ابن انشا نظم-فردا

علی فاروقی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 31, 2010

  1. علی فاروقی

    علی فاروقی محفلین

    مراسلے:
    268
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    ہاری ہوئی روحوں میں
    اِک وہم سا ہوتاہے
    تم خود ہی بتادو نا
    سجدوں میں دھرا کیا ہے
    امروز حقیقت ہے
    فردا کی خدا جانے
    کوثر کی نہ رہ دیکھو
    ترساو نہ پیمانے
    داغوں سے نہ رونق دو
    چاندی سی جبینوں کو
    اُٹھنے کا نہیں پردا
    ہے بھی کہ نہیں فردا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • زبردست زبردست × 1
  2. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    شکریہ فاروقی صاحب۔ یہاں دیکھیے گا شاید دھرا ہونا چاہیے۔
    سجدوں میں دھر کیا ہے
    اور اس مصرع میں شاید پردہ کی بجائے پردا ہونا چاہیے۔
    اُٹھنے کا نہیں پردہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. رضوان غازی آبادی

    رضوان غازی آبادی محفلین

    مراسلے:
    2
    سبحان اللہ
     
  4. مزمل اختر

    مزمل اختر محفلین

    مراسلے:
    109
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Pensive

اس صفحے کی تشہیر