میرے پسندیدہ اشعار

تیشہ

محفلین
محبت کا اثر ہوگا، غلط فہمی میں مت رہنا
وہ بدلے گا چلن اپنا ،غلط فہمی میں مت رہنا

تسلی بھی اسے دینا،یہ ممکن ہے میں لوٹ آؤں
مگر یہ بھی اسے کہنا،غلطی فہمی میں مت رہنا

تمھارا تھا،تمھارا ہوں، تمھارا ہی رہوں گا میں
مرے بارے میں اس درجہ غلط فہمی میں مت رہنا

محبت کا بھرم ٹوٹا ہے اب چھپُ چُھپ کے روتے ہو
تمھیں میں نے کہا تھا ناں غلط فہمی میں مت رہنا

بچا لے گا تجھے صحرا کی تپتی دھوپ سے تیمور
کسی کی یاد کا سایا ،غلط فہمی میں مت رہنا ،
 

حجاب

محفلین
مجھے سارے رنج قبول ہیں اُسی ایک شخص کے پیار میں


مری زیست کے کسی موڈ پر جو مجھے ملا تھا بہار میں


وہی اک امید ہے آخری اسی ایک شمع سے روشنی


کوئی اور اس کے سوا نہیں‘ مری خواہشوں کے دیار میں


وہ یہ جانتے تھے کہ آسمانوں‘کے فیصلے ہیں کچھ اور ہی


سو ستارے دیکھ کے ہنس پڑے مجھے تیری بانہوں کے ہار میں


یہ تو صرف سوچ کا فرق ہے یہ تو صرف بخت کی بات ہے


کوئی فاصلہ تو نہیں ‘تری جیت میں مری ہار میں


ذرا دیکھ شہر کی رونقوں سے پرے بھی کوئی جہان ہے


کسی شام کوئی دیا جلا کسی دل جلے کے مزار میں


کسی چیز میں کوئی ذائقہ کوئی لطف باقی نہیں رہا


نہ تری طلب گداز میں نہ مرے ہنر کے وقار میں

؏؏؏؏؏؏؏؏؏؏؏؏؏؏؏؏؏؏؏؏؏؏؏؏؏؏؏؏؏؏​
 

سارہ خان

محفلین
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے
اندھیرے شام سے پہلے نگاہوں میں اترتے ہیں
چمکتی دھوپ کا منظر بہت تاریک لگتا ہے
گھنے پیڑوں کے سائے بھی
زمیں سے روٹھ جاتے ہیں
کہ صبحِ نو بہاراں بھی خزاں معلوم ہوتی ہے
کبھی ایسا بھی ہوتاہے
کہ حرف و صورت کے رشتے
زباں‌سے ٹوٹ جاتے ہیں
نہ سوچیں ساتھ دیتی ہیں
نہ بازو کام کرتے ہیں
رگ و پے میں لہو بھی منجمد محسوس ہوتا ہے
چراغِ جسم و جاں کی لو دھواں معلوم ہوتی ہے
مگر جب ایسا ہوتا ہے
تو آنکھوں کے جزیرے سیلِ غم میں ڈوب جاتے ہیں
شجر ہوتا ہے رستے میں نہ سائے کا نشاں کوئی
زمیں رہتی ہے قدموں میں نہ سر پر آسماں‌کوئی
شکستہ دل کے خانوں میں
بس اک احساس ہوتا ہے
یہ رشتے کیوں بکھرتے ہیں
جو اپنے لوگ ہوتے ہیں
وہ ہم سے کیوں بچھڑتے ہیں
_________________

 

گرو جی

محفلین
ایک غلط فہمی کا ذک کر رہی ہیں‌اور باقی پتہ نہیں‌
کس کس چیز کو لے کر رو رہے ہیں
 

تیشہ

محفلین
اور تو کوئی بس نہ چلے گا ہجر کے درد کے ماروں کا
صبح کا ہونا دوبھر کردیں، راستہ روک ستاروں کا

جھوٹے سکوںِ میں بھی اُٹھادیتے ہیں اکثر سچا مال
شکلیں دیکھ کر سودا کرناکام ہے ان بنجاروں کا

اپنی زبان سے کچھ نہ کہیں گے چُپ ہی رہیں گے عاشق لوگ
تم سے تو اتنا ہوسکتا ہے، پوچھو حال ان بنجاروں کا

ایک ذرا سی بات تھی جسکا چرچا پہنچا گلی گلی
ہم گمناموں نے پھر بھی احسان نہ مانا یاروں کا

درد کا کہنا چیخ ہی اُٹھو،دل کا کہنا وضع نبھاؤ
سب کچھ سہنا،چپ چپ رہنا کام ہے عزت داروں کا

انشاجی ،اب اجنبیوں میں چین سے باقی عمر کٹے
جنکی خاطر بستی چھوڑی نام نہ لو ان پیاروں کا ، ،،
 

تیشہ

محفلین
خوشبو کا اشارہ دیکھیں گے
ہم خواب تمھارا دیکھیں گے

اِک بار تمھیں دیکھا ہے مگر
حواہش ہے دوبارہ دیکھیں گے

ہم ڈوبتی کشتی میں بیٹھیے
آنکھوں سے کنارہ دیکھیں گے

آنکھوں کا بسیرا کرتے ہیں
ابرو کا اشارہ دیکھیں گے ، ۔ ۔۔
 

تیشہ

محفلین
اندھیری شب میں اُس کے اشاروں جیسے ہیں
وہ اُسکے نین چمکتے ستاروں جیسے ہیں

بچھڑ کے ہم سے بظاہر وہ مطمین ہے بہت
پیام اُسکے مگر بے قراروں جیسے ہیں

چلو کہ پار لگیں ڈوب کر محبت میں
کہ اس ندی کے بھنور بھی کناروں جیسے ہیں

لبوں پہ لفظ رُکے ہیں جو ضبط کے ہاتھوں
نہ روکتے تو یہی آبشاروں جیسے ہیں

کبھی جو حروف دم گفتگو کئے اُس نے
تمام حروف وہ ٹھنڈی پھواروں جیسے ہیں

قتیل آج بھی اسکا جسم ہے سونے جیسا
وہ جسکے بال بھی چاندی کے تاروں جیسے ہیں ،، ،
،
 

گرو جی

محفلین
مل کر جدا ہوئے تو نہ سویا کریں گے ہم
اک دوسرے کی یاد میں‌ رویا کریں گے ہم

آنسو برس برس کے ستایئں گے رات بھر
موتی پلک پلک میں‌ پرویا کریں گے ہم

میرا پسندیدہ شعر
گر دے گیا دغا پمیں‌ طوفان بھی قتیل
ساحل پے کشتیوں کو ڈبویا کریں گے ہم
 

تیشہ

محفلین
لگے نہ کیوں خود سے مجھکو پیارا، کبھی سمندر کبھی ستارہ
میری مسافت کا اشارہ،کبھی سمندر کبھی تارہ

تیری میری قربتوں کا موسم بکھر کے سمٹے ،سمٹ کے بکھرے
اسی لئے آنکھ میں اتارا، کبھی سمندر کبھی ستارہ

نئا نئا عشق کرنے والو،ہمیں سے اسکا زیاں بھی پوچھو
بساط ِہستی پہ ہم نے مارا کبھی سمندر کبھی کنارہ ،
 

حجاب

محفلین
بھری محفل میں تنہائی کا عالم ڈھونڈ لیتا ہوں


جہاں جاتا ہوں اپنے دل کا موسم ڈھونڈ لیتا ہوں


اکیلا خود کو جب محسوس کرتا ہوں کسی لمحے


کسی امید کا چہرہ کوئی غم ڈھونڈ لیتا ہوں


بہت حسیں نظر آتی ہیں جو آنکھیں سر محفل


میں ان آنکھوں کے پیچھے چشمِ پُرنم ڈھونڈ لیتا ہوں


گلے لگ کر کسی کے چاہتا ہوں جب کبھی رونا


شکستہ اپنے جیسا کوئی ہمدم ڈھونڈ لیتا ہوں


کیلنڈر سے نہیں مشروط میرے رات دن ساجد


میں جیسا چاہتا ہوں ویسا موسم ڈھونڈ لیتا ہوں۔
 

حجاب

محفلین
قرارِ جاں بھی تمھی، اضطرابِ جاں بھی تمھی

مرا یقیں بھی تمھی ہو، مِرا گماں بھی تمھی

تمھاری جان ہے نکہت، تمھارا جسم بہار

مِری غزل بھی تمھی، میری داستاں بھی تمھی

یہ کیا طِلسم ہے، دریا میں بن کے عکسِ قمر

رُکے ہوئے بھی تمھی ہو، رواں دواں بھی تمھی

خدا کا شکر، مرا راستہ معیّن ہے

کہ کارواں بھی تمھی، میرِ کارواں بھی تمھی

تمھی ہو جس سے ملی مجھ کو شانِ استغنا

کہ میرا غم بھی تمھی، غم کے رازداں بھی تمھی

نہاں ہو ذہن میں وجدان کا دُھواں بن کر

افق پہ منزلِ ادراک کا نشاں بھی تمھی

تمام حُسنِ عمل ہوں، تمام حُسنِ بیاں

کہ میرا دل بھی تمھی ہو، مرِی زباں بھی تمھی ۔
 

تیشہ

محفلین
جب آنکھ میں نیند اتر آئے
کب وصل کا خواب نہیں ہوتا
اور کب بیداری کے عالم میں
کب ہجر عذاب نہیں ہوتا
کب تیری دید کی خواہش میں
پاگل یہ نین نہیں ہوتے
کب ہم بے چین نہیں ہوتے ، ،
بس ہم سے بین نہیں ہوتے :confused:
بس ہم سے بین نہیں ہوتے ، ۔ ، ،
 

ہما

محفلین
کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں
غنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیں

پونچھو نہ عرق رخساروں سے رنگینئ حسن کو بڑھنے دو
سنتے ہیں‌کہ شبنم کے قطرے پھولوں کو نکھارا کرتے ہیں

جاتی ہوئی میت دیکھ کے بھی اللہ تم اٹھ کر آ نہ سکے
دو چار قدم تو دشمن بھی تکلیف گوارا کرتے ہیں

اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں

تاروں کی بہاروں میں‌بھی قمر تم افسردہ سے رہتے ہو
پھولوں کو تو دیکھو کانٹوں پہ ہنس ہنس کے گزارہ کرتے ہیں

(قمر جلالوی)
 

تیشہ

محفلین
ہجرکےزندانیوں کا دم َ لبوں تک آگیا
سلسلہ اظہار کا کن مرحلوں تک آگیا

کوئی کیا دیتا مجھے اچھے برےُ کی آگہی
میں خود اپنے جہل کی باریکیوں تک آگیا

جانے کس ترغیب نے گمراہ سورج کو کیا
جانے کس کی زلف کا سایہ شبوں تک آگیا

کل اڑتے پھرتے تھے اسکے ساتھ جگنو کی طرح
اس تعلق کا نتیجہ رت جگوں تک آگیا

ابتدا کی اس نے پہلے اپنے غم کے نام سے
دھیرے دھیرے پھر میرے دل کی تہوں تک آگیا

چپُ رہیں آنکھیں تو دل میں رتُ نے چٹکی سی بھری
ہاتھ موسم کا بہک کر دھڑکنوں تک آگیا



کاش ساجد ہم مزاج باد و باراں جانتے
دیکھتے ہی دیکھتے پانی سروں تک آگیا ،
 
Top