نظریہ ارتقاء پر اٹھائے جانے والے پندرہ اعتراضات اور ان کے جوابات

زہیر عبّاس نے 'سائنس اور ٹیکنالوجی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 19, 2016

  1. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    39,141
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Bookworm
    اہم بات یہی ہے کہ آج کل حیاتیات کو ارتقاء کی تھیوری کے بغیر سمجھنا ممکن ہی نہیں ہے۔
     
    • متفق متفق × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    14,919
    جھنڈا:
    Pakistan
    ابھی تک کے مباحثے سے کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا، صرف نظریات اور قیاس آرائیاں ہی ہیں۔
     
    • متفق متفق × 2
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  3. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    پچھلے مراسلے میں انسان کی قریب ترین نوع "نی ایندر ٹھیل" پر اسکے ڈھانچوں اور ڈی این اے اثبوت کیساتھ تفصیل سے لکھ تو دیا ہے کہ وہ بھی نہ بندر تھے نہ انسان۔ اسکے باوجود قدرتی طور پر انسانوں سے انکا ملاپ ممکن تھا۔ یوں انسانوں کا بندروں سے ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ پھر بھی آپ میں نہ مانوں کی رٹ جاری رکھیں۔
     
    • متفق متفق × 1
  4. طالب سحر

    طالب سحر محفلین

    مراسلے:
    380
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    سب سے پہلے زبیر صاحب کا شکریہ، جن کے اس ترجمے سے بہت کچھ سمجھنے کا موقع ملا-

    چونکہ اس لڑی میں بہت ساری گفتگو کا محور نظریہ ارتقا اور کریشن ازم کی definitions اور مختلف positions پر ہوا، اس لیے احباب کی توجہ اس مضمون کی طرف دلانا چاہوں گا:
    The Creation/Evolution Continuum
    http://ncse.com/creationism/general/creationevolution-continuum
     
    • زبردست زبردست × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    یہاں مجھے پھر رئیسانی یاد آگئے۔ ارتقا ارتقا ہوتا ہے، موحد ہو، ملحد ہو یا مادی، ان اصطلاحات سے قدرتی حیاتیاتی ارتقا کو کوئی سر و کار نہیں۔ :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • زبردست زبردست × 1
    • مضحکہ خیز مضحکہ خیز × 1
  6. طالب سحر

    طالب سحر محفلین

    مراسلے:
    380
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    آپ کی طرح میں بھی اسی قدرتی حیاتیاتی ارتقا کا قائل ہوں، کیونکہ زمین پر حیات کے وجود پر اس سے بہتر کوئی وضاحت نہیں ھے- تاھم، ریئسانی صاحب سے معذرت کے ساتھ، یہ خیال کہ "ارتقا ارتقا ہوتا ھے، موحد ہو، ملحد ہو یا مادی"، ontologically بالکل ہی لا یعنی ھے- مزمل شیخ بسمل ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں، لیکن جیسا کہ زیک نے بھی کہا ان کی پوزیشن theistic evolution والی ھے-
     
    • متفق متفق × 1
  7. مزمل شیخ بسمل

    مزمل شیخ بسمل محفلین

    مراسلے:
    3,530
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    بات یہ ہے کہ اگر ارتقا میں خدا کو شامل کرنا تھیئسٹک ایوولیوشن ہے تو اس سے خدا کو نکالنا ایتھئیسٹک ایوولیوشن ہوا۔ جبکہ ارتقا بطورِ سائنس ان دونوں ہی باتوں سے آزاد ہے۔ میں پہلے ہی لکھ چکا ہوں کہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 1
  8. مزمل شیخ بسمل

    مزمل شیخ بسمل محفلین

    مراسلے:
    3,530
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    آپ کی تقریباً تمام باتوں کے جوابات ہیں۔ تھوڑا سا فری ہو کر تفصیلی طور پر لکھتا ہوں ان شاء اللہ۔ ایک بات عرض کردوں کہ کچھ باتیں غلط فہمی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں۔ جیسے افزائشِ نسل سے متعلق۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  9. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    14,919
    جھنڈا:
    Pakistan
    پچھلے مراسلے میں کہہ تو دیا تھا کہ بندر اور انسان والی بات تو سمجھ میں آگئی۔۔۔لیکن ارتقاء والی بات ابھی تک سمجھ نہیں آئی۔ لاکھوں برسوں سے انسان تو انسان ہی ہے کسی اور نوع میں کیوں نہیں تبدیل ہو۔ نی اینڈر ٹھیل ایک الگ نوع ہے وہ ختم ہوگئی لیکن کسی اور نوع میں نہیں بدلی۔ اسی طرح دیگر جانور لاکھوں برسوں سے ویسے ہی چلے آرہے ہیں۔
    دوسرے میرے اس سوال کا جواب بھی نہیں ملا کہ اگر بندر اور انسان کا جد ایک ہی تھا،آگے چل کر اس کی نسل سے بندر اور انسان بنے تو مثلا کسی گدھے کی نسل سے ابھی تک کوئی اور نوع کتا یا بھیڑیا وغیرہ کیوں نہیں بنی؟
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  10. الشفاء

    الشفاء لائبریرین

    مراسلے:
    2,932
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے
    کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں میری انتہا کیا ہے ۔

    ڈاکٹر محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  11. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003


    نور سعدیہ صاحبہ! آپ کے اس سوال کا جواب میں پچھلے تھریڈ میں دے چکی تھی جہاں ہم نے نیندرتھال کے متعلق گفتگو کی تھی۔
    میں نے بیان کیا تھا کہ ری پروڈکشن کی بنیاد پر نوع کی درجہ بندی میں کچھ استثنائی صورتیں ہیں۔ چنانچہ یہ عجیب بات ہو گی بجائے ان استثنائی صورتوں کو قبول کرنے کے انہیں درجہ بندی کے نام پر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جائے۔

    نیندرتھال اور ماڈرن انسان میں مکمل طور پر ری پروڈکشن نہیں ہوتی تھی۔ بلکہ صرف ماڈرن انسانی مرد اور نیندرتھال عورت کے ملاپ کی صورت میں ہی ری پروڈکشن ہونا ممکن تھی۔
    گھوڑے اور گدھے کے ملاپ کی صورت میں خچر پیدا ہوتا ہے، لیکن وہ آگے ری پروڈکشن کے قابل نہیں ہوتا۔
    چند مزید مختلف قسم کے ملاپ اور انکے ری پرڈکشن کی مثالیں یہ ہیں:
    Species: Timber Wolf/Gray Wolf
    Species: Domesticated Dog
    Species: Coyote

    Coyote+Gray Wolf=Red Wolf (a 4th species with a stable breeding population)
    Dog+Coyote=fertile hybrid dog
    Dog+Wolf=fertile hybrid dog
    The German Shepherd breed descends from sheep dog-wolf crosses. Herd defense dogs rather than the common sheep driving dogs.

    اب اگر آپ کہیں گی کہ چونکہ کتے اور بھیڑیے میں ری پروڈکشن ممکن ہے، چنانچہ انہیں ایک ہی نوع قرار دے جائے، تو یہ ایک عجیب بات ہو گی۔
    آپ غور فرمائیے، آپ یہی استدلال نیندرتھال اور انسانوں کے معاملے میں استعمال فرما رہی ہیں۔ یہ کہنا کہ چونکہ نیندرتھال اور انسانوں میں ری پروڈکشن ہوئی ہے، چنانچہ نیندرتھال کو الگ نوع نہیں، بلکہ انسان ہی قرار دیا جائے، یہ ای درست دعویٰ نہیں ہے۔
    یہ بات آپ کو کس نے بتلائی ہے کہ نیدرتھال کی ختم ہونے کی وجہ یہ تھی کہ وہ افزائش نسل نہیں کر سکے تھے؟

    یہ اعتراض آپ کی طرف سے ہے یا پھر کسی مستند سائنسدان نے بھی کبھی یہ اعتراض اٹھایا ہے؟ اگر یہ اعتراض صف آپ کی طرف سے ہے، تو پھر آپ کو پہلے سائنس کو مزید گہرائی سے پڑھنا ہو گا اور سمجھنا ہو گا کہ کیوں دیگر سائنسدان یہ اعتراض کیوں نہیں اٹھا رہے ہیں۔

    صورتحال یہ ہے کہ:
    1۔ میں آپ کو پہلے ہی اس سیکوئنسنگ کا پورا کوڈ پچھلے نیندرتھال والے تھریڈ میں مہیا کر چکی تھی۔
    2۔ لیکن مجھے حیرت ہے کہ آپ یہ کوڈ کیوں طلب فرما رہی ہیں۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ آپ اسے سمجھنے کے قابل نہیں ہے (کم از کم پچھلی مرتبہ جو آپ نے اپنی علمی استعداد کا ذکر کیا تھا، اس کے مطابق آپ اس کوڈ کو سمجھنے نہیں سکتیں۔۔۔۔ لیکن اگر اس عرصے کے دوران آپ نے اس ضن میں کوئی کورس کیا ہے تو یہ علیحدہ مسئلہ ہے)۔
    بہرحال، یہ کوڈنگ آپ کے پاس موجود ہونی چاہیے کیونکہ میں اسکا لنک مہیا کر چکی ہوں۔

    الغرض آپ کے سوالات سے مجھے یہ تاثر ملتا ہے کہ آپ ماکس پلانک انسٹیٹیوٹ والوں کو چیلنج کر رہی ہوتی ہیں۔ حالانکہ یہ چیز آپ کی موجودہ علمی استعداد کے مطابق ممکن نہیں ہے۔ بلکہ یہ اعتراضات کسی ایسے ادارے کی طرف سے ہی آنے چاہیے ہیں جو کہ ماکس پلانک انسٹیٹیوٹ کا ہم پلہ ہو۔ لیکن ایسا ابھی تک ہوا نہیں ہے۔
    چنانچہ یا تو آپ کسی ادارے کا حوالہ پیش کر دیں جنہوں نے یہ اعتراضات ماکس پلانک انسٹیٹیوٹ پر اٹھائے ہوں، یا پھر خود کو علمی حوالے سے اتنا بلند کر لیں کہ آپ کو یہ اعتراضات کرنے کا حق مل جائے۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  12. محمدابوعبداللہ

    محمدابوعبداللہ محفلین

    مراسلے:
    1,299
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    یہ کیا جواب ہوا کہ ان کے جد ایک تھے اور سیلکشن پریشر سے مختلف نتائج سامنے آئے۔
    کیا 143 سال سے ہر سپیشی پر وہی سیلکشن پریشر ہے یا اس میں تبدیلی موقوف ہو گئی ہے۔
    اب کیا اس سیلکشن پریشر کو بدلنا بھی ممکن ہے یہ صرف یہ ایک سہارا ہے نظریہ کو ثابت کرنے کا کہ لانا یا بنانا کیا ہے۔
    بات تو اپنے میں مکمل وزن رکھتی ہے کہ اب انسانوں سے اگلا ارتقاء یا بندروں سے کوئی اگلا ارتقاء کیسے اور کب عمل میں آئے گا۔
    کیا انسان پھر اپنے جد کی طرف لوٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    اور مزید اگر انسان اور بندر کے جد ایک ہیں تو یہ تو صرف ظاہری مماثلت سے پہلو نکلا اگر اندرونی اعضاء کو دیکھا جائے تو پھر مینڈک کے جد مختلف کیونکر ہو سکتے ہیں۔
    نظریہ ارتقاء کسی بھی صورت سوالات اور پیچیدگی کا حل پیش نہیں کرتا اسے مزید سے مزید پیچیدہ ضرور کرتا جائے گا اور یہی کسی چیز کے ناقص کونے کی دلیل ہے۔
    درست نظریہ یا سلوشن تمام حالات و قواعد پر پورا اترتا ہے اور تمام مسائل کو حل کرتا ہے۔
    اب یہ بھی بات کہ بغیر کسی ثبوت کے حقیقت کے طور پر پڑھایا جاسکتا ہے ایسے تو کسی بھی چیز کو قابل جواز بنایا جا سکتا ہے۔
     
  13. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    39,141
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Bookworm
    انسان، بندر اور ہر جاندار کی نسل میں ارتقاء جاری ہے۔

    مینڈک اور انسان کا جد بھی ایک ہے۔ کیلے اور انسان کا جد بھی مشترکہ ہے۔
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. آصف اثر

    آصف اثر معطل

    مراسلے:
    3,060
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    کیا ایسا ممکن ہے کہ کسی شے میں بغیر قوت کے (بیرونی یا اندرونی) حرکت پیدا ہو جائے ؟
     
    • متفق متفق × 1
  15. La Alma

    La Alma لائبریرین

    مراسلے:
    2,232
    ریموٹ کنٹرول کی مدد سے پیدا کی جا سکتی ہے .
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  16. آصف اثر

    آصف اثر معطل

    مراسلے:
    3,060
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    براہِ کرم پہلے سوال غور سے پڑھ لیا کریں۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  17. La Alma

    La Alma لائبریرین

    مراسلے:
    2,232
    سنجیدہ جواب ہی ہے . ریموٹ کنٹرول خدا کے ہاتھ میں بھی ہو سکتا ہے .
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • مضحکہ خیز مضحکہ خیز × 1
  18. عبید انصاری

    عبید انصاری محفلین

    مراسلے:
    2,711
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    (صاحبو! بہت مشکل ہے آپ کی نرم و گرم باتیں پڑھنا اور ان کو سمجھ کر ان کا تجزیہ کرنا۔ کیونکہ ہر بات کا آغاز ایک کونے سے اور اختتام دوسرے کونے پر ہے۔ دماغ سوزی کے بعد ہم درج ذیل خلاصہ نکال پائے ہیں۔ اسے کچھ تو اپنے سمجھنے کے لیے اور کچھ ان لوگوں کے لیے جو میری طرح پوری بحث پڑھنے کا تحمل نہیں رکھتے اپنے الفاظ میں یہاں نقل کردیا ہے۔دیکھیے اس کا کیا حشر ہو:))
    پوری بحث کے مطالعہ سے ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ اس بارے میں تین طبقہ ہائے فکر ہیں:
    اول: جو نظریہ ارتقا کو ایک کائناتی حقیقت تسلیم کرتے ہیں۔اور اسے عقیدہ توحید کے خلاف جانتے ہوئے اس پر قائم ہیں۔
    دوم: جو اس کی تردید کرتے ہیں اور اس کے برعکس عقیدہ توحید کے قائل ہیں۔
    سوم: وہ ہیں جو ان دونوں کے درمیان مطابقت کی راہ پر چلنا چاہتے ہیں، یا یوں کہہ لیں کہ وہ موحد رہتے ہوئے نظریہ ارتقا کو تسلیم کرنا چاہتے ہیں۔
    اولین دو نظریات کے حاملین کے مطابق توحید اور نظریہ ارتقا کے درمیان "بعد المشرقین" ہے۔ اور چونکہ یہ الگ الگ سکول آف تھاٹ ہیں اس لیے ہر دو نظریہ کے حامل افراد نے اپنے اپنے نظریہ کے مطابق ممکنہ سوالات کا جواب تیاریا کھوج کیا ہے اور ہر دو فریق اس پر مطمئن ہیں۔
    مختصر وضاحت یہ کہ نظریہ ارتقا کے حامل افراد جو ایک مخصوص سائنسی پس منظر میں اس نظریہ پر ایمان لائے ہیں، وہ ہر اٹھائے جانے والے سوالات کا سائنس ہی کی نظر سے جواب تلاشیں گےبلکہ تلاش کرچکے ہیں اور اس پر مطمئن ہوچکے ہیں گوکہ وہ فرقی مخالف کی نظر میں کمزور یا سرسری ہوں۔ اور اس نظریہ کے منکرین اس نظریہ کو مذہبی اور توحیدی نقطہ نظر سے اس کو رد کرتے ہیں اور اپنے نظریہ کے مطابق ہر اٹھائے جانے والے سوال کا مذہبی نقطہ نظر سے جواب رکھتے ہیں چاہے فریق اول کے نزدیک وہ جوابات ایک محدود سوچ سے پیدا معلوم ہوتے ہوں۔
    جس طرح یہ سوچ خلافِ حقیقت ہے کہ نظریہ ارتقا کے حاملین نے بیٹھے بٹھائے ایک شخص کے نظریات کو بلاتحقیق بے چوں و چرا تسلیم کرلیا ہے اور وہ ایک خلافِ عقل چیز پر بضد ہیں، بالکل اسی طرح یہ خیال کہ نظریہ توحید کے حاملین چند غیر محقق لوگوں یا ذرا واضح الفاظ میں جاہل ملاؤں کی باتوں میں آکر اس کے منکر ہیں، سراسر نادرست ہے۔ جیسا کہ عرض کیا ہر فریق کا ایک نظریہ اور ایک سوچ ہے جس پر اس کا ضمیر مطمئن ہے۔ ایسے میں ایک جانب سے یہ کہنا کہ یہ جھوٹ اور فریب ہے اور دوسری جانب سے جوابِ آں غزل کے طور پر طنزیہ لہجہ اختیار کرلینا ہمارے خیال میں کسی طرح بھی مفید نہیں ہے۔بلکہ چند در چند نقصان کا باعث ہے۔
    مشکل البتہ تیسرے فریق کے لیے ہے جو موحد رہتے ہوئے، اور اس کے تمام تر تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے نظریہ ارتقا کو تسلیم کرنا چاہ رہے ہیں۔ کیونکہ نہ فریق اول ان کی پیش کردہ توجیہات تسلیم کرپارہا ہے، کہ وہ ان کو مسلمات کے خلاف معلوم ہوتے ہیں۔ نہ ہی فریق ثانی ان کی توجیہ سے مطمئن ہے کہ وہ توجیہات ان کے نظریہ کے تقاضے پورے کرتی نہیں دکھائی دیتیں۔ سو ایسے میں ہماری رائے یہ ہے کہ اگر وہ مکمل تحقیق کردہ نظریات کی بنیاد پر اس رائے کی جانب ہیں تو حسبِ سابق یہاں بھی بحث بے معنیٰ ہوجاتی ہے۔ان کو یہ جانتے ہوئے کہ وہ ایک الگ سوچ کے حامل ہیں خود کو بحث سے الگ کرلینا چاہیے۔ اور اگر ان کی تحقیق ابھی نامکمل یا شبہات اور شکوک کی حد تک ہے تو ان کو اپنی رائے پر اصرار کرنے سے پہلے دونوں فریقوں کے مسلمات کو کھوج لینا چاہیے۔
     
  19. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    آخری تدوین: ‏اپریل 19, 2017
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  20. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy

اس صفحے کی تشہیر