مشاعرہ ---- فی البدیہہ اشعار کہیں۔

اے ساقی خم اور ساغر سے، اب پردہ اٹھا بیتاب ہیں ہم
محفل سے ہمیں دھتکار نہیں، گرویدہِ بادہِ ناب ہیں ہم

محفل میں جو بیٹھیں تو رونق، یاروں میں جو آئیں گل طینت
بس ٹھیک کہا ہے یاروں نے، مسکونِ دلِ احباب ہیں ہم


سبحان اللہ۔

کچھ ہوش و خرد سے کام نہیں، پھر دیکھتے ایسے خواب ہیں ہم
ہر گام پہ فتح و نصرت ہے، ہر راہ بڑے شاداب ہیں ہم۔ :rolleyes:
 
خلیل بھائی اگر یہ واقعی مشاعرے کی محفل ہے تو اس میں سے تبصرے علیحدہ کرنا بہتر رہے گا۔

نبیل بھائی آپ کا کہا سر آنکھوں پر، لیکن صاحبِ مراسلہ جناب مزمل شیخ بسمل بھائی نے اسے ایک خاص فارمیٹ دیا ہے جسکے مطابق صرف ایک فی البدیہہ شعر بھی پیش کیا جاسکتا ہے ۔ نیز مصرع طرح ہر روز تبدیل کیا جائے گا۔ ایسی صورت میں تو تبصرے بھی لطف دیں گے۔ کیا خیال ہے؟
 
خلیل بھائی اگر یہ واقعی مشاعرے کی محفل ہے تو اس میں سے تبصرے علیحدہ کرنا بہتر رہے گا۔

نبیل بھائی ہلکا پھلکا تبصرہ کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ بس یہ ہے کہ دھاگے میں جو مصرع چل رہا ہے اس طرح پر ہر مراسلے میں ایک شعر ہونا لازم ہے۔ اپنے سے پچھلے والے شعر پر داد وغیرہ بھی اسی مراسلے میں ہو۔ محض تبصرے کے لئے مراسلے کا استعمال نہ کیا جائے اسکے لئے ریٹ کرنا کافی ہے۔
جس طرح محفل میں آج کا شعر، آج کا فارسی شعر وغیرہ کی لڑیاں ہیں اسی طرح یہ لڑی ”آج کا فی البدیہہ مشاعرہ“ کہلا سکتی ہے۔

کیا کینہ بھی رکھ کر سینے میں محبوبِ دلِ احباب ہیں ہم؟
کچھ شعر سنا کر شاعر اور ادیب بلا آداب ہیں ہم
 
کیا کینہ بھی رکھ کر سینے میں محبوبِ دلِ احباب ہیں ہم؟
کچھ شعر سنا کر شاعر اور ادیب بلا آداب ہیں ہم

کچھ ہوش و خرد سے کام نہیں، پھر دیکھتے ایسے خواب ہیں ہم
ہر گام پہ فتح و نصرت ہے، ہر راہ بڑے شاداب ہیں ہم۔ :rolleyes:


واہ وا۔ بہت عمدہ
 

الف عین

لائبریرین
جب شعر کی گنگا سوکھ گئی، تخلیق کے سوتے خشک ہوئے
اب تم سے کیا ہم جھوٹ کہیں، کیسے کہہ دیں شاداب ہیں ہم
 
جب شعر کی گنگا سوکھ گئی، تخلیق کے سوتے خشک ہوئے
اب تم سے کیا ہم جھوٹ کہیں، کیسے کہہ دیں شاداب ہیں ہم


واہ بہت ہی خوب استاد محترم

گو شعر کی گنگا سوکھ گئی، تخلیق کے سوتے بھی خشک سہی
مشہور ہے پھر بھی استادی، کیونکر نہ کہیں شاداب ہیں ہم؟
 
غزل مکمل کرتا مگر چونکہ گیارہ بجے لائٹ جائے گی تو جو بیس پچیس منٹ میں بن سکے وہ لیجئے اور برداشت کیجئے ;) :
اٹھے تھے ڈبونے کشتئ غم سمجھے تھے کوئی گرداب ہیں ہم​
جب ابر چھٹے تو یہ جانا قزاق نہیں غرقاب ہیں ہم​
ہر موج ہے دریا کی ساکن حیران ہے ساحلِ چشم براہ​
اے بادِ موافق زور لگا بادل میں گھرے مہتاب ہیں ہم​
اے سنگِ زمانہ توڑ نہ دے یہ شیشۂ ذوقِ شعر و سخن​
اے چشمِ جہاں مغرور نہ ہو ہیں آج یہاں پھر خواب ہیں ہم​
فاتحؔ سرِ راہِ دیر و حرم آواز سنائی دیتی ہے​
پانے سے قرابت بھول نہ جا مجذوب ہے تو جذاب ہیں ہم​
 
غزل مکمل کرتا مگر چونکہ گیارہ بجے لائٹ جائے گی تو جو بیس پچیس منٹ میں بن سکے وہ لیجئے اور برداشت کیجئے ;) :
اٹھے تھے ڈبونے کشتئ غم سمجھے تھے کوئی گرداب ہیں ہم​
جو ابر چھٹے تو یہ جانا قزاق نہیں غرقاب ہیں ہم​
ہر موج ہے دریا کی ساکن حیران ہے ساحلِ چشم براہ​
اے بادِ موافق زور لگا بادل میں گھرے مہتاب ہیں ہم​
اے سنگِ زمانہ توڑ نہ دے یہ شیشۂ ذوقِ شعر و سخن​
اے چشمِ جہاں مغرور نہ ہو ہیں آج یہاں پھر خواب ہیں ہم​
فاتح سر راہ دیر و حرم آواز سنائی دیتی ہے​
پانے سے قرابت بھول نہ جا مجذوب ہے تو جذاب ہیں ہم​

واہ بھائی واہ دل فتح کرلیا آپ نے تو۔:)
 

محمداحمد

لائبریرین
واہ واہ واہ ۔۔۔۔۔!

سب ددوستوں نے بہت ہی اچھے اشعار کہے ہیں کہ واقعی دل خوش ہوگیا۔ بہت لطف آیا پڑھ کر۔

ویسے نبیل بھائی کی بات بھی ٹھیک ہے کہ اس دھاگے کو خاص کر شاعری کے لئے رکھا جائے اور تبصرے الگ دھاگے میں۔ سالگرہ کا بہت اچھا دھاگہ بنے گا۔ لیکن اگر یہ مستقل بنیاد پر دھاگہ ہے تو پھر ایسے بھی ٹھیک ہے۔

فی البدیہہ کا خیال تو اُس وقت نہیں آیا تھا لیکن دفتر سے گھر پہنچتے پہنچتے تقریباً پوری غزل ہو ہی گئی تھی۔ سو جیسے تیسے اشعار ہم بھی لے کر حاضر ہوگئے ہیں۔

غزل
ہم اپنی حقیقت کس سے کہیں، ہیں پیاسے کہ سیراب ہیں ہم​
ہم صحرا ہیں اور جل تھل ہیں، ہیں دریا اور پایاب ہیں ہم​

اب غم ہے کوئی، نہ سرشاری، بس چلنے کی ہے تیاری​
اب دھوپ ہے پھیلی آنگن میں، اور کچی نیند کے خواب ہیں ہم​

ہاں شمعِ تمنّا بجھ بھی گئی، اب دل تِیرہ، تاریک بہت​
اب حدّتِ غم، نہ جوشِ جنوں، اے دشتِ طلب! برفاب ہیں ہم​

یہ تنہائی، یہ خاموشی، تارا بھی نہیں اِس شام کوئی​
کچھ داغ سمیٹے سینے میں، تنہا تنہا مہتاب ہیں ہم​

ہم جس میں ڈوب کے اُبھرے ہیں، وہ دریا کیسا دریا تھا؟​
یہ کیسا اُفق ہے جس کی اتھاہ گہرائی میں غرقاب ہیں ہم​

ہم مثلِ شرر ہیں ، جگنو ہیں، ہم تِیرہ شب کے آنسو ہیں​
ہم نجمِ سحر، ہم رشکِ قمر، ہاں ہر صورت شب تاب ہیں ہم​

ایک حزن و ملال کا سیلِ بلا، سب خواب بہا کر لے بھی گیا​
پھر پھول کھلے من آنگن میں، پھر دیکھ ہمیں شاداب ہیں ہم​

لاکھوں ہم جیسے ملتے ہیں، نایاب نہیں ہیں ہم احمدؔ​
ہاں اُن کے لئے، جو دل سے ملے، وہ جانتے ہیں، کمیاب ہیں ہم​
 
غزل
ہم اپنی حقیقت کس سے کہیں، ہیں پیاسے کہ سیراب ہیں ہم​
ہم صحرا ہیں اور جل تھل ہیں، ہیں دریا اور پایاب ہیں ہم​

اب غم ہے کوئی، نہ سرشاری، بس چلنے کی ہے تیاری​
اب دھوپ ہے پھیلی آنگن میں، اور کچی نیند کے خواب ہیں ہم​

ہاں شمعِ تمنّا بجھ بھی گئی، اب دل تِیرہ، تاریک بہت​
اب حدّتِ غم، نہ جوشِ جنوں، اے دشتِ طلب! برفاب ہیں ہم​

یہ تنہائی، یہ خاموشی، تارا بھی نہیں اِس شام کوئی​
کچھ داغ سمیٹے سینے میں، تنہا تنہا مہتاب ہیں ہم​

ہم جس میں ڈوب کے اُبھرے ہیں، وہ دریا کیسا دریا تھا؟​
یہ کیسا اُفق ہے جس کی اتھاہ گہرائی میں غرقاب ہیں ہم​

ہم مثلِ شرر ہیں ، جگنو ہیں، ہم تِیرہ شب کے آنسو ہیں​
ہم نجمِ سحر، ہم رشکِ قمر، ہاں ہر صورت شب تاب ہیں ہم​

ایک حزن و ملال کا سیلِ بلا، سب خواب بہا کر لے بھی گیا​
پھر پھول کھلے من آنگن میں، پھر دیکھ ہمیں شاداب ہیں ہم​

لاکھوں ہم جیسے ملتے ہیں، نایاب نہیں ہیں ہم احمدؔ​
ہاں اُن کے لئے، جو دل سے ملے، وہ جانتے ہیں، کمیاب ہیں ہم​

واہ واہ واہ!
ماشاءاللہ کیا خوب لکھا۔
بہت بہت داد قبول فرمائیے جناب۔
 
Top