ناروے میں اسلام مخالف ریلی

محمداحمد

لائبریرین
پر امن احتجاج ہر شہری کا حق ہے۔ جب پاکستان میں توہین آمیز خاکوں کے خلاف احتجاج کے دوران مشتعل عوام نے ناروے کے جھنڈے جلائے تھے تو اس وقت کسی کو خیال نہ آیا کہ ایسا کرنےسے ایک پوری قوم کے جذبات مجروح ہو رہے ہیں۔ البتہ جب ایک انتہا پسند نارویجن نے احتجاج کرتے ہوئے قرآن پاک جلا دیا تو مسلمانوں کے جذبات مجروح ہو گئے۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ :)

یعنی ناروے جیسے لبرل اور غیر جذباتی ملک کے جھنڈے کی اہمیت اس قدر زیادہ ہو گئی کہ اُسے مسلمانوں کی مقدس کتاب کے برابر لا رکھا آپ نے۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
تاہم رد عمل، اگر کسی فعل کے جواب میں ہو، تو بسا اوقات قانون میں بھی ایسے افراد کے لیے گنجائش نکل آتی ہے۔ اول تو یہی دیکھا جاتا ہے کہ کسی واقعے کا اصل سبب کیا بنا!
متفق۔ مسلمانوں کے اسی پرتشدد ردعمل کے خو ف سے ناروے کے محکمہ پولیس نے درج ذیل احکامات جاری کر رکھے تھے۔ مگر یہ بھی میڈیا میں ایکسپوز گئے اور سخت تنقید کا نشانہ بنے۔ اس کا مطلب اگلے کسی احتجاج میں پولیس بھی قرآن پاک کو جلانے سے روک نہ پائے گی۔ اور یوں مزید خون خرابہ ہو سکتا ہے۔ :(
ناروے میں یہ واقعہ ایک نیا رُخ اختیار کر گیا ہے۔ خبریں سامنے آئی ہیں کہ ان اسلام مخالف احتجاجوں سے قبل محکمہ پولیس نے خاص احکامات جاری کئے تھے کہ مسلمان انتہا پسندوں کی جوابی شدت پسند کاروائی سے بچنے کیلئے قرآن پاک کو جلانے سے روکا جائے۔ ماضی میں پولیس نے کئی شہروں میں احتجاج سے قبل قرآن پاک کو جلنے سے روکا ہے۔ جو کہ قانون آزادی احتجاج اور آزادی اظہار کی سنگین خلاف ورزی تھی۔ ماہرین قانون نے محکمہ پولیس کے ان اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔
نارویجن عوام بھی اس معاملہ کو لے کر اضطراب کا شکار ہے کہ جب مسیحی بائبل کی توہین یا اس کو جلانا اکوئی بڑی بات نہیں تو قرآن پاک کے لئے دہرا معیار کیوں پولیس کی طرف سے سیٹ کیا گیا ہے؟
Raser mot politiets hemmelige koran-ordre: – Egne særregler for islam
 

فرقان احمد

محفلین
متفق۔ مسلمانوں کے اسی پرتشدد ردعمل کے خو ف سے ناروے کے محکمہ پولیس نے درج ذیل احکامات جاری کر رکھے تھے۔ مگر یہ بھی میڈیا میں ایکسپوز گئے اور سخت تنقید کا نشانہ بنے۔ اس کا مطلب اگلے کسی احتجاج میں پولیس بھی قرآن پاک کو جلانے سے روک نہ پائے گی۔ اور یوں مزید خون خرابہ ہو سکتا ہے۔ :(
کم از کم مسلمان اس طرح کے 'خون خرابے'سے نہیں گھبراتے ہیں۔ :) اسی لیے عرض کی تھی کہ ناروے کے 'مقامیوں' کو بھی کسی نہ کسی طور اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ مسلم خوب جانتے ہیں کہ کتاب اور الکتاب میں کیا فرق ہے۔ بس یہی فرق اسی بہانے ناروے والوں کو بھی سمجھ میں آ جائے گا یا آ جانا چاہیے۔ ناروے کی پارلیمان کو تنقید اور تضحیک کا فرق معلوم ہو گا۔ ہمیں امید ہے کہ کچھ نہ کچھ بہتری ضرور دیکھنے کو ملے گی اور ایسے واقعات اب پیش نہ آئیں گے۔
 

جاسم محمد

محفلین
یعنی ناروے جیسے لبرل اور غیر جذباتی ملک کے جھنڈے کی اہمیت اس قدر زیادہ ہو گئی کہ اُسے مسلمانوں کی مقدس کتاب کے برابر لا رکھا آپ نے۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے۔
نہیں میں نے صرف مقدسات میں فرق کی اہمیت کو اجا گر کیا تھا۔ نارویجن قوم کے نزدیک کوئی سیاسی نظریہ، مذہبی عقیدہ، ادارہ و محکمہ مقدس نہیں۔ صرف انسانی جان مقدس ہے۔
انسانی جان کے بعد ملک کا آئین، قومی پرچم، کلچر وغیرہ اہم ترین ہے۔ لیکن یہ بھی بہرحال مقدس نہیں ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
بس یہی فرق اسی بہانے ناروے والوں کو بھی سمجھ میں آ جائے گا یا آ جانا چاہیے۔
چلیں کوشش کرتے ہیں جو تقریر عمران خان نے اقوام متحدہ میں کھڑے ہو کر کی تھی۔ وہی نارویجن پارلیمان میں بھی آکر کر دیں۔ تاکہ اس لادین اور ملحد قوم کو بھی سمجھ آ جائے کہ انہوں نے کس امت سے ٹکر لے لی ہے :)
 

فرقان احمد

محفلین
چلیں کوشش کرتے ہیں جو تقریر عمران خان نے اقوام متحدہ میں کھڑے ہو کر کی تھی۔ وہی نارویجن پارلیمان میں بھی آکر کر دیں۔ تاکہ اس لادین اور ملحد قوم کو بھی سمجھ آ جائے کہ انہوں نے کس امت سے ٹکر لے لی ہے :)
لا دین اور ملحد قوم کئی معاملات میں ہم سے بہتر ہے۔ اس کے باوجود اصلاح کی گنجائش رہتی ہے۔ ٹکر تو آپ اچھل کر ہمیں رسید کر رہے ہیں۔ ہم رد عمل دیں تب بھی آپ کو گوارا نہیں۔
 
چلیں کوشش کرتے ہیں جو تقریر عمران خان نے اقوام متحدہ میں کھڑے ہو کر کی تھی۔ وہی نارویجن پارلیمان میں بھی آکر کر دیں۔ تاکہ اس لادین اور ملحد قوم کو بھی سمجھ آ جائے کہ انہوں نے کس امت سے ٹکر لے لی ہے :)
چلیے دو کارنامے تو ایسے ہیں جن کا کوئی ثانی نہیں۔۔ ۹۲ کا ورلڈ کپ اور اقوامِ متحدہ کی تقریر۔
 

الف نظامی

لائبریرین
ایک ستاسی سالہ ملحد ٓارنے تھومیر (ٓArne Tumyr) نے یورپ کے باقی ملکوں کی دیکھا دیکھی کچھ سال پہلے اسلام کے خلاف ایک تنظیم بنائی، جس کا نام سیان (Stop Islmisation in norway۔ SIAN) ہے۔ متشدد خیالات کے یہ لوگ اسلام کے خلاف مختلف فورمز میں اسلام کے خلاف کافی ہرزہ سرائی کرتے رہتے ہیں، اور مختلف شہروں میں مظاہرے بھی کرتے ہیں جس میں اسلام کو جبر و طاقت کے زور پر پھیلایا ہوا مذہب اورمسلمانوں کوبطور دہشت گرد ٹارگٹ کرنا ہوتا ہے۔ چونکہ ان لوگوں کو معاشرے میں بہت زیادہ پذیرائی حاصل نہیں لہذا ان کے کسی مظاہرے میں قابل ذکر لوگ شامل نہیں ہوتے۔ میڈیا ایسے لوگوں کو چٹخارے لگا کر پیش کرتا ہے، اس وجہ سے ان کو کچھ حد تک کوریج مل جاتی ہے۔ ناروے میں مذہبی و اظہاررائے کی ٓازادی ہے، قانون تب حرکت میں ٓائے گا جب کوئی شخص نفرت، دہشت اور نسل پرستانہ تقریر کرے ۔

اس کے علاوہ ٓازادی اظہار رائے کے نام پر جو مرضی کہے اس پر کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ پچھلے ہفتے ٓارنے تھومیر نے جب مظاہرے کا اعلان کیا تو ایک جرنلسٹ نے اس مظاہرے کا عنوان دریافت کرنے کی غرض سے اسکا انٹرویو کیا، جس میں ٓارنے تھومیر نے اعلان کیا کہ ہم قران کو جلائیں گے۔ اس بات نے شہر کے سکون میں ایک ارتعاش پیدا کردیا اور فوراً مسلم لیڈرز اور مسجد کمیٹی کے لوگ ایکٹو ہوگئے کہ ایسی کسی بھی انہونی کو روکا جا سکے۔ انہوں نے شہر کے میئر، پولیس اور لوکل گورنمنٹ سے منسلک لوگوں کے ساتھ میٹنگ کی، جس میں پوری سٹی کونسل نے یک زبان کہا کہ ہم اس مظاہرے کے سخت خلاف ہیں اور ایسی کسی بھی حرکت کی قطعی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حتی کہ مسلمان مخالف جماعت ڈیموکریٹک پارٹی نے بھی اعلان کیا کہ وہ قران کریم کو جلانے والے کسی بھی عمل کو سپورٹ نہیں کریں گے۔ اسی میٹینگ کے دوران پبلک پراسیکیوٹر نے قانونی نقطہ اٹھایا کہ قانون کے مطابق ہم مظاہرے کو نہیں روک سکتے جب تک وہ ایسی کوئی حرکت نہیں کرتے جو قابل گرفت ہو، لیکن چونکہ سیان کا یہ اعلان نفرت پھیلانے کے زمرے میں ٓاتا تھا تو پولیس کمشنر نے کچھ پیرامیٹرز طے کروائے جس میں سیان تنظیم کو یہ کہا گیا کہ مظاہرہ کرنا ٓاپ کا حق ہے لیکن ٓاپ قرآن کریم کو نہیں جلا سکتے اور ایسا کرنے پر قانون کی گرفت میں ہونگے۔

یہاں میں یہ عرض کردوں کہ سیان تنظیم کا بنیادی مقصد ہی یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو بطور دہشت گرد پیش کرے کہ یہ لوگ ان کے مغربی معاشرے میں رہنے کے قابل نہیں، ان کا رویہ پرتشدد اور مجموعی طرز عمل ہمارے معاشرے سے مطاقت نہیں رکھتا۔ان کایہ بھی مطالبہ رہا کہ مسلمانوں کو ناروے سے باہر نکالا جائے۔ لہذا یہ ایسے بیانات جاری کرتے رہتے ہیں، جن کا مقصد صرف اشتعال انگیزی ہے لیکن مسلمانوں کی طرف سے ہمیشہ حکمت اور بٖصیرت کے ساتھ اس کا جواب دیا گیا۔ یہاں کے پڑھے لکھے لوگ ڈائیلاگ اور کانفرنسز میں بہت جاتے ہیں اور شہر کے سب ٓاڈیٹوریمز میں کوئی نہ کوئی کانفرنس یا مکالمہ چل رہا ہوتا ہے۔ ٓارنے تھومیر نے پہلے پہل تو کوشش کی کہ اپنی نفرت والی باتوں کو ڈائیلاگ کی صورت میں لوگوں تک پہنچائے جس میں وہ نبی ﷺ پر بھی رکیک حملے کرتا تھا، اس کی باتوں کو الحمداللہ بڑے مدلل انداز میں رد کیا گیا،جس کو پبلک نے پسند کیا اور اس کا بہت مثبت اثر ہوا۔ اسی وجہ سے ہماری مسجد میں الحمداللہ ہر ہفتے دو ہفتے میں ایک نارویجین اسلام قبول کرتا ہے۔ ٓارنے تھومیر کی بے بنیاد باتوں اور نفرت پر مبنی تقریروں کی وجہ سے لوکل ادبی کونسل اور یہاں کے چرچ نے پابندی لگا دی کہ اس کو کسی تقریب میں نہیں بلانا تاکہ یہ اسلام سے متعلق اپنی نفرت کو پھیلانے کے لئے ہمارا فورم استعمال نہ کر سکے۔ لوکل انتظامیہ اور ادبی حلقوں سے کٹنے کے بعد اس تنظیم کے پاس صرف ایک ہی ٓاپشن رہ گیا کہ وہ پبلک مقامات پر مظاہرے کرے جس میں اسلام و محمد ﷺ کو ٹارگٹ کر سکیں۔

یہ اپنے مظاہرے میں باقاعدہ کیمرے اور میڈیا کے لوگوں کو ایڈجسٹ کرتے ہیں تاکہ اگر کوئی مشتعل شخص ان کو زدکوب کرے تو اس کی تصاویر و ویڈیو کو وائرل کروا کر لوگوں کو بتایا جائے کہ یہ لوگ ہمارے معاشرےکی روایات کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے۔ ہمارے اکابر جن میں سب سے زیادہ متحرک جامع مسجد کمیٹی کے صدر جناب اکمل علی صاحب نے اس بات کو بہت پہلے سے بھانپ لیا تھا، لہذا وہ پہلے دن سے کہتے تھے کہ اس کی کسی بھی غیر قانونی حرکت پر قانون خود اس کو قابو کر لے گا۔ لہذا ہم مسلمان اس کی کسی اشتعال انگیزی پر برانگخیکتہ نہ ہوں اور اس کے کسی مقصد کو کامیاب نہ کریں۔ اس مظاہرے سے پہلے مسجد کی طرف سے اعلانات ہوئے کہ اگر ٓارنے تھومیر نے قرٓان کریم کی بے حرمتی کی تو اس کو ایسی کسی حرکت سے روکنے کے لئے پولیس موجود ہوگی لہذا انتظامیہ کو اپنا کام کرنے دیا جائے اور اشتعال میں ٓاکر کوئی کاروائی نہ کی جائے۔ ہفتے کے دن سیان کے مظاہرے میں صرف آٹھ لوگ تھے، جبکہ چار سو سے زیادہ لوگ، جن میں نارویجنز کی قابل ذکر تعداد بھی شامل تھی، اس کے مظاہرے کے خلاف موجود تھی۔ پولیس نے رکاوٹیں لگا کر راستہ بند رکھا ہوا تھا تاکہ لڑائی کی صورت نہ بن سکے۔ ٓارنے تھومیر نے تقریر کے دوران قرآن کریم کی ایک کاپی باربی کیو گرل کے اوپر رکھی ہوئی تھی، جس کو پولیس نے فوراً اپنے قبضہ میں لے لیا۔ اس دوران سیان تنظیم کے دوسرے سرکردہ رکن لارس تھورسن نے اپنی جیب سے قران کریم کے دوسرے نسخہ کو نکال کر ٓاگ لگانے کی کوشش کی، ٓاگ کو بجھانے کے لئے پولیس فورا دوڑی،

انہی لمحوں میں عمر دھابہ جس کو فیسبک کی بڑی تعداد عمر الیاس لکھ رہی ہے، نے رکاوٹوں کو عبور کیا اور لارس تھورسن کو مارنے کو دوڑا، لارس کو فورا سول پولیس نے اس حرکت پر گرفتار کر لیا، اس دھکم پیل میں مسلمان نوجوانوں نے پولیس کو بھی دھکے اور ٹھڈے مارے، کہ وہ لارس تک پہنچ سکے۔ عمر اور دیگر کچھ اور ساتھیوں کی مداخلت نے ٓارنے تھومیر کو وہ فراہم کر دیا جو اس کو چائیے تھا، یعنی مسلمانوں کو اشتعال دلانا اور یہ ثابت کروانا کہ یہ لوگ یہاں کے قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں، ٓاج ان نوجوانوں کی ویڈیو اور تصاویر پورے ناروے میں وائرل ہیں، جو صرف ایک طرف کی ہیں: " مسلمان رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے پولیس سے گتھم گتھا ہیں " اگر ہمارے جذباتی نوجوان تھوڑا سا صبر اور حوصلے سے کام لیتے تو اس واقعے پر قانونی طریقے سے گرفت کی جاسکتی تھی، اگرچہ اس کی کوشش جاری ہے اور مسجد کمیٹی نے بہترین وکیل کا بندوبست کر لیا ہے جو لارس تھورسن کو قرار واقعی سزا دلوانے کی کوشش کرے گا۔ لیکن دوسری طرف ہمارا کیس کچھ کمزور ہو گیا ہے کہ حملہ ٓاور نوجوان پولیس کی حراست میں ہیں، چونکہ انہوں نے پولیس کو بھی زدوکوب کیا جو قابل گرفت حرکت ہے۔ ہمیں اس سارے واقعے کو ایک لارج پرسپیکٹو میں دیکھنا پڑے گا۔ یہاں کی مسجد انتظامیہ نے انتھک محنت اور کوشش کر کے سٹی لوکل کونسل اور انتطامی اداروں میں مسلمانوں کی ایک اچھی ساکھ بنائی ہے اور مجموعی تاثر کافی مثبت ہے۔

نارویجنز بھی ٓارنے تھومیر کی تقاریر کو ریجیکٹ کرتے ہیں اور اس کی یہاں کوئی سنائی نہیں ہے۔ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ نناوے فیصد ٓابادی اس مسئلے پر مسلمانوں کے ساتھ ہے، لیکن یہ سب ملیا میٹ ہو سکتا ہے اگر ہم یہاں کے قانون کو فولو نہ کریں، یہ یہاں کا قانون ہی ہے جس نے ہمیں بھرپور مذہبی ٓازادی دی ہوئی ہے اور ہم بلا خوف اپنی مذہبی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں۔ اس اندہناک واقعے کے بعد پولیس، چرچ، انتظامیہ اور سیاست دان بھی اس مسئلہ پر مسلمانوں کے ساتھ متفق ہیں۔ لیکن ان سب کی سپورٹ صرف قانون کےدائرے میں رہ کر ہی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اگر ہم جذبات میں ٓاکر جلاؤ، گھیراؤ، سڑکوں پر ٹائر جلانے، قتل کی دھمکیاں اور دیگر جذباتی نعروں سے پرہیز کریں اور حکمت اور دانش کے ساتھ اس مسئلے کو حل کی طرف لے کر جائیں تو قانون اتنا طاقتور ہے اور معاشرہ اتنا باشعور ہے کہ ایسی باتیں یہاں زیادہ دیر پنپ نہیں سکتیں لیکن اگر قانون کو ہاتھ میں لے کر اس مسئلے کو خود حل کریں گے تو جو حاصل وصول ہے وہ بھی جائے گا۔اس واقعے کے بعد مقامی چرچ کے پادری، دیگر مذاہب کے سرکردہ لوگ اور سول سوسائٹی کے لوگوں نے یکجہتی کے اظہار کے لئے ٓاج جمعہ کی نماز کے دوران برستی بارش میں مسجد کے باہر حلقہ بنایا اور مسلمانوں کو اپنی حمایت کا یقین دلوایا۔ دوستوں سے درخواست ہے کہ اگر مناسب لگے تو شیئر کر دیجیے گا تاکہ واقعہ کے اصل احوال لوگوں تک پہنچ سکیں۔ جزاک اللہ۔
 

جاسم محمد

محفلین
نارویجنز بھی ٓارنے تھومیر کی تقاریر کو ریجیکٹ کرتے ہیں اور اس کی یہاں کوئی سنائی نہیں ہے۔ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ نناوے فیصد ٓابادی اس مسئلے پر مسلمانوں کے ساتھ ہے، لیکن یہ سب ملیا میٹ ہو سکتا ہے اگر ہم یہاں کے قانون کو فولو نہ کریں، یہ یہاں کا قانون ہی ہے جس نے ہمیں بھرپور مذہبی ٓازادی دی ہوئی ہے اور ہم بلا خوف اپنی مذہبی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں۔ اس اندہناک واقعے کے بعد پولیس، چرچ، انتظامیہ اور سیاست دان بھی اس مسئلہ پر مسلمانوں کے ساتھ متفق ہیں۔ لیکن ان سب کی سپورٹ صرف قانون کےدائرے میں رہ کر ہی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اگر ہم جذبات میں ٓاکر جلاؤ، گھیراؤ، سڑکوں پر ٹائر جلانے، قتل کی دھمکیاں اور دیگر جذباتی نعروں سے پرہیز کریں اور حکمت اور دانش کے ساتھ اس مسئلے کو حل کی طرف لے کر جائیں تو قانون اتنا طاقتور ہے اور معاشرہ اتنا باشعور ہے کہ ایسی باتیں یہاں زیادہ دیر پنپ نہیں سکتیں لیکن اگر قانون کو ہاتھ میں لے کر اس مسئلے کو خود حل کریں گے تو جو حاصل وصول ہے وہ بھی جائے گا۔
اب سمجھ میں آئی کہ یہ الیاس کوئی ہیرو شیرو نہیں ہے۔ بلکہ قانون کا مجرم ہے۔
EJ-h-Fr6-XYAUGby8.jpg
 

زیک

مسافر
اتنے تو وہاں لوگ نہیں تھے جتنے یہاں صفحے کالے ہو گئے ہیں۔

ویسے یورپی دائیں بازو کے انتہا پسندوں اور پاکستانی مسلمانوں میں کوئی فرق نہیں۔
 

جاسم محمد

محفلین
پاکستان تو مکمل طور پر فار رائٹ ہے
ایک فار رائٹ ملک کا دوسرے ملک کے فار رائٹ کے خلاف احتجاج :)

قرآن پاک کی بے حرمتی پر ناروے کے سفیر کی دفترخارجہ طلبی

ویب ڈیسک ہفتہ 23 نومبر 2019

1892264-forignofficepakistanexpresspk_-1574518585-578-640x480.jpg

اظہار رائے کی آزادی کے نام پر ایسے واقعات ناقابل برداشت ہیں، ترجمان (فوٹو: فائل)


اسلام آباد: ناروے کے سفیر کو دفترخارجہ طلب کرکے قرآن پاک کی بےحرمتی پر حکومت اورعوام کی شدید تشویش سے آگاہ کیا گیا۔

دفترخارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ناروے کے سفیر کو دفترخارجہ طلب کرکے ناروے میں قرآن پاک کی بے حرمتی پرحکومت اورعوام کی شدید تشویش سے آگاہ کیا گیا اور پاکستان کی جانب سے واقعے کی شدید مذمت کی گئی۔

ناروے کے سفیر سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی حکومت کو پاکستانی حکومت اور عوام کی تشویش سے آگاہ کرے۔

ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ ناروے کے سفیر سے کہا گیا ہے کہ واقعے سے دنیا بھر کے سوا ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی، اظہار رائے کی آزادی کے نام پر ایسے واقعات ناقابل برداشت ہیں، ناروے حکومت واقعہ کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔
 

جاسم محمد

محفلین
کم از کم مسلمان اس طرح کے 'خون خرابے'سے نہیں گھبراتے ہیں۔ :) اسی لیے عرض کی تھی کہ ناروے کے 'مقامیوں' کو بھی کسی نہ کسی طور اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ مسلم خوب جانتے ہیں کہ کتاب اور الکتاب میں کیا فرق ہے۔ بس یہی فرق اسی بہانے ناروے والوں کو بھی سمجھ میں آ جائے گا یا آ جانا چاہیے۔ ناروے کی پارلیمان کو تنقید اور تضحیک کا فرق معلوم ہو گا۔ ہمیں امید ہے کہ کچھ نہ کچھ بہتری ضرور دیکھنے کو ملے گی اور ایسے واقعات اب پیش نہ آئیں گے۔
اس حوالہ سے ایک اچھی خبر ہے کہ ناروے کے وزیر قانون نے پولیس کو اینٹی اسلام مظاہروں میں قرآن پاک جلانے سے روکنے کیلئے جو ہدایات جاری کر رکھی تھیں، ان پر تنقید کے باوجود اس پالیسی کا دفاع کیا ہے۔
وزیر قانون کا کہنا ہے کہ گو کہ مظاہروں میں کچھ بھی جلانا خلاف قانون نہیں لیکن اگر ایسا کرنے سے ردعمل میں قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو پولیس کا کام ایسے افعال کو روکنا ہے۔ یعنی حق و باطل کی جنگ جاری ہے۔ :)
Justisministeren forsvarer omstridt ordre mot å brenne Koranen
 

سید ذیشان

محفلین
اس حوالہ سے ایک اچھی خبر ہے کہ ناروے کے وزیر قانون نے پولیس کو اینٹی اسلام مظاہروں میں قرآن پاک جلانے سے روکنے کیلئے جو ہدایات جاری کر رکھی تھیں، ان پر تنقید کے باوجود اس پالیسی کا دفاع کیا ہے۔
وزیر قانون کا کہنا ہے کہ گو کہ مظاہروں میں کچھ بھی جلانا خلاف قانون نہیں لیکن اگر ایسا کرنے سے ردعمل میں قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو پولیس کا کام ایسے افعال کو روکنا ہے۔ یعنی حق و باطل کی جنگ جاری ہے۔ :)
Justisministeren forsvarer omstridt ordre mot å brenne Koranen
یعنی نقص امن کا قانون لاگو کیا جائے گا۔
 

فرقان احمد

محفلین
اس حوالہ سے ایک اچھی خبر ہے کہ ناروے کے وزیر قانون نے پولیس کو اینٹی اسلام مظاہروں میں قرآن پاک جلانے سے روکنے کیلئے جو ہدایات جاری کر رکھی تھیں، ان پر تنقید کے باوجود اس پالیسی کا دفاع کیا ہے۔
وزیر قانون کا کہنا ہے کہ گو کہ مظاہروں میں کچھ بھی جلانا خلاف قانون نہیں لیکن اگر ایسا کرنے سے ردعمل میں قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو پولیس کا کام ایسے افعال کو روکنا ہے۔ یعنی حق و باطل کی جنگ جاری ہے۔ :)
Justisministeren forsvarer omstridt ordre mot å brenne Koranen
انتہائی متوقع ردعمل!
 
Top