نہیں ہے'' میں ارادہ ظاہر کیا تھا کہ ان شاء اللہ جلد ہی مضامین کے ایک ایسے سلسلے کا آغاز کیا جائے گا جس میں وجود باری تعالی کے عقلی اور نقلی دلائل بیان کیے جائیں گے۔ اس سلسلے کا پہلا مضمون میں یہاں پوسٹ کر رہا ہوں۔ اس مضمون میں دیے گئے اعداد و شمار انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا اور مائیکروسافٹ انکارٹا انسائیکلو پیڈیا سے لیے گئے ہیں۔ یہاں پوسٹ کرنے کا مقصد مضمون کی بہتری کےلیے آراء اکٹھی کرنا ہے۔ میرا ارادہ اس موضوع پر ایک ویب سائٹ بنانے کا ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اگر ان کے ذہن میں کوئی تجویز ہو تو ضرور آگاہ کریں۔
 

قسیم حیدر

محفلین
کائنات کی وسعت، وجود باری تعالی کی دلیل۔1

قرآنِ کریم انسان کو کائنات میں غور کرنے اور اس میں اللّٰہ تعالی کی نشانیاں تلاش کرنے پر ابھارتا ہے۔ قرآنِ کریم میں زمین و آسمانوں کی تخلیق، سورج ، چاند اور ستارے، جانوروں میں دودھ بننے کے پیچیدہ عمل کی طرف اشارات، انسان کی پیدائش میں اللّٰہ تعالی کی قدرت کی نشانیاں، سمندروں میں کشتیوں کا چلنا، بارش بننے کا عمل، پہاڑوں کے فوائد، رات اور دن کا باری باری آنا جانا وغیرہ کو اللہ تعالی کی عظیم نشانیوں میں شمار کیا گیا ہے اور زمین اور آسمانوں کی تخلیق اور بناوٹ میں غور کرنے کی خاص طور پر ترغیب دلائی گئی ہے۔
اِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالاَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّہَارِ لآيَاتٍ لِّاُوْلِي الالْبَابِ۔ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللّہَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىَ جُنُوبِھِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالاَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھَذا بَاطِلاً سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (آل عمران۔190-191)
''زمین اور آسمان کی تخلیق میں اور رات اور دن کے باری باری آنے میں اُن ہوشمند لوگوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں جو اُٹھتے، بیٹھتے اور لیٹتے، ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی ساخت میں غور کرتے ہیں۔ (وہ بے اختیار بول اٹھتے ہیں) ''اے ہمارے رب! یہ سب کچھ تو نے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا، تو پاک ہے اس سے عبث کام کرے، پس اے رب! ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔''
آسمان کی تخلیق میں اتنے معجزات پوشیدہ ہیں کہ انہیں دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔ کائنات میں بکھری ہوئی نشانیوں کو دیکھ کر ایک انصاف پسند اور سلیم الفطرت انسان کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ اتنا منظم اور اعلی درجے کا نظام کسی بنانے والے کے بغیر نہیں بن سکتا اور نہ کسی چلانے والے کی نگرانی کے بغیر چل سکتا ہے۔ سورۃ یونس آیت 101 میں فرمایا:
قُلِ انظُرُواْ مَاذَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالاَرْضِ وَمَا تُغْنِي الآيَاتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لاَّ يُؤْمِنُونَ (سورۃ یونس۔ آیت101)
'' اِن سے کہو'' آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسے آنکھیں کھول کر دیکھو'' اور جو لوگ ایمان لانا ہی نہیں چاہتے ان کے لیے نشانیاں اور تنبیہیں آخر کیا مفید ہو سکتی ہیں۔''
کائنات میں ہمارا سفر زمین سے شروع ہوتا ہے۔ زمین پر کھڑے ہوں تو یہ چپٹی معلوم ہوتی ہے۔ لیکن درحقیقت ہماری زمین (Earth) بیضوی شکل کا ایک سیارہ ہے جو سورج کے گرد مخصوص راستے پر چکر لگا رہی ہے۔ یہ نظام شمسی (Solar System) کا حصہ ہے۔ نظام شمسی کے وسط میں سورج واقع ہے جس کےگرد سیارے اور سیارچے خاص راستوں پر گھومتے ہیں، ان راستوں کو سیاروں کے مدار کہا جاتا ہے۔ ستارے (Star) اور سیارے (Planet) میں فرق یہ ہے کہ ستارہ خود روشن ہوتا ہے جبکہ سیارہ خود روشن نہیں ہوتا اور دوسرے ستاروں سے آنے والی روشنی کو منعکس کرنے کی وجہ سے روشن نظر آتا ہےمثلاً سورج ایک ستارہ ہے جس کے اندر ہر وقت ہونے والے ایٹمی دھماکوں سے روشنی پیدا ہوتی ہے جو اسے روشن رکھتی ہےاور زمین ایک سیارہ ہے کیوں کہ اس کی اپنی روشنی نہیں ہے بلکہ یہ سورج سے آنے والی روشنی کو منعکس کرتی ہے۔ستاروں کے مجموعے کو کہکشاں (Galaxy) کہا جاتا ہے۔ کہکشاں میں ستاروں کی تعداد اربوں ہو سکتی ہے۔
ہماری زمین کا قطر تقریبًا 12٫756 کلومیٹر ہے۔ جبکہ یہ سورج کے گرد ایک لاکھ سات ہزارکلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہی ہے۔غور کریں کہ خالقِ کائنات نے کیسا زبردست نظام بنایا ہے کہ اس قدر تیز رفتاری کے باوجود زمین پر موجود مخلوقات کو اس کی حرکت کا احساس تک نہیں ہوتا۔ سورج کے گرد ایک چکر مکمل کرنے میں زمین کو ایک سال لگتا ہے اور اس عرصے میں وہ تقریبًا چھیانوے کروڑ کلومیٹر کا سفر طے کرتی ہے۔سادہ الفاظ میں یوں سمجھیے کہ جتنی دیر میں آپ آنکھ جھپکتے ہیں اتنی دیر میں زمین ڈیڑھ ہزار کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ طے کر جاتی ہے۔ ہوائی جہاز اور زمین کی رفتار کا موازنہ کرنے سےمعلوم ہو گا کہ جتنا فاصلہ زمین ایک سیکنڈ میں طے کرتی ہے، ہوائی جہاز وہ فاصلہ ایک گھنٹے میں بھی طے نہیں کر پاتا۔ لیکن دیکھیے کہ ہوائی جہاز کے برعکس زمین کی حرکت کے دوران ذرا سا ارتعاش بھی پیدا نہیں ہوتا۔ کیا یہ اس بات کی علامت نہیں ہے کہ کسی حکیم ہستی نے زمین کو کمال مہارت سے بنایا ہے کہ اپنے بڑے سائز اور انتہائی رفتاری کے باوجود اس پر موجود انسان کو احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ کسی متحرک شئے پر سفر کر رہا ہے۔
فَتَبَارَكَ اللَّہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِينَ (المومنون)
'' پس بڑی برکت والا ہے اللّٰہ۔ سب بنانے والوں سے اچھا بنانے والا۔''
ہمارے نظام شمسی کا دوسرا اہم اور سب سے بڑا رکن سورج ہے۔ اس کا قطر تقریبًا 1391016 کلو میٹر ہے۔ یہ اتنا بڑا ستارہ ہے کہ اس کے اندر تیرہ لاکھ زمینیں سما سکتی ہیں۔ سورج ہمیں ہمہ وقت 3.83 ×10 26 واٹ کے برابر روشنی فراہم کر رہا ہے۔یہ اللہ تعالی کی کتنی بڑی نشانی ہے کہ زمین پر بسنے والے انسانوں کے لیے لاکھوں کلو میٹر دور سے روشنی اور حرارت کا انتظام فرمایا۔ ہم زمین پر موجود تمام وسائل استعمال کر لیں تب بھی ہمارے لیے ممکن نہیں ہے کہ ہم اپنے لیے روشنی کی اتنی بڑی مقدار پیدا کر سکیں۔ ذرا سوچیں کہ اگر سورج کی روشنی نہ ہوتی یا آج یہ روشنی ختم ہو جائے تو زمینی مخلوقات کا انجام کیا ہوگا۔
قُلْ اَرَاَيْتُمْ اِن جَعَلَ اللَّہُ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَ سَرْمَدًا اِلَى يَوْمِ الْقِيَامَۃِ مَنْ اِلَہٌ غَيْرُ اللَّہِ يَاْتِيكُم بِضِيَاء اَفَلَا تَسْمَعُونَ (القصص۔71)
'' اے نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)، اِن سے کہو کبھی تم لوگوں نے غور کیا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لیے رات طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ کونسا معبود ہے جو تمہیں روشنی لا دے؟ کیا تم سنتے نہیں ہو؟''
 

قسیم حیدر

محفلین
نظریہ ارتقاء کو ماننے والے بقائے اصلح (Survival of the Fittest) کا نظریہ پیش کر کے زمینی مخلوقات میں اللہ تعالی کی نشانیوں کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں لیکن اس بات کا ان کے پاس کوئی تسلی بخش جواب نہیں ہے کہ زمین سے لاکھوں کلومیٹر دور سورج میں وہ تمام خوبیاں کیسے پیدا ہو گئیں جو زمین پر زندگی کی بقا کے لیے ضروری ہیں۔مثلًا سورج کی کشش سمندر میں مدوجزد کا سبب بنتی ہے جس سے سمندری پانی متحرک رہتا ہے اور اس میں وہ بو اور سرانڈ پیدا نہیں ہوتی جو کھڑے پانی میں پیدا ہو جاتی ہے،اگر ایسا نہ ہوتا تو سمندری پانی کی بو پوری زمین کو متعفن بنا دیتی ۔ پودوں میں ضیائی تالیف (Photosynthesis) کا عمل سورج کی روشنی کے بغیر ممکن نہیں۔دنیا میں پیدا ہونے والی تمام خوراک بالواسطہ یا بلاواسطہ اسی ضیائی تالیف کا نتیجہ ہے۔ سورج سے آنے والی الٹرا وائلٹ ریز کا ایک حصہ زمین کے درجہ حرارت کو مناسب سطح پر رکھتا ہے۔ انسانی آنکھ روشنی کے سپیکٹرم کے اس حصے کے لیے حساس ہے جو سورج سے آتی ہے۔سورج کی روشنی چاند سے ٹکرا کر زمین کی طرف پلٹتی ہے اور رات کے وقت اسے مکمل اندھیرے سے بچاتی ہے۔ سورج کا زمین سے فاصلہ(تقریبًا 150 ملین کلو میٹر) اتنا متناسب ہے کہ اگر تھوڑا زیادہ ہو تا تو زمین ٹھٹھر کر رہ جاتی اور دریا برف بن جاتے اور اگر کم ہوتا تو قطب شمالی اور جنوبی پر موجود برف پگھل جاتی اور ساری زمین زیرِ آب آ جاتی۔
فَبِاَيِّ آلَاء رَبِّكَ تَتَمَارَى (سورۃ النجم۔55)
''پس(اے انسان) تُو اپنے رب کی کن کن نعمتوں میں شک کرے گا۔''
سورج جس کہکشاں (Galaxy) میں واقع ہے اس کا نام مِلکی وے (Milky Way) ہے ، ملکی وے میں 400 بلین ستاروں کے موجود ہونے کا اندازہ لگا یا گیا ہے یہ ستارے ایک دوسرے سے اتنے زیادہ فاصلے پر واقع ہیں کہ اسے ناپنےکے لیے روایتی پیمانے کم پڑ جاتے ہیں۔ ان کی پیمائش کے لیے ہیئت دانوں نے نوری سال (Light Year) کی اصطلاح وضع کی ہے۔نوری سال کو سمجھنے کے لیے ذہن میں یہ بات تازہ کر لیجیے کہ روشنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہے۔ سورج سے زمین تک 150 ملین کلو میٹر فاصلہ طے کرنے میں اسے تقریبًا آٹھ منٹ لگتے ہیں۔اگر روشنی اسی رفتار سے ایک سال تک چلتی رہے تو اسے ایک نوری سال کہا جاتا ہے۔ مِلکی وے کا قطر(Diameter) ایک لاکھ نوری سال ہے۔ جبکہ کہکشاں کے مرکز سےسورج تک کا فاصلہ 26٫000 نوری سال ہے۔ اس میں موجود ستاروں میں سے بعض سورج سے کروڑہا گنا بڑے ہیں۔ مثلاً ستارہ Antares سورج سے 3500 گنا زیادہ روشن ہے اور اپنے اندر چھ کروڑ سورج سمو سکتا ہے۔ یہ ہم سے تقریباً 400 نوری سال دور ہے۔ اس سے بھی بڑا ایک اور ستارہ Betelgeuse سورج سے 17000 گنا زیادہ روشن اور ہم سے 310نوری سالوں کی دوری پر ہے۔ Scheat, Riegel, W. Cephai, Aurigai اور Hereules ان سے بھی بڑے ستارے ہیں، انھیں Super giants کہتے ہیں۔ ان سے اٹھنے والے کروڑہا کلومیٹر بلند شعلے اللہ تعالی کی جلالی قدرت کے مظہرہیں۔ اگر ان ستاروں کو سورج کی جگہ پر رکھ دیا جائے تو نہ صرف ہماری دنیا بلکہ ہمارے سارے نظام شمسی میں سوائے آگ کے کچھ نہ ہو۔ مثلاً اگر Scheat کو سورج کے مقام پر رکھ دیا جائے تو زہرہ اس کے محیط میں آجائے اور اگر Betelguse سورج کی جگہ آجائے تو ہماری زمین اور مریخ تک کی جگہ کو اپنے اندر نگل لے اور اگر Aurgai سورج کے مقام پر آجائے تو سیارہ Uranus اس کے محیط میں آجائے گا۔ یعنی سورج سے لے کر یورینس تک آگ ہی آگ ہوگی اور نظام شمسی کی آخری حدود تک شعلے ہی شعلے ہوں گے۔
اس سے آگے چلیں تو خود ہماری کہکشاں کا کائنات میں کوئی مقام نہیں ہے۔ اینڈرومیڈا کہکشاں (Andromeda Galaxy) ہم سے اکیس لاکھ اسی ہزار نوری سال دور ہے۔ اس میں 300 سے 400 بلین ستاروں کے موجود ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔جبکہ اربوں کہکشائیں ایسی بھی ہیں جنھیں محض عام انسانی آنکھ سے نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ انھیں دیکھنے کے لیے انتہائی طاقت ور دوربینیں درکار ہیں۔ ان کے درمیان لاکھوں کروڑوں نوری سال کے فاصلے ہیں۔ یہ سب ساکن نہیں، بلکہ اپنے مرکز کے گرد گھوم رہی ہیں اور خلا میں بھی چل رہی ہیں۔ ان میں سے بعض کی رفتار کروڑ ہا میل فی گھنٹا ہے ۔ ہیئت دانوں کا خیال ہے کہ کائنات میں موجود کہکشاؤں کی تعداد 125 بلین کے قریب ہے۔ ان لاتعداد کہکشاؤں کے گھومنے اور ناقابل یقین رفتار سے سفر کرنے کا حیرت انگیز منظر دوربینوں کی مدد سے دیکھا جا سکتا ہے۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ اگر ہم اپنی دوربینیں لے کر اس فاصلے کے آخر تک پہنچ جائیں تب بھی یہی نظارہ ہوگا کیونکہ کائنات میں مسلسل وسعت ہو رہی ہے۔ اللہ تعالی نے کتنی سچی بات فرمائی ہے:
وَالسَّمَاء بَنَيْنَاھَا بِسَيْدٍ وَاِنَّا لَمُوسِعُونَ (الذاریات۔47)
''آسمان کو ہم نے اپنے زور سے بنایا ہے اور ہم اِسےوسیع کرتے جا رہے ہیں۔'' (الذاریات۔47)
یہ سب کچھ دیکھ کر ایک سلیم الفطرت آدمی یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یہ کائنات کسی بنانے والے کے بغیر نہیں بن سکتی، اس میں ستاروں اور سیاروں کے مدار اتنی درستگی سے بنائے گئے ہیں کہ اگر ان میں چند ڈگری کا بھی فرق آ جائے تو کائنات ہل کر رہ جائے۔ ارب ہا ستارے کائنات میں گردش کر رہے ہیں لیکن ایک دوسرے سے ٹکراتے نہیں۔مقرر شدہ راستے سے ہٹتے نہیں۔اگر Antares ستارے کے حجم کے برابر کوئی ستارہ ہمارے نظام شمسی کے قریب سے گزر جائے تو اس کی کشش کی وجہ سے سارا نظام شمسی اس میں جا گرے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا۔ کوئی تو ہے جو لاکھوں اربوں سال سے زمین کی حفاظت کرتا چلا آتا ہے اور اسے اس طرح کی خلائی آفتوں سے بچا کر رکھتا ہے۔ کائنات میں پایا جانے والا توازن، اور اس میں پایا جانے والا نظم کسی خالق کے وجود کی خبردے رہا ہے۔
اَفِي اللّہِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالاَرْضِ يَدْعُوكُمْ لِيَغْفِرَ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرَكُمْ اِلَى اَجَلٍ مُّسَمًّى (سورۃ ابراھیم۔آیت 10)
'' کیا اللّٰہ کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے؟ وہ تمہیں بلا رہا ہے تا کہ تمہارے قصور معاف کرے اور تم کو ایک مدتِ مقرر تک مہلت دے۔''
علاوہ ازیں اگر اسے چلانے والےایک سے زیادہ ہوتے تو یہاں جنگ و جدل برپا رہتا مگر یہاں کا امن، سکون اور ہر ایک کی اطاعت و فرمانبرداری شہادت دیتی ہے کہ ان کا خالق و مدبر ایک ہی ہے۔
لَوْ كَانَ فِيھِمَا آلِھۃٌ اِلَّا اللَّہُ لَفَسَدَتَا فَسُبْحَانَ اللَّہِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ (سورۃ الانبیاء۔22)
''اگر زمین و آسمان میں اللہ کے سوا بھی الٰہ ہوتے تو ان کا نظام بگڑ جاتا۔ پس پاک ہے اللہ رب العرش اُن باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔''
اس میں ان لوگوں کے لیے بھی سوچنے کا سامان ہے جن کے خیال میں اللہ تعالٰی نے زمین پر کچھ لوگوں کو اپنا نائب یا حاجت روا بنا کر حاجتیں پوری کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔ میرے بھائی! جو اللہ اتنی بڑی کائنات بنا سکتا ہے وہ بلا شرکتِ غیرے اسے چلا بھی سکتا ہے اور بلاشبہ اکیلے ہی چلاتا ہے۔
 

فاتح

لائبریرین
ایک سوال

السلام علیکم!
سبحان اللہ۔۔۔ سبحان اللہ۔۔۔ سبحان ربی الاعلی۔ بلا شبہ وہ احسن الخالقین ہے۔

قسیم! جیسا کہ آپ نے بتایا کہ ہماری پڑوسی کہکشاں کا نام اینڈرومیڈا کہکشاں (Andromeda Galaxy) ہے تو ہماری کہکشاں کا کیا نام ہے؟
 

فرید احمد

محفلین
وحیدالدین خاں صاحب ، اس وقت تو ہندستان میں اچھے خاصے جدت پسند اور ہندو نواز مانے جاتے ہیں ، مگر جب کہ آتش جواں تھا ، انہوں نے ایک کتاب لکھی تھی " علم جدید کا چیلنج " خاصے کی چیز ،،،
انگلش اور عربی میں ترجمہ ہو چکا ہے ، عربی کا نام ہے " الاسلام یتحدی ،
انگلش کا نام معلوم نہیں ، کہیں مل گیا تو بتاوں گا ، مگر سائنس اور اسلام ، خصوصا نظریہ ارتقاء اور دیگر حالیہ موضوعات کے متعلق اکسیر سمجھ لیجیے ۔
 

شمشاد

لائبریرین
قسیم بھائی السلام علیکم

میں نے آج ہی آپ کی یہ پوسٹس دیکھی ہیں، معذرت خواہ ہوں کہ پہلے نہ دیکھ سکا۔

اللہ آپ کو جزا دے۔ مزید بھی لکھتے رہیے۔

(میں نے آپ کی دونوں پوسٹس جن میں عربی آیات میں ڈبے ڈبے آ رہے تھے مدون کی ہیں۔)
 
روشنی کی رفتار۔

درج ذیل تحقیق رائف فانوس صاحب کی ہے اور یہاں دیکھی جاسکتی ہے۔
http://www.speed-light.info/index.html
http://www.speed-light.info/

اس ریسرچ کا ممکنہ اردو ترجمہ یہاں درج کررہا ہوں۔

[AYAH]32:5[/AYAH] وہ آسمان سے زمین تک (نظامِ اقتدار) کی تدبیر فرماتا ہے پھر وہ امر اس کی طرف ایک دن میں چڑھتا ہے (اور چڑھے گا) جس کی مقدار ایک ہزار سال ہے اس (حساب) سے جو تم شمار کرتے ہو

[AYAH]22:47[/AYAH] اور یہ آپ سے عذاب میں جلدی کے خواہش مند ہیں اور اﷲ ہرگز اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہ کرے گا، اور (جب عذاب کا وقت آئے گا) تو (عذاب کا) ایک دن آپ کے رب کے ہاں ایک ہزار سال کی مانند ہے (اس حساب سے) جو تم شمار کرتے ہو

پہلی دو آیات دیکھئے اور اس سے حساب کیجئے۔

فرشتہ کا ایک دن میں‌طے کیا ہوا فاصلہ = 12000 x چاند جو فاصلہ ایک مکمل مدار میں طے کرتا ہے۔

C t = 12000 L

C = فرشتہ کی رفتار
t = زمین کا ایک دن ، اس کی اپنی gravitational fields سے باہر
24 گھنٹے۔ 86400 سیکنڈ سورج کے حساب سے۔ اور 23 گھنٹے، 56 منٹ اور 4.0906 سیکنڈ = 86164.0906 سیکنڈ، ستاروں حساب سے


L = چاند کے مدار کا فاصلہ اس کی اپنی gravitational fields سے باہر
چاند کا ایک ماہ کا وقت
29.53059 دن سورج کے دنوں کے حساب سے اور 27.321661 دن اور 655.71986 گھنٹے، ستاروں کے حساب سے (Side Real)
چاند کا ایک مدار: 2153025.3191666666666666666666667

چاند کا 12000 مدار کا فاصلہ 25836303830 ک م
روشنی ارض کے ایک دن میں کتنی دور جاتی ہے؟
C t' = 2997952.458 km/sec x 86170.46591 sec = 25833255780 km

کشش چقل کے باہر، Outside gravitational fields
12000 چاند کے مدار / زمین کا ایک دن = روشنی کی رفتار کے



[AYAH]70:4[/AYAH] اس (کے عرش) کی طرف فرشتے اور روح الامین عروج کرتے ہیں ایک دن میں، جس کا اندازہ (دنیوی حساب سے) پچاس ہزار برس کا ہے

اس مساوات کو دیکھئے :
speed_of_light_01.gif


∆to(1 day). فرشتہ کے پاس وقت = 1 دن

∆t انسانوں کا ناپ ہوا وقت زمین پر۔ = 50000 چاند کے سال ۔ x ۔ 12 چاند کے مہینے = 1 چاند کا سال x 27.321661 دن / چاند کا مہینہ).

v ). فرشتے کی ویلاسٹی جو ہم کیلکولیٹ کرنے جارہے ہیں۔

c روشنی کی رفتار، خلا میں = 299792.458 .

speed_of_light_03.gif


v = 299792.4579999994 km / s

یہ اوقات کا فرق بتاتا ہے کہ فرشتہ یقیناَ اضافی ویلاسٹی تک ایکسلریٹ کرتے ہیں۔ یہ وہی رفتار ہے جو پچھلی دونوں آیات سے حاصل ہوئی۔ پہلی دو آیات فاصلے اور وقت کی مدد سے اور تیسری آیت وقت کے وقت سے فرق (نظریہ آین اسٹائین) سے روشنی کی ایک ہی رفتار ظاہر کرتی ہے۔ یہ رشتہ روشنی کی درست اور بہتر طریقہ سے بیان کرتا ہے۔ جو زمان و مکان اور کشش ثقل سے بے نیاز ہے۔ اور یہ فارمولہ سائنسی طور پر ہمیشہ درست رہے گا، چاہے چاند کا مدار بڑا ہو جائے، آج، آج سے پہلے اور آیندہ بھی۔ جب تک کے اس Equilibrium کو دھچکا نہ پہنچایا جائے۔

مزید تفصیلات کے لئے دیکھئے : http://www.speed-light.info/index.html
 

فرید احمد

محفلین
فاروق صاحب !
اچھا حساب پیش کیا ہے ، قران فہمی کے لیے مفید
لیکن کیا آپ کہ سکتے ہیں کہ اس حساب پر بھی آپ کو اسی طرح ایمان ہے ، جس طرح قرآنی آیات پر ؟
 
آپ کے سوال کا شکریہ۔ الحمد للہ مجھے قرانی آیات پر ایمان کامل ہے اور کسی دوسرے ثبوت کی ضرورت نہیں۔ یہ تحریر اس موضوع کے لحاظ سے ہے۔
آپ کو جب وقت ملے تو آپ 'قرآن کیا کہتا ہے' پڑھئے۔ آپ دیکھیں گے کہ قرآن نے جو اصول او قوانین پیش کئے۔ کسی کتاب میں ان کا تذکرہ 18 ویں صدی تک نہ ملا۔ کیا یہ کم اعجاز ہے کہ قرآن کے نزول کے 1100 سال بعد تک قرآن کے اصول کسی غیر قرآنی ڈاکومینٹ‌میں نہیں پائے گئے۔ آپ کو عدل، انصاف، آپس میں‌مشورے اور دیگر اجتماعی موضوعات پر ایک اعلی قسم کی ہدایات قرآن سے کا سلسلہ ملے گا۔ یہ لکھا ہی صاحبان کے تبصرے، تائید و تنقید کے لئے۔ آپ کی نگارشات کا انتظار رہے گا۔
 

فرید احمد

محفلین
آپ دیکھیں گے کہ قرآن نے جو اصول او قوانین پیش کئے۔ کسی کتاب میں ان کا تذکرہ 18 ویں صدی تک نہ ملا۔ کیا یہ کم اعجاز ہے کہ قرآن کے نزول کے 1100 سال بعد تک قرآن کے اصول کسی غیر قرآنی ڈاکومینٹ‌میں نہیں پائے گئے۔
کیا آسمان سے اعلان ہوا کہ قران میں مذکور اصول یہی ہیں جو اب 1100 سال بعد دریافت ہوئے ۔
1100 سال بعد دریافت ہونے والے ان اصول کو یوں ہاتھوں ہاتھ لیتے ہو اور وہ بخاری شریف کا نسخہ اب دریافت ہوا تو اس کو منہ تک نہیں لگاتے ، جب کہ اس کی روایات اور موجودہ بخاری کے نسخوں کی روایات ایک ہیں ، آپ کے بقول :
جہاں تک امام حافظ الیونونی کی تصنیف کا تعلق ہے، یہ نسخہ صرف چند سال پیشتر برآمد ہوا اور پہلی بار 2002 میں طبع ہوا۔

کیا آپ کے نزدیک جمیع آثار قدیمہ کا یہی اعتبار ہے ؟

آپ کو عدل، انصاف، آپس میں‌مشورے اور دیگر اجتماعی موضوعات پر ایک اعلی قسم کی ہدایات قرآن سے کا سلسلہ ملے گا۔
اس سے کس کو انکار ہے ؟
اور کیا یہی کل قران ہے ؟
کیا اس اجتماعی نظام ، باہمی شمورہ اور عدل و انصاف میں یہ بھی ہے کہ سنی سنائی باتیں کہ کر قول رسول کو ترک کر دو ۔ یا یہ کہ سنی سنائی باتیں بالکل غیر معتبر ہیں ؟
 

قسیم حیدر

محفلین
برصغیر اور یورپ میں وجود باری تعالیٰ کا انکار ، تاریخی پس منظر

نیائے اسلام کا بیشتر حصہ ان ممالک پر مشتمل ہے جو صدر اول کے مجاہدین کی کوششوں سے فتح ہوئے تھے۔ ان کو جن لوگوں نے فتح کیا تھا وہ ملک گیری اور حصول غنائم کے لیے نہیں بلکہ خدا کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے سروں سے کفن باندھ کر نکلے تھے۔ وہ طلبِ دنیا کے بجائے طلبِ آخرت کے نشہ میں سرشار تھے۔ اس لیے انہوں نے اپنے مفتوحین کو مطیع و باجگزار بنانے پر اکتفا نہ کیا بلکہ انہیں اسلام کی رنگ میں رنگ دیا۔ ان کی پوری آباری یا اس کے سوادِ اعظم کو ملت حنیفی میں جذب کر لیا۔ علم و عمل کی قوت سےا ن میں اسلامی فکر اور اسلامی تہذیب کو اتنا راسخ کر دیا کہ وہ خود تہذیبِ اسلامی کے علمبردار اور علوم اسلامی کے معلم بن گئے۔ ان کے بعد وہ ممالک جو اگرچہ صدر اول کے بعد اس عہد میں فتح ہوئے جب کہ اسلامی جوش سرد ہو چکا تھا اور فاتحین کے دلوں میں خالص جہاد فی سبیل اللہ کی روح سے زیادہ ملک گیری کی ہوس نے جگہ لے لی تھی، لیکن اس کے باوجود اسلام وہاں پھیلنے اور جڑ پکڑ لینے میں کامیاب ہو گیا اور اس نے ان ممالک میں کلیۃً ایک قومی مذہب اور قومی تہذیب کی حیثیت حاصل کر لی تھی۔
بد قسمتی سے ہندوستان کا معاملہ اس دونوں قسم کے ممالک سے بہت مختلف ہے۔ صدرِ اول میں اس ملک کا بہت تھوڑا حصہ فتح ہوا تھا اور اس تھوڑے سے حصِہ پر بھی جو کچھ اسلامی تعلیم و تہذیب کے اثرات پڑے تھے، ان کو باطنیت کے سیلاب سے ملیا میٹ کر دیا۔ اس کے بعد جب ہندوستان میں مسلمانوں کی فتوحات کا اصلی سلسلہ شروع ہوا تو فاتحوں میں صدرِ اول کے مسلمانوں کی خصوصیات باقی نہیں رہی تھیں۔ انہوں نے یہاں اشاعت اسلام کے بجائے توسیعِ مملکت میں اپنی قوتیں صرف کیں اور لوگوں سے اطاعتِ خدا و رسول کے بجائے اپنی اطاعت و باجگزاری کا مطالبہ کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صدیوں کی فرماں روائی کے بعد بھی ہندوستان کا سواد اعظم غیر مسلم رہا، یہاں اسلامی تہذیب جڑ نہ پکڑ سکی، یہاں کے باشندوں میں سے جنہوں نے اسلام قبول کیا ان کی اسلامی تعلیم و تربیت کا بھی کوئی خاص انتظام نہ کیا گیا، نومسلم جماعتوں میں قدیم ہندو خیالات اور رسم و رواج کم و بیش باقی رہے اور خود باہر کے آئےہوئے قدیم الاسلام مسلمان بھی اہلِ ہند کے میل جول سے مشرکانہ طریقوں کے ساتھ رواداری برتنے اور بہت سے جاہلانہ رسوم کا اتباع کرنے لگے۔
انگریزوں کی آمد سے پہلے مسلمانوں کی حالت
اسلامی ہند کی تاریخ اور اس کے موجودہ حالات کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جس زمانہ میں اس ملک پر مسلمانوں کا سیاسی اقتدار پوری قوت سے چھایا ہوا تھا اس زمانہ میں بھی یہاں اسلام کے اثرات کمزور تھے اور یہاں کا ماحول خالص اسلامی ماحول نہ تھے۔ اگرچہ ہندوؤں کا مذہب اور تمدّن بجائے خود ضعیف تھا اور محکوم و مغلوب قوم کا مذہب و تمدن ہونے کی حیثیت سے اور بھی زیادہ ضعیف ہو گیا تھا، لیکن پھر بھی مسلمان حکمرانوں کی رواداری اور غفلت کی بدولت وہ ملک کے سوادِ اعظم پر چھایا ہوا رہا اور ہندوستان کی فضا پر اس کے مستولی ہونے اور خود مسلمانوں کی اسلامی تعلیم و تربیت مکمل نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے مسلمانوں کا ایک بڑا حصہ اپنے عقائد اور اپنی تہذیب میں کبھی اتنا صحیح اور پختہ اور کامل مسلمان نہ ہو سکا جتنا وہ خالص اسلامی ماحول میں ہو سکتا تھا۔
غلامی کے اثرات
اٹھارہویں صدی عیسوی میں وہ سیاسی اقتدار بھی مسلمانوں سے چھن گیا جو ہندوستان میں اسلامی تہذیب کا سب سے بڑا سہارا تھا۔ پہلے مسلمانوں کی سلطنت متفرق ہو کر چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہوئی پھر مرہٹوں اور سکھوں اور انگریزوں کے سیلاب نے ایک ایک کر کے ان ریاستوں میں سے بیشتر کا خاتمہ کر دیا اور اس کے بعدقضائے الٰہی نے انگریزوں کے حق میں اس ملک کی حکومت کا فیصلہ صادر کیا اور ایک صدی کا زمانہ نہ گزرا تھا کہ مسلمان اُس سرزمین میں مغلوب و محکوم ہو گئے جس پر انہوں نے صدیوں حکومت کی تھی۔ انگریزی سلطنت جتنی جتنی پھیلتی چلی گئی مسلمانوں سے ان طاقتوں کو چھینتی چلی گئی جن کے بل پر ہندوستان میں اسلامی تہذیب کسی حد تک قائم تھی۔ اس نے فارسی اور عربی کے بجائے انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنایا۔ اسلامی قوانین کو منسوخ کیا، شرعی عدالتیں توڑ دیں، دیوانی اور فوجداری معاملات میں خود اپنے قوانین جاری کیے، اسلامی قانون کے نفاذ کو خود مسلمانوں کے حق میں صرف نکاح و طلاق وغیرہ تک محدود کر دیا اور اس محدود نفاذ کے اختیارات بھی قاضیوں کے بجائے عام دیوانی عدالتوں کے سپرد کر دیئے جن کے حکام عمومًا غیر مسلم ہوتے ہیں، اور جن کے ہاتھوں “محمڈن لا” روز بروز مسخ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس پر مزید یہ کہ ابتدا سے انگریزی حکومت کی پالیسی یہ رہی کہ مسلمانوں کو معاشی حیثیت سے پامال کر کے ان کے اس قومی فخر و ناز کو کچل ڈالے جو ایک حاکم قوم کی حیثیت سے صدیوں تک ان کے دلوں میں پرورش پاتا رہا ہے۔ چنانچہ ایک صدی کےا ندر اندر اس پالیسی کی بدولت اس قوم کو مفلس، جاہل، پست خیال، فاسد الاخلاق، اور ذلیل و خوار کر کے چھوڑا گیا۔
1857ء کے بعد مسلمانوں کی حالتِ زار
اس گرتی ہوئی قوم پر آخری ضرب وہ تھی جو 1857 کے ہنگامہ میں لگی۔ اس نے مسلمانوں کی صرف سیاسی قوت ہی کا خاتمہ نہیں کیا بلکہ ان کی ہمتوں کو بھی توڑ ڈالا، ان کے دلوں پر مایوسی اور احساسِ ذلت کی تاریک گھٹائیں مسلط کر دیں، ان کو انگریزی اقتدار سے اتنا مرعوب کیا کہ ان میں قومی خودداری کا شائبہ تک باقی نہ رہا، اور ذلّت و خواری کی انتہائی گہرائیوں میں پہنچ کر وہ ایسا سمجھنے پر مجبور ہو گئے کہ دنیا میں سلامتی حاصل کرنے کے ذریعہ انگریز کی اطاعت، عزت حاصل کر نے کا ذریعہ انگریز کی خدمت اور ترقی کرنے کا ذریعہ انگریز کی تقلید کے سوا اور کوئی نہیں ہے اور ان کا اپنا سرمایہ علم و تہذیب جو کچھ بھی ہے، ذلیل، سببِ ذلت اور موجب نکبت ہے۔
انیسویں صدی کے نصف دوم میں جب مسلمانوں نے سنبھل کر پھر اُٹھنے کی کوشش کی تو وہ دو قسم کی کمزوریوں میں مبتلا تھے۔
ایک یہ کہ وہ فکر و عمل کے اعتبار سے پہلے ہی اسلامی عقائد اور تہذیب میں پختہ نہ تھے اور ایک غیر اسلامی ماحول اپنے جاہی افکار اور تمدن کے ساتھ ان کو گھیرے ہوئے تھا۔
دوسرے یہ کہ غلامی اپنے تمام عیوب کے ساتھ نہ صرف ان کے جسم پر بلکہ ان کے قلب و روح پر بھی مسلط ہو چکی تھی اور وہ ان تمام قوتوں سے محروم کر دیئے گئے تھے جن سے کوئی قوم اپنے تمدن و تہذیب کو برقرار رکھ سکتی ہے۔
اس دوہری کمزوری کی حالت میں مسلمانوں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو انہیں نظر آیا کہ انگریزی سلطنت نے اپنی ہوشیاری سے معاشی ترقی کے تمام دروازے بند کر دیئے ہیں اور ان کی کنجی انگریزی مدرسوں اور کالجوں میں رکھ دی ہے۔ اب مسلمانوں کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ انگریزی تعلیم حاصل کریں۔ چنانچہ مرحوم سر سید احمد خاں کی رہنمائی میں ایک زبردست تحریک اُٹھی جس کے اثر سے تمام ہندوستان کے مسلمانوں مٰں انگریزی تعلیم کی ضرورت کا احساس پیدا ہوا گیا۔ پرانے لوگوں کی مخالفت بے کار ثابت ہوئی۔ دولت، عزت اور اثر کے لحاظ سے قوم کی اصلی طاقت جن لوگوں کے ہاتھ میں تھی انہوں نے اس نئی تحریک کا ساتھ دیا۔ ہندوستان کے مسلمان تیزی کے ساتھ انگریزی تعلیم کی طرف بڑھے۔ قوم کا تلچھٹ پرانے مذہبی مدرسوں کے لیے چھوڑ دیا گیا تاکہ مسجدوں کی امامت اور مکتبوں کی معلمی کے کام آئے، اور خوشحال طبقوں کے بہترین نونہال انگریزی مدرسوں اور کالجوں میں بھیج دیئے گئے تاکہ ان کے دل و دماغ کے سادہ اوراق پر فرنگی علوم و فنون کے نقوش ثبت کیے جائیں۔
یورپ کی مادی ترقی اور وجود باری تعالیٰ کا انکار
یہ انیسویں صدی کے آخری چوتھائی کا زمانہ تھا۔ یورپ میں اس وقت مادیت انتہائی عروج پر تھی۔ اٹھارہویں صدی میں سائینس پوری طرح مذہب کو شکست دے چکی تھی۔ جدید فلسفہ اور نئے علومِ حکمت کی رہنمائی میں سیاسیات، معاشیات، اخلاقیات اور اجتماعیات کے پرانے نظریے باطل ہو کر نئے نظریے قائم ہو چکے تھے۔ یورپ میں ایک خاص تہذیب پیدا ہو چکی تھی جس کی بنیاد کلیۃً انہی جدید نظریوں پر قائم تھی۔ اس انقلابِ عظیم نے زندگی کے عملی معاملات سے تو مذہب اور ان اصولوں کو جو مذہبی رہنمائی پر مبنی تھے، کلی طور پر خارج ہی کر دیا تھا، البتہ تخیل کی دنیا میں مذہبی اعتقاد کی تھوڑی سے جگہ باقی رہ گئی تھی، سو اب اس کے خلاف زبردست جنگ جاری تھی۔ اگرچہ علومِ حکمت میں سے کسی علم نے بھی کائنات کے الٰہی نظریہ کے خلاف کوئی ثبوت (جس کو ثبوت کہا جا سکتا ہو) بہم نہیں پہنچایا تھا مگر اہلِ حکمت بغیر کسی دلیل کے محض اپنے رجحانِ طبیعت کی بنا پر خدا سے بیزار اور الٰہی نظریہ کے دشمن تھے اور چونکہ انہی کو اس وقت دنیا کی عقلی و علمی رہنمائی کا منصب حاصل تھا اس لیے ان کے اثر سے خدا سے بیزاری (Theo phobia) کا مرض ایک عام وبا کی طرح پھیل گیا۔ وجودِ باری کا انکار، کائنات کو آپ سے آپ پیدا ہونے والی اور آپ سے آپ قوانین طبیعی کے تحت چلنے والی چیز سمجھنا، خدا پرستی کو توہم (Superstition) قرار دینا، مذہب کو لغو اور مذہبیت کو تنگ نظری و تاریک خیالی کہنا اور نیچریت (Naturalism) کو روشن خیالی کا ہم معنی سمجھنا اس وقت فیشن میں داخل ہو چکا تھا۔ ہر شخص خواہ وہ فلسفہ و سائینس میں کچھ بھی دست گاہ نہ رکھتا ہو اور اس نے خود ان مسائل کی تحقیق میں ذرہ برابر بھی کوشش نہ کی ہو، صرف اس بنا پر ان خیالات کا اظہار کرتا تھا کہ سوسائٹی میں وہ ایک روشن خیال آدمی سمجھا جائے۔ روحانیت (Spiritualism) یا فوق الطبیعت ( Super Naturalism) کی تائید میں کچھ کہنا اس وقت کفر کا درجہ رکھتا تھا۔ اگر کوئی بڑے سے بڑا سائینس دان بھی اس قسم کے کسی خیال کا اظہار کرتا سائینٹفک حلقوں میں اس کی ساری وقعت جاتی رہتی، اس کے تمام کارناموں پر پانی پھر جاتا اور وہ اس قابل نہ رہتا کہ اسے کسی علمی جماعت کی رکنیت کا شرف بخشا جائے۔
1859 ء میں ڈارون کی کتاب اصل الانواع ( Origin of Species) شائع ہوئی جس نے نیچریت اور دہریت کی آگ پر جلتی کا کام کیا۔ اگرچہ ڈارون کے دلائل جو اس نے اپنے مخصوص نظریہ ارتقاء کی تائید میں پیش کیے تھے، کمزور اور محتاجِ ثبوت تھے۔ اس سلسلہ ارتقاء میں ایک کڑی نہیں بلکہ ہر موجود کڑی کے آگے اور پیچھے بہت سے کڑیاں مفقود تھیں۔ اہلِ حکمت اس وقت بھی اس نظریئے سے مطمئن نہ تھے حتٰی کہ خود اس کا سب سے بڑا وکیل ہکسلے ( Huxley) بھی اس پر ایمان نہ لایا تھا مگر اس کے باوجود محض خدا سے بیزاری کی بنا پر ڈارونیت کو قبول کر لیا گیا۔ اس کی حد سے زیادہ تشہیر کی گئی اور مذہب کے خلاف ایک زبردست آلہ کے طور پر اسے استعمال کیا گیا۔ کیونکہ اس نظریہ نے اہلِ حکمت کے زعمِ باطل میں اس دعوے کا ثبوت فراہم کر دیا تھا (حالانکہ دراصل اس نے ایک دعوٰی کیا تھا جو خود محتاجِ ثبوت تھا) کہ کائنات کا نظام کسی فوق الطبیعی قوت کے بغیر آپ سے آپ طبیعی قوانین کے تحت چل رہا ہے۔ اہلِ مذہب نے اس نظریہ کی مخالفت کی اور برٹش ایسوسی ایشن کے جلسہ میں بشپ آف اکسفورڈ اور گلیڈاسٹن نے اپنی خطابت کا پورا زور اس کے خلاف صرف کیا، مگر شکست کھائی اور آخرکار اہلِ مذہب سائینٹفک دہریت سے اس قدر مرعوب ہوئے کہ 1882ء میں جب ڈارون نے وفات پائی تو چرچ آف انگلینڈ نے وہ سب سے بڑا اعزاز اس کو بخشا جو اس کے اختیار میں تھا یعنی اسے ویٹ منسٹرایبی میں دفن کرنے کی اجازت دی۔حالانکہ وہ یورپ میں مذہب کی قبر کھودنے والوں کا سرخیل تھا اور اس نے انکار کو الحاد و زندقہ اور بے دینی کی طرف چلانے اور وہ ذہنیت پیدا کرنے میں سب سے زیادہ حصۃ لیا تھا جس سے آخرکار بالشوزم اور فاشزم کو پھلنے پھولنے اور بار آور ہونے کا موقع ملا۔
فرنگی تعلیم کے نتائج
یہ زمانہ تھا جب ہماری قوم کے نوجوان انگریزی تعلیم اور فرنگی تہذیب سےاستفادہ کرنے کےلیے مدرسوں اور کالجوں میں بھیجے گئے۔ اسلامی تہذیب سے کورے، اسلامی تہذیب میں خام، انگریزی حکومت سے مرعوب، فرنگی تہذیب کی شان و شوکت پر فریفتہ پہلے ہی سے تھے اب جو انہوں نے انگریزی مدرسے کی فضا میں قدم رکھا تو اس کا پہلا اثر یہ ہوا کہ ان کی ذہنیت کا سانچہ بدلا اور ان کی طبیعت کا رخ مذہب سے پھر گیا کیونکہ اس آب و ہوا کی اولین تاثیر یہ تھی کہ یورپ کےکسی مصنف یا محقق کے نام سے جو چیز پیش کی جائے اس پر وہ بے تامل امنا و صدقنا کہیں اور قرآن و حدیث یا ائمہ دین کی طرف سے کوئی بات پیش ہو تو اس پر دلیل کا مطالبہ کریں۔ اس منقلب ذہنیت کے ساتھ انہوں نے جن مغربی علوم کی تعلیم حاصل کی ان کے اصول و فروع اکثر و بیشتر اسلام کے اصول اور جزئیات احکام کے خلاف تھے۔ اسلام میں مذہب کا تصور یہ ہے کہ وہ زندگی کا قانون ہے اور مغرب میں مذہب کا تصور یہ ہے کہ وہ محض ایک شخصی عقیدہ ہے جس کا عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام میں پہلی چیز ایمان باللہ ہے اور وہاں سرے سے اللہ کا وجود ہی مسلّم نہیں۔ اسلام کا پورا نظامَ تہذیب وحی و رسالت کے اعتقاد پر قائم ہے اور وہاں وحی کی حقیقت ہی میں شک اور رسالت کے منجانب اللہ ہونے ہی میں شبہ ہے۔ اسلام میں آخرت کا اعتقاد پورےنظامِ اخلاق کا سنگِ بنیاد ہے اور وہاں یہ بنیاد خود بے بنیاد نظر آتی ہے۔ اسلام میں جو عبادات اور اعمال فرض ہیں وہاں وہ محض عہد جاہلیت کے رسوم ہیں جن کا اب کوئی فائدہ نہیں رہا۔ اسی طرح اسلام کے اصولِ تمدن و تہذیب بھی مغربی تہذیب و تمدن سے اصول سے یکسر مختلف ہیں۔ قانون میں اسلام کا اصل الاصول یہ ہےکہ خود خدا واضعِ قانون ہے۔ رسولِ خدا شارحِ قانون اور انسان صرف متبعِ قانون۔ مگر وہاں خدا کو وضعِ قانون کا سرے سے کوئی حق ہی نہیں۔ لیجلیچر واضعِ قانون ہے اور قوم لیجلیچر کو منتخب کرنے والی ہے۔ سیاسیات میں اسلام کا مطمعِ نظر حکومتِ الٰہی ہے اور مغرب کا مطمعِ نظر حکومتِ قومی۔ اسلام کا رُخ بین الاقوامیت (Internationalism) کی طرف ہے اور مغرب کا کعبۃ مقصود قومیت (Nationalism)۔ معاشیات میں اسلام اکل حلال اور زکٰوۃ و صدقہ اور تحریمِ سود پر زور دیتا ہے اور مغرب کا سارا معاشی نظام ہی سود اور منافع پر چل رہا ہے۔ اخلاقیات میں اسلام کے پیشِ نظر آخرت کی کامیابی ہے مغرب کے پیشِ نظر دنیا کا فائدہ۔ اجتماعی مسائل میں بھی اسلام کا راستہ قریب قریب ہر معاملہ میں مغرب کے راستہ سے مختلف ہے۔ ستر و حجاب، حدودِ زن و مرد، تعدد ازدواج، قوانین نکاح و طلاق، ضبطِ ولادت، حقوقِ ذوی الارحام، حقوقِ زوجین اور ایسے ہی بہت سے معاملات ہیں جن میں ان دونوں کا اختلاف اتنا نمایاں ہے کہ بیان کرنے کی حاجت نہیں اور اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ دونوں کے اصول مختلف ہیں۔ ہمارے نوجوانوں نے مرعوب بلکہ غلامانہ ذہنیت اور پھر غیر مکمل اسلامی تعلیم و تربیت کے ساتھ جب ان مغربی علوم کی تحصیل کی اور مغربی تہذیب کے زیرِ اثر تربیت پائی تو نتیجہ جو کچھ ہونا چاہیے تھا وہی ہوا۔ ان میں تنقید کی صلاحیت پیدا نہ ہو سکی۔ انہوں نے مغرب سے جو کچھ سیکھا اس کو صحت اور درستی کا معیار سمجھ لیا۔پھر ناقص علم کے ساتھ اسلام کے اصول و قوانین کی اس معیار پر جانچ کر دیکھ اور جس مسئلہ میں دونوں کے درمیان اختلاف پایا اس میں کبھی مغرب کی غلطی محسوس نہ کی بلکہ اسلام ہی کو برسرِ غلط سمجھا اور اس کےاصول و قوانین میں ترمیم و تنسیخ کرنے پر آمادہ ہو گئے۔
جدید تعلم نے معاشی اور سیاسی حیثیت سے ہندوستان کے مسلمانوں کو خواہ کتنا ہی فائدہ پہنچایا ہو مگر ان کے مذہب اور ان کی تہذیب کو جو نقصان پہنچایا ہے اس کی تلافی کسی فائدے سے نہیں ہو سکتی۔
(تنقیحات از سید مودودی ص 23 تا 32)
 

فرخ منظور

لائبریرین
علامہ اقبال کی نظم "ابلیس کی مجلس شوریٰ " میں ابلیس اپنے مشیروں کو کہتا ہے -

طبع مشرق کے لیے موزوں یہی افیون تھی
ورنہ قوّالی سے کچھ کم تر نہیں علم ِ کلام
 

ابو مصعب

محفلین
سورج جس کہکشاں (Galaxy) میں واقع ہے اس کا نام مِلکی وے (Milky Way) ہے ، ملکی وے میں 400 بلین ستاروں کے موجود ہونے کا اندازہ لگا یا گیا ہے یہ ستارے ایک دوسرے سے اتنے زیادہ فاصلے پر واقع ہیں کہ اسے ناپنےکے لیے روایتی پیمانے کم پڑ جاتے ہیں۔ ان کی پیمائش کے لیے ہیئت دانوں نے نوری سال (Light Year) کی اصطلاح وضع کی ہے۔نوری سال کو سمجھنے کے لیے ذہن میں یہ بات تازہ کر لیجیے کہ روشنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہے۔ سورج سے زمین تک 150 ملین کلو میٹر فاصلہ طے کرنے میں اسے تقریبًا آٹھ منٹ لگتے ہیں۔اگر روشنی اسی رفتار سے ایک سال تک چلتی رہے تو اسے ایک نوری سال کہا جاتا ہے۔ مِلکی وے کا قطر(Diameter) ایک لاکھ نوری سال ہے۔​

تبارک اللہ احسن الخالقین​
بہت بہترین مضمون ہے۔​
قسیم صاحب ! اس فورم پر دہریوں کی حوصلہ افزائی اور موحدین کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ بہتر ہوگا آپ مثبت انداز میں دلائل اکٹھا کریں اور ان کو جلنے دیں۔​
 

ابو مصعب

محفلین
مجھے مودودی صاحب کے بہت سے نظریات سے اختلاف ہے اور میرا جماعت اسلامی سے بھی کوئی تعلق نہیں، اس کے باوجود مودودی صاحب کی اس تحریر پر انہیں داد دئیے بغیر نہیں رہ سکا۔
بہت اعلیٰ تحریر ہے۔
جزاک اللہ خیرا
 
جناب فرید احمد صاحب -
سلام و رحمت - وحیدالدین خاں صاحب کی کتاب کا درست نام "مذھب اورجدید چیلنج" ھے- برائے مہربانی نوٹ فرمالیں- شکریہ
 
روشنی کی رفتار۔

درج ذیل تحقیق رائف فانوس صاحب کی ہے اور یہاں دیکھی جاسکتی ہے۔
http://www.speed-light.info/index.html
http://www.speed-light.info/

اس ریسرچ کا ممکنہ اردو ترجمہ یہاں درج کررہا ہوں۔

[AYAH]32:5[/AYAH] وہ آسمان سے زمین تک (نظامِ اقتدار) کی تدبیر فرماتا ہے پھر وہ امر اس کی طرف ایک دن میں چڑھتا ہے (اور چڑھے گا) جس کی مقدار ایک ہزار سال ہے اس (حساب) سے جو تم شمار کرتے ہو

[AYAH]22:47[/AYAH] اور یہ آپ سے عذاب میں جلدی کے خواہش مند ہیں اور اﷲ ہرگز اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہ کرے گا، اور (جب عذاب کا وقت آئے گا) تو (عذاب کا) ایک دن آپ کے رب کے ہاں ایک ہزار سال کی مانند ہے (اس حساب سے) جو تم شمار کرتے ہو

پہلی دو آیات دیکھئے اور اس سے حساب کیجئے۔

فرشتہ کا ایک دن میں‌طے کیا ہوا فاصلہ = 12000 x چاند جو فاصلہ ایک مکمل مدار میں طے کرتا ہے۔

C t = 12000 L

C = فرشتہ کی رفتار
t = زمین کا ایک دن ، اس کی اپنی gravitational fields سے باہر
24 گھنٹے۔ 86400 سیکنڈ سورج کے حساب سے۔ اور 23 گھنٹے، 56 منٹ اور 4.0906 سیکنڈ = 86164.0906 سیکنڈ، ستاروں حساب سے


L = چاند کے مدار کا فاصلہ اس کی اپنی gravitational fields سے باہر
چاند کا ایک ماہ کا وقت
29.53059 دن سورج کے دنوں کے حساب سے اور 27.321661 دن اور 655.71986 گھنٹے، ستاروں کے حساب سے (Side Real)
چاند کا ایک مدار: 2153025.3191666666666666666666667

چاند کا 12000 مدار کا فاصلہ 25836303830 ک م
روشنی ارض کے ایک دن میں کتنی دور جاتی ہے؟
C t' = 2997952.458 km/sec x 86170.46591 sec = 25833255780 km

کشش چقل کے باہر، Outside gravitational fields
12000 چاند کے مدار / زمین کا ایک دن = روشنی کی رفتار کے



[AYAH]70:4[/AYAH] اس (کے عرش) کی طرف فرشتے اور روح الامین عروج کرتے ہیں ایک دن میں، جس کا اندازہ (دنیوی حساب سے) پچاس ہزار برس کا ہے

اس مساوات کو دیکھئے :
speed_of_light_01.gif


∆to(1 day). فرشتہ کے پاس وقت = 1 دن

∆t انسانوں کا ناپ ہوا وقت زمین پر۔ = 50000 چاند کے سال ۔ x ۔ 12 چاند کے مہینے = 1 چاند کا سال x 27.321661 دن / چاند کا مہینہ).

v ). فرشتے کی ویلاسٹی جو ہم کیلکولیٹ کرنے جارہے ہیں۔

c روشنی کی رفتار، خلا میں = 299792.458 .

speed_of_light_03.gif


v = 299792.4579999994 km / s

یہ اوقات کا فرق بتاتا ہے کہ فرشتہ یقیناَ اضافی ویلاسٹی تک ایکسلریٹ کرتے ہیں۔ یہ وہی رفتار ہے جو پچھلی دونوں آیات سے حاصل ہوئی۔ پہلی دو آیات فاصلے اور وقت کی مدد سے اور تیسری آیت وقت کے وقت سے فرق (نظریہ آین اسٹائین) سے روشنی کی ایک ہی رفتار ظاہر کرتی ہے۔ یہ رشتہ روشنی کی درست اور بہتر طریقہ سے بیان کرتا ہے۔ جو زمان و مکان اور کشش ثقل سے بے نیاز ہے۔ اور یہ فارمولہ سائنسی طور پر ہمیشہ درست رہے گا، چاہے چاند کا مدار بڑا ہو جائے، آج، آج سے پہلے اور آیندہ بھی۔ جب تک کے اس Equilibrium کو دھچکا نہ پہنچایا جائے۔

مزید تفصیلات کے لئے دیکھئے : http://www.speed-light.info/index.html
شاید میں صحیح سے سمجھا نہیں. اگر فرشتے کی رفتار روشنی کی رفتار کے برابر فرض کی جائے تو پھر تو اسے ملکی وے کو کراس کرنے میں ہی عرصہ لگ جانا چاہیے. جبکہ اسماعیل علیہ السلام کے واقعہ میں یہ وقت صرف لمحوں کا تھا.
 
Top