نوائے نے از ٹینا ثانی (کوک سٹوڈیو

کلام حضرت جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ کی مثنوی رومی کے دفتر اول کا ہے

سن کے کہتی ہوں اپنی داستاں
درد ہجراں سے ہوئی ہے نوحہ خواں
بشنو این نے چون شکایت می‌کند
از جدایی ها حکایت می‌کند

بات کرنا نیستاں سے یہاں
مرد و زن میری نوا سے خونچکاں
جو بھی اپنی اصل سے ہوگا جدا
وصل خویش اسکا مدعا
کز نیستان تا مرا ببریده‌اند
در نفیرم مرد و زن نالیده‌ اند
هر کسے کو دور ماند از اصل خویش
باز جوید روزگار وصل خویش

یہ نوائے نے اُسی کے دم سے ہے
زندگی کی نے اسی کے دم سے ہے
عشق خواهد کین سخن بیرون بود
آینه غماز نبود چون بود

 

فاتح

لائبریرین
بیڑا غرق کیا ہے ٹینا ثانی نے۔ ڈاکٹر فطرت ناشناس نے اصل فارسی کلام کیا ہی خوبصورتی سے گایا ہے۔ اردو ترجمہ بھی اسی سے گوا لیتے یہ کوک سٹوڈیو والے
 
بیڑا غرق کیا ہے ٹینا ثانی نے۔ ڈاکٹر فطرت ناشناس نے اصل فارسی کلام کیا ہی خوبصورتی سے گایا ہے۔ اردو ترجمہ بھی اسی سے گوا لیتے یہ کوک سٹوڈیو والے
منہ کی بات چھین لی ۔ کلام کا اردو ترجمہ بھی کسی تنقیدی مرحلے سے گزار کرٹینا کو دیا جانا چاہیے تھا ۔۔۔
 

فاتح

لائبریرین
آپ کی بات مانوں یا کہ ان کی بات مانوں ویسے آپ کی طرح میں بھی بچپن سے یہی سنتا آرا ہوں جیسا کہ آپ نے بیان کیا ہے لیکن اس کو کیا نام دوں
http://ganjoor.net/moulavi/masnavi/daftar1/sh1/
ویسے ہم نے تو ہمیشہ نے کی حکایت اور جدائیوں کی شکایت ہی سنا پڑھا تھا اور "بشنو ایں" کی بجائے بھی ہمیشہ "بشنو از" ہی سنا ہے لیکن گنجور کے آگے ہماری سنی سنائی کی کیا اوقات حضور۔ آپ انہی کی مانیے۔ :)
لیکن جو حوالہ آپ نے دیا ہے اس کے صفحے پر تبصرے بھی پڑھ لیجیے۔ تقریباً تمام تبصرہ کرنے والے "بشنو از نے چوں حکایت می کند" ہی کو درست قرار دے رہے ہیں۔
 
یہ تو ہر عظیم کلام کا خاصہ ہے کہ مرور ایام کے ہاتھوں اس کے کئی ورژن سامنے آجاتے ہیں اور رائج بھی ہو جاتے ہیں یہ کلام کے مقبول عام ہونے کی ایک عام صفت ہے ۔
مگرجہاں تک اردو ترجمے کا تعلق ہے تو ٹینا نے ستیاناس کیا اردو کا ۔ حالانکہ اچھا خاصا ترجمہ ہے بس معمولی توجہ کی ضرورت تھی ۔
 
ویسے ہم نے تو ہمیشہ نے کی حکایت اور جدائیوں کی شکایت ہی سنا پڑھا تھا اور "بشنو ایں" کی بجائے بھی ہمیشہ "بشنو از" ہی سنا ہے لیکن گنجور کے آگے ہماری سنی سنائی کی کیا اوقات حضور۔ آپ انہی کی مانیے۔ :)
لیکن جو حوالہ آپ نے دیا ہے اس کے صفحے پر تبصرے بھی پڑھ لیجیے۔ تقریباً تمام تبصرہ کرنے والے "بشنو از نے چوں حکایت می کند" ہی کو درست قرار دے رہے ہیں۔
سرکار آپ کے علم کے آگے میری کیا اوقات ہے تسی گریٹ او
 
Top