میری فکری تنہائی کا سدباب کیجیے۔۔۔

پاکستانی

محفلین
یہاں سیاست میں کسے دلچسپی نہیں ہے!!!

میں دل جلانے والی بات نہیں کر رہا صرف یہ بتلا رہا ہوں کہ یہ سب کچھ پہلے سے ہی محفل اور بلاگرز کے فورم پر ہو رہا ہے، آپ کچھ نیا پیش کریں تو بات بنے ۔۔۔ بات بری لگی ہو تو معذرت چاہوں گا۔
یہاں میں پہلے بھی خاموش تھا، اب پھر خاموشی اختیار کئے لیتا ہوں:)
 
ارے نہیں بھائی۔ نہ معذرت کی ضرورت ہے اور نہ خاموش رہنے کی۔ بلکہ ضرورت ہے کہ آپ بھی اپنی تجاویز پیش کریں۔ یہاں جو کچھ گفتگو ہوئی ہے، وہ مختلف لوگوں کی تجاویز ہی تو ہیں۔ کوئی حتمی رائے تو نہیں۔
ہم میں سے اکثر لوگ موجودہ سیاسی نظام میں مثبت تبدیلی چاہتے ہیں۔۔۔۔ اور یہاں گفتگو کا مقصد یہ ہے کہ ہم اس میں اپنا کردار کس طرح ادا کریں۔۔۔۔۔۔؟
 
پاکستانی راہبر کی بات سے متفق ہوں میں اور یہاں ہمیں خاموش نہیں رہنا چاہیے بلکہ تنظیم سازی کرنی چاہیے۔

میں تین ممبران کی شرط کو پورا کرنے کے لیے نظامی اور ساجد اقبال کو ملا کر اسلام آباد کلب شروع کرتا ہوں باقی احباب بھی بتائیں کہ وہ کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور کس طرح ایک دوسرے سے قریب ہو سکتے ہیں۔

ایک تجویز یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اگر ایک شہر میں ایک ہی فرد ہو تو وہ اپنے قریب ترین شہر کے فرد سے فون پر رابطے کو ملنے سے بدل لے تاکہ کسی طور یہ سلسلہ پھلے پھولے۔
 

ظفری

لائبریرین
اپنے ارد گرد دیکھئے، ہر چیز دو بار بنی ہے۔ ایک بار کسی کے ذہن میں اور دوسری بات حقیقت میں۔ اگر ایک شخص ایک خواب، ایک نظریہ، ایک خیال پیش کرسکتا ہے تو ہی دوسرے اس پر عمل کرسکتے ہیں۔ لہذا اگر کسی تنظیم کی تصویر نہیں‌تو کچھ بھی نہیں۔ میں‌ایک ابتدائی خیال پیش کرتا ہوں۔
اس با امن تنظیم کے 1۔ اغراض و مقاصد اور 2۔ ممبران کی ذمہ داریوں کی ایک مختصر لسٹ‌ بنائی جائے۔ اور 3۔ ایک کلب کے کم سے کم ارکان کی تعداد طے کی جائے۔
میری تجویز یہ ہے۔
0۔ اس کلب کےنام کی تجویز طلب کرنا۔
1۔ ایک کلب کے کم سے کم ارکان 3 ہوں۔ ان کی ذمہ داری کیا ہو، یہ کوئی اور تجویز کرے۔
2۔ ابتدائی مقصد، مہینے میں کم سے کم ایک وقت مل کر بیٹھنا، جس کا پہلے سے تعین ہو۔ مثلاَ‌ہر پہلے سنیچر کی شام کو مل کر کھانا کھانا، کھانا اپنے گھر سے لایا جائے :) اور پہلے سے متفقہ ایجنڈے پر خیال آرائی اور جن باتوں پر فیصلہ درکار ہے، ان کا فیصلہ کرنا۔ اور اگر کوئی ذمہ داری کسی ممبر تنظیم کو سونپنی ہے تو وہ سونپنا۔
3۔ اغراض‌مقاصد تحرید کرنا اور اگلی میٹنگ میں اس کو زیر بحث لانا۔
4۔ نئے ممبر کو شامل ہونے کے لئے کیا کرنا ہوگا۔ اس پر تجویز طلب کرنا۔

تجویز نمبر 2 اور تجویز نمبر 3 بہت اہم ہیں ۔
کم از کم اب ہمیں اس تنظیم کے قیام کا حتمی فیصلہ کر لینا چاہیئے ۔ میٹنگ کے لیئے کوئی بھی دن مقرر کیا جاسکتا ہے ۔ اور ہر رکن سے یہی امید ہوگی کہ وہ اس دن کے ان چوبیس گھنٹوں میں ( ممبرز کے مختلف ملکوں میں رہنے کہ وجہ سے یہ سہولت بہتر رہے گی ۔ ) اپنی رائے یہاں پیش کردے ۔ بنیادی اغراض و مقاصد بہت واضع ہیں‌ ۔ اس کو بس ایک واضع شکل دینی ہوگی ۔ اور اس کے بعد ایک مخصوص دھاگہ بنا کر وہاں‌ اغراض و مقاصد تحریر کر دیئے جائیں۔ ہر ممبر کوشش کرے کہ وہ اپنے دستخطوں میں اس لنک کو واضع کرے ۔ تاکہ دوسروں کو بھی اس تنظیم کے وجود کا علم ہوسکے ۔ جیسا کہ تجویز نبر 2 سے ظاہر ہے کہ ہفتے میں ایک دن اسی تنظیم کے نام کر دیا جائے ۔ اور پھر اس دن کو " میٹنگ ڈے " کا نام دیکر اپنی اپنی تجاویز اور آراء پیش کی جائیں کہ اب کس طرح اس تنظیم کو فعال رکھنا ہے ۔

تنظیم کے فوری قیام کے بعد تنظیم کو کس طرح فعال رکھا جائے ۔ اس کے لیئے یکسوئی اور وقت کی بہت اہمیت ہے ۔ کسی تنظیم کو چلانے کے لیئے جن چند اصولوں اور ضوابط کی ضرورت ہوتی ہے ۔ وہ تنظیم کی پہلی میٹنگ میں طے کرلیئے جائیں ۔ اور پھر ا سکے بعد اس تنظیم کے اغراض و مقاصد کے بارے میں اپنی اپنی تجاویز اور نقطہِ نظر پر تبادلہ خیال کیا جائے ۔ جو کہ اس تنظیم کی بقاء کا ایک اہم پہلو ہے ۔ کوشش یہ ہونی چاہیئے کہ اس سلسلے میں پہلے ایک دو ایسے ہدف مقرر کیئے جائیں ۔ جن سے تنظیم کے قیام کا محرک واضع ہوسکے ۔

ممبرز کی تعداد پر ابھی بحث کرنا قبل از وقت ہوگا کہ اگر اس سلسلے میں تسلسل قائم ہوگیا اور جو بھی اس اس دوران " اس کام " میں اپنی موجودگی کا محرک ثابت کرنے میں کامیاب رہا تو وہ تنظیم کا ایک مستقل ممبر بننے کا اہل ہوگا ۔ حالیہ دنوں میں جن جن احباب نے اس دھاگے میں حصہ لیا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ سب اس تنظیم کے ممبرز ضرور بنیں ۔

ابتدائی دنوں میں مختلف نظریات اور سوچ کے حامل صاحبان سے کئی حوالوں سے بحث‌ یا مخالفت کا امکان ہے ۔ مگر وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ مستقل مزاج ، نیک نیت اور حوصلہ مند ساتھیوں کا اس منصوبے پر ڈٹا رہنا اس بات کو ثابت کرے گا کہ اب اس تنظیم میں صرف مخلص ممبران رہ گئے ہیں ، چناچہ اب تنظیم کو ایسی شکل دے دی جائے کہ حقیقی دنیا میں وہ اپنی موجودگی کے ثبوت کے ساتھ اپنے عمل سے کوئی کردار ادا کرسکے ( مگر ابھی یہ مرحلہ دور ہے ) ۔ ابھی صرف یہ مقصد ہونا چاہیئے کہ تمام ممبران اپنی ذہنی صلاحیتوں کو اس میدان میں بروئے کا رلانے کی کوشش کریں خواہ وہ ایک چھوٹی سی تجویز یا کوئی ڈھارس یا اپنی صرف موجودگی کاثبوت ہی کیوں نہ ہو ۔

چلے ہیں تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ​
 

ظفری

لائبریرین
پاکستانی راہبر کی بات سے متفق ہوں میں اور یہاں ہمیں خاموش نہیں رہنا چاہیے بلکہ تنظیم سازی کرنی چاہیے۔

میں تین ممبران کی شرط کو پورا کرنے کے لیے نظامی اور ساجد اقبال کو ملا کر اسلام آباد کلب شروع کرتا ہوں باقی احباب بھی بتائیں کہ وہ کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور کس طرح ایک دوسرے سے قریب ہو سکتے ہیں۔

ایک تجویز یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اگر ایک شہر میں ایک ہی فرد ہو تو وہ اپنے قریب ترین شہر کے فرد سے فون پر رابطے کو ملنے سے بدل لے تاکہ کسی طور یہ سلسلہ پھلے پھولے۔

انتہائی جاندار اور مناسب تجویز ہے ۔ دیگر احباب کی کیا رائے ہے ۔ ؟
 

ظفری

لائبریرین
یہاں سیاست میں کسے دلچسپی نہیں ہے!!!

میں دل جلانے والی بات نہیں کر رہا صرف یہ بتلا رہا ہوں کہ یہ سب کچھ پہلے سے ہی محفل اور بلاگرز کے فورم پر ہو رہا ہے، آپ کچھ نیا پیش کریں تو بات بنے ۔۔۔ بات بری لگی ہو تو معذرت چاہوں گا۔
یہاں میں پہلے بھی خاموش تھا، اب پھر خاموشی اختیار کئے لیتا ہوں:)

منیر بھائی ۔۔۔۔ میری ذاتی رائے میں اس تنظیم کو سیاسی تنظیم بنانا صحیح نہیں ہے ۔ اس سلسلے میں میری دو پوسٹیں جو اس دھاگے کے پہلے دو ابتدائی صفحات پر ہیں ۔ میرے موقف کو واضع کرنے میں شاید معاون ثابت ہو ۔ موقع ملے تو اسے ضرور پڑھئے گا ۔ شاید آپ کو کچھ نیا لگے ۔ :)
 

ظفری

لائبریرین
دیکھو جی ایک ڈھانچہ تیار کرلو تو میرے جیسے کئی آجائیں گے۔ بحث کرنی ہے تو کسی کے پاس کچھ نہیں کہنے کے لیے اب۔

شاکر بھائی کا بھی کہنا بلکل صحیح ہے کہ اب اس تنظیم کا کوئی ڈھانچہ تیار ہوجائے کہ بحث کے لیئے اب کوئی ایشو باقی نہیں رہا ۔ چلیئے پھر ملکر کچھ سوچتے ہیں ۔ :)
 

رضوان

محفلین
میں یہ تمام پیغامات خاموشی سے پڑھتا رہا ہوں
مجھے عملی طور پر کچھ بھی متاثر کن دکھائی نہیں دیا۔

ایک اور میرے نزدیک اہم اعتراض - - -
پاکستان اسلامی جمہوریہ ضرور ہے لیکن اس کے آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ صرف مسلمان ہی شہری ہوسکتے ہیں اس لیے اگر آپ بھی معاشرتی بہتری کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو
مزہب
کو اس سے الگ رکھیے ۔
 

ظفری

لائبریرین
ظفری بھائی میرے گھر پر فی الوقت فون کنکشن نہیں ہے اس لیے انٹرنیٹ موبائل پر ہی استعمال کرتا ہوں اور موبائل میں اردو فونٹ نہیں اس واسطے محفل کو نہیں دیکھ پاتا۔ سو یہاں پر رابطہ دفتر سے ہی ہو پاتا ہے۔ سوچا تھا کہ ہفتہ اور اتوار خوب بحث ہوئی ہوگی لیکن یہاں تو سناٹا تھا۔
خیر کوئی بات نہیں اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں استقامت اور مستقل مزاجی عطا فرمائے۔۔۔

دیکھیں محسن بھائی ۔۔۔ حرکت شروع ہوگئی ہے ۔ بس جیسے ہی تنظیم کے قیام کا اعلان ہوا ۔ تو امید ہے کہ اس کارواں سے پھر کوئی نہ کوئی علامہ اقبال ، قائدِ اعظم یا چوہدری رحمت علی بن کر سامنے آجائے ۔ :)
 

ظفری

لائبریرین
میں یہ تمام پیغامات خاموشی سے پڑھتا رہا ہوں
مجھے عملی طور پر کچھ بھی متاثر کن دکھائی نہیں دیا۔

ایک اور میرے نزدیک اہم اعتراض - - -
پاکستان اسلامی جمہوریہ ضرور ہے لیکن اس کے آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ صرف مسلمان ہی شہری ہوسکتے ہیں اس لیے اگر آپ بھی معاشرتی بہتری کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو
مزہب
کو اس سے الگ رکھیے ۔

ابھی عملی طور پر پیش قدمی ہی کہاں‌ ہوئی ہے بھائی ۔۔۔ ;)

مذہب کے حوالے سے موقف واضع ہو چکا ۔ شاید تم اس کو مس کر گئے ہو ۔ ;)
 

رضوان

محفلین
معزرت کیساتھ میری یہ پوسٹ محب کی پوسٹ کے جواب میں پڑھی جائے۔
ظفری نے کھٹا کھٹ تین پیغامات پیل دیے اور میرا انٹرنٹ وہیں پر اٹکا ہوا تھا۔
 

ظفری

لائبریرین
معزرت کیساتھ میری یہ پوسٹ محب کی پوسٹ کے جواب میں پڑھی جائے۔
ظفری نے کھٹا کھٹ تین پیغامات پیل دیے اور میرا انٹرنٹ وہیں پر اٹکا ہوا تھا۔

ہاہاہاہا ۔۔۔۔ بہت دنوں بعد لفظ " پیل " سنا ۔ شاید کوئی اور یہاں سمجھا ہو کہ نہیں ۔ :grin:
 

ظفری

لائبریرین
نیٹ خیال و خواب کی دنیا ہے یہاں ایسی چیزوں کا بسیرا کہاں، شاکر نے بالکل صحیح کہا ہے کہ '' پہاڑ ڈھانے کا خیال دل سے نکال دیں ''

بےشک یہ پہاڑ ڈھانے والا کام ہے مگر سب یہ کام اگر ملکر کریں تو کوئی بعید نہیں کہ یہ کام ہوجائے ۔ منیر بھائی ۔۔۔ ! ہم اس سارے قصے کو یوں کیوں نہ دیکھیں کہ ہمیں بگڑے نظاموں میں پسنے والے لوگوں کی مدد کرنا ہے۔ اور ہمیں ایسا کسی خیراتی جذبے کے تحت نہیں کرنا بلکہ ہمیں ایسا احسان چکانے کے لیے کرنا ہے۔ ہم آج جس مقام پہ بھی ہیں وہاں اس لیے ہیں کیونکہ ہم سے پہلے آنے والوں نے ہمارے لیے ایک راہ ہموار کی۔ کوئی شخص بھی مکمل خلا میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ ہم نے اگر کچھ حاصل کیا ہے تو اس میں یقینا بہت سے لوگوں کے احسانات شامل ہیں۔ وہ تعلیمی ادارے جہاں ہم نے پڑھا ہے، انہوں نے وہ کتابیں لکھیں جن کے مطالعے سے ہم نے کچھ سیکھا ہے، جن چیزوں کو دیکھ کر علم حاصل کیا ہے۔ جو کچھ ریڈیو پر سنا ہے، جو کچھ ٹی وی پہ اور فلموں میں دیکھا ہے، حتی کہ وہ زبان جو ہم استعمال کرتے ہیں، یہ سب ہم سے پہلے آنے والے لوگوں کی محنت کی وجہ سے ہے ۔

یقینا ہر مکان و زمان میں باصلاحیت لوگ بھی ہوتے ہیں اور کند ذہن بھی اور ذہین لوگ اپنی عقل کے استعمال سے آگے بڑھ جاتے ہیں مگر اس آگے بڑھنے میں بھی ان کی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ اس نظام کا دخل ہوتا ہے جو انہیں آگے بڑھنے کا میڈیم فراہم کرتا ہے۔ اور یہ نظام بہت سے لوگوں نے بنایا ہوتا ہے۔ ہم سے آنے پہلے آنے والوں نے صدقہ جاریہ کے طور پہ اس نظام کی تعمیر کی ہوتی ہے۔ ہم انہیں محنتی اور رحم دل لوگوں کی خیرات لے کر آگے بڑھے ہوتے ہیں۔ چنانچہ ہمارا یہ فرض ہے کہ اگر ہم اس قابل ہوجائیں کہ ہمارے اندر معاشرے کو بدلنے کی صلاحیت اور طاقت ہو تو ہم اپنی استعداد کے مطابق بھلائی کے کام کریں۔ ہم بھی اپنے بعد آنے والے لوگوں کی زندگیاں سہل بنانے کے بارے میں سوچیں اور عمل کریں ۔
 
بہت اچھے خیالات اور تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ فی الحال مقصد صرف بھائی چارہ رکھئے کہ یہ سیاست، مذہب اور تمام دوسرے مقاصد سے بڑا ہے ۔

اب تک نام کیا آیا ذہن میں آپ کے کلب، آرگنائزیشن یا تنظیم کا؟
 

عمر میرزا

محفلین
فاروق سرور خان:: بہت اچھے خیالات اور تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ فی الحال مقصد صرف بھائی چارہ رکھئے کہ یہ سیاست، مذہب اور تمام دوسرے مقاصد سے بڑا ہے ۔


بھلا بھائی چارہ کیا مقصد ھوا ۔اگر آپ مذہب اور سیاست کو ایک طرف رکھ کر کوئی تنطیم بناتے ہیں وہ تو پھر کوئی خیراتی کام کرنے والی Ngo ہی بنے گی نا کہ معاشرے کو بدل کر رکھ دینے والی انقلابی جماعت ۔دوسرے بھائی چارہ تو ھمیں ھمارا دین اسلام ہی تو سکھاتا ہے یہ مذہب سے بڑھ کر کیسے ہو سکتا ھے
 

ساجد

محفلین
رضوان رقم طراز ہیں:
ایک اور میرے نزدیک اہم اعتراض - - -
پاکستان اسلامی جمہوریہ ضرور ہے لیکن اس کے آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ صرف مسلمان ہی شہری ہوسکتے ہیں اس لیے اگر آپ بھی معاشرتی بہتری کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو
مزہب
کو اس سے الگ رکھیے ۔
رضوان کی درج بالا سادہ سی بات بہت اہمیت کی حامل ہے ۔ خاص طور پر پاکستان اور عموما کسی بھی اسلامی ملک میں تنظیم سازی کے وقت اس کو پیش نظر رکھا جانا از حد ضروری ہے ورنہ حال وہی ہو گا جو اب تک ہوتا آیا ہے یعنی آپسی سر پھٹول اور فرقہ بازی ؛ تنظیموں اور ان کے مقاصد کا بیڑہ غرق کر دیتی ہے۔


اسلام کی تبلیغ ہر مسلمان کا بنیادی فرض ہے اور ہمارا اسلامی طرزِ عمل ہی سب سے بہتر تبلیغ ہوتا ہے۔ اس کام کو نعروں یا تنظیموں کی صورت میں پایہ تکمیل تک نہیں پہنچایا جا سکتا۔ تاریخ بھی ہمیں یہی بتاتی ہے کہ انبیاء ، صحابہ ، تابعین ، امامین ، اور مجددوں نے یہ کام بغیر کسی تنظیم کے محض اپنے قول و فعل کی مضبوطی اور اپنی ذات پر اسلام کے عملی نفاذ سے کیا۔
اس بات کا تذکرہ میں نے اس لئیے ضروری سمجھا کہ ہم مجوزہ تنظیم اور اس کی ہئیت و کردار کے بارے میں جان لیں کہ یہ تنظیم مختلف عقائد و نظریات کے حامل افراد پر مشتمل ہو سکتی ہے اور اس کے بنیادی مقاصد کا کسی کے مذہب یا عقیدے سے دخل نہیں ہونا چاہئیے۔ ہر پاکستانی جو اپنے دیس کے بنیادی مسائل کے حل ، اس کے عوام کی فلاح اور جہالت و ظلم کے خلاف اپنی خدمات پیش کرنا چاہے اس کو برابری کی سطح پر قبول کیا جائے۔ خواہ اس کا کوئی مذہب یا عقیدہ ہو ہمیں اس سے سروکار نہیں رکھنا چاہئیے۔ کیوں کہ ہم کسی مذہبی نہیں بلکہ فلاحی تنظیم کی بابت سوچ رہے ہیں۔
والسلام علیکم و رحمۃاللہ ،
ساجد
 

خرم

محفلین
موضوع تو میری دلچسپی کا ہے اور بات بھی بہت اچھی آگے بڑھ رہی ہے۔ سالِ گزشتہ میں نے بھی انہی خطوط پر سوچا تھا اور ایک ڈومین بھی بنام www.letsbuildpakistan.org رجسٹر کروایا تھا۔ مگر ابھی تک افکارِ پریشان پریشان ہی رہے۔ ارادہ تو یہی تھا کہ ایک ایسی سیاسی تحریک کی ابتداء کی جائے جس کی اساس معاشرتی انصاف کے اسلامی اصولوں پر ہو۔ جس کا منشور معاشرہ کے تمام افراد تک معاشرتی انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا، ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی اساس کی حفاظت کرنا اور اسے مستحکم کرنا اور پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی فلاحی مملکت بنانا ہو۔ ایک حقیقی اسلامی فلاحی مملکت سے میری مراد یہ نہیں کہ لوگوں کو ڈاڑھیاں نہ رکھنے پر ڈنڈے مارے جائیں بلکہ ایک ایسا معاشرہ ہے جس میں اسلام نے معاشرتی مساوات، عدل، اخوت اور رواداری کے اصولوں پر عمل ہو۔

اپنے تئیں میرا تو یہ خیال ہے کہ ایک حقیقی جمہوری تنظیم ہی جس میں یقینِ کامل رکھنے والے نوجوان شامل ہوں ایک ایسی تبدیلی کا ہراول دستہ بن سکتی ہے۔ منزل اگرچہ کٹھن ہے مگر وہ جو کہا اقبال نے کہ "نہیں‌ ہے ناامید" تو میرا یقین بھی یہی ہے کہ "ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی"۔
 
بھلا بھائی چارہ کیا مقصد ھوا ۔اگر آپ مذہب اور سیاست کو ایک طرف رکھ کر کوئی تنطیم بناتے ہیں وہ تو پھر کوئی خیراتی کام کرنے والی Ngo ہی بنے گی نا کہ معاشرے کو بدل کر رکھ دینے والی انقلابی جماعت ۔دوسرے بھائی چارہ تو ھمیں ھمارا دین اسلام ہی تو سکھاتا ہے یہ مذہب سے بڑھ کر کیسے ہو سکتا ھے

آپ کے ذہن میں کس قسم کی تنظیم ہے؟
 
Top