1. اردو محفل سالگرہ شانزدہم

    اردو محفل کی سولہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

اقتباسات مختلف کتابوں سے اقتباسات

شمشاد نے 'مطالعہ کتب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 11, 2021

  1. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    21,456
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    لُوٹا ہوا مال برآمد کرنے کیلیے پولیس نے چھاپے مارنے شروع کئے۔ لوگ ڈر کے مارے لُوٹا ہوا مال رات کے اندھیرے میں باہر پھینکنے لگے، کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنا مال بھی موقع پا کر اپنے سے علیحدہ کر دیا تا کہ قانونی گرفت سے بچے رہیں۔

    ایک آدمی کو بہت دِقّت پیش آئی۔ اُس کے پاس شکر کی دو بوریاں تھیں جو اُس نے پنساری کی دکان سے لُوٹی تھیں۔ ایک تو وہ جُوں کی تُوں رات کے اندھیرے میں پاس والے کنوئیں میں پھینک آیا، لیکن جب دُوسری اُٹھا کر اس میں ڈالنے لگا تو خود بھی ساتھ چلا گیا۔

    شور سُن کر لوگ اکھٹے ہو گئے۔ کنوئیں میں رسیاں ڈالی گئیں۔ دو جوان نیچے اترے اور اُس آدمی کو باہر نکال لیا۔ لیکن چند گھنٹوں کے بعد وہ مر گیا۔ دُوسرے دن جب لوگوں نے استعمال کیلیے اُس کنوئیں میں سے پانی نکالا تو وہ مِیٹھا تھا۔ اُسی رات اس آدمی کی قبر پر دِیئے جل رہے تھے۔

    سعادت حسن منٹو کی کتاب سیاہ حاشیے سے اقتباس
     
  2. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    21,456
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ضلع جھنگ کے ایک سابق ڈپٹی کمشنر قدرت اللہ شہاب اپنی آپ بیتی’’ شہاب نامہ‘‘ میں لکھتے ہیں:۔ایک روزجھنگ کے ایک پرائمری سکول کا استادرحمت الٰہی میرے دفتر میں آیا۔ وہ چند ماہ کے بعد ملازمت سے ریٹائرہونے والا تھا۔ اس کی تین جوان بیٹیاں تھیں‘ رہنے کیلئے اپنا گھر بھی نہ تھا۔ پنشن نہایت معمولی ہوگی‘ اسے یہ فکر کھائے جارہی تھی کہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ کہاں رہے گا۔ لڑکیوں کی شادیاں کس طرح ہوں گی‘ کھانے پینے کا خرچ کیسے چلے گا۔ اس نے مجھے سرگوشی میں بتلایا کہ پریشانی کے عالم میں وہ کئی ماہ سے تہجد میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں فریادیں کرتا رہا ہے۔ چند روز قبل اسے خواب میں حضور نبی کریم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی جس میں حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم جھنگ جاکر ڈپٹی کمشنر کو اپنی مشکل بتاؤ‘ اللہ تمہاری مدد کرےگا۔پہلے تو مجھے شک ہوا کہ یہ شخص ایک جھوٹا خواب سنا کر مجھے جذباتی طور پر بلیک میل کرنے کی کوشش کررہا ہے میرے چہرے پر شک اور تذبذب کے آثار دیکھ کر رحمت الٰہی آبدیدہ ہوگیا اور بولا جناب میں جھوٹ نہیں بول رہا‘ اگر جھوٹ بولتا تو شاید خدا کےنام پرتو بول لیتا لیکن حضور نبی کریم ﷺ کے نام پر کیسے جھوٹ بول سکتا ہوں‘ اس کی اس منطق پر میں نے حیرانی کا اظہار کیا کہ آپ نے سنا نہیں کہ ’’باخدا دیوانہ وبامصطفیٰ ہشیار باش‘‘ یہ سن کر میرا شک پوری طرح رفع تو نہ ہوا لیکن سوچا کہ اگر یہ شخص غلط بیانی سے بھی کام لے رہا ہے تو ایسی عظیم ہستی کے اسم مبارک کا سہارا لے رہا ہے جس کی لاج رکھنا ہم سب کافرض ہے۔ چنانچہ میں نے رحمت الٰہی کو تین ہفتوں کے بعد دوبارہ آنے کیلئے کہا۔ اس دوران میں نے خفیہ طور پر اس کے ذاتی حالات کا کھوج لگایا اور یہ تصدیق ہوگئی کہ وہ اپنے علاقے میں نہایت سچا‘ پاکیزہ اور پابند صوم و صلوٰۃ آدمی مشہور ہے اور اس کے گھریلو حالات بھی وہی ہیں جو اس نے بیان کیے تھے۔
    اس زمانے میں کچھ عرصہ کیلئے صوبائی حکومت نے ڈپٹی کمشنروں کو یہ اختیار دے رکھا تھا کہ سرکاری بنجر زمین کے آٹھ مربع تک ایسے خواہش مندوں کو طویل میعاد پر دے سکتے تھے جو انہیں آباد کرنے کیلئے آمادہ ہوں۔ میں نے اپنے مال افسر غلام عباس کو بلا کر کہا کہ وہ کسی مناسب جگہ کراؤن لینڈ کے ایسے آٹھ مربع تلاش کرے جنہیں جلدازجلد کاشت کرنے میں کوئی خاص دشواری پیش نہ آئے۔ مال افسر نے غالباً یہ سمجھا کہ شاید یہ اراضی میں اپنے کسی عزیز کو دینا چاہتا ہوں۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پکی سڑک کے قریب نیم آباد سی زمین ڈھونڈ نکالی اور رحمت الٰہی کے نام الاٹمنٹ کی ضروری کارروائی کرکے سارے کاغذات میرے حوالے کردئیے۔دوسری پیشی پر جب رحمت الٰہی حاضر ہوا تو میں نے یہ نذرانہ اس کی خدمت میں پیش کرکے اسے مال افسر کے حوالے کردیا کہ یہ قبضہ وغیرہ دلوانے اور باقی ساری ضروریات پوری کرنے میں اس کی مدد کرے‘ تقریباً 9 برس بعد میں کراچی میں فیلڈمارشل جنرل ایوب کے ساتھ کام کررہا تھا کہ ایوان صدر میں میرے نام ایک رجسٹرڈ خط موصول ہوا (اس زمانے میں پاکستان کا صدر مقام اسلام آباد کی بجائے کراچی تھا)۔یہ ماسٹر رحمت الٰہی کی جانب سے تھا کہ اس زمین پر محنت کرکے اس نے تینوں بیٹیوں کی شادی کردی ہے اور وہ اپنے اپنے گھروں میں خوش و خرم آباد ہیں۔ اس نے اپنی بیوی کے ساتھ فریضہ حج بھی ادا کرلیا ہے‘ اپنے گزارے اوررہائش کیلئے تھوڑی سی ذاتی زمین خریدنے کے علاوہ ایک کچا کوٹھا بھی تعمیر کرلیا ہے۔ اسی خوشحالی میں اب اسے آٹھ مربعوں کی ضرورت نہیں‘ چنانچہ اس الاٹمنٹ کے مکمل کاغذات اس خط کے ساتھ واپس ارسال ہیں تاکہ کسی اور حاجت مند کی ضرورت پوری کی جاسکے۔ یہ خط پڑھ کر میں کچھ دیر کیلئے سکتے میں آگیا‘ میں اس طرح گم سم بیٹھا تھا کہ صدر پاکستان کوئی بات کرنے کیلئے میرے کمرے میں آگئے ’’کس سوچ میں گم ہو‘‘ انہوں نے حالت بھانپ کر پوچھا‘ میں نے انہیں رحمت الٰہی کا سارا واقعہ سنایا تو وہ بھی نہایت حیران ہوئے‘ کچھ دیر خاموشی طاری رہی پھر وہ اچانک بولے۔ تم نے بہت نیک کام سرانجام دیا ہے۔ میں گورنر کو لاہور ٹیلیفون کردیتا ہوں کہ وہ یہ اراضی اب تمہارے نام کردیں‘ میں نے نہایت لجاحت سے گزارش کی کہ یہ میں اس انعام کا مستحق نہیں ہوں یہ سن کر صدر پاکستان بولے کہ تمہیں زرعی اراضی حاصل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ’’جی نہیں سر‘‘ میں نے التجا کی۔ آخر میں فقط دو گز زمین ہی قبر کیلئے کام آتی ہے‘ وہ کہیں نہ کہیں‘ کسی نہ کسی طرح سے مل ہی جاتی ہے۔

    ! اس واقعہ کے پانچوں کردار آج ہمارے درمیان موجود نہیں لیکن جھنگ کے ایک پرائمری ٹیچر رحمت الٰہی کا کردار ہم سب کیلئے منارہ نور ہے۔!!!!
     
  3. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    212,256
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ایک دفعہ عبدالمجید سالک کسی کام کے سلسلے میں حکیم فقیر محمّد چشتی صاحب کے مطب پر گئے۔

    وہاں ایک مشہور طوائف نجو بھی دوا لینے آئی ہوئی تھی۔ کِھلا ہوا چمپئی رنگ ، سر پر ایک سفید ریشمی دوپٹہ جس کے کنارے چوڑا نقرئی لپہ لگا ہوا تھا۔

    سالک جو پہنچے تو حکیم صاحب نے نجو سے کہا: "یہ تمہارے شہر کے بہت بڑے شاعر اور ادیب سالک صاحب ہیں۔ آداب بجا لاؤ۔"

    وہ سَرو قد اُٹھ کھڑی ہوئی اور جُھک کر آداب بجا لائی۔

    پھر سالک سے کہا ٫ "یہ لاہور کی مشہور طوائف نجو ہیں۔ آپ اُس کُوچے سے نابلد سہی لیکن نام تو سُنا ہو گا؟"

    سالک بولے: "جی ہاں نام تو سُنا ہے لیکن نجو بھلا کیا نام ہوا؟"

    حکیم صاحب فرمانے لگے ، "لوگ نجو نجو کہہ کے پکارتے ہیں اِس کا پُورا نام تو نجاتُ المومنین ہے۔"

    "سعادت حسن منٹو"
    "اندھیر نگری" سے اقتباس
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    212,256
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ایک دفعہ کسی آدمی نے گوتم بدھ سے گالم گلاچ کی۔ گوتم سکون سے سنتا رہا اور آخر میں کہنے لگا”بیٹا!اگر کوئی کسی کو تحفہ دے،لیکن وہ آدمی تحفہ لینے سے انکار کردے تو یہ تحفہ کس کا ہوا؟“

    ”یہ تحفہ دینے والے کا ہی ہوگا“۔اس آدمی نے جواب دیا۔

    گوتم نے سکون سے کہا”بیٹا!پھر میں تمھارا دیا ہوا تحفہ قبول کرنے سے انکار کرتا ہوں۔“

    اقتباس کتاب:فلسفے کی تاریخ
    تالیف:اکبر لغاری
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    212,256
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ایک دفعہ لاہور کے لکشمی چوک میں ایک پولیس والے نے حبیب جالب کی بے عزتی کردی۔ کسی نے پولیس والے کو نہ روکا۔ قریب ہی آغا شورش کاشمیری کے ہفت روزہ چٹان کا دفتر تھا۔ انہیں معلوم ہوا کہ ایک پولیس والے نے جالب سے بدتمیزی کی ہے تو آغا صاحب اپنا کام چھوڑ کر لکشمی چوک میں آئے۔ ایک تانگے والے سے چھانٹا لیا اور پولیس والے کی پٹائی کی اور اس سے کہا کہ تم نہیں جانتے کہ یہ کون ہے؟ یہ جالب ہے۔ پھر آغا صاحب تھانے جا بیٹھے اور وہاں دھرنا دے دیا۔ کہنے لگے کہ جس شہر کی پولیس حبیب جالب کی بے عزتی کرے وہ شہر رہنے کے قابل نہیں اس لئے مجھے جیل بھیج دو۔

    پولیس والے معافیاں مانگنے لگے۔ علامہ احسان الٰہی ظہیر کو پتہ چلا کہ آغا شورش کاشمیری نے تھانے میں دھرنا دے دیا ہے تو وہ بھی دھرنے میں آبیٹھے۔ مظفر علی شمسی بھی آگئے۔ شہر میں شور پڑگیا. گورنر نے تھانے میں فون کیا لیکن آغا صاحب نے دھرنا ختم کرنے سے انکار کردیا۔ انہوں نے ایک ہی رٹ لگا رکھی تھی کہ جس شہر میں جالب کی بے عزتی ہو میں وہاں نہیں رہوں گا۔ بات وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو تک پہنچی تو بھٹو نے فون پر منت کی جس پر آغا صاحب دھرنے سے اٹھے۔ اس واقعے کے بعد حبیب جالب ہر کسی کو کہتے پھرتے تھے’’شورش نے میری عزت بچالی، ابھی اس شہر میں رہا جاسکتا ہے۔‘‘

    یہ واقعہ بزرگ صحافی محمد رفیق ڈوگر نے اپنی آپ بیتی’’ڈوگرنامہ‘‘ میں لکھا ہے۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    21,456
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ایک دن میں، آپا اور اماں باہر صحن میں بیٹھی تھیں۔ اس وقت بھائی صاحب اندر اپنے کمرے میں بدو سے کہہ رہے تھے، ’’میرے یار ہم تو اس سے بیاہ کریں گے جو ہم سے انگریزی میں باتیں کر سکے، کتابیں پڑھ سکے، شطرنج، کیرم اور چڑیا کھیل سکے۔ چڑیا جانتے ہو؟ وہ گول گول پروں والا گیند بلے سے یوں ڈز، ٹن، ڈز اور سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ہمیں مزے دار کھانے پکا کر کھلا سکے، سمجھے؟‘‘

    بدو بولا، ’’ہم تو چھاجو باجی سے بیاہ کریں گے۔‘‘

    ’’انہہ!‘‘ بھائی صاحب کہنے لگے۔

    بدو چیخنے لگا، ’’میں جانتا ہوں تم آپا سے بیاہ کرو گے۔ ہاں‘‘ اس وقت اماں نے مسکرا کر آپا کی طرف دیکھا۔ مگر آپا اپنے پاؤں کے انگوٹھے کا ناخن توڑنے میں اس قدر مصروف تھی جیسے کچھ خبر ہی نہ ہو۔ اندر بھائی صاحب کہہ رہے تھے، ’’واہ تمہاری آپا فرنی پکاتی ہے تو اس میں پوری طرح شکر بھی نہیں ڈالتی۔ بالکل پھیکی۔ آخ تھو!‘‘

    بدو نے کہا، ’’ابا جو کہتے ہیں فرنی میں کم میٹھا ہونا چاہئے۔‘‘

    ’’تو وہ اپنے ابا کے لئے پکاتی ہے نا۔ ہمارے لئے تو نہیں۔‘‘

    ’’میں کہوں آپا سے؟‘‘ بدو چیخا۔

    بھائی چلائے، ’’او پگلا۔ ڈھنڈورا۔ لو تمہیں ڈھنڈورا پیٹ کر دکھائیں۔ یہ دیکھو اس طرف ڈگمگ ڈگمگ۔‘‘ بدو پھر چلانے لگا، ’’میں جانتا ہوں تم میز بجا رہے ہو نا؟‘‘

    ’’ہاں ہاں اسی طرح ڈھنڈورا پٹتا ہے نا۔‘‘ بھائی صاحب کہہ رہے تھے، ’’کشتیوں میں، اچھا بدو تم نے کبھی کشتی لڑی ہے، آؤ ہم تم کشتی لڑیں۔ میں ہوں گاما اور تم بدو پہلوان۔ لو آؤ، ٹھہرو، جب میں تین کہوں۔‘‘ اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے مدھم آواز میں کہا، ’’ارے یار تمہاری دوستی تو مجھے بہت مہنگی پڑتی ہے۔‘‘ میرا خیال ہے آپا ہنسی نہ روک سکی اس لیے وہ اٹھ کر باورچی خانے میں چلی گئی۔ میرا تو ہنسی کے مارے دم نکلا جا رہا تھا اور اماں نے اپنے منہ میں دوپٹہ ٹھونس لیا تھا تاکہ آواز نہ نکلے۔

    میں اور آپا دونوں اپنے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے کہ بھائی صاحب آ گیے۔ کہنے لگے، ’’کیا پڑھ رہی ہو جہنیا؟‘‘ ان کے منہ سے جہنیا سن کر مجھے بڑی خوشی ہوتی تھی۔ حالانکہ مجھے اپنے نام سے بے حد نفرت تھی۔ نور جہاں کیسا پرانا نام ہے۔ بولتے ہی منہ میں باسی روٹی کا مزا آنے لگتا ہے۔ میں تو نور جہاں سن کر یوں محسوس کیا کرتی تھی جیسے کسی تاریخ کی کتاب کے بوسیدہ ورق سے کوئی بوڑھی اماں سونٹا ٹیکتی ہوئی آ رہی ہوں مگر بھائی صاحب کو نام بگاڑ کر اسے سنوار دینے میں کمال حاصل تھا۔ ان کے منہ سے جہنیا سن کر مجھے اپنے نام سے کوئی شکایت نہ رہتی اور میں محسوس کرتی گویا ایران کی شہزادی ہوں۔ آپا کو وہ سجادہ سے سجدے کہا کر تھے مگر وہ تو بات تھی، جب آپا چھوٹی تھی۔ اب تو بھائی جان اسے سجد ے نہ کہتے بلکہ اس کا پورا نام تک لینے سے گھبراتے تھے۔ خیر میں نے جواب دے دیا، ’’سکول کا کام کر ہی ہوں۔‘‘

    پوچھنے لگے، ’’تم نے کوئی برنارڈ شا کی کتاب پڑھی ہے کیا؟‘‘

    میں نے کہا۔ ’’نہیں!‘‘

    انہوں نے میرے اور آپا کے درمیان دیوار پر لٹکی ہوئی گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، ’’تمہاری آپا نے تو ہارٹ بریک ہاؤس پڑھی ہو گی۔‘‘ وہ کنکھیوں سے آپا کی طرف دیکھ رہے تھے۔ آپا نے آنکھیں اٹھائے بغیر ہی سر ہلا دیا اور مدھم آواز میں کہا، ’’نہیں!‘‘ اور سویٹر بننے میں لگی رہی۔ بھائی جان بولے، ’’اوہ کیا بتاؤں جہنیا کہ وہ کیا چیز ہے، نشہ ہے نشہ، خالص شہد، تم اسے ضرور پڑھو بالکل آسان ہے یعنی امتحان کے بعد ضرور پڑھنا۔ میرے پاس پڑی ہے۔‘‘ میں نے کہا، ’’ضرور پڑھوں گی۔‘‘ پھر پوچھنے لگے، ’’میں کہتا ہوں تمہاری آپا نے میٹرک کے بعد پڑھنا کیوں چھوڑ دیا؟‘‘

    میں نے چڑ کر کہا، ’’مجھے کیا معلوم آپ خود ہی پوچھ لیجیئے۔‘‘ حالانکہ مجھے اچھی طرح سے معلوم تھا کہ آپا نے کالج جانے سے کیوں انکار کیا تھا۔ کہتی تھی میرا تو کالج جانے کو جی نہیں چاہتا۔ وہاں لڑکیوں کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے گویا کوئی نمائش گاہ ہو۔ درسگاہ تو معلوم ہی نہیں ہوتی جیسے مطالعہ کے بہانے میلہ لگا ہو۔ مجھے آپا کی یہ بات بہت بری لگی تھی۔ میں جانتی تھی کہ وہ گھر میں بیٹھ رہنے کے لیے کالج جانا نہیں چاہتی۔ بڑی آئی نکتہ چین۔ اس کے علاوہ جب کبھی بھائی جان آپا کی بات کرتے تو میں خواہ مخواہ چڑ جاتی۔ آپا تو بات کا جواب تک نہیں دیتی اور یہ آپا آپا کر رہے ہیں اور پھر آپا کی بات مجھ سے پوچھنے کا مطلب؟ میں کیا ٹیلی فون تھی؟ خود آپا سے پوچھ لیتے اور آپا، بیٹھی ہوئی گم سم آپا، بھیگی بلی۔

    شام کو ابا کھانے پر بیٹھے ہوئے چلا اٹھے، ’’آج فیرنی میں اتنی شکر کیوں ہے؟ قند سے ہونٹ چپکے جاتے ہیں۔ سجادہ! سجادہ بیٹی کیا کھانڈ اتنی سستی ہو گئی ہے۔ ایک لقمہ نگلنا بھی مشکل ہے۔‘‘ آپا کی بھیگی بھیگی آنکھیں جھوم رہی تھیں۔ حالانکہ جب کبھی ابا جان خفا ہوتے تو آپا کا رنگ زرد پڑ جاتا۔ مگر اس وقت اس کے گال تمتما رہے تھے، کہنے لگی، ’’شاید زیادہ پڑ گئی ہو۔‘‘ یہ کہہ کر وہ تو باورچی خانے میں چلی گئی اور میں دانت پیس رہی تھی۔ ’’شاید۔ کیا خوب۔ شاید۔‘‘

    ادھر ابا بدستور بڑبڑا رہے تھے، ’’چار پانچ دن سے دیکھ رہا ہوں کہ فیرنی میں قند بڑھتی جا رہی ہے۔‘‘ صحن میں اماں دوڑی دوڑی آئیں اور آتے ہی ابا پر برس پڑیں، جیسے ان کی عادت ہے۔ ’’آپ تو نا حق بگڑتے ہیں۔ آپ ہلکا میٹھا پسند کرتے ہیں تو کیا باقی لوگ بھی کم کھائیں؟ اللہ رکھے گھر میں جوان لڑکا ہے اس کا تو خیال کرنا چاہئے۔ ’’ابا کو جان چھڑانی مشکل ہو گئی‘‘، کہنے لگے، ’’ارے یہ بات ہے مجھے بتا دیا ہوتا میں کہتا ہوں سجادہ کی ماں۔‘‘ اور وہ دونوں کھسر پھسر کرنے لگے۔ آپا، ساحرہ کے گھر جانے کو تیار ہوئی تو میں بڑی حیران ہوئی۔ آپا اس سے ملنا تو کیا بات کرنا پسند نہیں کرتی تھی۔ بلکہ اس کے نام پر ہی ناک بھوں چڑھایا کرتی تھی۔ میں نے خیال کیا ضرور کوئی بھید ہے اس بات میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آپا
    ممتاز مفتی صاحب
     
  7. AinAlif

    AinAlif محفلین

    مراسلے:
    46
    جھنڈا:
    Pakistan
    آم ، سری پائے، جوتے، گالیاں ۔۔۔۔۔ اور محبت ۔۔۔ ان سب چیزوں میں سلیقے کا دخل نہیں ہوتا۔ نہ ہی کوئی اصول ہے اور نہ ہی کوئی مہذبانہ وضع كرده طریقه ۔۔۔۔ ذرا سا بھی کوئی رہ و رسم دنیا کا خیال کیا ، سارا لطف غارت ہو گیا۔
    یہ جهنجھوڑنے ، بھنبھوڑنے ، ٹھکورنے کے علاوہ پلٹنے ، جھپٹنے، پلٹ کر جھپٹنے ، سہلانے ، چلانے ، ہاتھ جوڑنے ، مافی مانگنے ، رونے اور مسکرانے کے مقامات ہیں۔
    ان کٹھن مقامات سے وہی سر خرو گزر سکتا ہے جس نے اپنا بچپنا اور اپنے اندر کا حیوان ، ناخن کاٹ ، منہ پر چھکا چڑھائے اپنی ذات کی چار دیواری میں کھلا چھوڑ دیا ہو،
    تا کہ وه بھی اپنے ہاتھ پاؤں سیدھے اور اپنی جبلت کے تقاضے پورے کر لے۔
    کبھی کبھی چھوٹی چھوٹی بے ضرر بے ایمانیاں ، معصوم سے كمینگیاں ، بھولی بھالی بے وفائیاں، خفیف سی بد عہدياں ، پیاری پیاری بے خطر لڑائياں ، کبھی عید شبرات پہ میٹھا پان ،کسی کے پیکٹ سے چرائے ہوئے سگریٹ کا کش ، کسی دوست کی شادی پہ الٹی سیدھی لڈی ، شاہی مسجد کے بہانے اس بازار سے گزرنا ۔۔۔۔ یہ سب کیا ہے ؟ یہی، اندر کے جکڑے ہوئے حیوان کو ذرا سی ہوا لگوانا ، ہے۔ ورنہ یہ حبس دم حیوان بپهر کر انسان کو ادھیڑ کر رکھ دیتا ہے۔ ایسا انتقام لیتا ہے کہ جاننے والے کہہ اٹھتے ہیں کہ " بندہ تے شریف سی، یقین نئیں آوندا "۔
    ۔
    ۔
    ۔
    بابا یحییٰ خان کی کتاب "شب دیدہ " سے اقتباس
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  8. AinAlif

    AinAlif محفلین

    مراسلے:
    46
    جھنڈا:
    Pakistan

    کمال !۔۔۔ آعلیٰ انسان
     

اس صفحے کی تشہیر