میری وحشت کیلیے---از خالد علیم

آصف شفیع

محفلین
خالد علیم کی ایک غزل :

میری وحشت کیلیے چشمِ تماشا کم ہے
اور اگر دیکھنے لگ جائے تو دنیا کم ہے

ٹھہر اے موجِ غمِ جاں رگِ جاں کے اندر
تیری پرسش کو مری آنکھ کا دریا کم ہے

کس سے ہم جا کے کہیں قصہء ویرانیء دل
ہر کوئی کہتا زیادہ ہے تو سنتا کم ہے

رہروِ عشق تو بس چلتا ہے دو چار قدم
اور یہ دو چار قدم بھی کوئی چلتا کم ہے

کیسے تصویر کریں تیرے خدو خال کو ہم
تجھ کو سوچا ہے زیادہ، تجھے دیکھا کم ہے

دیکھنا، ہجر کے اس دشتِ بلا سے آگے
اک سفر اور ہے، ہر چند کہ رستا کم ہے

کارِ دنیا ہی سے فرصت نہیں ملتی خالد
ورنہ یہ کارِ محبت بھی مجھے کیا کم ہے
 

الف عین

لائبریرین
واہ بہت خوب
ٹھہر اے موجِ غمِ جاں رگِ جاں کے اندر
تیری پرسش کو مری آنکھ کا دریا کم ہے
خالد علیم کا کوئی نیا مجموعہ آیا کیا نوید اور آصف؟ ان کا شام شفق تنہائی اور "محامد: تو آن لائن کر چکا ہوں۔
 

آصف شفیع

محفلین
واہ بہت خوب
ٹھہر اے موجِ غمِ جاں رگِ جاں کے اندر
تیری پرسش کو مری آنکھ کا دریا کم ہے
خالد علیم کا کوئی نیا مجموعہ آیا کیا نوید اور آصف؟ ان کا شام شفق تنہائی اور "محامد: تو آن لائن کر چکا ہوں۔

نیا مجموعہ تو ابھی نہیں آیا۔ محامد اور دوسرے مجموعے کا ویب ایڈریس بتا دیجیے۔
 

نوید صادق

محفلین
واہ بہت خوب
ٹھہر اے موجِ غمِ جاں رگِ جاں کے اندر
تیری پرسش کو مری آنکھ کا دریا کم ہے
خالد علیم کا کوئی نیا مجموعہ آیا کیا نوید اور آصف؟ ان کا شام شفق تنہائی اور "محامد: تو آن لائن کر چکا ہوں۔
نہیں ابھی تک نہیں۔ ویسے کہہ تو وہ کافی چکے ہیں۔ ذرا گوشہ نشین ٹائپ انسان ہیں۔
 
Top