تیرہویں سالگرہ نثر نگار محفلین کو اُن کی نثر سے پہچانیں!

جاسمن نے 'محفل کی سالگرہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 14, 2018

  1. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    5,704
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    کیا آپ کے دفتر میں آپ کی کوئی قدر نہیں ؟
    کیا آپ ایک دن بہ دن پھیلتے ہوئے دائرے میں سب سے زیادہ قابل انسان ہیں؟
    کیا آپ مشترکہ خاندانی نظام کو فقط اس لیے دعائیں دیتے ہیں کیونکہ آپ کی تنخواہ میں گھر تو کیا ، ایک کھولی بھی نہیں چلائی جا سکتی؟
    کیا آپ کی خوابیدہ صلاحیتوں کی ٹریجڈی آپ کو رات میں سونے نہیں دیتی ؟
    اگر درج بالا سوالات میں سے کسی ایک کا جواب بھی مثبت ہے تو خاطر جمع رکھیے،آپ کی مشکلات کا حل موجود ہے، یعنی کہ دنیا بھر کے خواب دیکھنے والوں کی پناہ گاہ ، یعنی کہ گریجویٹ سکول۔لیکن اس راہ میں ایک بھاری پتھر ہے جس کا نام ہے جی آر ای یا گریجویٹ ریکارڈ ایگزامینیشنز۔ اس کی تیاری کیونکر کی جائے، اس معمے کو آج ہم سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں تو جگہ جگہ اس کی تیاری کے طریقے درج ہیں مگر وہ آئیڈیل ہیں، پریکٹیکل نہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  2. مریم افتخار

    مریم افتخار مدیر

    مراسلے:
    5,181
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    نمرہ لگ رہی ہیں مجھے!
     
    • زبردست زبردست × 2
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    5,704
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    آپ نے محفل میں کافی مطالعہ کر رکھا ہے ..اچھا لگا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    5,704
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    قواعد اورشعر کی اصلاح کے حوالے سے ہم بچپن سے ڈسے ہوئے تھے۔ ایک کلاس فیلو"شفیق" اپنے اشعار لکھ کے لاتا اور ہمیں سُناتا ۔ اُس کی شاعری لُطف دیتی اور ہم چند دوست اُس سے بہت مرعوب تھے۔ سیف نے ایک دِن ڈرتے ڈرتے اپنے چند شعر اُس کے سامنے رکھے اور طالبِ اصلاح ہوا۔ ہم سب بھی دم بخود حلقہ بنائے بیٹھے تھے کہ دیکھئیے سیف صاحب ادب میں کیا مقام پاتے ہیں۔ اچانک ہم نے شفیق کو مُنہ بھینچے لرزتے کانپتے دیکھا اور پھر جیسے اُس کی ہنسی کے پریشر کُکر کی سیٹی کھُل گئی۔ ہمیں کُچھ سمجھ نہیں آئی کہ سیف بیچارے کی سیدھی سادھی عشقیہ شاعری اتنا بڑا لطیفہ کیسے ہو گیا۔ ہم سب کی کورس میں کیا ہوا کیا ہوا کے جواب میں اُس کا چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں جو ایک تاریخی جُملہ پورا ہوا وہ یہ تھا : ہا ہا ہا ۔ ۔ ۔ ایک ۔ ۔ ۔ہا ہا ہا ۔۔ ایک بھی۔ ۔ ۔ہا ہا ہا ہا۔ ۔ ۔ ۔ شعر وزن میں ۔ ۔ ۔ ۔ہا ہا ہا۔ ۔ ۔ ۔نہیں ہے۔ ۔ ۔ ۔ہاہاہا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. مریم افتخار

    مریم افتخار مدیر

    مراسلے:
    5,181
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    آوازِ دوست بھائی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  6. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    5,704
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    آپ کا برین سر انجن کی طرح کام کررہا ہے ;)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. مریم افتخار

    مریم افتخار مدیر

    مراسلے:
    5,181
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    دماغ جس وقت برہنہ مناظر کی عکس بندی میں مصروف ہوتا، دِل اس وقت سجدے میں پڑا ہوتا۔ اگر کبھی دِل مچل اُٹھتا تو پلکوں کی چلمن گِر جاتی اور دِل کے رنگ میں بھنگ ڈالے دیتی۔۔۔۔۔۔ جو کبھی دیدہء شوق وا ہوتی تو قدم اُس اور چلنے سے انکاری ہو جاتے اور اگر کبھی قدم منزلِ مقصود پر پہنچاتے تو دِل اُچاٹ ہو چُکا ہوتا۔ مُجھے اکثر شک گُزرتا ہے کہ میرے اعضا میرے اپنے نہیں ہیں یا کم از کم ایک دوسرے کے لئے سوتیلے ضرور ہیں ، کیونکہ ان میں باہمی موافقت ہمیشہ مفقود رہی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 2
  8. مریم افتخار

    مریم افتخار مدیر

    مراسلے:
    5,181
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    تھنک سمارٹ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  9. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    5,704
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    یہ اقتباس پڑھا ہوا تھا اس لیے یاد بھی رہا ہے ... یہ نثر بہت اعلی ہے ..سادہ زبان مگر جذبات سے بھرپور ...

    مریم افتخار ..دا ون اینڈ اونلی. ..قیمہ مرے جگر کا کباب میں ملا دو
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  10. محمدظہیر

    محمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    2,934
    تحریر پتا نہیں کس کی ہے لیکن یہ مسئلہ کسی ادارے میں پیش آئے تو پراپر کنٹرول یا ایفیکٹیو کنٹرول سسٹم کے ذریعے کو-آرڈینیشن کیا جا سکتا ہے :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  11. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    5,704
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    یہ تحریر ادارے کی نہیں ہے جناب .... آپ بھی کوئی اقتباس لائیں جلدی سے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  12. مریم افتخار

    مریم افتخار مدیر

    مراسلے:
    5,181
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    مجھے بھی بڑے عرصے بعد یہ آج یاد آئی ہے۔ سالوں پرانی نثر۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  13. مریم افتخار

    مریم افتخار مدیر

    مراسلے:
    5,181
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    ابھی تو ہمیں آپ کی پیش کی ہوئی تھیوری کی بھی پوری طرح سمجھ نہیں آئی تھی کہ آپ نے لاء بھی دے دیا۔ :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  14. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    5,704
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    ابھی دو دن پہلے یہ نثر پھر سے پڑھنے کا اتفاق ہوا تھا.یہی دو اقساط میں بھی کیا وزن رکھا ہے. ہم شاعری میں وزن وزن کرتے ہیں آپ نے تو نثر میں وزن رکھا ہے ... جیو!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  15. محمدظہیر

    محمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    2,934
    دراصل اداروں اور اداروں میں کام کرنے والے انسانوں (ہیومن رسورس) کے بارے میں پڑھ پڑھ کر ہر جگہ وہی باتیں کرنے لگا ہوں :ROFLMAO:
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  16. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    5,704
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    شام کا وقت تھا رات چھا رہی تھی۔بادل سر پر منڈلارہے تھے ان کا اس کی روح کو چھو جانا تنہائی کی منافی کر رہا تھا۔ شام سے رات کا چڑھتا وقت ، چھاتا ہوا اندھیرا اس بات کی عیاں کر رہا تھا اس کے ساتھ اب کوئی بھی نہیں ۔ وہ بھاگتا رہا اس کی رفتار اتنی تیز تھی جتنی کسی روح کی ہوسکتی تھی ۔کبھی جنگل، کبھی صحرا تو کبھی پہاڑوں میں وہ اپنے قبیلے والوں کو تلاش کر رہا تھا ۔شاید کوئی اس کا ہمدم ، ساتھی اس کو مل جائے۔ وہ بھوک و پیاس سے عاری سفر پر رواں دواں جانے کس کو ڈھونڈ رہا تھا۔اب وہ کسی قبرستان میں داخل ہوا ۔ یہ عام قبرستانوں سے الگ تھا۔ کچھ قبریں سرخ چمکتی روشن تھیں ان کی آب و تاب اس کے لیے نئی نہیں تھی مگر اس نے جیسے ہی اس حصے پر قدم رکھا اس کو ایک جھٹکا سا لگا۔ جیسے کسی نے اس کو پیچھے دھکیل دیا ہو۔ کچھ قبریں سبز رنگ تو کچھ سفید رنگ کی تھیں ۔ وہ وہاں پر بھی جا نہ پایا۔ کچھ قبریں سیاہ تھیں وہ ان کے دہانے پر کھڑا تھا پہچان کر رہا دنیا والوں کی طرح قبروں کی بھی تفریق ہوتی ہے ۔باغی تو وہ شروع سے تھا اس کے اندر تفریق کے پکتے الاؤ نے اس کو اپنے ٹھکانے سے دربدر کر دیا تھا۔ سیاہ قبروں کا مالک اب ان کو چھو نہیں سکتا تھا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  17. مریم افتخار

    مریم افتخار مدیر

    مراسلے:
    5,181
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    نور سعدیہ شیخ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 1
  18. محمدظہیر

    محمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    2,934
    غیر متفق!
    تحریر سمجھ میں تو آ رہی ہے، پھر یہ کیسے ممکن ہے:)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 4
  19. محمدظہیر

    محمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    2,934
    عجیب رویے ہیں ہمارے بھی۔ کبھی کسی کے الفاظ کو اپنے معنی دے کر اپنا مطلب نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی اپنے الفاظ دوسرے کے منہ میں ٹھونسنے کی کوشش کرتے ہیں، صرف اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کے لیے۔ ممکن ہے یہ سوچ وقت کے ساتھ ساتھ پروان پاتی ہو ایسے معاشرے میں جہاں مادیت پرستی اپنے زوروں پر ہو اور ہر ایک چیز میں ریس لگی ہو ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی اور ایسے میں جائز کیا اور ناجائز کیا، کسی نے سکھایا نہیں اور خود ہم نے سیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ اپنے غلط موقف سے پیچھے ہٹنا برائی نہیں بڑائی ہے۔ اور درست موقف پر قائم رہنا استقامت ہے لیکن اس کے لیے اختلاف کے بھی کچھ آداب ہیں۔ جاہلوں کا کیا رونا رویا جائے پڑھے لکھے لوگ، اہل علم کے صحبت یافتہ بھی اگر اختلاف رائے کی وجہ سے تو تڑاک اور طعنوں سے بات کرنے لگ جائیں تو پھر افسوس کے ساتھ یہ ہی کہا جا سکتا ہے کہ الفاظ تو سیکھ گئے ان کا استعمال اور احترام نہیں سیکھ پائے، تعلیم حاصل کر لی لیکن تربیت سے محروم رہ گئے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  20. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    5,704
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    شروع میں عام فہم لکھنے سے ابتدا کی ... افسانے وغیرہ مگر اک دو لکھے تھے بس
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر