نوحہ - از اختر حسین جعفری

فرخ منظور

لائبریرین
نوحہ

اب نہیں ہوتیں دعائیں مستجاب
اب کسی ابجد سے زندانِ ستم کھلتے نہیں
سبز سجّادوں پہ بیٹھی بیبیوں نے
جس قدر حرفِ عبادت یاد تھے، پَو پھٹے تک انگلیوں پر گن لیے
اور دیکھا ___ رحل کے نیچے لہو ہے
شیشئہ محفوظ کی مٹی ہے سرخ

سطر ِ مستحکم کے اندر بست و در باقی نہیں
یاالٰہی مرگِ یوسف کی خبر سچی نہ ہو
ایلچی کیسے بلادِ مصر سے
سوئے کنعاں آئے ہیں
اِک جلوس ِ بے تماشا گلیوں بازاروں میں ہے
تعزیہ بردوش انبوِہ ہوا
روزنوں میں سر برہنہ مائیں جس سے مانگتی ہیں، منّتوں کا اجر،
خوابوں کی زکٰوۃ
سبز سجّادوں پہ بیٹھی بیبیو!
اب کسی ابجد سے زندانِ ستم کھلتے نہیں
اب سمیٹو مشک و عنبر، ڈھانپ دو لوح و قلم
اشک پونچھو اور ردائیں نوکِ پا تک کھینچ لو
کچّی آنکھوں سے جنازے دیکھنا اچھا نہیں

4 اپریل 1979
 

محمد وارث

لائبریرین
فرخ صاحب، میں محفل پر بلاناغہ حاضری تو دے رہا ہوں بس کچھ مصروفیات اور کچھ صحت کے ہاتھوں وقت کم دے پا رہا ہوں۔ ہاں، فاتح کی کمی مجھے بھی کَھل رہی ہے، اللہ کرے خیریت سے ہوں۔

یاد کرنے کیلیے شکریہ آپ کا۔
 
نوحہ-اختر حسین جعفری

نوحہ-اختر حسین جعفری

اب نہیں ہوتیں دعائیں مستجاب
اب کسی ابجد سے زندانِ ستم کھلتے نہیں
سبز سجادوں پہ بیٹھی بیبیوں نے جس قدر حرفِ عبادت یاد تھے
پو پھٹے تک انگلیوں پر گن لیے___ اور دیکھا____ رحل کے نیچے لہو ہے
شیشہء محفوظ کی مٹی ہے سرخ____ سطرِ مستحکم کے اندر بست و در
باقی نہیں___

یا الٰہی! مرگِ یوسف کی خبر سچی نہ ہو
ایلچی کیسے بلادِ مصر سے___ سوئے کنعاں آئے ہیں
اک جلوسِ بے تماشا گلیوں، بازاروں میں ہے
تعزیہ بردوش انبوہِ ہوا
روزنوں میں سر برہنہ مائیں جس سے مانگتی ہیں منتوں کا اجر، بیٹوں کی زکوٰۃ
سبز سجادوں پہ بیٹھی بیبیو!!
اب کسی ابجد سے زندانِ کھلتے نہیں
اب سمیٹو مشک و عنبر، ڈھانپ دو لوح و قلم
اشک پونچھو اور ردائیں نوکِ پا تک کھینچ لو
کچی آنکھوں سے جنازے دیکھنا اچھا نہیں

اختر حسین جعفری
 
Top