مقفل مسجد میں بلند آواز میں آذان سے لوگ متحیر

محمد علم اللہ نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 25, 2013

  1. باباجی

    باباجی محفلین

    مراسلے:
    3,844
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Curmudgeon
    آپ Extratorrent.cc کے بجائے Extratorrentproxy.com کرلیں یا کسی بھی Torrentسائٹ پر جا کر ghost hunters سرچ کرلیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. زبیر حسین

    زبیر حسین محفلین

    مراسلے:
    584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    ٹھیک ہے جناب
     
  3. ابن رضا

    ابن رضا لائبریرین

    مراسلے:
    4,236
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    جناب ِ زندگی و باباجی ایک بات تو بتائیں کیا سرچ کرنا چاہتے ہیں ، ایک مسلمان کے لیے قران سے بڑی اور معتبر کوئی اور سند ہو سکتی ہے؟؟؟؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  4. زبیر حسین

    زبیر حسین محفلین

    مراسلے:
    584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    یہ تلاش اپنے لئے نہیں ہے بھئی
     
    • متفق متفق × 1
  5. رانا

    رانا محفلین

    مراسلے:
    2,777
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    ایک بات یہ کہنا چاہوں گا کہ جو جنات کو نہیں مانتا اس پر کفریہ فتوے لگانے کی ضرورت نہیں۔ وہ نہیں مانتا اسکی مرضی آپ مانتے ہیں آپ کی مرضی۔ جبر تو ہے ہی نہیں۔ نہ ماننے والا اگر نہ ماننے کی وجوہات بتا رہا ہے تو غصہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ غصہ تو تب آنا چاہئے کہ اگر وہ کہے کہ نہیں میں نہیں مانتا اور وجہ بھی نہیں بتاؤں گا۔

    بہرحال جنات کا ذکر کیوں کہ قرآن میں موجود ہے اس لئے مانے بغیر چارہ نہیں۔ کیوں کہ مسلمان کو اس بات میں نہیں پڑنا چاہئے کہ لیبارٹری میں ثابت ہوگی تو مانوں گا۔ قرآن نے جنات کا ذکر کیا ہے تو ماننا ہی پڑے گا۔ لیکن جو قرآن کا حوالہ دے کر زبردستی وہ چیز منوانا چاہتے ہیں جو ان کے ذہن میں ہے تو ان سے میں کہوں گا میں صرف وہی مانوں گا جو قرآن میں ہے، وہ نہیں مانوں گا جو آپ کے ذہن میں ہے کہ لنگوٹی پہنے ہوئے دو سینگوں والا عورتوں سے فلرٹ کرتا ہوا پکڑا جانے والا جن جو پکڑے جانے پر جب تک کسی عامل سے چھتر نہ پڑیں جان ہی نہیں چھوڑتا۔ ایسے جن کا نہ قرآن میں ذکر ہے نہ میں اسکا قائل ہوں۔ جو ایسے کو مانتے ہیں وہ قرآن سے ہی ثبوت دیں ورنہ دھونس زبردستی سے نہ منوائیں۔

    عربی میں تو خوبصورت باپردہ عورتوں کو بھی جن کہا گیا ہے اب ایسے جن کو لیبارٹری سے باہر بھی ثابت کیا جاسکتاہے۔ پھر بڑے آدمیوں اور خاص کر متکبر آدمیوں کو جن کی ڈیوڑھیوں پر دربان ہوتےہیں کہ عوام الناس ان سے مل ہی نہیں سکتے ان کو بھی جن کہا گیا ہے۔ ایسے جنوں کا وجود بھی لیب سے باہر ہی نظر آجاتا ہے۔قرآن سے بھی کئی جگہ پتہ لگتا ہے کہ ایسے انسانوں کے لئے بھی جن کا لفظ بولا گیا ہے۔ پھر انسانی نگاہ سے اوجھل اور پوشیدہ نظر نہ آنے والی شے کو بھی جن کہا جاتا ہے لیکن اس کی خیالی تصویر اپنے ذہن میں بنانے کی ضرورت نہیں۔ ایک حدیث بھی ہے کہ ہڈیوں اور خشک گوبر سے استنجا نہ کیا کرو کیونکہ وہ جنوں کی خوراک ہیں۔ اس حدیث کی سچائی وہ لوگ زیادہ بہتر جان سکتے ہیں جو گاؤں دیہات کے ماحول میں رفع حاجت کو کبھی باہر گئے ہوں۔ کہ ایسے مواقع پر استنجا کرنے کو جو چیزیں سامنے نظر آتی ہیں ان میں پتھر، ہڈیاں وغیرہ نمایاں ہیں۔ ان تمام چیزوں میں سے جس چیز پر سب سے زیادہ جراثیم یا بیکٹریا ہوتےہیں وہ ہڈیاں ہیں۔ جن سے استنجا کرنے سے سخت نقصان اور بیماریوں کا اندیشہ ہے۔ اب بیکٹریا ظاہری آنکھ سے نظر نہیں آتے لیکن ان جنات کو لیبارٹری میں دیکھا بھی جاسکتا ہے۔ یہاں ایک بات دلچسپ ہے کہ قرآن بھی کہتا ہے کہ انسان سے پہلے جنات کو سخت گرم ہوا کی آگ سے بنایا اور سائنسدان بھی زندگی کے آغاز میں تسلیم کرتے ہیں کہ ابتدائی جاندار یک خلوی یا بیکٹریا ہی تھے جو حرارت سے توانائی حاصل کرتے تھے۔بہرحال جنہیں سائنس کا ذکر پسند نہ ہو تو وہ اس بات کو نہ بھی مانیں لیکن ہڈیوں والی حدیث پر تو غور کرنا چاہئے۔ ان انسانی آنکھ سے اوجھل، ہڈیوں اورخشک گوبر پر گزارا کرنے والے بیکٹیریا کے لئے جن کے لفظ کا اطلاق تو بالکل فٹ بیٹھتا ہے۔ تو جب اصلی جنات موجود ہیں تو کیا ضرورت ہے کہ خیالی جنات کی ذہن میں تصویر کشی کی جائے۔ ان کے علاوہ بھی جنات نام کی کوئی مخلوق ہوگی اور ضرور ہوگی عدم علم سے عدم شے تو لازم نہیں۔ اللہ نے بہت سی مخلوق بنائی ہے لیکن خدا کی مخلوق کو چھوڑ کر ہمیں اپنے ذہن میں بنائی گئی بھونڈی سے مخلوق پر ایمان لانے پر کیوں مجبور کیا جاتا ہے جس کو منوانے کی کوشش کرنے والوں نے کبھی خود بھی نہیں دیکھا ہوتا۔ صرف سنے سنائے قصے ہوتے ہیں۔

    جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ سینکڑوں سالوں سے اتنے لوگ ان کا ذکر کرتے آئے ہیں تو ماننے کا امکان کھلا رکھنا چاہئے۔ اس پر ایک واقعہ یاد آگیا کافی عرصے پہلے پڑھا تھا۔غالبا تقسیم کے آس پاس کی بات ہے کہ ایک فرانسیسی لڑکی کو دورے پڑنے شروع ہوگئے اور دوروں کی حالت میں وہ جرمن زبان میں دعائیں پڑھنا شروع کردیتی۔ جبکہ وہ لڑکی جرمن زبان کا ایک حرف بھی نہ جانتی تھی۔ اب تو سب نے شور مچا دیا کہ جنات کے حملے میں اب کیا شک باقی رہا کہ اس لڑکی کو تو جرمن آتی ہی نہیں یہ تو فرانسیسی ہے۔ اب اس واقعے سے اندازہ لگائیں کہ یہ اگر کوئی ہزار دو ہزار سال پہلے ہوا ہوتا تو کس نام سے مشہور ہوتا۔ ظاہر ہے کہ ہزاروں نے اسے سالوں تک بیان کرتے چلے جانا تھا کہ فلاں جگہ اس لڑکی پر جن عاشق ہوئے تھے۔ لیکن یہ بیسویں صدی کا واقعہ تھا اور ستم یہ کہ علاج کرنے والے ڈاکٹروں میں سے ایک ایسا بھی تھا جو ہر چیز کو سائنسی بنیاد پر پرکھنے کاعادی تھا۔ اس نے اس کی کھوج لگانے کی ٹھانی اور پتہ لگایا کہ جب یہ لڑکی دو سال کی تھی تو اس کی ماں ایک جرمن پادری کے پاس چرچ میں کام کرتی تھی۔ اس نے اس پادری کا پتہ لگایا اور وہاں تک پہنچا تو پتہ لگا کہ اس کا تو انتقال ہوگیا ہے۔ اس نے پادری کے گھروالوں سے پادری کی پرانی چیزیں اور کاغذات وغیرہ دیکھنے کو خواہش کی تو اس کے پرانے کاغذات جو گھر والوں کے پاس محفوظ تھے وہ ڈاکٹر کو دکھائے گئے۔ اس ڈاکٹر نے دیکھا کہ اس کے ہاتھ کے لکھے ہوئے کاغذات میں وہی سرمن لکھی ہوئی ہیں جو وہ لڑکی دوروں کی حالت میں پڑھتی تھی۔ جب وہ پادری سرمن دے رہا ہوتاتو یہ بچی اس وقت قریب ہی جھولے وغیرہ میں پڑی ہوتی اور اس وقت کی سرمن اس کے ذہن کے گوشوں میں محفوظ تھی جو ان دوروں میں لاشعوری طور پر زبان پر آگئی۔ اس واقعے سے جنات کے حامیوں کو شائد دھچکا لگے لیکن دوسری طرف ان کے لئے ایک مثبت چیز یہ ہے کہ اسلام میں بچے کے پیدا ہوتے ہی کان میں اذان کہنے کا حکم ہے۔ اس حکم کی حکمت کا اس واقعے سے پتہ لگتا ہے کہ بچہ جب اس دنیا میں آجاتا ہے تو اس کا دماغ اب اس قابل ہے کہ اسکی اسی وقت سے تعلیم و تربیت کا خیال رکھا جائے ۔

    ایک بات کسی نے یہ کہی کہ سائنس خدا کے وجود کو ثابت کرسکتی ہے۔ تو وہ خدا ہی کیا جس کو سائنس ثابت کربیٹھے۔ سائنس صرف ‘ہونا چاہے’ تک جاسکتی ہے۔ لیکن ‘ہے’ کے مرتبہ تک پہنچنا اس کی مجال نہیں۔ قرآن میں ہے کہ آنکھیں اس کو نہیں پاسکتیں البتہ وہ آنکھوں تک پہنچتا ہے۔ یعنی خدا خود ہی اپنا جلوہ دکھاتا ہے تو یقین کا مرتبہ حاصل ہوتا ہے ورنہ ‘ہونا چاہئے’ سے آگے بات ہی نہیں بڑھ سکتی۔ یہ صرف انبیاء کا کام ہے کہ ان کے ذریعے خدا کا وجود ثابت ہوتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  6. ابن رضا

    ابن رضا لائبریرین

    مراسلے:
    4,236
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    تو کس کے لیے ہے؟ کیا کسی غیر مسلم کی تشفی کرنی ہے ؟؟؟
     
  7. ابن رضا

    ابن رضا لائبریرین

    مراسلے:
    4,236
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    بہت مفصل بات کی ہے آپ نے اللہ آپ کو جزا دے، بہرحال ہر انسان کو اپنا نقطہ نگاہ بطریق احسن پیش کرنے میں کوئی عار نہیں۔ کہ ہمارے دین میں بھی جبرکی کوئی جگہ نہیں۔ تاہم تضحیک کرنے سے دامن بچانا چاہیے۔ جیسے مثال کے طور پہ اگر مجھے خدا کے وجود کو سائنسی دلیلوں سے ثابت کرنے کی ذمہ داری دی جائے تو میرا کم علمی کے سبب میرا دامن خالی ہے کیونکہ سائنس کسی بگ بینگ کو مانتی ہے اور میں کن فیکون کو ۔۔سو اس خالی دامن کی بنیاد پر عقیدوں کی تضحیک تو کوئی احسن قدم نہیں؟؟؟ اور نہ ہی کسی پر کفر کے فتوے لگانے کا کسی کو اختیار ہے ہاں درست کو درست اور ٖغلط کو غلط کہنے کا حق تو ہر مہذب معاشرے کا قائدہ ہے
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 30, 2013
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    9,734
    موڈ:
    Cheerful
    پہلی بات تو یہ کہ خواب اب سائنس سے کچھ اتنا دور نہیں رہے۔ خواب کیوں آتا ہے، کیسے آتا ہے، اس پر بہت کچھ موجود ہے اور بہت کچھ زیر تحقیق ہے۔ لہذا خواب کی حقیقت دلیل سے خالی نہیں۔ اور نہ ہی محض فرد کی پرسیپشن تک محدود ہے۔
    اب مسئلہ رہا جن بابا کا۔۔۔
    تو اگر تو آپ "جن" کو ایک "Alien" سمجھ لیں تو سائنس فی الوقت "خلائی مخلوق" کا انکار یا اقرار نہیں کر رہی۔ کوئی حتمی فیصلہ نہیں آیا۔ بلکہ سائنس اور سائنسدانوں کا رویہ اس پر بہت مثبت ہے۔ دوسری دنیاؤں میں زندگی تلاش کرنے کی سرتوڑ کوششیں جاری ہیں۔
    کیا آپ "جن" (Alien) کے اس ورژن پر خوش ہیں ؟ :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 4
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  9. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    ایسی ویڈیوز بنانا کون سا مشکل ہے بھائی میرے۔۔۔
     
    • متفق متفق × 1
  10. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    جس احساس کا نام ہم نے سردی رکھ لیا ہے وہ دراصل حرارت کی کمی ہی ہے۔ مثلاً ہم کہتے ہیں کہ سورج دیگر کئی ستاروں کی نسبت بہت ٹھنڈا ہے حالانکہ اس کا درجۂ حرارت ساڑھے پانچ ہزار سینٹی گریڈ ہے تو دراصل ہم یہی کہہ رہے ہوتے ہیں کہ سورج کم گرم ہے دیگر کئی ستاروں کی نسبت۔
    آپ کا پورا سوال یہ تھا:
    اس کے دو حصے کر لیتے ہیں۔۔۔
    اس حصے کا جواب دے چکا ہوں کہ سردی کچھ بھی نہیں۔۔۔
    انرجی کا اپوزٹ ہم سردی کو نہیں کہہ سکتے کیوں کہ تھرمو ڈائنامکس کے اصولوں کے تحت مطلق صفر absolute zero درجۂ حرارت ممکن ہی نہیں اور ہم مطلق صفر یا ایبسلوٹ زیرو صرف اس کم ترین درجۂ حرارت کو کہتے ہیں جو موجود ہونا ممکن ہے۔
    انرجی کا اپوزٹ کچھ نہیں جیسا کہ آپ کا یا میرا کوئی مطلق اپوزٹ نہیں۔۔۔ کوئی شے یا ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔۔۔ ہاں!کچھ تھیوریزپیش کی گئی ہیں جو نیگیٹو ماس یا نیگیٹو انرجی کا نظریہ پیش کرتی ہیں لیکن ان تھیوریز کو ابھی تک تجربات سے ثابت نہیں کیا جا سکا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  11. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    آپ یہ دیکھیئے کہ ایک علاقے کے مسلمان ہندو مسلم فسادات کی وجہ سے علاقہ چھوڑ گئے ہیں۔ اب مسجد سے اگر اذان بفرضِ محال سنائی بھی تو کیا وہ ہندو فرقے والے جنہوں نے بزورِ طاقت مسلمانوں کو بھگا دیا ہے، وہ اس کی تشہیر کرنا پسند کریں گے کہ مسلمانوں کی مسجد سے اذان ہو رہی ہے؟ کیا اس سورس کی تصدیق کے لئے مزید بھی کوئی عقلی دلیل درکار ہے؟
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  12. ابن رضا

    ابن رضا لائبریرین

    مراسلے:
    4,236
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    قیصرانی صاحب یہاں یہ بحث تمام ہو چکی کہ اذان کس نے دی کسی بشر نے کہ جن نے؟ بلکہ یہ بحث جاری ہے کے جن کا وجود ہے یا نہیں۔ رہی بات اذان کی تو توہم پرستی بھی شیاطین کے حیلے ہوتے ہیں سادہ لوح لوگوں کو ورغلانے کے اس لیے اللہ ہی جانے کے اذان کس نے دی۔ناہی ہمیں سنی سنائی بات پہ من و عن یقین کر لینا چاہیے کہ بعض اوقات آنکھوں دیکھا بھی سچ نہیں ہوتا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 1
  13. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    یہ بہتر ہے کہ
    اذان دی بھی گئی کہ نہیں
     
    • متفق متفق × 3
  14. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    جو خدا کو نہیں مانتا وہ تو کہے گا کہ خدا کے ہونے کی دلیل لایئے تو مانوں :)
     
    • متفق متفق × 1
  15. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    درجہ حرارت یا گرمی اور سردی بنیادی طور پر مالیکیولز کی حرکت کو کہتے ہیں۔ جب آپ مالیکیولز کی حرکت کو کم یا زیادہ کرتے ہیں تو درجہ حرارت کم یا زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ یعنی جب مالیکیولز ایک دوسرے سے زیادہ ٹکرائیں گے تو ایک دوسرے پر توانائی صرف کریں تو ہمیں وہ گرم جسم محسوس ہوگا اور جب یہ حرکت کم ہو جائے گی تو درجہ حرارت کم محسوس ہوگا۔ خلاء میں چونکہ مادہ نہ ہونے کے برابر موجود ہوتا ہے اس لئے وہاں درجہ حرارت انتہائی کم رہتا ہے :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 1
  16. ابن رضا

    ابن رضا لائبریرین

    مراسلے:
    4,236
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    یہ تو شکر ہے کہ یہ بات قرانی سند ہے کہ جن و شیاطین بھی موجود ہیں اگر یہ حدیث کی بات ہوتی تو روایات اور راوی سے ابہام و اختلاف ہو سکتا تھا لیکن اس صورت میں ایسا نہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  17. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    مسئلہ یہیں پیدا ہوتا ہے جو بندہ مسلمان ہی نہیں یا کسی مذہب کو نہیں مانتا، اسے کیسے سمجھایا جائے کہ بھئی سیدھی راہ پر آ جاؤ، ورنہ جن کھا جائے گا؟
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  18. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    بالکل! مالیکیولز اور ایٹمز کی حرکت سے حرارپیدا ہوتی ہے اور حرارت انرجی کی ایک قسم (تھرمل انرجی)ہے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  19. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    جی جی، جیسے اسلام کا پہلے سے ہی خدا حافظ نہیں :grin:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  20. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    اللہ نے اسلام کی حفاظت کی ذمے داری تو لی ہی نہیں۔۔۔ اس نے تو صرف قرآن کی حفاظت کا ذمہ لیا تھا۔
    اِنّا نحن نزّلنا الذّکر و اِنّا لہُ "لحٰفظون"
     
    • متفق متفق × 2

اس صفحے کی تشہیر