اقتباسات مختلف کتابوں سے اقتباسات

سیما علی

لائبریرین
سو ان کے معاملات میں شدت پسندی اور کرختگی در آئی ہے ۔ ویسے بحیثیت قوم ہم لوگ اخلاقیات سے بہت دور ہوتے جارہے ہیں۔
بھیا سب سے زیادہ ہمیں ان خواتین سے کہنا ہے جو درس دینے کے باوجود اپنا مزاج اسقدر سخت رکھتی ہیں کہ خواتین کچھ پوچھنے سے گھبراتیں ہیں ۔۔۔ایک صاحبہ جو ڈاکٹریٹ تزکیہ نفس میں کر چکیں ہیں .. آپ اگر سختی دیکھیں گے تو کہیں گے ہٹلر کا زنانہ ورژن ہیں ۔۔۔اب بھلا بات کیسے ہو 🤔
 

سیما علی

لائبریرین
جمشید جب پاکستان میں سیٹل ہو جاتا ہے اور بڑا کاروباری بن جاتا ہے تو اسے اپنی بیٹی کا خیال آتا ہے جو ہندوستان میں اس کی مطلقہ بیوی کے ساتھ ہے وہ اسے لینے اپنے آبائی گاؤں آتا ہے اور جب وہاں وہ اپنے چچایا خسر سے اس کی تعلیم کے بارے میں پوچھتا ہے تو اسے جواب ملتا ہے:
’’ہم خود پڑھاتے ہیں اردو اور قرآن شریف، شمبھو بھیّا انگریزی بھی پڑھادیتے ہیں اے،بی،سی،ڈی۔ گوسائیں بھیّا اسے ہندی پڑھا رہے ہیں ۔سید مظہر علی نے فخر سے بتایا جمشید کو ایسا محسوس ہوا جیسے گاؤں کے لوگ اس کی بیٹی کو ذاتی ذمّہ داری سمجھتے تھے۔ وہ یہ کہنے ہی والا تھا کہ اس کا ارادہ ہے کہ کراچی لے جانے کے کچھ عرصے بعد وہ فرحت النسا کو تعلیم کے لیے سوئٹزر لینڈ بھیجدے مگر اب چچا ابااور شمبھو دادا اور گوسائیں کا کا کو یہ بتاتے ہوئے اسے بے حد شرم آئی۔‘‘

مندرجہ بالا اقتباس صرف فکشن کا حصّہ نہیں بلکہ حقائق کی روداد ہے جس کے بل پر ہندوستان کے لوگ آج بھی ساری دنیا میں اپنی ایک الگ اور قابلِ مبارکباد شناخت رکھتے ہیں اور یہی وہ حصّہ ہے جسے لکھ کر عینی آپا نے ادب کی دنیا میں بھی حقائق کی روداد لکھنے کی مدعی قرار دی گئی ہیں۔ عینی نے کبھی بھی ناسٹلجیا کو منفی انداز میں پیش نہیں کیا بلکہ وہ اس کے لیے ایک معقول جواز فراہم کرتی ہیں اپنے ادب پارے میں اس کے لیے گنجائش نکالتی ہیں کردار خلق کرتی ہیں ان کرداروں کی تاریخی حیثیت کی پڑتال کرتی ہیں تب جا کر اسے پیش کرتی ہیں۔

اس ناولٹ میں جہاں دو تہذیبوں کی رسّہ کشی کو پیش کیا ہے وہیں عورتوں کے مسائل کو بھی سامنے رکھا ہے جمشید اور اس کی منکوحہ منظور النسا کی شادی جو جمشید کی چچازاد بہن ہے اور پھر ان کا طلاق اور آخر میں اس کی موت ناول کو انتہائی سنگین صورتحال سے دو چار کر دیتے ہیں۔ عینی آپا کا کمال ہے کہ وہ ہر ناول یا ناولٹ میں جس طرح مسائل کو پیش کرتی ہیں ایسا لگتا ہی نہیں کہ وہ اسے پیش کرنا چاہتی ہوں ۔

ہمارے عہد کا استعاراتی اظہار(ہاؤسنگ سوسائٹی) قرۃالعین حیدر​

سے اقتباس​

یہ ہمارے پسندیدہ ترین ناولٹ میں سے ایک ہے
 

صابرہ امین

لائبریرین
مختصراً کہیں تو یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات پر خرچ کرنے کے بجائے ضرورتمندوں پر خرچ کرنے کو ترجیح دی ۔ یعنی اخروی زندگی کی کامیابی کو اس دنیا کی زندگی پر مقدم رکھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہمارے لیے مثال بنا کر بھیجا اور بار بار قرآن میں حکم دیا کہ ان کی اطاعت کرو ، جیسا وہ کرتے ہیں ویسا ہی کرو ۔ اپنی خواہشات اور سوچ کی پیروی نہ کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غنا اور تونگری کیوں اختیار کی اس کی واضح وجوہات آپ کی سیرت میں نظر آتی ہیں ، آپ نے اپنی احادیث میں بیان کی ہیں ۔ قرآن بار بار اللہ کی راہ میں خرچ کرنے یعنی انفاق کا حکم دیتا ہے۔ بلکہ جہاں کہیں ایمان لانے اور نماز پڑھنے کا حکم آتا ہے اس کے فوراً بعد انفاق کا حکم بھی اکثر و بیشتر موجود ہوتا ہے ۔ بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری عمر اپنی ذات پر خرچ کرنے کے بجائے دوسروں پر خرچ کرنے کو ترجیح دی ۔سیرت کی کتب ان واقعات سے بھری پڑی ہیں ۔ صرف ایک قولِ رسول نقل کرتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ اس طرح فرمایا کہ مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میرے پاس اس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو، پھر مجھ پر تین دن گزر جائیں اور میرے پاس اس میں سے ایک دینار بھی باقی رہ جائے ۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم احد برابر سونے کو تین دن کے اندر اندر لوگوں میں بانٹنا چاہتے تھے۔ سو لب لباب یہ کہ آپ صلی اللہ علویہ وسلم نے آخرت کو دنیاوی زندگی پر ترجیح دی اور ایک عملی مثال ہم سب کے سامنے پیش کرگئے۔
وہ ایک شخص دو عا لم کی سروری والا
مزاج دے گیا شاہی کو سادگی والا

بیشک ہم جود و سخا کےاس مرتبے کو نہیں پہنچ سکتے لیکن اگر ہم میانہ روی بھی اختیار کرلیں تو ہمارے بہت سارے معاشرتی مسائل حل ہوسکتے ہیں ۔ اللہ کریم ہمیں سوچنے سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔
آمین۔ اللہ ہمیں اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر چلنے کی توفیق اور ہمت عطا فرمائیں۔

وہ ایک شخص دو عا لم کی سروری والا
مزاج دے گیا شاہی کو سادگی والا
واہ بہت خوب!!
تمام باتوں کے لیےشکریہ جزاک اللہ۔
 
Top