میں اجنبی سہی - سید آلِ‌ احمد

نوید صادق

محفلین
قہر کا پل ہے یہ تو ہوگا

قہر کا پل ہے یہ تو ہوگا
دل بیکل ہے یہ تو ہوگا

کیا قربت تھی‘ کیا دُوری ہے
جہدِ خلل ہے یہ تو ہوگا

سکھ تھا آنکھ کا تپتا صحرا
دُکھ بادل ہے یہ تو ہوگا

سائیں سائیں کرتا گھر ہے
یا ہوٹل ہے یہ تو ہوگا

صبح مسافت‘ شام مسافت
خواب کا پھل ہے یہ تو ہوگا

پھول بدن ہے‘ آنکھیں شبنم
دُھوپ کا تھل ہے یہ تو ہوگا

’’جیسا کرو گے ویسا بھرو گے‘‘
ردِعمل ہے یہ تو ہوگا

لب نہ ہلے اور بات وہ سُن لے
صبر کا پھل ہے یہ تو ہوگا

سندرتا کی ایک جھلک کو
من پاگل ہے یہ تو ہوگا

کارِ جنوں میں بارِ خرد سے
بازو شل ہے یہ تو ہوگا

رسّی راکھ تو ہو گئی جل کر
لیکن بل ہے یہ تو ہوگا

من میں چاروں اور اندھیارا
تن مشعل ہے یہ تو ہوگا

صبح کا سورج تو نکلے گا
یہ تو اٹل ہے یہ تو ہوگا

اب تو احمد ایک اک مصرعہ
قوسِ غزل ہے یہ تو ہوگا
 

نوید صادق

محفلین
سامنے والے گھر میں بجلی رات گئے تک جلتی ہے

سامنے والے گھر میں بجلی رات گئے تک جلتی ہے
شاید مجھ سے اب تک پگلی آس لگائے بیٹھی ہے

میری کسک‘ یہ میری ٹیسیں‘ آپ کو کیوں محسوس ہوئیں؟
آپ کی آنکھوں میں یہ آنسو! دل تو میرا زخمی ہے

نفس نفس اک تازہ سرابِ منزل خواب ہے یہ دُنیا
نظر نظر قدموں سے خواہش سایہ بن کر لپٹی ہے

چپ مت سادھو‘ جھوٹ نہ بولو‘ اب تو اطمینان سے ہو
اب تو ہر دن سو جاتا ہے‘ اب تو ہر شب جاگتی ہے

دل ایسا معصوم پرندہ‘ اپنے پر پھیلائے کیا؟
اندیشوں کی کالی بلی‘ گھات لگائے بیٹھی ہے

آپ تو بس اک خاص ادا سے ’’اپنا‘‘ کہہ کر بچھڑ گئے
اب تک اُس اک بات کی خوشبو دوشِ ہوا پر پھیلی ہے

کیسے اپنا دن گزرا‘ شب کیسے کٹی‘ کیا پوچھتے ہو
دن بھر شہر کی خاک اُڑائی‘ رات آنکھوں میں کاٹی ہے

آپ کو دیکھا‘ دل نہ مانا‘ ٹھہر گیا‘ ناراض نہ ہوں
اتنی اچھی صورت اکثر‘ ہوش اُڑا ہی دیتی ہے

میرے دیس کا چڑھتا سورج کیسے گرہن میں آیا ہے
اے فرزانو! کچھ تو بتاؤ‘ دُنیا تماشہ دیکھتی ہے

آپ کی تخلیقات پڑھے اب ایک زمانہ بیت گیا
احمد صاحب! تازہ غزل کس الماری میں رکھی ہے
 

نوید صادق

محفلین
ہمارے گھر کے آنگن میں گھٹا کس روز آئے گی

ہمارے گھر کے آنگن میں گھٹا کس روز آئے گی
سکوتِ شامِ ویرانی بتا‘ کس روز آئے گی

بہت دن ہو گئے ہم پر کوئی پتھر نہیں آیا
شکستِ شیشۂ دل کی صدا کس روز آئے گی

دُکھوں کے جلتے سورج کی تمازت جان لیوا ہے
مرے حصے میں خوشیوں کی ردا کس روز آئے گی

مسلسل حبسِ قیدِ لب سے دم گھٹنے لگا اب تو
اسیرانِ قفس! تازہ ہوا کس روز آئے گی

مری پلکوں پہ ظرفِ ربِ مفلس جھلملاتا ہے
مری ماں جب یہ کہتی ہے‘ دوا کس روز آئے گی

کہاں تک شانۂ ہستی یہ بارِ غم اُٹھائے گا
تری دنیا میں جینے کی ادا کس روز آئے گی

بدل دیتی ہے جو احمد مقدر کی لکیریں تک
مرے ہونٹوں پہ دل سے وہ دُعا کس روز آئے گی
 

نوید صادق

محفلین
کل رات اُس کا چہرہ مجھے زرد سا لگا

کل رات اُس کا چہرہ مجھے زرد سا لگا
اک آگ کا الاؤ تھا جو سرد سا لگا

مجھ سے قدم ملاتا ہوا دھوپ میں چلا
سایہ بھی آشنائے رہِ درد سا لگا

اُس کے بھی پاؤں میں کوئی چکر ہے ان دنوں
وہ بھی کچھ اپنی طرح جہاں گرد سا لگا

کس دشتِ غم کی خاک اُسے چھاننی پڑی
کیوں چودہویں کا چاند مجھے زرد سا لگا

دیتے رہے ہیں دُکھ جو مجھے پیار کے عوض
وہ بھی اُسی قبیل کا اک فرد سا لگا

وہ شخص جس نے بارِ مسائل اُٹھا لیا
اس شہر بے سکوں میں جوانمرد سا لگا

میں بھی بہت اُداس تھا احمد گذشتہ روز
اُس کا مزاج بھی مجھے کچھ سرد سا لگا
 

نوید صادق

محفلین
غمِ حالات سہیں یا نہ سہیں سوچ میں ہیں

غمِ حالات سہیں یا نہ سہیں سوچ میں ہیں
ہم دُکھی لوگ کسے اپنا کہیں سوچ میں ہیں

جسم اور روح کے مابین کسک کس کی ہے
ذہن ذی فہم کی کتنی ہی تہیں سوچ میں ہیں

کوئی آواز‘ نہ پتھر‘ نہ تبسم‘ نہ خلوص
اب ترے شہر میں ہم کیسے رہیں سوچ میں ہیں

کیسا اخلاص کہ ہیں مصلحت اندیش تمام
ہم بھی کیوں ان کی طرح خوش نہ رہیں‘ سوچ میں ہیں

شہر بے خواب میں کب تک تن تنہا احمد
برگِ آوارہ کی مانند رہیں‘ سوچ میں ہیں
 

نوید صادق

محفلین
ہوا کے ساتھ درختوں کے رابطے تھے بہت

ہوا کے ساتھ درختوں کے رابطے تھے بہت
تھا عکسِ ذات فقط ایک‘ آئینے تھے بہت

تمہارے بعد تو سنسان ہو گیا ہے شہر
عجیب دن تھے وہ‘ تم تھے تو رتجگے تھے بہت

ہمیں نے ترکِ مراسم کی راہ اپنا لی
یہ اور بات تعلق کے راستے تھے بہت

سحر سے مانگ رہے ہیں وہ عکس خواب و خیال
چراغِ شوق جلا کر جو سوچتے تھے بہت

چھلک اُٹھے ہیں مرے صبر کے تموج سے
رفاقتوں کے جو دریا اُتر گئے تھے بہت

تھا جلوہ ریز مری خلوتوں میں اور کوئی
یہ جب کی بات ہے‘ جب تم نے خط لکھے تھے بہت

وہ تم نہیں تھے مگر ہوبہو وہ تم سا تھا
اس اعتبار پہ کل رات بھی ہنسے تھے بہت

لبوں پہ حرفِ صدا برف ہو گئے احمد
طلوعِ مہر سے پہلے تو حوصلے تھے بہت
 

نوید صادق

محفلین
جرمِ اخلاص کے شعلوں کو ہوا دیتی ہے

جرمِ اخلاص کے شعلوں کو ہوا دیتی ہے
جب بھی آتی ہے تری یاد رُلا دیتی ہے

بیکراں وقت کی اس کوکھ میں پلتی ہوئی سوچ
اک نئی صبح کی آمد کا پتہ دیتی ہے

سوچتا ہوں کہ کہیں تیرے تعاقب میں نہ ہو
وہ اذیت جو مری نیند اُڑا دیتی ہے

تیری تصویر مرے گھر میں جو آویزاں ہے
خواب کو وہم کی تعبیر دکھا دیتی ہے

غرقِ گردابِ مصائب مجھے کرنے والے!
موجۂ کاہشِ جاں تجھ کو دُعا دیتی ہے

ذہن آسیب زدہ سوچ کا پتھر ہے تو کیا
خواہشِ زیست تو کہسار ہلا دیتی ہے

اتنا لوٹا ہے گھنی چھاؤں نے اک عمر مجھے
اب تو سائے کی بشارت بھی ڈرا دیتی ہے

کوئی پتھر ہو‘ خدا ہو کہ فرشتہ احمد
اپنی صحبت اُسے انسان بنا دیتی ہے
 

نوید صادق

محفلین
اُمید کے صحرا میں جو برسوں سے کھڑا ہے

اُمید کے صحرا میں جو برسوں سے کھڑا ہے
حالات کی بے رحم ہواؤں سے لڑا ہے

رُسوائی سے بھاگے تو یہ محسوس ہوا ہے
تنہائی کی منزل کا سفر کتنا کڑا ہے

ہیرے کی کنی ہو تو تبسم بھی بہت ہے
لو سامنے اک کانچ کا مینار کھڑا ہے

یوں ذہن پہ برسا ہے تری یاد کا بادل
جیسے کہ کوئی کوہِ الم ٹوٹ پڑا ہے

گزرے ہوئے لمحے کبھی واپس نہیں آتے
کیوں صورتِ دیوار اندھیرے میں کھڑا ہے

اک اختر مبہم ہوں بظاہر میں اُفق پر
کہتے ہیں مرا نام مرے قد سے بڑا ہے

اک میں ہی اکیلا نہیں اس دشتِ خلش میں
جلتا ہوا سورج بھی مرے سر پہ کھڑا ہے

ناقدریٔ جذبات کے اس عہد میں احمد
آ جائے اگر راس تو پتھر بھی بڑا ہے
 

نوید صادق

محفلین
دشتِ غم میں کھلا پھول جذبات کا

دشتِ غم میں کھلا پھول جذبات کا
کتنا سندر تھا رنگِ حنا ہات کا

جس جگہ ہر خوشی غم کا عنواں بنے
کون مہماں ہو ایسے محلات کا

بھولی بسری ہوئی یاد کے بادلو
مینہ نہ برسے گا اب پھر ملاقات کا

بعدِ ترکِ تمنا بھی میلے رہے
شہر سونا ہوا کب خیالات کا

زندگی کو نگل جائے گی تیرگی
سر پہ سورج نہ آئے گا حالات کا

ہجر کی زُلف بکھرے تو احمد کبھی
ختم ہوتا نہیں سلسلہ رات کا
 

نوید صادق

محفلین
آج بھی دھوپ میں ہوں ٹھہرا ہوا

آج بھی دھوپ میں ہوں ٹھہرا ہوا
ابر کا انتظار کتنا تھا

اک الاؤ تھا رُوٹھنا اس کا
مسکراتی تو پھول کھل جاتا

دل کے در پر یہ کس نے دستک دی
گونج اُٹھا ہے گھر کا سناٹا

تیری قربت مری ضرورت تھی
یوں تو تو نے بھی خواب دیکھا تھا

دو قدم اور ساتھ دے لیتے
حوصلہ آپ کا بھی کم نکلا

کون صحرا میں دے تجھے آواز
کون کھولے طلب کا دروازہ

آؤ قانون کی کتاب پڑھیں
اب صحافت میں کچھ نہیں رکھا

میرے حصے میں غم کی دوپہریں
تیری تقدیر میں گھنا سایہ

آئنے میں تریڑ کیوں آتی
تو کوئی پھول تھا نہ پتھر تھا

خواب سا ہو گیا ہے اب اس کا
منہ چھپا کر اِدھر اُدھر پھرنا

انگلیوں میں عجب حرارت تھی
جسم انگارہ سا دہک اُٹھتا

تھی مخالف ہوائے شہر بہت
قربتوں کا چراغ کیا جلتا

تو تو دھڑکن تھا میرے سینے کی
تو بھی حاکم ہی وقت کا نکلا

تیری آنکھوں میں ڈوب جانے کو
کون سے روز دل نہیں کہتا

کتنا مشکل ہے ان دنوں احمد
شہر میں دشت کی طرح رہنا
 

نوید صادق

محفلین
بہشتِ دل میں خوابیدہ پڑی ہے

بہشتِ دل میں خوابیدہ پڑی ہے
وہ اک حسرت جو میری زندگی ہے

بہت خوش ہوں میں فن کی سرزمیں پر
مری نیکی بدوں نے لوٹ لی ہے

دریچے کھول دیتا ہوں طلب کے
مجھے جب بھی شرارت سوجھتی ہے

سیاست اب کہاں زنجیر ہوگی
یہ کشتی اب کنارے لگ رہی ہے

بہت نامطمئن ہے دل کی دھڑکن
کتابِ شوق تسکیں سے بھری ہے

مہینوں بعد دیکھا ہے تبسم
بہت دن میں غزل تازہ کہی ہے

بدن اب تک تر و تازہ ہے لیکن
سفر کی دھول آنکھوں میں جمی ہے

حکومت اک سخی کے ہاتھ میں ہے
غریب شہر کی حالت وہی ہے

لگا ہے جب بھی کوئی زخم تازہ
مرے فن کو توانائی ملی ہے

بہارِ نو کے دروازے نہ کھولو
خزاں سے عمر بھر کی دوستی ہے

مرے دل پر تو کوہِ غم گرا ہے
تمہاری آنکھ کیوں بھیگی ہوئی ہے

تجھے بھی نیند نے دھوکا دیا ہے
تھکن تیری بھی پلکوں پر جمی ہے

وہ کب کی جا چکی ہے اور دل میں
ابھی تک یاد کی کھڑکی کھلی ہے

جسے ہم سائباں سمجھے ہوئے تھے
وہی دیوار سر پر آ گری ہے

میں شہر دل میں اب تنہا ہوں احمد
تعلق کی بصارت چھن چکی ہے
 

نوید صادق

محفلین
خزاں میں غم ذرا کچھ کم کیا کر

خزاں میں غم ذرا کچھ کم کیا کر
بہاروں میں بھی آنکھیں نم کیا کر

دلوں میں قید کر رکھا ہے جن کو
وہ باتیں بھی کبھی باہم کیا کر

تمنا ہے کہ زہری چپ کے گیسو
لبوں کے دوش پر برہم کیا کر

ہر آنگن میں سحر کب بولتی ہے
سکوتِ شام کا دُکھ کم کیا کر

تعلق خواب ہے قدرت نہیں ہے
شکستِ دل کا مت ماتم کیا کر

کہیں بہتر ہے جابر سے بغاوت
سرِ تسلیم یوں نہ خم کیا کر

حرارت ڈھونڈ مت مہتابِ جاں میں
لحد پر دن کی اب ماتم کیا کر

زمانہ نفرتیں بھی بانٹتا ہے
زمانے سے محبت کم کیا کر

کبھی دل کو سلگتی دوپہر کر
لہو کی لَو کبھی مدھم کیا کر

معافی دے دیا کر دوستوں کو
تبسم زیر لب پیہم کیا کر
 

نوید صادق

محفلین
دھوپ اور چھاؤں کا کربِ ذات لکھتا تھا

دھوپ اور چھاؤں کا کربِ ذات لکھتا تھا
دیدہ ور تھا دوری کو اختلاط لکھتا تھا

زخم زخم گنتا تھا روشنی میں جگنو کی
حرف حرف پلکوں پر سچی بات لکھتا تھا

میں بھی ان خلاؤں میں ایک لحظہ پہلے تک
خواب کا مسافر تھا‘ خواہشات لکھتا تھا

صبحِ جاں کی شبنم ہو‘ دُھوپ ہو بدن کی تم
سچ بتاؤ یہ جملے کس کا ہات لکھتا تھا

برگِ زرد ہونے تک میں ہوا کی تختی پر
منتظر نگاہوں سے التفات لکھتا تھا

پوچھتے ہیں بام و در‘ کون‘ شہر ناپرساں!
آنے والی ہر رُت کو بے ثبات لکھتا تھا

خوب آدمی تھا وہ شہر کی اُداسی پر
خامۂ تبسم سے دن کو رات لکھتا تھا

کتنا اُنس تھا اُس کو میری ذات سے احمد
جو بھی خط وہ لکھتا تھا ’’دل نشاط‘‘ لکھتا تھا
 

نوید صادق

محفلین
اے رسم و راہِ شہر کے محتاط ظرف رنگ

اے رسم و راہِ شہر کے محتاط ظرف رنگ
ٹھوکر بھی کھا کے آیا نہ جینے کا ہم کو ڈھنگ

آتی نہیں ہے سطحِ یقیں پر وفا کی لہر
رہتی ہے صبح و شام مزاجوں میں سرد جنگ

ہر صبح دُکھ سے چور ملا زخم زخم جسم
ہر شب تھرک تھرک گیا آہٹ پہ انگ انگ

تھا جس سے میرے سچ کے تحمل کا ربطِ خاص
اترا اسی کے غم کا مری روح میں خدنگ

ناآشنائے لذتِ لہجہ تھے سب ہی لوگ
کیا کیا بساطِ لب پہ بکھیری نہ قوسِ رنگ

پیشِ نظر ہے اب بھی کوئی پیکر لطیف
اب بھی ہے دل میں کتنی ہی یادوں سے جلترنگ

میری وجہ سے تو بھی ہوا شہر میں خراب
تیرے سبب ہے مجھ پہ بھی ہر رہگذار تنگ

کچھ تو بتا اے خواہشِ ایذا پسند دل!
کب تک رہے تعاقبِ حاصل میں ہر اُمنگ

سوچوں تو کوئی حلِ مسائل نہ مل سکے
ہے ذہن کی تہوں میں حوادث سے اتنا زنگ

کس نے کہا تھا کھیل رچاؤ خلا میں تم
کیوں ہاتھ مل رہے ہو اگر کٹ گئی پتنگ

ہے منفرد مزاجِ معانی کی تمکنت
لفظوں کے پیرہن میں ہے میری انا کا رنگ

احمد‘ لہو لہو ہے مرا پیکر نفس
دل پر ہیں داغِ رنج‘ بدن پر ہیں زخمِ سنگ
 

نوید صادق

محفلین
حادثوں میں رہتا ہے چہرہ لالہ گوں اپنا

حادثوں میں رہتا ہے چہرہ لالہ گوں اپنا
حوصلے کا آئینہ ہے دلِ زبوں اپنا

تیرا دھیان بھی جیسے کعبۂ تقدس ہو
تیرے بعد بھی رکھا ہم نے سرنگوں اپنا

رخشِ وصل کی باگیں دستِ شوق کیا تھامے
فصلِ انبساط آگیں حال ہے زبوں اپنا

فاصلوں کی دوپہریں رنگ رُخ اُڑاتی ہیں
خون خشک کرتا ہے دور رہ کے کیوں اپنا

عقل بیٹھ جاتی ہے تھک کے جب دوراہے پر
کام آ ہی جاتا ہے جذبۂ جنوں اپنا

تجھ پہ بار کیوں گزرا میری چپ کا سناٹا
تو جو خود سے مخلص ہے میں نہ ساتھ دوں اپنا

ذہن غم کی راہوں میں راستہ سجھاتا ہے
ہر نفس ’’وفا دشمن‘‘ پاسبان ہوں اپنا

بے سکون سچائی‘ جھوٹ کی علامت ہے
معتدل ہی رہتا ہے قلزم دروں اپنا

ترکِ ربط باہم پر یہ تعلقِ خاطر
رات وہ فسردہ تھا‘ دُکھ ہوا فزوں اپنا

تیغ بادِ بدخوئی ظرف سے پشیماں ہے
ضبطِ غم کے مقتل میں کر رہا ہوں خوں اپنا

مجھ کو اس کی مٹی بھی زندگی سے پیاری ہے
خوفِ قہر رُسوائی! شہر چھوڑ دوں اپنا

دشتِ روح کی دلدل ہے بدن کی تاریکی
اے لہو کی خوش فہمی! کیا سراغ دوں اپنا

رنگ و بوئے گلزارِ صبح کی ضمانت ہوں
کشتِ ذہن تازہ کو دے رہا ہوں خوں اپنا

بندشِ لبِ نغمہ فن کی سرد چھاؤں میں
مصلحت کی چھینی سے بت تراش لوں اپنا

کتنی خاک چھانی ہے پھر بتاؤں گا احمد
پہلے دُکھ کے صحرا میں دن گزار لوں اپنا
 

نوید صادق

محفلین
یاد آؤں گا اُسے‘ آ کے منائے گا مجھے

یاد آؤں گا اُسے‘ آ کے منائے گا مجھے
اور پھر ترکِ تعلق سے ڈرائے گا مجھے

آپ مسمار کرے گا وہ گھروندے اپنے
اور پھر خواب سہانے بھی دکھائے گا مجھے

مجھ کو سورج کی تمازت میں کرے گا تحلیل
اور مٹی سے کئی بار اُگائے گا مجھے

اپنی خوشبو سے وہ مانگے گا حیا کی چادر
زیب قرطاسِ بدن جب بھی بنائے گا مجھے

ربِ ایقان و عطا! عمر کے اس موڑ پہ کیا
راستے کرب کے ہموار دکھائے گا مجھے

میں کڑی دھوپ کا سایہ ہوں کڑے کوس کا ساتھ
بھولنا چاہے گا وہ‘ بھول نہ پائے گا مجھے

میری شہہ رگ پہ تمسخر کی چھری رکھے گا
گاہے پلکوں پہ تقدس سے سجائے گا مجھے

آنکھ لگ جائے گی جب ہجر کے انگاروں پر
نیند میں آ کے دبے پاؤں جگائے گا مجھے

تو بھی زنجیر پہن لے گا انا کی اک دن
میری غزلیں مرے لہجے میں سنائے گا مجھے

میں تو ہر بار مراسم کی بنا رکھتا ہوں
سوچتا ہوں کہ کبھی تو بھی منائے گا مجھے

جن سے ملتا ہو سراغِ رہِ منزل احمد
وہ لکیریں مرے ہاتھوں پہ دکھائے گا مجھے
 

نوید صادق

محفلین
زرد جذبے ہوں تو کب نشوونما ملتی ہے

زرد جذبے ہوں تو کب نشوونما ملتی ہے
فن کو تہذیب کی بارش سے جلا ملتی ہے

سر میں سودا ہے تو چاہت کے سفرپر نکلیں
کرب کی دھوپ طلب سے بھی سوا ملتی ہے

کون سی سمت میں ہجرت کا ارادہ باندھیں
کوئی بتلائے کہاں تازہ ہوا ملتی ہے

چاند چہرے پہ جواں قوسِ قزح کی صورت
تیری زُلفوں سے گھٹاؤں کی ادا ملتی ہے

ہم تو پیدا ہی اذیت کے لیے ہوتے ہیں
ہم فقیروں سے تو دُکھ میں بھی دُعا ملتی ہے

کتنا دُشوار ہے اب منزلِ جاناں کا سفر
خواہش قربِ بدن آبلہ پا ملتی ہے

بے نمو شاخوں سے پتوں کو شکایت کیا ہو
اب تو پیڑوں کو بھی مشکل سے غذا ملتی ہے

اور بڑھنے دو گھٹن خوف نہ کھاؤ اس سے
شدتِ حبس سے تحریکِ بقا ملتی ہے

کبھی فرصت کی کوئی شام سحر تک دے دے
یوں جو ملتی ہے سرِ راہے تو کیا ملتی ہے

سر سے چادر نہ اُتارو مرے اچھے فنکار!
برہنہ حرف کو معنی کی ردا ملتی ہے

تیرا انصاف عجب ہے مرے جبار و غنی!
جرم ہم کرتے ہیں بچوں کو سزا ملتی ہے

جب سے تنہائی کو اوڑھا ہے بدن پر احمد
تمکنت لہجے میں پہلے سے سوا ملتی ہے
 

نوید صادق

محفلین
تو بے سبب ہے مری ذات سے خفا‘ کچھ سوچ

تو بے سبب ہے مری ذات سے خفا‘ کچھ سوچ
ہے اس خرابے میں دل کس کا آئنہ‘ کچھ سوچ

دماغ پر ہے مسلّط سکوت سا کچھ‘ سوچ
ہے شام ہی سے یہ دل کیوں بجھا بجھا‘ کچھ سوچ

خفا نہ ہو کہ کڑی دوپہر میں آیا ہوں
میں تنہا کیسے یہ لمحے گزارتا‘ کچھ سوچ

تھا جس کی لو سے منور یہ خواہشوں کا مکاں
وہ اک چراغ بھی تو نے بجھا دیا‘ کچھ سوچ

یہ اجتناب‘ یہ خط فاصلے کا کیسے کھنچا
وہ جذبہ ختم بھلا کیسے ہو گیا‘ کچھ سوچ

تو جس کے پیار کو اپنی اَنا پہ تیاگ آیا
وہ رات تجھ سے زیادہ اُداس تھا‘ کچھ سوچ

بس اک نحیف سا جھونکا‘ بہارِ عہد سکوں!
ہرے درختوں کی شاخیں جھکا گیا‘ کچھ سوچ

تھا چاروں اور کڑی رنجشوں کی دھوپ کا دشت
میں کس کے پیار کی چھاؤں میں بیٹھتا‘ کچھ سوچ

وہ ماں کہ جس نے تلاطم سپرد مجھ کو کیا
میں اس کے خواب سے کیسے گلے ملا‘ کچھ سوچ

وہ باغ جس کی نمو میں رچا ہے میرا لہو
میں اپنے ہاتھوں سے کیسے اُجاڑتا‘ کچھ سوچ

نجانے کتنی ہواؤں کا زخم خوردہ ہے
وہ ایک پتا زمیں پر جو آگرا‘ کچھ سوچ

دروغ گوئی حقیقت کو ڈھانپ لیتی ہے
خلوص دل سے بیاں کر وہ واقعہ‘ کچھ سوچ

یہ کس زمین پہ رکھی تھی شہر کی بنیاد
دُکھوں کا شور فصیلوں میں رچ گیا‘ کچھ سوچ

وہ آدمی کہ دلاسہ دیا تھا تو نے جسے
فسردہ ریت پہ خوابوں کی سو گیا‘ کچھ سوچ

مرے مکان کے باہر بھی تیرگی تھی محیط
میں کیسے تجھ کو دریچے سے جھانکتا‘ کچھ سوچ

یہ اور بات کہ تھا پرکشش مگر احمد
وہ اجنبی تھا‘ اُسے کیسے روکتا‘ کچھ سوچ
 

نوید صادق

محفلین
ہم اہلِ دل نے نہ دیکھے بسنت کے لمحے

ہم اہلِ دل نے نہ دیکھے بسنت کے لمحے
کھلے نہ پھول کبھی خواب میں بھی سرسوں کے

عجیب مرد تھے زنجیر کرب پہنے رہے
کنارِ شوق کسی شاخِ گل کو چھو لیتے

اُفق پہ صبح کا سورج طلوع ہوتا ہے
ستارے ڈوب چکے‘ مشعلیں بجھا دیجے

مرے خدا! مری دھرتی کی آبرو رکھ لے
ترس گئی ہیں نئی کونپلیں نمو کے لیے

مری وفا کے گھروندے کو توڑنے والے!
خدا تجھے بھی اذیت سے ہمکنار کرے

بجھی نہ پیاس کبھی تجربوں کے صحرا میں
تمام عمر سفر میں رہے ہیں سپنوں کے

یہ اور بات کہ سروِ سہی تھے شہر میں ہم
جو پستہ قد تھے وہی لوگ سربلند ہوئے

ترے لبوں پہ ترے دل کا آئنہ دیکھا
تعلقات کسی طرح تو برہنہ ہوئے

گداز جسم کی قربت میں اتنی لذت تھی
ہم احترام کے اسباق سارے بھول گئے

وہی درخت گرے منہ کے بل زمینوں پر
جنہیں غرور نے پاگل کیا تھا موسم کے

میں آئنے میں خدوخال کس کے پہچانوں
گئی رُتوں کے‘ رواں عہد کے یا فردا کے

بڑے خلوص سے جس ذہن کو سنوارا تھا
وہی صلیب کی زینت بنا رہا ہے مجھے

سکوت سے تو پرندے بھی ڈرنے لگتے ہیں
زمیں کے حبس کوئی انقلابِ تازہ دے

گزر گئے ہیں برس صبح کی صلیبوں پر
جو ہو سکے تو شب زندگی عطا کر دے

تمام رات درِ اشتیاق وا رکھا
کٹی نہ شب تو ستاروں سے بات کرتے رہے
 

نوید صادق

محفلین
اگر میں ڈوب گیا تھا تو پھر سے اُبھرا کیوں

اگر میں ڈوب گیا تھا تو پھر سے اُبھرا کیوں
بتا اے موجۂ گرداب! یہ تماشا کیوں

مجھے پتہ ہے ترے دل کی دھڑکنوں میں ہوں
میں ورنہ دُکھ کی کڑی دوپہر میں جلتا کیوں

رہِ طلب میں مسلسل تھکن سے خائف ہوں
سکوں جو ہاتھ نہ آئے سفر ہو لمبا کیوں

یہ امتحاں تو نمودِ وفا کا جوہر تھا
اُسے یقین جو ہوتا مجھے رُلاتا کیوں

یہ پائے زیست میں زنجیر بے یقینی کیا
رکھا ہے ہم کو لبِ جو بھی اتنا تشنہ کیوں

ابھی تو اگلے ہی زخموں کے پھول تازہ ہیں
بدن کو چھید رہا ہے خیالِ فردا کیوں

خجل تھا کتنا مرے ضبط کے طمانچے پر
میں اپنے مدمقابل سے رات جیتا کیوں

نہ کوئی رنگ‘ نہ سلوٹ‘ نہ کوئی حرفِ طلب
ورق ہے دیدہ و دل کا یہ اتنا سادہ کیوں

چھپاؤں کیسے‘ کروں کس طرح اسے تقسیم
دیا ہے درد کا اتنا بڑا خزانہ کیوں

یہ اور بات کوئی مجھ سے پرخلوص نہیں
مری طرف سے کسی کا بھی دل ہو میلا کیوں

جو تجھ سے پیار نہ ہوتا تو آبرو کی قسم
ہر آتے جاتے ہوئے شخص کو یوں تکتا کیوں

صبا کی پور سے نازک ہے اس کے ظرف کا پھول
دیا ہے سینے میں دل یہ بہ شکل شیشہ کیوں

کسے ہے فرصتِ یک لمحہ رُک کے دُکھ پوچھے
کھڑے ہو دُھوپ میں آزردہ دل یوں تنہا کیوں

وفا ناآشنا اتنا ہی تھا اگر احمد
میں سوچتا ہوں اسے میں نے خط لکھا تھاکیوں
 
Top