تیرہویں سالگرہ نثر نگار محفلین کو اُن کی نثر سے پہچانیں!

عجیب رویے ہیں ہمارے بھی۔ کبھی کسی کے الفاظ کو اپنے معنی دے کر اپنا مطلب نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی اپنے الفاظ دوسرے کے منہ میں ٹھونسنے کی کوشش کرتے ہیں، صرف اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کے لیے۔ ممکن ہے یہ سوچ وقت کے ساتھ ساتھ پروان پاتی ہو ایسے معاشرے میں جہاں مادیت پرستی اپنے زوروں پر ہو اور ہر ایک چیز میں ریس لگی ہو ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی اور ایسے میں جائز کیا اور ناجائز کیا، کسی نے سکھایا نہیں اور خود ہم نے سیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ اپنے غلط موقف سے پیچھے ہٹنا برائی نہیں بڑائی ہے۔ اور درست موقف پر قائم رہنا استقامت ہے لیکن اس کے لیے اختلاف کے بھی کچھ آداب ہیں۔ جاہلوں کا کیا رونا رویا جائے پڑھے لکھے لوگ، اہل علم کے صحبت یافتہ بھی اگر اختلاف رائے کی وجہ سے تو تڑاک اور طعنوں سے بات کرنے لگ جائیں تو پھر افسوس کے ساتھ یہ ہی کہا جا سکتا ہے کہ الفاظ تو سیکھ گئے ان کا استعمال اور احترام نہیں سیکھ پائے، تعلیم حاصل کر لی لیکن تربیت سے محروم رہ گئے۔
محمد عظیم الدین
 
میں جو آدم کا سب سے نالائق بیٹا ۔۔۔ ہاں۔۔۔ میں آوارہ فکر، صدیوں کا بھوکا پیاسا، جس نے دل کی امنگوں کی عمر کا تمام حسن اک تلاش کی نذر کیا ہے، جب جب بے خود کر دینے والی کسی چاندنی رات کے سحر کا شکار ہوجاتا ہوں تو مجھے اک نشہ سا چڑھ جاتا ہے، مصنوعی سا، عارضی سا۔ نشہ اترتا ہے تو ۔۔۔ مجھے پھر سے الجھن شروع ہو جاتی ہے ۔۔۔ اونہوں ۔۔۔ اس کا زہر بھی اثر پذیر نہیں ۔۔۔یہ وہ نہیں جس کی مجھے تلاش ہے۔ اور میں پھر سے وقت کی گرد جھاڑ پونچھ کر اک نئی تلاش میں جُت جاتا ہوں۔۔۔ کہ نہیں۔۔۔اس بار بھی نہیں ملی۔ ایک کوشش اور۔۔۔ شاید اگلی بار، شاید۔
 
میں جو آدم کا سب سے نالائق بیٹا ۔۔۔ ہاں۔۔۔ میں آوارہ فکر، صدیوں کا بھوکا پیاسا، جس نے دل کی امنگوں کی عمر کا تمام حسن اک تلاش کی نذر کیا ہے، جب جب بے خود کر دینے والی کسی چاندنی رات کے سحر کا شکار ہوجاتا ہوں تو مجھے اک نشہ سا چڑھ جاتا ہے، مصنوعی سا، عارضی سا۔ نشہ اترتا ہے تو ۔۔۔ مجھے پھر سے الجھن شروع ہو جاتی ہے ۔۔۔ اونہوں ۔۔۔ اس کا زہر بھی اثر پذیر نہیں ۔۔۔یہ وہ نہیں جس کی مجھے تلاش ہے۔ اور میں پھر سے وقت کی گرد جھاڑ پونچھ کر اک نئی تلاش میں جُت جاتا ہوں۔۔۔ کہ نہیں۔۔۔اس بار بھی نہیں ملی۔ ایک کوشش اور۔۔۔ شاید اگلی بار، شاید۔
عبدالقیوم چوہدری صاحب
 
Top