میرے والد صاحب کی ایک غزل ترے جمال کو ہم لاجواب کہتے ہیں

میرے والد صاحب سید خورشید علی ضیاء عزیزی جے پوری کی ایک غزل احباب کے لیے۔ضیائے خورشید سے انتخاب۔

ترے جمال کو ہم لاجواب کہتے ہیں
ہمِیں نہیں یہ مہ و آفتاب کہتے ہیں

کہاں وہ چہرہ انور کہاں یہ مہرمنیر
ہم آفتاب کو ذروں کا خواب کہتے ہیں

ترے جمال کے اوراق میری ترتیلیں
ترے جمال کو ام الکتاب کہتے ہیں

دل و زبان میں پیوست ہو گئی ایسی
تری کتاب کو اپنی کتاب کہتے ہیں

مرے خلاف تھی رائے کبھی فرشتوں کی
مجھے وہ آج ترا انتخاب کہتے ہیں

الٰہی جب ترا بحرِ کرم ہے بے پایاں
ہم اپنے سہو و خطا کو حباب کہتے ہیں
۔
سید خورشید علی ضیاء عزیزی جے پوری​
 
مدیر کی آخری تدوین:
ترے جمال کے اوراق میری ترتیلیں
ترے جمال کو ام الکتاب کہتے ہیں

بہترین استعارات ہیں۔
ترتیل
اور ام الکتاب کی رعایت سے۔

سو
ناچیز نے ضیائے خورشید کو

دل و زبان میں پیوست ہو گئی ایسی
تری کتاب کو اپنی کتاب کہتے ہیں

میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے کے بمصداق اپنی کتاب اور دل میں اترنے والے اچھوتے اشعار قرار دیئے۔
 
Top