میری فکری تنہائی کا سدباب کیجیے۔۔۔

ظفری

لائبریرین
میں ظفری کی بات سے اتفاق کروں گا کہ خواب دیکھنے سے نہیں ڈرنا چاہیے ، بھلا جو شخص خواب بھی دیکھنے سے ڈرتا ہو اس سے زیادہ بزدل اور کون ہوگا۔

خواب دیکھیں گے تو تعبیر ملے گی ہو سکتا ہے ہمیں نہ ملے ہمارے بعد آنے والی نسلوں کو ملے ، کم از کم وراثت میں چند خواب تو چھوڑے جا سکتے ہیں۔ جہاں تک لوگوں کی بات رہی وہ خواب دیکھنے والوں کو پاگل ہی کہا کرتی ہے اور جب یہی پاگل لوگ خوابوں کی تعبیر پا لیتے ہیں تو انہیں بہترین انسان بھی کہتی ہے ۔

بلکل صحیح بات کہی ہے محب ۔
آج ہم جس حاصل کی ہوئی تعبیر میں جی رہے ہیں ۔ جس کو ہم پاکستان کہتے ہیں ۔ ایک دن اس کی بھی حیثیت ایک خواب جیسی ہی تو تھی ۔ اور یہ خواب بھی تو کسی نے دیکھا ہی تھا ۔
 
تنظیمیں تو بہت طرح کی ہیں اور بنانی آسان لیکن چلانی مشکل ہیں۔ اس بات کا اظہار سب لوگوں نے کیا۔ یہاں‌ جو لوگ ہیں‌ان کے بارے میں ایک بات اتفاق سے کہی جاسکتی ہے۔ وہ یہ کہ یہاں سب زبردست طالب علم ہیں، مسائیل پر گہری نظر ہے اور اس انفرادی و اجتماعی طور پر ان مسائیل کا حل چاہتے ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ یہاں‌سب تنظیم سازی سیکھیں، پھر اس کا استعمال اپنی تنظیم میں یا کسی بھی تنظیم میں شرکت کرکے کر سکتے ہیں۔ تنظیموں کی کمی نہیں لیکن ان میں سے زیادہ تر سیاسی یا مذہبی سیاسی نوعیت کی ہیں۔ مسلمانوں‌میں ایسی کوئی جماعت نہیں پائی جاتی یا کم از کم میرے علم میں نہیں جس کا پھیلاؤ اس قسم کا ہو کہ نیٹ ورک مل کر فیصلہ کرتا ہو، پر امن طریقہ پر کام کیا جاتا ہو اور اس سے عوام الناس کا عام طور پر اور مسلمانوں کا خاص‌طور پر فائیدہ مقصود ہو۔
 
تنظیمیں بہت ہیں، واقعی بہت ہیں لیکن جس قسم کا خواب ہم لوگ دیکھ رہے ہیں، اس خواب کی تعبیر ہمیں کوئی تنظیم فراہم نہیں کرتی۔۔۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اس وقت پاکستان کی ہر سیاسی جماعت اپنے ذاتی مفاد رکھتی ہے، ملکی مفاد کی خاص اہمیت نہیں۔۔۔ یہ بات میں سو فیصد یقین سے کہہ رہا ہوں۔ ایک ایک سیاسی جماعت کے کردار پر بحث ہوسکتی ہے لیکن اس کی فی الحال ضرورت نہیں۔ ہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ پہلے تنظیم سازی اور مقاصد اور لائحہ عمل کو حتمی شکل دی جائے اس کے بعد آگے بڑھا جائے۔
 
اس موضوع کی مناسبت سے، کل رات میں نے کچھ منظوم رقم کیا ہے۔ ملاحظہ ہو:


جواہر کی، نہ چاندی کی، نہ گوہر کی ضرورت ہے
اٹھو کہ قافلے والوں کو رَہبر کی ضرورت ہے

ضرورت ایک ایسے کی جو زخموں پر رکھے مرہم
ضرورت ہے، ہمیں ایسے برادر کی ضرورت ہے

بہلتے آئے ہیں ہم جھوٹے وعدوں، اونچے نعروں سے
ہماری قوم کو اب سچے لیڈر کی ضرورت ہے

نہیں اترے گا کوئی آسماں سے رہنمائی کو
ہمارے درمیاں سے ایک رَہبر کی ضرورت ہے

نہیں پروا کہ دیوانہ کہے کوئی مجھے عمار
رقم میں نے کیا وہ سب جو گھر گھر کی ضرورت ہے
 

ابوشامل

محفلین
میرے خیال میں مرزا صاحب عالمی اسلامی تحاریک کے ذکر کو غلطی کر بیٹھے ہیں اور انتہائی مخلص اسلامی تحاریک کو شکست خوردہ قرار دیا ہے جماعت اسلامی، تنظیم اسلامی اور حزب التحریر کا میں ذکر اس لیے نہیں کروں گا کہ یہ تنظیمیں پاکستان میں کام کرتی ہیں اور شاید ان کے حوالے سے میرے تبصرے سے چند افراد کے جذبات کو ٹھیس پہنچے اور کئی افراد انہیں جانبدارانہ بھی قرار دیں لیکن اخوان المسلمین، Fis اور رفاہ پارٹی کا تذکرہ ضرور کروں گا۔ ان تینوں جماعتوں نے اسلام کے لیے جتنی قربانیاں دی ہیں شاید ہی ماضی قریب میں کسی نے دی ہوں۔ اخوان المسلمین موجودہ اسلامی تحاریک کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے جس کے رہنماؤں نے جان دینا تو گوارا کیا لیکن راہ حق سے ایک قدم پیچھے نہ ہٹے، حسن البناء شہید اور سید قطب شہید اس کی واضح دو مثالیں ہیں۔ الجزائر میں Fis (اسلامک سالویشن فرنٹ) 1990ء میں انتخابات میں واضح فتح حاصل کر کے حکومت تک پہنچ گئی لیکن فوجیوں کے ہاتھوں کچل ڈالی گئی اور ان کے رہنماؤں کو چن چن کر قتل کر دیا گیا حتی کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں بھی ان کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ جن افراد نے اپنی پوری زندگی اسلام کا نام اونچا کرنے کے لیے لگادی اور آخری وقت تک اس پر ڈٹے رہے کیا ان کے کردار پر شک کیا جائے؟ ترکی کے جمہوری دور میں نجم کالدین اربکان سے بڑا مسلم رہنما کون پیدا ہوا؟ وہ جسے فوج نے اقتدار سے علیحدہ کر دیا اور تاحیات پابندی عائد کر دی۔ کیا یہ تمام جماعتیں ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ گئیں اور کتابیں چھاپنے اور رفاہی کاموں میں لگی رہیں؟ بہت افسوس کی بات ہے کہ ہم بہت آسانی سے ایسی عظیم ہستیوں اور جماعتوں کے بارے میں اس طرح کے الفاظ ادا کر دیتے ہیں، باقی مجھے دیگر ساتھیوں سے کوئی گلہ نہیں۔ اگر نیٹ پر آپ ایک ایسی سوسائٹی بنانا چاہتے ہیں تو "ست بسم اللہ"، میں آپ کے ساتھ ہوں۔
ویسے یہ بات میں نے موضوع سے ہٹ کر کی ہے اس لیے اس پر مزید گفتگو نہیں ہوگی، اگر کسی نے کرنی ہے تو الگ دھاگہ کھول لے۔
 

محسن حجازی

محفلین
نسیم حجازی صاحب کی آواز پر اس فورم پر موجود تقربیاً سبھی دوستوں نے لیبک کہا ہے ۔ جو اس بات کا مظہر ہے کہ ابھی ہم ایک مکمل طور پر سوئی ہوئی قوم ہرگز نہیں ہیں ۔ دوستوں نے بہت ہی گرانقدر مشور ے اور تجاویز پیش کیں ہیں ۔ اور زیادہ تر میری اسی بات کی عکاسی کرتیں ہیں جس میں ایک بڑی تبدیلی کا محرک موجود ہے ۔ اس سلسلے میں فاروق بھائی اور حجازی بھائی کی تجاویز بہت ہی اہم ہیں۔

” آؤ کہ کوئی خواب بنیں ” یہ غالبا امرتا پریتم کی ایک کتاب کا عنوان ہے ۔ آؤ کہ کوئی خواب بنیں۔ مجھے یہ خیال بہت پسند آتا ہے۔ خواب بننا اور وہ بھی لوگوں کے ساتھ مل کر بُننا ایک ایسے کارواں کی شروعات کا سنگِ میل ہے ۔ جس کا کوئی مسافر ایک نہ ایک دن ہماری اس منزل کا بھی سنگِ میل پا لے گا ۔ اور یہی بات اب یہاں دوستوں نے مخلتف حوالوں ‌سے چھیڑی ہے ۔ کہ ” آؤ کہ کوئی خواب بنیں۔”سفر کھٹن ہے ، صبر آزما ہے ، طویل ہے ، مگر اس سفر کا کامیاب اختیام شاید ہماری آنے والی نسلوں‌ کو ہم پر شرمندہ ہونے سے بچا لے ۔ ہوسکتا ہے بہت سوں ‌کے نزدیک یہ چند دیوانوں کا خواب ہو، مگر ہم یہ بھی دیکھیں کہ تاریخ میں بھی ہمیشہ چند لوگ ہی نے کسی نئی تاریخ کی ابتداء اسی طرح کی کمپرسی کی حالت میں کی ہے ۔

اپنے آس پاس نظر اٹھا کر دیکھیں۔ یہ بجلی کے قمقمے، یہ تیزی سے دوڑتی ہوئی گاڑیاں، یہ برق رفتار ہوائی جہاز، یہ ٹیلی فون، یہ ٹیلی وژن، یہ کمپیوٹر، یہ انٹرنیٹ۔ یہ جاننے کی کوشش کیجیئے کہ اس قدر کارآمد ، یہ ساری چیزیں کن لوگوں نے ایجاد کی ہیں۔ آپ کو جواب ملے گا کہ آج کی جدید دنیا میں ایک شخص عام طور پہ جو سہولیات استعمال کرتا ہے ان کی ایجاد کا سہرا بمشکل دو سو لوگوں کے سر ہے۔ پھر ایک اور کام کیجیے۔ صرف ایجادات کو ان کی موجودہ اشکال میں مت دیکھیے، بلکہ ان ایجادات کے پیش رو کا مطالعہ کیجیے اور ان لوگوں کے بارے میں جاننے کی کوشش کیجیے جن کا کسی نہ کسی قسم کا کردار اس پورے تخلیقی عمل میں رہا ہے۔ مثلاً ہوائی جہاز کے پیش رو ہیں آئی سی انجن ، علمِ دھات سازی ، پہیہ وغیرہ ۔ قصہ مختصر یہ کہ اگر ان سارے لوگوں کا بھی شمار کیجیے جو ایجادات کی موجودہ شکل کے پیچھے کسی نہ کسی موقع پہ اپنا کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں تو آپ کا جواب چند ہزار افراد سے اوپر نہ جا پائے گا۔ کس قدر عجیب بات ہے ناں ۔ تو اعدادی نفری کو نہ دیکھیں ۔ تعمیری سوچ کی وسعتوں‌کو ناپنے کی کوشش کریں ۔

اس بارے میں کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ معاشرہ لوگوں سے بنتا ہے۔ بے شعور اور خراب لوگ خراب معاشرہ بناتے ہیں اور اچھے لوگ اچھا معاشرہ ۔ ترقی پذیر ممالک کے خراب نظام کی ذمہ داری آپ جس قدر چاہیں مغرب پہ تھوپنے کی کوشش کریں مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہ ہو پائے گا کہ ان شکست خوردہ معاشروں میں اکثریت باشعور نہیں ہے، سمجھ بوجھ نہیں رکھتی۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لوگوں میں شعور کیسے بیدار ہوتا ہے، معاشرے کی بھلائی میں فرد کی بھلائی تلاش کرنے کی ہوشیاری کیسے پیدا ہوتی ہے۔ شعور اور ہمہ جہتی تعلیم ایک شے ہیں۔ ہمہ جہتی تعلیم کے کئی پہلو ہیں۔ یہ علم صرف وہ نہیں ہے جو علم معاشی تگ و دو میں کامیابی کے لیے حاصل کرتا ہے۔ یہ علم تاریخ کا علم ہے، اور اس بات کا علم ہے کہ ایمانداری اور محنت کے بغیر کوئی دیرپا ترقی ممکن نہیں۔ اور یہ اس بات کا علم ہے کہ معاشرے میں دوسروں کے ساتھ رہنے میں ہر فرد کے اوپر کس قسم کی ذمہ داریں ہوتی ہیں۔ اور یہ سیاسی معاملات کا علم ہے، اور یہ علم کہ حکومت کیا ہے اور کس طرح معاشرے کے چنیدہ افراد کو سب کے اوپر حق حاکمیت دیا جائے، اور کیسے اس حق کا احتساب کیا جائے، اور کیسے یہ حق منسوخ کیا جائے۔

لوگ نااہل حکمرانوں اور حکومتوں کے زیر اثر زندگی گزارنے پہ مجبور ہیں۔ انہیں روز اس بات کی سزا ملتی ہے کہ وہ ایک ترقی پذیر ملک میں کیوں پیدا ہوئے۔ لوگوں کو تو اچھی حکومت چاہیے مگر اچھی حکومت کو کیسے لوگ چاہئیں؟ یا یہ کہ اچھی حکومت کن لوگوں سے بنتی ہے؟ یہ سمجھنا چنداں مشکل نہیں کہ اچھی حکومت باآسانی ایسی جگہ بن سکتی ہے جہاں لوگ باشعور ہوں اور فکر رکھتے ہوں۔ ایسے لوگ جنہیں کوئی بات بری لگے تو یہ مظاہرے تو کریں مگر جوش جذبات میں بجلی کے کھمبوں کی بتیاں نہ توڑ دیں۔ پتھر بازی نہ کریں۔ املاک کو آگ نہ لگا دیں۔ ایسے لوگ جو بلند تر تناظر میں اپنا مفاد پہچانتے ہوں، جو اچھی طرح سمجھتے ہوں کہ سب کی بھلائی میں ان کی بھلائی بھی پوشیدہ ہے۔
پھر یہ لوگ کیسے حاصل ہوں؟

اچھے لوگ تو ایک اچھے معاشرے سے بن کر نکلتے ہیں۔ اچھا معاشرہ نہ ہو تو اچھے لوگ کیسے بنیں؟ اور اچھے لوگ نہ ہوں تو اچھی حکومت کیسے قیام میں آئے جو اچھا معاشرہ بنائے؟ بظاہر یہ ایک مشکل صورتحال نظر آتی ہے۔ یوں نظر آتا ہے کہ یہ ایک بہت لمبا اور کٹھن سفر ہوگا۔ ایک نسبتا اچھی حکومت بنے، جوکسی حد تک انصاف فراہم کرے اور لوگوں کی تعلیم کا انتظام کرے اور یوں اچھے لوگ بنائے اور پھر اگلے مرحلے میں تھوڑی سی اور بہتر حکومت قائم ہو، معاشرہ تھوڑا سا اور آگے بڑھے اور یوں یہ مشکل سفر جستہ جستہ طے ہوتا رہے۔ مگر اس درمیان میں بہت سے لوگ ظلم سہتے رہیں گے، پستے رہیں گے۔

آئیے اس مشکل صورتحال سے نکلنے کے لیئے اپنے خواب کی تعبیر کے لیئے عمل پیرا ہوتے ہیں ۔ ( جس خواب کا ذکر دوست یار کر چکے ہیں ) ۔اب ایسا ملک کہ جہاں حکومت نااہل ہے اور نظام مملکت چلانے کی سکت نہیں رکھتی، ہم ایک چھوٹی سی ایسی جگہ بنائیں جہاں جدید دور کی تمام سہولیات ہوں اور ہر چیز صحیح طرح کام کرے ۔ اور پھر اس نقطہ نظر سے کہ یہ جگہ صحیح طرح کام کرتی رہے اور یہاں کے نظام تنزل کی طرف مائل نہ ہوجائیں، ہم اس جگہ کے گرد ایک چہاردیواری کھینچ دیں۔ اور یہاں صرف ان لوگوں کو آنے دیں جو نئی دور کی دنیا کو سمجھتے ہوں، فکر رکھتے ہوں، اور معاشرے کی بھلائی میں فرد کی بھلائی کو پہچانتے ہوں۔ گویا ایک ایسی ممبرشپ کمیونٹی جس میں داخلے کی شرط پیسہ یا طاقت نہ ہو، بلکہ بالغ نظری ہو۔ پھر جب یہ جگہ کامیاب ہوجائے یہاں آبادی بڑھ جائے تو ان میں سے کچھ لوگوں کو لے کر دوسری جگہ ایسی ہی ممبر شپ کمیونٹی بنائیں، اور وہاں اور لوگوں کو بھرتی کریں اور یوں پورے ملک کو تبدیل کرتے جائیں ۔ کیا دنیا میں ایسی کوئی ممبرشپ کمیونٹی موجود ہے ۔ ؟ یقینا نہیں۔ مگر یہ تجربہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔



کمال! کمال! کمال! کمال! کمال! بہت ہی مدلل! بہت ہی حوصلہ افزا۔۔۔ نہایت امید افزا! ظفری بھائی یہ حوصلہ دینے کا شکریہ! واقعی ہر چیز خواب ہی ہوتی ہے چاہے گلیلیو کی دوربین ہو یا لوگی بئیرڈ کا ٹیلی وژن!

میرا صرف ایک لفظ کا جواب ہے۔۔۔۔ لبیک۔۔۔۔ اگر مگر بعد کی بات۔۔۔۔

میں پہلے کارکن کے طور پر حاضر ہوں۔۔۔
پیشے کے اعتبار سے سافٹ وئیر انجینئر ہوں۔
میں عہد کرتا ہوں کہ اپنی صلاحیتوں کا کچھ حصہ امت مسلمہ بشمول غریب اقوام کی فلاح کے لیے وقف کروں گا اور ہمیشہ اپنے ہم خیال لوگوں کی پذیرائی کروں گا شرعی قیود میں رہ کر بالکل اسی طرح جس طرح فری میسنز کے لوگ کرتے ہیں۔۔۔۔
 

محسن حجازی

محفلین
اس موضوع کی مناسبت سے، کل رات میں نے کچھ منظوم رقم کیا ہے۔ ملاحظہ ہو:


جواہر کی، نہ چاندی کی، نہ گوہر کی ضرورت ہے
اٹھو کہ قافلے والوں کو رَہبر کی ضرورت ہے

ضرورت ایک ایسے کی جو زخموں پر رکھے مرہم
ضرورت ہے، ہمیں ایسے برادر کی ضرورت ہے

بہلتے آئے ہیں ہم جھوٹے وعدوں، اونچے نعروں سے
ہماری قوم کو اب سچے لیڈر کی ضرورت ہے

نہیں اترے گا کوئی آسماں سے رہنمائی کو
ہمارے درمیاں سے ایک رَہبر کی ضرورت ہے

نہیں پروا کہ دیوانہ کہے کوئی مجھے عمار
رقم میں نے کیا وہ سب جو گھر گھر کی ضرورت ہے


بہت خوب! بہت شاندار۔۔۔۔ اللہ کرے زور سخن اور زیادہ۔۔۔

نبیل بھائی۔۔۔ آپ کو مس کر رہا تھا میں ویسے۔۔۔ شکر ہے آپ آ گئے!

دیگر جو ایک برادر نے بات کی اسلامی تحاریک کی، تو فاروق بھائی، ظفری بھائی اور دیگر احباب جس ماڈل کی بات کر رہے ہیں وہ سرے سے مختلف ہے۔۔۔ وہ ان مذکورہ جماعتوں سے بالکل ہٹ کر ہے۔۔۔ یہ ایک Soft Existance کی حامل جماعت ہے جو ہو بھی اور۔۔۔ نہ بھی ہو! اثرات تو ہوں لیکن آثار نہ ہوں۔
لیکن یہ ابھی میری رائے ہے دوسرے دوست اس کی تصیح و تطہیر کریں گے۔
 
واؤؤؤؤ۔۔۔۔۔! تو ہم اس منزل تک پہنچ ہی گئے۔۔۔ پہلا مرحلہ طے ہونے کو ہے۔۔۔
محسن حجازی صاحب، ظفری بھائی، محب بھائی، ابو شامل۔۔۔ اور میں۔۔۔! ان شاء اللہ یہ کارواں بڑھتا ہی جائے گا۔ (نبیل بھیا! آپ کیوں اتنے خاموش ہیں؟؟؟؟ :confused:)
میرا خیال ہے کہ اب ضرورت ہے لائحہ عمل اور طریقہ کار طے کرنے کی۔۔۔ ایک مناسب فورم ترتیب دینے کی جہاں اس معاملہ کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو ہوسکے۔۔۔۔۔!
 

عمر میرزا

محفلین
ابو شامل بھائی ! آپ نے کمال کر دیا میری پوسٹ سمجھی ھی نہیں اور اپنے نشتر نکال کر ہو گئے مجھ پر حملہ آور۔:eek:
اعلیٰ حضرت ! میری بات کا لب لباب یہ تھا کہ بجائے نئی جماعت بنانے سے زیادہ بھتر ھو گا اگر آپ لوگ ان جماعتوں (جن کے اوپر نام لئے گئے ھیں) کو بھی ایک دفعہ پرکھ لیں ان کے تجربے سے فائدہ اٹھایں یہ نہ ھو کہ بعد میں کسی ناکامی کا سامنا کرنا پڑے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور بس صرف ایک رائے ھی تو دی ہے۔

آپ کو مجھ سے کوئی گلہ نھیں ھونا چاہئے میں نے کسی پر کیچڑ نھیں اچھالا میں تو خود ایک جماعت کا رکن ہوں میں بھلا ایسے عظیم لوگوں کے بارے میں گستاحی کی جسارت کیسے کر سکتا ہوں۔۔
اگر کوئی لفظی غلطی ھو گئی ھو تو معاف کیجئے گا۔۔۔۔
آخر میں گزارش ہے کہ اپنوں سے ناراض نہ ہوا کریں ;)
اللہ آپ کو خوش رکھے(آمین)
اللہ خافظ
 
میں بھی اتفاق کروں گا کہ کم از کم ہم بنیادی باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے اس پر تو اکھٹے ہو جائیں کہ ہم ایک دوسرے کی تائید کریں گے اور سامنے آ کر نہ سہی مگر درپردہ ایک دوسرے کو تقویت پہنچائیں گے اور اپنی روزمرہ کی زندگیوں کے ساتھ ساتھ ان کاموں کو بھی کرتے رہیں تو ضرور مخلصین کا ایک گروہ تیار ہو جائے گا۔
 
مجھے سمجھ میں نہیں آرہا کہ بات کہاں سے شروع کروں۔ میں آپ کی تائید بھی کرنا چاہتا ہوں اور تنقید بھی کرنا چاہتا ہوں۔ تائید اس لئے کہ ایک موثر 'غیر سیاسی' اور 'غیر مذہبی سیاسی' تنظیم کی ضرورت ہے اور تقریباَ سب کو اس کا احساس ہے۔ یہ تو ہے بہت اچھا۔ ایک ایسی منظم تحریک جس کا مقصد ہو بہتری، امن امان اور بھائی چارہ، جس کا پھیلاؤ کم از کم مسلمانوں کی حد تک عالمی ہو۔ کہ ان لوگوں کی رائے کی اہمیت ایک بلاک کی طرح ہو اور مظبوط ہو۔ کسی بھی قسم کی مجرمانہ کاروائی کی بات نہیں ہورہی ہے۔ اس کی ضرورت کیوں‌محسوس ہوتی ہے یہ بھی واضح‌ہے۔

تنقید اس لئے کہ میری ناقص عقل اور رائے کے مطابق، یہاں ایک بھی شخص تنظیم سازی کے کام کا نا علم رکھتا ہے اور نہ ہی تجربہ اور نہ ہی مختلف قسم کے انسانی رویہ کے معنی جانتا ہے۔ ممکن ہے میں غلط ہوں اور جو لوگ یہ تجربہ رکھتے ہیں انہوں نے اس کا اظہار نہ کیا ہو۔۔ یہ سمجھئے کار کو دیکھنا اور استعمال کرنا اور کار بنانے کی ٹیکنالوجی سمجھنا دو بہت ہی مختلف کام ہیں۔

میرا تنظیم سازی کا تجربہ، ٹوسٹ ماسٹرز سے میری تعلیم کے آخری دنوں میں شروع ہوا۔ یہ تنظیم بہت معمولی قیمت پر کو کہ 4 ڈالر مہینہ ہوتا ہے، ایک ورک شاپ کے ذریعے پبلک اسپیکنگ اور تنظیم سازی سکھاتی ہے۔ پبلک اسپیکنگ کے لئے تو ایک کتاب ہوتی ہے لیکن تنظیم سازی صرف اس کو جوائن کرکے ہی حاصل ہوتی ہے۔ یہ سمجھ لیجئے کہ مینیجمنٹ، آرگنائزیشن، بزنس نیٹ ورک کا پھیلاؤ، الیکشنز، سیلز، اور اس کے نتیجے میں آپ کی ذاتی ترقی اور سمجھ بوجھ میں جو اضافہ ہوتا ہے وہ کسی دوسرے ذرائع سے اتنے کم وقت میں نہیں ہوتا۔

اگر آپ میں سے چند لوگ اس کو دیکھیں اور تنظیم کرنے کی بابت اپنے علم سے سب کو فائیدہ پہنچائیں تو اس کا فائیدہ سب کو ہر فیلڈ میں ہوگا۔
 

عمر میرزا

محفلین
اتنی خاموشی اتنا سناٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی ہے۔۔۔۔
محسن،دوست، انقلابی رہبر ،ظفری بھائی،شامل بھائی ۔۔۔۔۔کدھر چلے گئے آپ لوگ۔۔۔
دو دن سے چکر لگا رہا ہوں دن میں آٹھ آٹھ دفعہ نیٹ لگاتا ہوں ۔۔۔پر کوئی آ ھی نھیں رہا۔۔۔آؤ یار کچھ فائنل تو کرو۔۔۔۔۔
 

خاور بلال

محفلین
” آؤ کہ کوئی خواب بنیں ” یہ غالبا امرتا پریتم کی ایک کتاب کا عنوان ہے ۔ آؤ کہ کوئی خواب بنیں۔ مجھے یہ خیال بہت پسند آتا ہے۔ خواب بننا اور وہ بھی لوگوں کے ساتھ مل کر بُننا ایک ایسے کارواں کی شروعات کا سنگِ میل ہے ۔ جس کا کوئی مسافر ایک نہ ایک دن ہماری اس منزل کا بھی سنگِ میل پا لے گا ۔ اور یہی بات اب یہاں دوستوں نے مخلتف حوالوں ‌سے چھیڑی ہے ۔ کہ ” آؤ کہ کوئی خواب بنیں۔”سفر کھٹن ہے ، صبر آزما ہے ، طویل ہے ، مگر اس سفر کا کامیاب اختیام شاید ہماری آنے والی نسلوں‌ کو ہم پر شرمندہ ہونے سے بچا لے ۔ ہوسکتا ہے بہت سوں ‌کے نزدیک یہ چند دیوانوں کا خواب ہو، مگر ہم یہ بھی دیکھیں کہ تاریخ میں بھی ہمیشہ چند لوگ ہی نے کسی نئی تاریخ کی ابتداء اسی طرح کی کمپرسی کی حالت میں کی ہے ۔

آہ کتنی سچی بات کہی
 

خاور بلال

محفلین
انقلابی جدو جہد کا تقاضا

دنیا میں انقلابی جدو جہد کرنے کے لیے صرف اتنی بات کافی نہیں ہے کہ یہاں صحیح نظریہ موجود ہو۔ صحیح نظریے کے ساتھ ایسے لوگ درکار ہیں جو اس نظریے پر سچا ایمان رکھتے ہوں۔ ان کو سب سے پہلے اپنے ایمان کا ثبوت دینا ہوگا اور وہ صرف اسی طرح دیا جاسکتا ہے کہ وہ جس اقتدار کو تسلیم کرتے ہیں اس کے خود مطیع بنیں، جس ضابطے پر ایمان لاتے ہیں اس کے خود پابند ہوں، جس اخلاق کو صحیح کہتے ہیں اس کا خود نمونہ بنیں، جس چیز کو فرض کہتے ہیں اس کا خود احترام کریں اور جس چیز کو حرام کہتے ہیں اسے خود چھوڑیں۔ اس کے بغیر تو ان کی صداقت آپ ہی مشتبہ ہوگی، کجا کہ کوئی ان کے آگے سر تسلیم خم کرے۔ پھر ان کو اس فاسد نظام، تہذیب و تمدن و سیاست کے خلاف عملاً بغاوت کرنا ہوگی۔ اس سے اور اس کے پیروؤں سے تعلق توڑنا ہوگا۔ ان تمام فائدوں، لذتوں، آسائشوں اور امیدوں کو چھوڑنا ہوگا جو اس نظام سے وابستہ ہوں، اور رفتہ رفتہ ان تمام نقصانات، تکلیفوں اور مصیبتوں کو برداشت کرنا ہوگا جو نظامِ غالب کے خلاف بغاوت کرنے کا لازمی نتیجہ ہیں۔ پھر انہیں وہ سب کچھ کرنا ہوگا جو ایک فاسد نظام کے تسلط کو مٹانے اور ایک صحیح نظام قائم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اس انقلاب کی جدو جہد میں اپنا مال بھی قربان کرنا ہوگا۔ اپنے اوقاتِ عزیز بھی صرف کرنے پڑیں گے، اپنے دل و دماغ اور جسم کی ساری قوتوں سے بھی کام لینا پڑے گا، اور قید اور جلاوطنی اور ضبطِ اموال اور تباہئ اہل و عیال کے خطرے بھی سہنے ہوں گے اور وقت پڑے تو جانیں بھی دینی پڑیں گی۔ ان راہوں سے گذرے بغیر دنیا میں نہ کبھی کوئی انقلاب ہوا ہے، نہ اب ہوسکتا ہے۔
(سید ابوالاعلیٰ مودودی)
 
خاور، ناراض نہ ہوئیے گا۔ کبھی کبھی تو آپ مجھے ہلا دیتے ہیں :) کہ لگتا ہے کہ آپ بہت کچھ جانتے ہیں۔ لیکن پھر وہ کسی اور شخص کا اقتباس نکلتا ہے۔ اس میں برائی تو کوئی نہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ صرف الفاظ شئیر کرنے سے کام نہیں بنتا، نظریہ سمجھ میں آنا چاہئیے۔ یہ تنقید نہیں۔ :)

فرض‌کرلیجئے کہ سیکھنے کے لئے ہم ٹوسٹ ماسٹرز جیسی آسان تنظیم کی مثال رکھ رہے ہیں۔

چلئے ایک ہلکی پھلکی جانچ کرتے ہیں۔ اس سے مقصد کسی کو جانچنا نہیں بلکہ سوچوں میں آپ کی دی گئی بات کا مطلب داخل کرنا ہے۔ کوئی بھی صاحب، درج ذیل جملہ کی وضاحت کریں، اور بتائیں کہ ایک تنظیم (‌ٹوسٹ ماسٹرز) کاممبر شخص کس طرح 'درج ذیل بیان' ثابت کرسکتا ہے؟ اور اس نظریے کے ماننے والے باقی (ٹوسٹ ماسٹرز) لوگ کس طرح ایک شخص کا دیا ہوا، ‌'درج ذیل بیان' کے لئے دیا گئے ثبوت کو قابل قبول تسلیم کریں گے، ایک آسان سی مثال دیجئے :) ذہن میں رکھئے کہ آپ ایک مذہبی یا سیاسی تنظیم کے بارے میں یہ نہیں بتا رہے ہیں۔

دنیا میں انقلابی جدو جہد کرنے کے لیے صرف اتنی بات کافی نہیں ہے کہ یہاں صحیح نظریہ موجود ہو۔ صحیح نظریے کے ساتھ ایسے لوگ درکار ہیں جو اس نظریے پر سچا ایمان رکھتے ہوں۔ ان کو سب سے پہلے اپنے ایمان کا ثبوت دینا ہوگا اور وہ صرف اسی طرح دیا جاسکتا ہے کہ وہ جس اقتدار کو تسلیم کرتے ہیں اس کے خود مطیع بنیں، جس ضابطے پر ایمان لاتے ہیں اس کے خود پابند ہوں، جس اخلاق کو صحیح کہتے ہیں اس کا خود نمونہ بنیں،
 

خاور بلال

محفلین
خاور، ناراض نہ ہوئیے گا۔ کبھی کبھی تو آپ مجھے ہلا دیتے ہیں :) کہ لگتا ہے کہ آپ بہت کچھ جانتے ہیں۔ لیکن پھر وہ کسی اور شخص کا اقتباس نکلتا ہے۔ اس میں برائی تو کوئی نہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ صرف الفاظ شئیر کرنے سے کام نہیں بنتا، نظریہ سمجھ میں آنا چاہئیے۔ یہ تنقید نہیں۔ :)

نہیں فاروق بھائی! اتنی معمولی بات پر میں ناراض کیسے ہوسکتا ہوں۔ مجھے تو اس بات کا خود اعتراف ہے کہ میں بہت کچھ نہیں جانتا۔ گفتگو میں عموماً حاصلِ مطالعہ پیش کرتا ہوں اور یاد ہوتو ریفرینس بھی دے دیتا ہوں۔ البتہ یہ حاصلِ مطالعہ میری زندگی کا قیمتی سرمایہ ہے۔ مجھے مقصد کا شعور اسی سے ملا اور یہی میری زندگی کی بنیاد ہے۔ ڈگمگاتے قدموں کے ساتھ جس راہ پر چلنا چاہتا ہوں اس کے راست ہونے کا مجھے یقین ہے۔ جس معاملے کے بارے میں میرا مطالعہ کمزور ہو صرف زبان کے چٹخارے کیلئے اس پر گفتگو نہیں کرتا۔ کیونکہ کشف و الہام کی کیفیتوں سے معذور ہوں اور دوسروں کو بھی اسی بات کی تلقین کرتا ہوں کہ شریعت پر کلام کرتے ہوئے احتیاط سے کام لیا کریں۔ کیونکہ تحقیق و مطالعہ میں اک عمر کھپائے بنا جو فکر پروان چڑھتی ہے وہ بجز انتشار پھیلانے کے کوئی تعمیری کام انجام نہیں دے سکتی۔ مطالعہ کرنے اور اس سے حاصل کی گئی تفہیم سے ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ انسان حادثات سے سیکھنے کی ذلت سے بچ جاتا ہے۔

فرض‌کرلیجئے کہ سیکھنے کے لئے ہم ٹوسٹ ماسٹرز جیسی آسان تنظیم کی مثال رکھ رہے ہیں۔چلئے ایک ہلکی پھلکی جانچ کرتے ہیں۔ اس سے مقصد کسی کو جانچنا نہیں بلکہ سوچوں میں آپ کی دی گئی بات کا مطلب داخل کرنا ہے۔ کوئی بھی صاحب، درج ذیل جملہ کی وضاحت کریں، اور بتائیں کہ ایک تنظیم (‌ٹوسٹ ماسٹرز) کاممبر شخص کس طرح 'درج ذیل بیان' ثابت کرسکتا ہے؟ اور اس نظریے کے ماننے والے باقی (ٹوسٹ ماسٹرز) لوگ کس طرح ایک شخص کا دیا ہوا، ‌'درج ذیل بیان' کے لئے دیا گئے ثبوت کو قابل قبول تسلیم کریں گے، ایک آسان سی مثال دیجئے :) ذہن میں رکھئے کہ آپ ایک مذہبی یا سیاسی تنظیم کے بارے میں یہ نہیں بتا رہے ہیں۔

سید ابوالاعلیٰ مودودی نے ٹوسٹ ماسٹرز کے تناظر میں بات نہیں کی تھی، البتہ اگر بات انقلابی جدو جہد کی ہورہی ہے تو پھر یہ قول universal truth کا درجہ رکھتا ہے۔ مقصود یہ نہیں کہ کوئی شخص اپنی وفاداری کا "ثبوت" پیش کرے۔ بلکہ جو بات بتائی گئی ہے وہ اسی اقتباس کے دوسرے پیراگراف کو پڑھ کر باآسانی سمجھ آسکتی ہے۔ یعنی انقلابی جدوجہد کسوٹی کا درجہ رکھتی ہے اس کی آزمائشیں آپ سے آپ کھرے اور کھوٹے کو الگ الگ چھانٹ لیتی ہیں، اس چھلنی سے وہی گذر سکتا ہے جو اپنے مقصد سے سچی محبت رکھتا ہو اور وقت پڑے تو اس راہ میں اپنی عزیز ترین شے لٹانے میں بھی ایک لمحے کا تامل نہ کرے۔ اس کی آسان مثال غزوہ احد ہے۔ جس کی آزمائش کا اندازہ کرکے منافقین لرز اٹھے اور اپنا راستہ الگ کرلیا جبکہ اہلِ ایمان اپنے دعوٰئ ایمان کے ثبوت میں موت کے منہ میں کود گئے۔
 

ظفری

لائبریرین
فرض‌کرلیجئے کہ سیکھنے کے لئے ہم ٹوسٹ ماسٹرز جیسی آسان تنظیم کی مثال رکھ رہے ہیں۔

چلئے ایک ہلکی پھلکی جانچ کرتے ہیں۔ اس سے مقصد کسی کو جانچنا نہیں بلکہ سوچوں میں آپ کی دی گئی بات کا مطلب داخل کرنا ہے۔ کوئی بھی صاحب، درج ذیل جملہ کی وضاحت کریں، اور بتائیں کہ ایک تنظیم (‌ٹوسٹ ماسٹرز) کاممبر شخص کس طرح 'درج ذیل بیان' ثابت کرسکتا ہے؟ اور اس نظریے کے ماننے والے باقی (ٹوسٹ ماسٹرز) لوگ کس طرح ایک شخص کا دیا ہوا، ‌'درج ذیل بیان' کے لئے دیا گئے ثبوت کو قابل قبول تسلیم کریں گے، ایک آسان سی مثال دیجئے :) ذہن میں رکھئے کہ آپ ایک مذہبی یا سیاسی تنظیم کے بارے میں یہ نہیں بتا رہے ہیں۔

فاروق بھائی آپ نے تو صحیح معنوں میں ہم سب کو ذہنی طور پر متحرک کردیا ہے ۔ ;)

فاروق بھائی کا دیا گیا اقتباس :
دنیا میں انقلابی جدو جہد کرنے کے لیے صرف اتنی بات کافی نہیں ہے کہ یہاں صحیح نظریہ موجود ہو۔ صحیح نظریے کے ساتھ ایسے لوگ درکار ہیں جو اس نظریے پر سچا ایمان رکھتے ہوں۔ ان کو سب سے پہلے اپنے ایمان کا ثبوت دینا ہوگا اور وہ صرف اسی طرح دیا جاسکتا ہے کہ وہ جس اقتدار کو تسلیم کرتے ہیں اس کے خود مطیع بنیں، جس ضابطے پر ایمان لاتے ہیں اس کے خود پابند ہوں، جس اخلاق کو صحیح کہتے ہیں اس کا خود نمونہ بنیں،
میں نے پہلی دفعہ مولانا صاحب کے اس اقتباس کو پڑھا ہے اور میری عقلِ ناقص اس اقتباس کو جس طرح سمجھ کر اختلاف پر تیار ہوئی ہے وہ میں پیش کردیتا ہوں ۔

میرا خیال ہے کہ بات یہاں اقدار پر ہورہی ہے ۔ اور ظاہر ہے کہ یہ اقدار کسی معاشرے میں پنہاں ہوگا ۔ مگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ نظریہ کا کوئی Locale نہیں ‌ہوتا ۔ نظریہ ایک Principal نسبت کا نام ہے ۔ مگر معاشرے کا کوئی بھی Locale ہوسکتا ہے ۔ اور معاشرتی تقاضہ نظریئے سے وفاداری سے مشروط ہوتا ہے ۔ نظریہ کسی بھی معاشرے کے معنی ِ وجود کو متعین کرنے کا ایک پیمانہ ہے ۔ جس سے وہ معاشرہ اپنے اندر موجود خوبیوں اور خرابیوں کا مشاہدہ کرتا رہتا ہے ۔ کوئی بھی معاشرہ کسی بھی نظریاتی Perfection کو نہیں پہنچ سکتا ۔ مگر وہی معاشرہ بنیادی طور پر ایک کامیاب معاشرہ ہے ۔ جس کی خرابیاں بھی اس کے نظریئے سے منحرف یا غیر متعلق نہ ہونے پائیں ۔ نظریہ اپنی Conceptualization فورم میں دوسرے تمام اصولوں کی طرح مکمل ہوگا ۔ لیکن نظریہ جیسے ہی عملی مظاہر اختیار کرے گا تو اس سے ہرگز ایسا کوئی مطالبہ وقوع پذیر نہیں ہوگا کہ وہ معاشرے سے کہے کہ وہ اس کو اپنی معاشرتی اعضاء میں ٹرانسلیٹ کرکے دکھائے ۔ لہذا ایسا معاشرہ جہاں‌ کوئی" صحیح نظریہ " پنپ رہا ہے ۔ ضروری نہیں ہے کہ وہ معاشرہ Self Correction کے عمل میں ناکام ہوجانے کے باعث Self Corrective کے اصولوں سے بھی منحرف ہوجائے ۔ یہ کسی بھی معاشرے کے لیئے ممکن نہیں ہے ۔

مولانا صاحب کی بات اخلاقی اور مذہبی طور پر صحیح مانی جا سکتی ہے مگر کسی نظریہ کو اساس بنانے کی صورت میں دیگر مطالبات کو اس سے وابستہ کرنا تصادم کا باعث بن سکتا ہے ۔
 

محسن حجازی

محفلین
مولانا مودودی کی بات جو کی جا رہی ہے اگر سیاق سے ہٹ کر دیکھی جائے تو کوئی قباحت نہیں۔ واقعی ارکان کی وابستگی میں یہ سب سے اہم عامل ہے تاہم اس کا یہ مطلب لینا کہ جب تک سارے کہ سارے لوگ حاجی ثنااللہ کے درجے تک نہیں پہنچتے، کچھ نہیں کیا جا سکتا، میں سمجھتا ہوں کہ غلط ہے۔

جیسا تیسا بھی عمل اور کردار ہے، اگر کچھ کرنے کی تڑپ ہے تو پہلے متحد ہوں۔۔۔ ایسی کسی تنظیم (اسم نہیں صفت کے طور پر لفظ استعمال کر رہا ہوں) کا اپنا مومینٹم یا معیار حرکت ارکان کے نکلے ہوئے کونے بھی درست کر دے گا۔۔۔۔

اگر مگر کی بجائے سفر۔۔۔۔

دیگر تنظیمی امور کی سوجھ بوجھ۔۔۔ تو میں سمجھتا ہوں کہ دیوار رنگنے کے لیے کلر کیمسٹری میں ڈاکٹریٹ ہونا ضروری نہیں۔۔۔۔ میں اسی اصول پر کاربند رہا ہوں اور اسے آزمودہ پایا ہے۔۔۔ ورنہ تنظیموں کی تواریخ، ڈھانچے اور حرکیات کے بارے میں مختلف مصنفین کی رائے پڑھتے رہ جائیں گے اور ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔
 
Top