مرزا غالب کے ایک شعر کی "حرحرکیاتی" تشریح

ذوالقرنین نے 'غالبیات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 18, 2012

  1. ذوالقرنین

    ذوالقرنین لائبریرین

    مراسلے:
    4,172
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    ہیں زوال آمادہ اجزا آفرینش کے تمام
    مہرِ گردوں ہے چراغ راہگزار باد یاں
    اسداللہ خان غالب نے تقریباً ہر موضوع پر اشعار قلم بند کیے ہیں۔ ان کی شاعری تہذیبی، ثقافتی، مذہبی، فلسفیانہ شعور تو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہیں ہی لیکن اگر بنظرعمیق جائزہ لیا جائے تو ان کی شاعری میں سائنسی شعور بھی شد و مد سے دکھائی دیتا ہے۔ درج بالا شعر کی تشریح، شارحین غالب نے اپنے اپنے انداز اور اپنی ذہنی سطح کے مطابق کی ہے لیکن راقم اسے سائنس کی شاخ "حرحرکیات" (تھرموڈائنامکس) کی روشنی میں واضح کرنے کی کوشش کرے گا۔
    حرحرکیات کا تصور اس وقت سامنے آیا جب 1824ء میں کارنو (Carnot) نے ایک مقالہ تحریر کیا جس میں اس نے بتایا کہ کسی حرارتی انجن کی کارکردگی کس طرح معلوم کی جائے؟ ابھی کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ اس کے مقاصد میں وسعت پیدا ہو گئی اور اسے کائنات کے مجموعی مطالعے میں استعمال کیا جانے لگا اور یوں حرحرکیات کو شہرت مل گئی۔
    غالب کے خیال میں کائنات کے تما م اجزاء رُو بہ زوال ہیں۔ یہاں لفظ "آفرینش" استعمال ہوا ہے جو دراصل فارسی مصدر "آفریدن" سے مشتق ہے۔ اس کا مطلب ہے پیدا کرنا۔ یعنی کائنات میں جو بھی چیز پیدا ہوئی یا تخلیق کی گئی، سبھی کو زوال ہے اور سورج کو بھی "چراغ باد" سے تشبیہ دے کر اس میں شامل کر دیا ہے۔ سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات اپنے انجام کی طرف بڑھ رہی ہے۔
    سورج بھی رُو بہ زوال ہے اور 25 کروڑ ٹن مادہ ہر منٹ میں اشعاع کی شکل میں بکھیر رہا ہے اور یہی حال دیگر ستاروں کا بھی ہے۔ مرزا غالب نے کائنات کی تباہی و بربادی کی توضیح کرنے کی غرض سے سورج کو بطور مثال منتخب کیا ہے کیونکہ تمام کے تمام نظام شمسی کا انحصار سورج پر ہے اور اگر سورج رُو بہ زوال ہے تو پھر نظام شمسی کے دیگر سیارچے کیا معنی رکھتے ہیں؟ سورج بذاتِ خود، بقول غالب، ایک ایسا چراغ ہے جو ہوا کے راستے میں ضوفشاں ہے اور ظاہر ہے کہ ہوا کے راستے میں رکھا چراغ کسی بھی لمحے یا کسی بھی جھونکے پر الوداع کہہ سکتا ہے۔ ہوا کے راستے میں رکھے چراغ کا تا بہ ابد روشن رہنا ناممکنات میں سے ہے اور غالب "مہرِ گردوں" کو اس سے تشبیہ دے کر اس کی زوال آمادگی واضح کرنے کی سعی کر رہے ہیں۔
    اس شعر میں گزرتے وقت کو "باد" یعنی ہوا سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اگر دیکھیں تو وقت یا زمانہ ایک غیر محسوس شے ہے اور غالب نے بڑی عمدگی سے ایک غیر محسوس شے کو محسوس سے تشبیہ دے کر اپنا مدعا واضح کر دیا ہے۔ اگر بغور جائزہ لیں تو وقت جس تیزی کے ساتھ چیزوں کو بدل رہا ہے اور توانائی دن بہ دن کائنات میں پھیل کر منتشر ہو رہی ہے، وہ سب مادے کے تغیر کا نتیجہ ہے۔ اور بقول غالب وقت کی آندھی کے سامنے سورج ایسے طاقتور چراغ کا ٹکنا انتہائی مشکل ہے۔ گزرتے لمحوں کے ساتھ تبدیلیوں کا وقوع پذیر ہونا، دراصل طبیعی تغیر کا نتیجہ ہے۔ یہ طبیعی تغیر ہمیں تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔
    اگر بغور جائزہ لیں تو مشہور سائنسدان جیمس جینز نے اپنی کتاب "The Dying Sun" (مرتا سورج) میں بھی اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ سورج میں ہر وقت ایٹمی افتراق و امتزاج ہوتا رہتا ہے اور یہ کہ ایک ایسا وقت آئے گا جب سورج بالکل بجھ جائے گا۔
    غالب بھی اس شعر کے دوسرے مصرعے میں سورج کو ہوا کے راستے میں رکھے چراغ سے تشبیہ دے کر اس کے بجھ جانے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ جناب شمس الرحمان فاروقی نے بھی اپنی کتاب "تفہیم غالب" میں اس نکتے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ان کے بقول، سورج کی سطح پر مسلسل برپا رہنے والے جوہری طوفان کے نتیجے میں پروٹون (باردار ذرات) کا جم غفیر، روشن گیس کی شکل میں سورج کے گرد کئی لاکھ میل تک پھیل جاتا ہے۔ اس روشن گیس کو بادخورشید (Solar Wind) کہتے ہیں۔ اب یہ بالکل ممکن ہے کہ باد خورشید کے اعتبار سے سورج کو ایسا چراغ کہا جائے جس کا نام "باد" ہے۔
    مختصر یہ کہ غالب جس عہد میں سانس لے رہے تھے اس میں حر حرکیات کے تصور ناکارگی (Entropy) کے اتنے قریب تر شعر کہنا غالب کے وجدان کا کمال ہے۔ محققین کے نزدیک غالب نے یہ شعر 1821ء اور 1826ء کے عرصے کے مابین کہا اور یہی وہ عہد ہے جس میں کارنو نے اپنا مقالہ تحریر کیا۔ یعنی 1824ء میں کارنو (Carnot) کے حرحرکیاتی تصور اور غالب کا عہد ایک ہی زمانے کی پیداوار ہیں۔ دو مختلف جگہوں پر بیٹھ کر دو عظیم شخصیات مختلف شعبہ جات میں ایک جیسا سوچ رہی ہیں۔ اسے ہم اتفاق زمانہ کہیں یا اس عہد کی صورت حال کا تقاضا کہ اتنی بڑی مماثلت بہت کم دیکھنے کو ملے گی؛ اور غالب ایسا نابغہ روزگار اگر ایسا سوچتا ہے تو اس میں حیران ہونے والی کوئی بات نہیں کیونکہ ہر فطین زمانے کا نبض شناس ہوتا ہے اور غالب میں یہ خوبی بدرجہ اتم موجود تھی۔
    غالب کے دیوان میں کئی شعر ایسے ہیں کہ جنہیں جدید نظریات کے تناظر میں رکھ کر دیکھا جائے تو وہ ان پر من و عن درست اترتے ہیں اور غالب کا درج بالا شعر بھی ایسے ہی اشعار میں سے ایک ہے۔
    بشکریہ : گلوبل سائنس شمارہ مئی 2012​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
    • زبردست زبردست × 3
    • معلوماتی معلوماتی × 2
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,576
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    بہت خوب ذو القرنین۔ لیکن یہ بتائیں کہ کیا گلوبل سائنس کی فائل دستیاب ہے تمہارے پاس؟ لائبریری میں کیوں شامل نہیں کرتے۔ کم از کم مجھے بھیج دیا کریں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 1
  3. ذوالقرنین

    ذوالقرنین لائبریرین

    مراسلے:
    4,172
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    جو حکم اعجاز چاچو! میں آپ کے لیے اسکین کرکے بھیج دیتا ہوں۔:):):)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,576
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ارے کیوں جلتی پہ نمک چھڑکتے ہو!!
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  5. ذوالقرنین

    ذوالقرنین لائبریرین

    مراسلے:
    4,172
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    :confused: :mad3::confused4:
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1

اس صفحے کی تشہیر