مقفل مسجد میں بلند آواز میں آذان سے لوگ متحیر

محمد علم اللہ نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 25, 2013

  1. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    6,782
    موڈ:
    Asleep
    بہت نازک صورت حال ہے۔
    [​IMG]
     
    • پر مزاح پر مزاح × 6
  2. ابن رضا

    ابن رضا لائبریرین

    مراسلے:
    4,228
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    یہ تو کسرِ نفسی سے کام لے رہےہیں اب آپ، علم کے بغیر منطق کو رائج کرنا کہاں ممکن ہے؟
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    آئی کانٹ سٹاپ لافنگ :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  4. ابن رضا

    ابن رضا لائبریرین

    مراسلے:
    4,228
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    یہ تو کچھ بھی نہیں جناب جو کل آپ نے امیر اور غریب کی وضاحت فرمائی تھی وہ اس سے زیادہ پُر مزاح تھی
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  5. ملک عدنان احمد

    ملک عدنان احمد محفلین

    مراسلے:
    373
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Psychedelic
    جی درست فرمایا آپ نے، لیکن میری اس بات کے مخاطب دراصل وہ لوگ تھے جنہوں نے اس خبر کو مذاق میں اڑایا
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  6. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,832
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    خدا کے وجود کی کوئی سائنسی دلیل موجود نہیں ہے لیکن یہ زمین اور اسمیں موجود انتہائی ذہانت رکھنے والی مخلوق (انسان) کا خودکار طور پر لامتناہی قدرتی حادثات یا واقعات کے بعد وجود میں آجانا اور اپنے آپ کو قائم رکھنا سائنسی ریاضیاتی بنیادوں پر ناممکن ہے۔
    http://pleaseconvinceme.com/2012/evidence-for-god-from-probability/
     
    • متفق متفق × 3
    • زبردست زبردست × 1
    • مضحکہ خیز مضحکہ خیز × 1
  7. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,832
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    یہ کام فلسفی کا نہیں ماہر ریاضیات کا ہے۔ سائنس کی تھیوری غلط ہو سکتی ہے۔ ریاضیات کا احتمال نہیں۔
     
  8. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,832
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    جناب یہ کام سرے سے فلسفیوں کا ہے ہی نہیں۔ سائنس فلسفانہ سوچ کو نہیں مانتی البتہ ریاضیات سے کام چل جائے گا۔
     
  9. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,832
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    سردی توانائی کا نہ ہونا ہے۔ یہ ایک ایسی طبیعاتی حالت ہے جسمیں ایٹم متحرک نہیں ہوتے اور اپنی قدرتی حالت میں ہوتے ہیں:
    http://en.wikipedia.org/wiki/Absolute_zero
     
  10. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    6,782
    موڈ:
    Asleep
    ریاضی سے خدا کے وجود کو کیسے ثابت کیا جا سکتا ہے؟
     
  11. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,832
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    ثابت نہیں کیا جا سکتا لیکن ملحدین اور دہریوں کو باور کروایا جا سکتا تھا کہ انکی سوچ کس قدر غلط ہے جو یہ کہتے ہیں کہ یہ زندگی محض قدرتی ارتقاء کا نتیجہ ہے۔ اگر یہ بات ہوتی تو زندگی ارب ہا سال کے خود مختار ارتقائی عمل کے بعد بہت ہیبت ناک شکل اختیار کر سکتی تھی لیکن اسنے انسان جیسی اشرف المخلوقات کو کیسے جنم دیا اسکا کوئی سائنسی اور ریاضیاتی جواب موجود نہیں ہے ان جاہلین کے پاس!
    خدا کے وجود کو اگر سائنسی طور پر ثابت نہیں کیا جا سکتا تو جھٹلایا بھی نہیں جا سکتا۔
     
    • متفق متفق × 1
  12. زبیر حسین

    زبیر حسین محفلین

    مراسلے:
    584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    لیکن یہ بحث جنات سے ہٹ رہی ہے۔۔۔
     
  13. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,832
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    یہ بحث جنات کے وجود کے بارہ میں ہے ہی نہیں۔ دھاگے کا عنوان چیک کریں۔
     
  14. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    6,782
    موڈ:
    Asleep
    پھر اس کا مطلب تو یہی ہے کہ سائنس اور ریاضی اس مقصد کے لئے مناسب ٹول نہیں ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  15. زبیر حسین

    زبیر حسین محفلین

    مراسلے:
    584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    جانتا ہوں،
    لیکن جنات پر بحث اس سے ملتی جلتی تھی خیر آپ آزاد ہیں کوئی بندش نہیں۔
     
  16. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    تمہارے حسن میں سائنس کا بھی دل الجھتا ہے
    کمر کو دیکھ کر و ہ خطِّ اقلیدس سمجھتا ہے۔۔۔۔:D
     
    • زبردست زبردست × 3
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  17. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,832
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    ایمان اور یقین کا تعلق انسانی نفسیات سے ہے نہ کہ انکے پس پردہ حقائق سے۔ خدا، جنات، ارواح تو بہت لمبی بحث ہو جائے گی، ہم صرف یہاں مادی ظاہری و باطنی معاشی نظام کی بات کر لیتے ہیں۔ سارا زمانہ جانتا ہے کہ کاغذی نوٹ، کرنسی، اکاؤنٹ بیلنس محض فرضی اعداد ہیں۔ انکی اپنی ذات میں کوئی قدر مطلق نہیں ہے۔ لیکن اسکے باوجود چونکہ سارا زمانہ انکی بدولت معاش و تجارت کرتا ہے اسلئے ایک بالغ اور صحت مند انسان کیلئے یہ عجیب سی بات نہیں ہے کیونکہ وہ بچپن ہی سے اس غیر فطری چیز کا عادی ہوتا ہے۔ اگر انسان بالغ پیدا ہوتے اور انکو اس کاغذی ردی نوٹوں اور اے ٹی ایم کے استعمال پر مجبور کیا جاتا تو وہ پاگل ہو کر جنگلوں میں بھاگ جاتے! سائنس دانوں نے بندروں پر تجربات کرکے یہ ثابت کیا کہ کس طرح یہ معاشی نظام انسانیت کو تباہ کر رہا ہے جب ایک قسم کے بندروں کو کرنسی کا استعمال سکھایا گیا جسکے بعد ان کے معاشرہ میں انسانی معاشرے جیسا تہلکہ مچ گیا:
    پس کہنے کا مطلب یہ ہے کہ خدا، ارواح، جنات کے تصورات چونکہ بچپن ہی سے ہمارے معصوم اور کند ذہنوں میں ڈال دئے جاتے ہیں یوں بڑھتے بڑھتے بالغ ہونے تک ہمیں ان پر یقین کامل ہونے لگتا ہے اور ہم دانستہ سوچتے ہی نہیں کہ انکے پیچھے حقائق بھی ہیں یا نہیں۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 3
    • غیر متفق غیر متفق × 1
  18. عبدالقیوم چوہدری

    عبدالقیوم چوہدری محفلین

    مراسلے:
    17,101
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ۔۔۔۔۔کچی لسی ۔۔۔۔۔
     
    • متفق متفق × 1
  19. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    9,693
    موڈ:
    Cheerful
    آپ کے عقیدہ کرنسی پر بات کرنے کو تو یہ دھاگہ موزوں نہیں۔ البتہ یہ کہتا چلوں کہ تصور خدا اور سپرنیچرل پر اعتقاد انسانی نفسیات کا حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر معاشرے میں یہ کسی نہ کسی صورت میں موجود رہا ہے۔
     
  20. رانا

    رانا محفلین

    مراسلے:
    2,696
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    آپ کی بات کو ہی قرآن کے حوالے سے تھوڑا آگے بڑھاؤں گا کہ قرآن میں ذکر ہے کہ میں نے روحوں سے پوچھا کیا میں تمہارا رب نہیں تو انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ یعنی انسان کی فطرت میں ہی خدا کی طرف سے یہ بات رکھ دی گئی ہے کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے کی جستجو کرے اور اسکا دماغ اس طرف متوجہ رہتا ہے کہ کوئی تو ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دور دراز جزائر اور جنگلوں میں بھی آپ چلے جائیں جہاں جدید مذاہب کا تصور بھی نہ پہنچا ہو تو وہاں بھی رب کا تصور کسی نہ کسی رنگ میں پایا جاتا ہے۔
    تُو نے خود روحوں پہ اپنے ہاتھ سے چھڑکا نمک
    اُس سے ہے شورِ محبت عاشقانِ زار کا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر