انور شعور نادم ہیں اپنی بُھول پہ ہم، بُھول جائیے۔ انور شعور

فرحت کیانی

لائبریرین
نادم ہیں اپنی بُھول پہ ہم ، بُھول جائیے
جو کچھ ہوا براہِ کرم ، بُھول جائیے

ہم نے سرور و لطف میں جو کچھ کہا سنا
سب جھوٹ تھا خدا کی قسم ، بُھول جائیے

تکلیف اور غم کا مداوا ہے ایک ہی
تکلیف بُھول جائیے، غم بُھول جائیے

پی لیجیے پیالہء سقراط بوند بوند
آبِ حیات ہے کہ یہ سم ، بُھول جائیے

ہونا بھی ایک خواب نہ ہونا بھی ایک خواب
کیا ہے وجود کیا ہے عدم ، بُھول جائیے

رکھیے اب اپنی عمر کی نقدی سنبھال کر
جو خرچ ہو گئی وہ رقم ، بُھول جائیے

آپ ایک بار آ گئے سو آ گئے شعور
باغِ جہاں میں باغِ ارم ، بُھول جائیے

انور شعور
 

زونی

محفلین
ہونا بھی ایک خواب نہ ہونا بھی ایک خواب
کیا ہے وجود کیا ہے عدم ، بُھول جائیے




بہت خوب! ہمیشہ کی طرح اچھا انتخاب ، بہت شکریہ فرحت۔:)
 

محمد وارث

لائبریرین
بہت خوبصورت غزل ہے، شکریہ فرحت شیئر کرنے کیلیئے!

ہم نے سرور و لطف میں جو کچھ کہا سنا
سب جھوٹ تھا خدا کی قسم ، بُھول جائیے

پی لیجیے پیالہء سقراط بوند بوند
آبِ حیات ہے کہ یہ سم ، بُھول جائیے

واہ واہ واہ، لا جواب
 

فرحت کیانی

لائبریرین
بہت خوبصورت غزل ہے، شکریہ فرحت شیئر کرنے کیلیئے!

ہم نے سرور و لطف میں جو کچھ کہا سنا
سب جھوٹ تھا خدا کی قسم ، بُھول جائیے

پی لیجیے پیالہء سقراط بوند بوند
آبِ حیات ہے کہ یہ سم ، بُھول جائیے

واہ واہ واہ، لا جواب

بہت شکریہ وارث :)
 
Top