اقتباسات مختلف کتابوں سے اقتباسات

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
" میرے سامنے قوموں کی داستانیں نہ کہو۔ مجھے اصول اور قانون کی باتیں نہ سکھاؤ۔ میرے سامنے حکومت کا تذکرہ نہ کرو کہ میراوطن سارا جہاں ہے۔ آؤ اس انسانیت کی بات کریں جو انسان کو جنم دے کر بانجھ ہو گئی ہے۔ جو دور پھٹے چیتھڑوں میں ملبوس اپنے بچوں کو پکار رہی ہے، بچے جو انسان سے زیادہ قوم بن گئے ہیں۔"

( خلیل جبران کی کتاب "شہ پارے" سے اقتباس
 

سیما علی

لائبریرین
اگر دل تشکر کی طرف نہیں آتا ، دماغ ہنر کی طرف نہیں جاتا اور زبان حق کی طرف مائل نہیں ہوتی تو انسان انسان نہیں رہتا بلکہ دشت و صحرا میں بدل جاتا ہے ۔
‏(آوازِ دوست)
‏۔مختار مسعود

‏⁧
 
Top