میرے پسندیدہ اشعار

سیما علی

لائبریرین
عشق کرنے کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں
جاگتی آنکھوں کے کچھ خواب ہوا کرتے ہیں

ہر کوئی رو کر دکھا دے یہ ضروری تو نہیں
خشک آنکھوں میں بھی سیلاب ہوا کرتے ہیں

کچھ فسانے ہیں جو چہرے پہ لکھے رہتے ہیں
کچھ پس دیدہ خواب ہو ا کرتے ہیں

کچھ تو جینے کی تمنا میں مرے جاتے ہیں
اور کچھ مرنے کو بےتاب ہوا کرتے ہیں

تیرنے والوں پے موقوف نہیں ہے خالد
ڈوبنے والے بھی پایاب ہوا کرتے ہیں
 

سیما علی

لائبریرین
دل بھی بجھا ہو شام کی پرچھائیاں بھی ہوں
مر جائیں ہم جو ایسے میں تنہائیاں بھی ہوں

آنکھوں کی سرخ لہر ہے موجِ سپردگی
یہ کیا ضروری ہے کہ اب انگڑائیاں بھی ہوں

ہر حسنِ سادہ لوح نہ دل میں اتر سکا
کچھ تو مزاجِ یار میں گہرائیاں بھی ہوں

دنیا کے تذکرے تو طبیعت ہی لے بجھے
بات اس کی ہو تو پھر سخن آرائیاں بھی ہوں

پہلے پہل کا عشق ابھی یاد ہے فراز
دل خود یہ چاہتا تھا کہ رسوائیاں بھی ہوں
 

سیما علی

لائبریرین
اک دھوکے میں دنیا نے مری رائے طلب کی
کہتے تھے کہ پتھر ہوں مگر بول پڑا میں
یہ دیکھ مرا ہاتھ مرے خون سے تر ہے
خوش ہو کہ ترا مدمقابل نہ رہا میں

عباس تابش
 

سیما علی

لائبریرین
دشتِ تنہائی میں، اے جانِ جہاں، لرزاں ہیں
تیری آواز کے سائے تیرے ہونٹوں کے سَراب
دشتِ تنہائی میں، دُوری کے خس و خاک تلے
کِھل رہے ہیں، تیرے پہلُو کے سمن اور گلاب
اُٹھ رہی ہے کہیں قُربت سے تیری سانس کی آنچ
اپنی خُوشبو میں سُلگتی ہوئی مدھم مدھم
دُور اُفق پار، چمکتی ہوئی قطرہ قطرہ
گِر رہی ہے تیری دلدار نظر کی شبنم
اس قدر پیار سے، اے جانِ جہاں، رکھا ہے
دل کے رُخسار پہ اس وقت تیری یاد نے ہات
یُوں گُماں ہوتا ہے، گرچہ ہے ابھی صبحِ فراق
ڈھل گیا ہِجر کا دن، آ بھی گئی وصل کی رات

فيض احمد فيضؔ
 

سیما علی

لائبریرین
کوئی گماں بھی نہیں، درمیاں گماں ہے یہی
اسی گماں کو بچا لوں، کہ درمیاں ہے یہی
کبھی کبھی جو نہ آؤ نظر، تو سہہ لیں گے
نظر سے دُور نہ ہونا، کہ امتحاں ہے یہی
میں آسماں کا عجب کچھ لحاظ رکھتا ہوں
جو اس زمین کو سہہ لے وہ آسماں ہے یہی
یہ ایک لمحہ، جو دریافت کر لیا میں نے
وصالِ جاں ہے یہی اور فراقِ جاں ہے یہی
تم ان میں سے ہو جو یاں فتح مند ٹھیرے ہیں
سنو! کہ وجۂ غمِ دل شکسگاں ہے یہی

جونؔ ایلیا
 
Top