میرے پسندیدہ اشعار

سیما علی

لائبریرین
کسی کو یہ کوئی کیسے بتائے
ہوائیں اور لہریں کب کسی کا حکم سنتی ہیں
ہوائیں حاکموں کی مٹھیوں میں ہتھکڑی میں
قید خانوں میں نہیں رکتیں
یہ لہریں روکی جاتی ہیں
تو دریا کتنا بھی ہو پر سکوں بیتاب ہوتا ہے
اور اس بیتابی کا اگلا قدم سیلاب ہوتا ہے

جاوید اختر
 

سیما علی

لائبریرین
اپنی ہمدردی سے بھی لگتا ہے ڈر
سوچتا ہوں کیا "زمانے " آئے ہیں
چند پاگل متحد ہو کر عدم
مجھ کو نادانی سکھانے آئے ہیں

عبد الحمید عدم
 

سیما علی

لائبریرین
محبت سے بھی کار زندگی آساں نہیں ہوتا
بہل جاتا ہے دل غم کا مگر درماں نہیں ہوتا
کلی دل کی کھلے افسوس یہ ساماں نہیں ہوتا
گھٹائیں گھر کے آتی ہیں مگر باراں نہیں ہوتا
محبت کے عوض میں او محبت ڈھونڈنے والے
یہ دنیا ہے یہاں ایسا ارے ناداں نہیں ہوتا
دل ناکام اک تو ہی نہیں ہے صرف مشکل میں
اسے انکار کرنا بھی تو کچھ آساں نہیں ہوتا
ہنسی میں غم چھپا لینا یہ سب کہنے کی باتیں ہیں
جو غم دراصل غم ہوتا ہے وہ پنہاں نہیں ہوتا
زمانے نے یہ تختی کشت ارماں پر لگا دی ہے
گل اس کیاری میں آتا ہے مگر خنداں نہیں ہوتا
کہیں کیا تم سے ہم اپنے دل مجبور کا عالم
سمجھ میں وجہ غم آتی ہے اور درماں نہیں ہوتا
مآل اختلاف باہمی افسوس کیا کہئے
ہر اک قطرہ میں شورش ہے مگر طوفاں نہیں ہوتا
دیار عشق ہے یہ ظرف دل کی جانچ ہوتی ہے
یہاں پوشاک سے اندازۂ انساں نہیں ہوتا
غرور حسن تیری بے نیازی شان استغنا
جبھی تک ہے کہ جب تک عشق بے پایاں نہیں ہوتا
صدائے بازگشت آتی ہے ایام گزشتہ کی
یہ دل ویران ہو جانے پہ بھی ویراں نہیں ہوتا
محبت تو بجائے خود اک ایماں ہے ارے ملاؔ
محبت کرنے والے کا کوئی ایماں نہیں ہوتا

آنند نرائن ملا
 

سیما علی

لائبریرین
محنت سے مل گیا جو سفینے کے بیچ تھا
دریائے عطر میرے پسینے کے بیچ تھا
آزاد ہو گیا ہوں زمان و مکان سے
میں اک غلام تھا جو مدینے کے بیچ تھا
اصل سخن میں نام کو پیچیدگی نہ تھی
ابہام جس قدر تھا قرینے کے بیچ تھا
جو میرے ہم سنوں سے بڑا کر گیا مجھے
احساس کا وہ دن بھی مہینے کے بیچ تھا
کم ظرفیوں نے ظرف کو مظروف کر دیا
جس درد میں گھرا ہوں وہ سینے کے بیچ تھا
ہیں مار گنج مار کے بھی سب ڈسے ہوئے
تقسیم کا وہ زہر خزینے کے بیچ تھا
طوفان بحر خاک ڈراتا مجھے ترابؔ
اس سے بڑا بھنور تو سفینے کے بیچ تھا
ابو تراب
 

سیما علی

لائبریرین
درکار تھا قرار بلانا پڑا اسے
آواز دی تو لوٹ کے آنا پڑا اسے
میں کون ہوں کہاں سے ہوں اور کس کا پیار ہوں
بھولا ہوا تھا مجھ کو بتانا پڑا اسے
جاتے ہوئے سبھی سے ملایا تھا اس نے ہاتھ
اور سب میں میں بھی تھا سو ملانا پڑا اسے
میری سبھی دعاؤں کا محور وہی تو تھا
نا چاہتے ہوئے بھی بھلانا پڑا اسے
احمدؔ اسے بتاتا رہا ہجر موت ہے
مانا نہیں تو مر کے دکھانا پڑا اسے

احمد طارق
 
Top