نظم : ابھی آزاد ہیں قاتل ( اپنے دیور کے نام) از : زرقا مفتی ؔ

زرقا مفتی

محفلین
اپنے دیور کے نام
(اُسکی بیوہ کی ترجمانی کرتے ہوئے)​
تمہارا ساتھ جب پایا​
محبت پہ یقیں آیا​
بھرا خوشیوں سے آنگن تھا​
کھلے تھے پھول گلشن میں​
سہانی زندگانی تھی​
مگر کیا جانئے کس پل​
کسی حاسد کی نظرِ بد​
لگی میرے نشیمن کو​
لٹیرے تین آئے تھے​
ارادے سے ڈکیتی کے​
مجھے سونا بچانا تھا​
نہ مجھ کو مال پیارا تھا​
مگر اک خوف تھا دل میں​
فقط تم سے جُدائی کا​
کسے معلوم تھا لیکن​
لکھا تھا کیا نصیبوں میں​
بڑا بھاری وہ لمحہ تھا​
نہ لرزا ہاتھ قاتل کا​
چلائی اُس نے جو گولی​
مری تو جان ہی لے لی​
تمہیں لے کر میں بانہوں میں​
لگی تھی التجاوں میں​
کہیں ٹوٹے نہ اے ہمدم​
تمہارے سانس کی ڈوری​
ابھی تو زندگانی کا​
سفر کتنا ہی باقی ہے​
مگر دستِقضا سے تو​
کبھی مہلت نہیں ملتی​
مری خوشیاں مرے سپنے​
تمہارے سب حسیں وعدے​
تمہارے ساتھ جا سوئے​
یہاں اب کچھ نہیں باقی​
سوائے پانچ لاشوں کے​
کبھی اے خادمِ اعلیِ​
یہاں سے جو گزرنا ہو​
جھکا لینا یہ سر اپنا​
تمہاری حکمرانی میں​
نہیں محفوظ کوئی گھر​
ابھی آزاد ہیں قاتل​
زرقا مفتی ؔ
 

شمشاد

لائبریرین
انا للہ و انا الیہ راجعون۔

زرقا بہن آپ کا کلام اپنی جگہ

لیکن جو واقعہ ہوا بہت افسوسناک ہے۔

اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ مرحوم پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے اور آپ سبکو صبر عطا فرمائے۔

دعا ہی دے سکتا ہوں کہ اس کے سوا میرے بس کچھ بھی نہیں۔
 

عین عین

لائبریرین
جانے والے کبھی نہیں آتے
جانے والوں کی یاد آتی ہے سکندر علی وجد

دعا ہے کہ آپ تمام لوگوں کو صبر اور حوصلہ دے خدا
 

زرقا مفتی

محفلین
السلام علیکم
نظم پڑھنے کے لئے آپ سب کی ممنون ہوں۔
مقامِ افسوس ہے کہ ھکومت گُڈ گورنس کے ڈھول پیٹنے میں مصروف ہے اور لوگوں کے جان و مال غیر محفوظ ہیں۔
پولیس کی نااہلی کا یہ عالم ہے کہ خادم ِ اعلیٰ کی ہدایت پر ایک سپیشل ٹیم بھی قاتلوں کو پکڑنے میں ناکام رہی ہے۔
عام آدمی جس کی رسائی خادمِ اعلیٰ تک نہیں اُسکو کیا انصاف ملے گا۔
والسلام
زرقا
 

شمشاد

لائبریرین
زرقا بہن یہ سپیشل ٹیمیں، کہ گُڈ گورنس کے ڈھول یہ سب ڈرامے ہیں۔

مجھے آپ کے ساتھ پوری پوری ہمدردی ہے اور دعا ہی کر سکتا ہوں۔
 
انا للہ و انا الیہ راجعون۔

انتہائی افسوسناک واقعہ ہے اور موجودہ حالات کی بے یقینی کی تصویر بھی۔

کسی موجودہ دور کے اندوہناک واقعہ پر پر اثر کلام کم ہی پڑھنے کو ملتا ہے۔

حکمرانوں کی بے حسی تو ہر گزرتے دن سے عیاں ہے۔
 

زرقا مفتی

محفلین
السلام علیکم
شکریہ شمشاد بھائی
محب علوی صاحب نظم پڑھنے کے لئے آپ کی ممنون ہوں
ہم روزانہ ٹی وی اور اخبار میں ایسی کئی خبریں پڑھتے ہیں اور شاید ہمارے دل پر اثر بھی ہوتا ہے
مگر خود پر گزرتی ہے تو تو قلم بھی رونے لگتا ہے
والسلام
زرقا
 

فاتح

لائبریرین
انا للہ و انا الیہ راجعون!
زرقا مفتی صاحبہ! انتہائی غم اور دکھ کی کیفیت طاری ہو گئی اس اندوہناک واقعے کو پڑھ کر اور اس دردناک کیفیت میں نظم کے محاسن پر بات کرنا اپنی بے حسی کا اعلان کرنا ہے۔ :(
 

زرقا مفتی

محفلین
السلام علیکم
فاتح صاھب نظم پڑھنے کے لئے آپ کی ممنون ہوں، یہ نظم تو اظہاریہ ہے ہمارے معاشرے کی میں امن و امان کی صورتحال کا، ستم گزیدہ خاندان کے دُکھ کا اور حکمرانوں کی نااہلی اور بے حسی کا
داد و تحسین کی ہرگز طلب نہیں
والسلام
زرقا
 

مغزل

محفلین
تمہاری حکمرانی میں​
نہیں محفوظ کوئی گھر​
ابھی آزاد ہیں قاتل​

زرقا مفتی ؔ بہن ،​
آداب و سلامِ مسنون​
محفل میں بارِ دگر خوش آمدید​
نظم کی ہیئت میں ’’شہر آشوب، آشوبِ ذاتی ‘‘ پڑھ کر جو رقّت طاری ہوئی اس کے بعد نظم پر کچھ کہنا ، الفاظ کے منھ پر طمانچے مارنے کے مترادف ہے۔۔۔ سراسر داخلی واردات پر مبنی نظم نے نہ صرف صنعتِ نظم کی لاج رکھ لی بلکہ خارج معاشرے کی ناانصافی ، قانون کی غیر عملداری و ناہمورای کا نوحہ ہے ۔۔۔ نعمان مفتی بھائی کے درد ناک سانحۂ ارتحال پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے ۔ کوئی حرفِ تسلی کوئی پُرسہ کوئی دلاسہ کام نہیں کرتا ۔ انصاف کو عیّاش حکمرانوں کے گھر کی لونڈی بنادیا گیا ہے ۔۔ نچلی سطح سے اعلیٰ عدلیہ تک انصاف فراہم کرنے کے ادارے محض موشگافیوں میں مصروف ِ کار ہیں، کبھی اس پر ازخود نوٹس کبھی اس ترمیم پر ، کبھی عدالتی قتل پر تو کبھی فلاں گڑے مُردے اکھاڑنے میں مصروف ہیں ۔۔ عام آدمی کی حیثیت گلی کوچوں کے آوارہ جانورں سے زیادہ نہیں رہی ۔۔۔ ہر موڑ پر قتل ہوتا ہے ہر موڑ پر قاتل بیٹھا ہے ، ہر ادارہ استحصال کرنے میں مصروف ہے ۔۔۔ خادمِ اعلیٰ سے لے کر مخدوم ِ اعلیٰ تک سب پیٹ بھرے کے چونچلوں میں مصروف ہیں ۔۔ا نصاف کا قتل ہوچکا ہے اور قاتل خود انصاف فراہم کرنے کے ادارے ہیں ۔۔۔​
ایسے میں بس خدائے وحدہ لاشریک کی بارگاہ میں انصاف کی بھیک مانگنا پڑتی ہے۔۔ ہم نے اپنی بڑی خالہ کو اسی طرح کھویا ہے ۔۔ قاتل کو ہم جانتے بھی ہیں۔ تھانہ کچہری کلچر میں جمع پونجی لٹا دینے کے بعد بھی سوائے ذلّت اور آنسوؤں کے ہاتھ کچھ نہیں آیا انصاف تو کجا کوئی داد رسی کو تیار نہیں ۔ ہاں کسی پارٹی کے جھنڈے کے نیچے جمع ہوں تو مرنے والوں کو ’’ چیک‘‘ اور ’’ نقد ‘‘ کی ’’ لالی پوپ ‘‘ دی جاتی ہے ۔۔ نعمان مفتی بھائی کی اہلیہ محترمہ کے غم میں آپ ہمیں بھی شریک جانیے ، خدائے بزرگ و برتر قہار بھی ہے خدا اپنا قہر نازل کرے ایسے بھیڑیوں پر جو لمحوں میں ہنستے بستے گھروں کو اجاڑ دیتے ہیں اور چین کی بانسری بجاتے پھرتے ہیں ، عام آدمی تو قانون کو ہاتھ میں لینے کا بھی نہیں سوچ سکتا ہے کہ ’’ انصاف ‘‘ اندھا ہوتا ہے اور کمزور پر گرجتا برستا چیختا چنگھاڑتا ہے ، انصاف کی دیوی مدّت ہوئی کسی دیوار میں کے ملبے تلے دب کر مرچکی ہے ۔۔ کبھی فوجی جوتے تو کبھی کھُسے اس ملبے کو بھی روندتے پھرتے ہیں کہ باقی ماندہ زندگی کی رمق بھی ختم ہوجائے ۔۔۔ خدائے قہار کی لعنت ہوں ان رزیلوں پر ۔۔۔​
زرقا مفتی بہن، ہمیں تو یہ کہتے ہوئے بھی شرمندگی ہوتی ہے کہ ہم ( مغزل ، غ۔ن۔غ ) آپ کے غم میں شریک ہیں ۔۔ یقین جانیئے کوئی لفظ میسر نہیں کہ اندوہ ناک سانحے پر ہم اپنے دلی جذبات ضبطِ تحریر میں لاسکیں ۔۔ ’’انا للہ و انا الیہ راجعون ‘‘ ۔۔ ’’انا للہ و انا الیہ راجعون‘‘ ۔۔ اللہ نعمان بھائی کو غریقِ رحمت فرمائے اور بھاوج سمیت جملہ خاندان کے افراد کو صبر و استقامت عطا فرمائے ۔ انشا اللہ اللہ اپنا فضل فرمائے گا اور انصاف ملے گا ، آمین ثم آمین​
 

زرقا مفتی

محفلین
السلام علیکم
مغل بھائی
نظم پڑھنے کے لئے آپ کی ممنون ہوں
دُعاؤں کے لئے اللہ آپ کو جزا دے
والسلام
زرقا
 

ایم اے راجا

محفلین
انا للہ و انا الیہ راجعون۔

بہت افسوس ہوا یہ جان کر اللہ مقتول کو درجہٗ شہادت پر فائز فرمائے اور آپ سمیت تمام خاندان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
مزید لفظ میرا ساتھ نہیں دے رہے کہ میں آپ سے ہمدردی جتاوٗں۔
 

ایم اے راجا

محفلین
السلام علیکم
نظم پڑھنے کے لئے آپ سب کی ممنون ہوں۔
مقامِ افسوس ہے کہ ھکومت گُڈ گورنس کے ڈھول پیٹنے میں مصروف ہے اور لوگوں کے جان و مال غیر محفوظ ہیں۔
پولیس کی نااہلی کا یہ عالم ہے کہ خادم ِ اعلیٰ کی ہدایت پر ایک سپیشل ٹیم بھی قاتلوں کو پکڑنے میں ناکام رہی ہے۔
عام آدمی جس کی رسائی خادمِ اعلیٰ تک نہیں اُسکو کیا انصاف ملے گا۔
والسلام
زرقا
گڈ گورننس !!!!!!!!!
جس ملک میں قانون کے محافظ بے بس ہوں، جس ملک میں قانون کے رکھوالوں کو ہی انصاف میسر نہ ہو، جہاں کی پولیس اور پولیس والا خود انصاف کے لیئے در در بھٹک رہا ہو، وہاں کا عام شہری ایسے بے بس و لاچار پولیس والوں سے اور ایسے مجبور محافظوں سے حفاظت کی توقع کیسے کر سکتا ہے۔
رہی بات خادمِ اعلیٰ یا دوسرے خادموں کی تو ان کو اپنی جان سے بڑھ کر کون ہے۔
اس موقع پر مرے تین شعر عرض ہیں۔
شہر پھر بے اماں ہوا لوگو
نذرِ آہ و فغاں ہوا لوگو
کون کسکو سنائے غم اپنے
عدل عبرت نشاں ہوا لوگو
رہزنِ شہر کو ذر ا دیکھو
شہر کا پاسباں ہوا لوگو !
 

زرقا مفتی

محفلین
گڈ گورننس !!!!!!!!!
جس ملک میں قانون کے محافظ بے بس ہوں، جس ملک میں قانون کے رکھوالوں کو ہی انصاف میسر نہ ہو، جہاں کی پولیس اور پولیس والا خود انصاف کے لیئے در در بھٹک رہا ہو، وہاں کا عام شہری ایسے بے بس و لاچار پولیس والوں سے اور ایسے مجبور محافظوں سے حفاظت کی توقع کیسے کر سکتا ہے۔
رہی بات خادمِ اعلیٰ یا دوسرے خادموں کی تو ان کو اپنی جان سے بڑھ کر کون ہے۔
اس موقع پر مرے تین شعر عرض ہیں۔
شہر پھر بے اماں ہوا لوگو
نذرِ آہ و فغاں ہوا لوگو
کون کسکو سنائے غم اپنے
عدل عبرت نشاں ہوا لوگو
رہزنِ شہر کو ذر ا دیکھو
شہر کا پاسباں ہوا لوگو !
السلام علیکم
راجا صاھب دُعاؤں کے لئے ممنون ہوں
آپ کے اشعار بر محل ہیں اور سو فیصد سچ ہیں
والسلام
زرقا
 

مہ جبین

محفلین
انا للہ و انا الیہ راجعون
@زرقا بہن آپ کی نظم میں آپ کا دکھ پڑھ کر بہت افسوس ہوا ، اللہ آپ سب کو صبرِ جمیل اور اس پر اجرِ عظیم عطا فرمائے ۔ آپ کے دیور شہید کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین
بس حوصلہ رکھیں انشاءاللہ ایک دن ظالموں کا بھی حساب ضرور ہوگا کیونکہ ؛
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
 
Top