محمد یعقوب آسی کی شعری اور نثری کاوشیں


ماشاء اللہ،
بندہ استاد سے گذارش کرتا ہے
طبیعت گوارا فرمائے تو بالا اشعار کی مکمل غزل عطا فرمائیں
تشنگی بڑھ گئی، جو کیفیت بالا اشعار نے طاری کر دی ہے مکمل غزل
اس کیفیت کو یقینا مزید جلا بخشے گی ۔۔۔

اللہ آباد و خوشحال رکھے آپکو ۔۔۔ آًمین

یہ دوہی شعر کہے تھے، پہلا کل اور دوسرا آج۔
ابھی ایک شعر اور موزوں کیا ہے، پیش کئے دیتا ہوں، پتہ نہیں کتنی بار تبدیل و ترمیم سے گزریں گے ابھی۔

آرزو قبر میں اتار آئے
غم مگر جان پر سوار ہوا
۔۔۔۔
 
۔۔۔
طویل لیکن بہت مربوط اور داستان کا سا انداز لئے ہوئے ایک دل میں ترازو ہو جانے والی نظم ۔۔ جذبوں کے سچے اظہار سے مزین لفظ ممکن ہی نہیں کہ احساس کے تاروں کو نہ جھنجھوڑیں ۔۔ بہت عمدہ ۔۔

مری پوتی جو اپنی عمر کے چوتھے برس میں ہے
وہیں اپنے کھلونوں میں مگن تھی
چونک کر بولی:
’’سنیں بابا!
ابھی اس گوشت والی عید سے پہلے
جو میٹھی عید آئی تھی
خدا نے میری ’دادو‘ کو بلا بھیجا تھا
اب کس کو بلایا ہے؟‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے زخموں کو مندمل نہ ہونے دینے اور انہیں مسلسل کرید کر لطف لینے والے یعقوب آسی سے بھلا کوئی پوچھے کہ یوں رو کر یاروں کو رلا دینے سے بھلا جانے والے لوٹ آیا کرتے ہیں؟

کرب دل میں چھپا لیا سارا
دوستوں پر مرے جو بار ہوا
 
عشق بھی جیسے کاروبار ہوا
آرزو قبر میں اتار آئے
غم مگر جان پر سوار ہوا
لفظ تو تیز دھار تھے، سو تھے
اس کا لہجہ بھی آب دار ہوا
کرب دل میں چھپا لیا سارا
دوستوں پر مرے جو بار ہوا
بیڑیاں ذات کی کبھی ٹوٹیں؟
آپ سے کب کوئی فرار ہوا
آگہی آگ ہی تو ہوتی ہے
کوئی کندن، کوئی غبار ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
13 اگست 2014ء
۔۔۔۔

10608270_528472353962894_6176738796729510617_o.jpg
 
آخری تدوین:

loneliness4ever

محفلین
عشق بھی جیسے کاروبار ہوا
آرزو قبر میں اتار آئے
غم مگر جان پر سوار ہوا
لفظ تو تیز دھار تھے، سو تھے
اس کا لہجہ بھی آب دار ہوا
کرب دل میں چھپا لیا سارا
دوستوں پر مرے جو بار ہوا
بیڑیاں ذات کی کبھی ٹوٹیں؟
آپ سے کب کوئی فرار ہوا
آگہی آگ ہی تو ہوتی ہے
کوئی کندن، کوئی غبار ہوا

13 اگست 2014ء
۔۔۔۔

محترم استاد اس عطا پر مسرور ہوں،
آپ لکھتے رہیں ، بندہ فیضاب ہوتا رہے
مالک کائنات سدا بے مثال رکھے آپکو ۔۔۔۔۔ آمین
 
بھرم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک فی البدیہہ فکاہیہ۔
ابھی سرزد ہوا اور ابھی سید فصیح احمد کی فصاحت کی نذر کر دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لو بھیا، آج سے ہم ٹھہرے تمہارے منہ بولے چچا میاں، اور تم ہوئے ہمارے بھتیجے! ۔۔ کہو، اس میں کچھ گھٹانا ہے، بڑھانا ہے تو ابھی دیگ دم پر ہے، نون مسالہ ڈالا جا سکتا ہے۔ دیگ آگ سے اتری تو پھر ٹھنڈی ہونے میں دیر نہیں لگتی۔

ادھر لمبڑدار کے ڈیرے پر کتنی ہی دیگیں ابل رہی ہیں۔ تمہارے چچا لچھن کا کہنا ہے کہ ابل ابل کے اپنے ہی کنارے جلا رہی ہیں۔ اس پر ایک "گونگی بدمعاشی" والی درفنطنی یاد آ گئی۔ طاہرہ بیگم پندرہ، بیس پچیس منٹ، آدھ گھنٹے سے میاں مظلوم پر گرج برس رہی تھیں اور با نطق بے نطق سمیت سبھی کچھ سنا رہی تھیں۔ تاہم ان کے فرمودات کو ضابطہء تحریر میں لانا بہ یک وقت قابلِ دست اندازی بھی ٹھہر سکتا ہے اور قابل نظر اندازی بھی۔ میاں بے چاری عرصہ ناشادمانی سے یہ دونوں سزائیں بھگت بھگت کر پختہ سے پختہ تر ہو چکے تھے۔ ایک مسلسل خاموش اوڑھے سر جھکائے بیٹھے تھے جیسے منہ میں زبان تو کیا، سر کے اطراف میں کان اور گردن میں بھی جان نہ ہو۔ جوں کے رینگنے کا محل تو بن ہی نہیں پاتا تھا کہ ہماری ناقص و نادر، محدود و مخدوش معلومات کے مطابق ہنوز جوؤں نے اتنی ترقی نہیں کی کہ صحراؤں میں بہ حفاظت سفر کر سکیں۔ طاہرہ بیگم کا سرِ کم مایہ بول بول کر خالی سے خلا بن رہا تھا۔ تاہم سوچ کسی نئے الزام کی تلاش میں تھی۔ ایک دم ان کے دماع میں جھماکا اور سر میں دھماکا ہوا ۔ تنک کر بولیں ۔۔ "اے ہے، سنتے ہو میاں؟ میں گھنٹے بھر سے صلح کرنے کی کوشش کر رہی ہوں پر تمہاری کہ گونگی بدمعاشی میرے کئے کرائے پر ڈیو پھیر رہی ہے۔

بات کا کیا ہے گیند کی طرح کسی بھی طرف لڑھک جائے! چچا بھتیجے کے بیچ دیگیں آن ٹپکیں وہ بھی ابلتی ہوئی اور جا پھنسیں طاہرہ بیگم اور میاں مظلوم کے پھڈے میں! گیند جو ٹھہری۔ پر، بات تو یہ بھی کچھ جچی نہیں۔ گیند موئی کہیں تھم جاتی تو گونگی لڑائی بھی شاید تھم ہی جاتی۔ ولے، زندگی تو نام ہی حرکت کا ہے بھتیجے۔ حرکت حرکت ہوتی ہے، اچھی ہو، بری ہو، ہاتھ کی ہو، زبان کی ہو، نظر کی ہو ۔۔ اس میں برکت کیوں کر ہوتی ہے اور کیوں کر نہیں ہوتی یہ تو تمہارے لچھن چچا ہی بتا سکتے ہیں، جن کی حرکتوں نے پورے ہرسوجھ پورے کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

مگر بھتیجے! ہمیں کیا! اس لئے نہیں کہ ہمیں کچھ نہیں، پر اس لئے ہماری کسی کو کیا، سو مجبوری ہے کہ ہمیں کیا۔ چچا خوش، بھتیجا خوش، بھاڑ میں گئی بھاڑ جیسی آگ برساتے منہ والی طاہرہ بیگم، اور میاں مظلوم اور گیند۔ گیند اور بینگن کا مکالمہ پھر کبھی سہی، ابھی تو لچھن چچا کے ہاں چلتے ہیں، بھلے کوئی سوجھ مل جائے کہ دیگ میں نون مسالے کا کیا کِیا جائے۔ بھرم بھی تو رکھنا ہے نا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


سید فصیح احمد ، الف عین ، محمد وارث ، محمد خلیل الرحمٰن ، نیرنگ خیال ، قیصرانی صاحبان۔
 
آخری تدوین:

سید فصیح احمد

لائبریرین
میں اتنا خوش ہوں کہ کوئی مت پوچھے :) :) :) :)

میں نے ایک اور جگہ کچھ لکھا تھا اس تحریر کے جواب میں وہی یہاں بھی درج کر دیتا ہوں۔ :) :)

میرے بہت ہی پیارے و دُلارے استاد محترم میں نے ہمیشہ آپ سے بہت سیکھا اور سمجھا، اور جو سمجھ نہیں آئی تو فوراً اپنی تختی قلم اور دوات اٹھائے آپ کو تنگ کرنے پہنچ گیا! میرے لیئے تو آپ کی ذات گویا چلتا پھرتا مدرسہ ہے۔ دل سے دعا ہے کہ اللہ تعلیٰ اس پیاری ہستی کا ساتھ قائم رکھے اور زندگی میں برکت کا سبب بنائے رکھے، آمین!

آپ نے فصاحت کی بات کہی تو استاد جی میں تو زنگ آلود اور کند دماغ کا مالک ادنیٰ سا بندہ ہوں ، نام فصیح ہے جس کے لغوی معنوں کو خوار کرتا پھرتا ہوں۔ اللہ کرے کہ آپ جیسوں کی صحبت کچھ رنگ لائے اور کسی قدر چمک ہی جاؤں۔
رہی اس فی البدیہہ فکاہیہ کی بات تو میرے لیئے یہ بہت اعزاز کی بات ہے اور انداز تو بلاشبہ فکاہیہ ہی تھا لیکن جو گہری چوٹیں ضمیر کے لیئے اس میں درج تھیں وہ اپنے مقام پر ٹھیک ٹھیک ضرب لگاتی رہیں ، مجھے تو درج ذیل اصطلاحات بہت بھلی لگیں کئی بار ان کو پڑھا کہ بین الشطور معنی اچھے سے سمجھ سکوں۔

گونگی بدمعاشی
ابل ابل کے اپنے ہی کنارے جلا رہی ہیں
ہنوز جوؤں نے اتنی ترقی نہیں کی کہ صحراؤں میں بہ حفاظت سفر کر سکیں

بہت شکریہ استاد جی :) :)
جزاک اللہ خیر!
 

loneliness4ever

محفلین
استاد اور شاگرد
چچا اور بھتیجے کی گفتگو سے مجھ جیسے کورے بھی فیضاب ہورہے ہیں
سچ میرے واسطے تو دونوں استاد ہی ٹھہرے

اللہ محبت اور خلوص کا یہ رشتہ سلامت رکھے
آباد و کامران و بے مثال رہیں آپ دونوں حضرات .... آمین
 
استاد اور شاگرد
چچا اور بھتیجے کی گفتگو سے مجھ جیسے کورے بھی فیضاب ہورہے ہیں
سچ میرے واسطے تو دونوں استاد ہی ٹھہرے

اللہ محبت اور خلوص کا یہ رشتہ سلامت رکھے
آباد و کامران و بے مثال رہیں آپ دونوں حضرات .... آمین

یہ کیا کم ہے ؟کہ میں تنہا نہیں ہوں
یہاں کوئی تو مجھ سا بولتا ہے​
۔۔۔
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
عشق بھی جیسے کاروبار ہوا
آرزو قبر میں اتار آئے
غم مگر جان پر سوار ہوا
لفظ تو تیز دھار تھے، سو تھے
اس کا لہجہ بھی آب دار ہوا
کرب دل میں چھپا لیا سارا
دوستوں پر مرے جو بار ہوا
بیڑیاں ذات کی کبھی ٹوٹیں؟
آپ سے کب کوئی فرار ہوا
آگہی آگ ہی تو ہوتی ہے
کوئی کندن، کوئی غبار ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
13 اگست 2014ء
۔۔۔۔

10608270_528472353962894_6176738796729510617_o.jpg

واہ استادِ محترم
خوبصورت تخلیق۔۔۔۔ بہت مزہ آیا۔۔۔
کتنا سچا لکھا ہے
 
تازہ ترین نثری کاوش ۔ اہلِ محفل کی نذر

’’کہاں ہو تم؟‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ترمیم شدہ

اسے اپنا تو کچھ پتہ نہیں تھا کہ وہ کہاں ہے اور کس عالم میں ہے۔ سامنے دو آنکھیں تھیں اور ان سے زندگی گویا امڈ جانے کو بے تاب تھی اور سرمے کی گاڑھی چار دیواری اسے امڈنے سے روک رہی تھی۔ زندگی کہاں رکتی ہے بھلا، اس نے ایک اور روپ دھار لیا، روشنی کا روپ، جسے وہ کالی چار دیواری کسی طور بھی روک نہیں سکتی تھی۔ اسے تو یہ بھی احساس نہیں تھا کہ وہ زندگی کی اس روشنی کو دیکھ رہا ہے یا خود اس کا حصہ بن گیا۔ بے وجودی کی یہ کیفیت بھی شاید اس کے ادراک میں نہیں آئی تھی، آ جاتی توبے چین تو ہو جاتا، اور کچھ نہ ہوتا تو! ایک پرسکون خود فراموشی، سرمدی خاموشی اور دو آنکھیں! یہ وہ کل کائنات تھی جس کا وہ مشاہدہ کر رہا تھا؛ ایسا عمیق مشاہدہ کہ خود بھی شاید اسی کا حصہ بن گیا تھا۔
اس نے دیکھا وہ آنکھیں اس پر مرتکز ہو رہی ہیں اور ان کے چاروں طرف کچھ سائے سے بن رہے ہیں۔ سرمے سے لدی سیاہ پلکوں سے ذرا اوپر بھویں سی ایک لمحے کو دکھائی دے جاتیں اور پھر غائب ہو جاتیں۔ ذرا دیر کو اسے ایک کشادہ پیشانی کا شائبہ ہوا جس کی اوپری حد کا تعین سیاہ بالوں کے اس سائے سے ہو رہا تھا جو کسی لامحدود دودھیا روشنی میں ایک لمحے کو نظر آتا اور ایک لمحے کو غائب ہو جاتا۔ آنکھوں سے نیچے بھی وہی چاندنی جیسی دودھیا روشنی تھی۔ اس پورے پس منظر میں صرف ایک منظر پوری قوت سے نمایاں تھا، سرمے کی گاڑھی دیواروں میں خوبصورتی سے سجی دو آنکھیں جن سے زندگی پھوٹ رہی تھی۔ اسے اپنے اندر زندگی کا احساس ہوا تو اس نے جانا کہ ان دو آنکھوں کے نیچے دودھیا روشنی میں شفق رنگ عارض چھپے ہوئے ہیں تاہم اسے کوئی جلدی تھی نہ بے تابی کہ یہ عارض اور ان کی سرخی اپنی آنکھوں میں بھر لے۔ دونوں عارض کے بیچ ایک دل ربا ابھار، اس کے نیچے دو گہری گلابی پنکھڑیاں اپنے سارے رس لئے اس کے شوق کو ابھار رہی ہیں۔وہ ایسی سرشاری میں تھا کہ ان ہونٹوں کو دیکھنے یا چھونے کی طلب بھی کہیں نہیں تھی، اور عجیب تر بات یہ کہ وہ کسی بھی قسم کی محرومی کا کوئی احساس اپنے اندر نہیں پا رہا تھا۔ اسے یوں لگ رہا تھا کہ وہ لب و عارض ازل سے اس کے اندر سمائے ہوئے ہیں۔
پھر اُس نے ایک بہت بڑا پھاٹک دیکھا جو بند تھا۔ اسے اس پر بھی کوئی دکھ یا قلق محسوس نہیں ہوا۔بلند دیوار جس میں پھاٹک بنا تھا، دونوں طرف حدِ نظر سے بھی باہر تک پھیلی ہوئی ہو گی مگر روشنی کی چادر جو اُن دو آنکھوں کے گرد حمائل تھی اس نے دیوار کو بھی چھپا لیا ۔ وہ آنکھیں اب اسے بڑے دروازے کے اوپر سے دیکھ رہی تھیں۔ اسے تو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ ان آنکھوں کو کس انداز میں دیکھ رہا ہے۔ خبر اور بے خبری کے بین بین اسے محسوس ہوا کہ وہ آنکھیں کچھ کہہ رہی ہیں۔ وہ سماعت کے بوجھ سے بھی بے نیاز ہو چکا تھا۔ یوں بھی آنکھوں کی زبان کانوں سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔ اس کی بصیرت نے سنا کہ وہ دو سرمہ سا، حیات زا آنکھیں کہہ رہی ہیں:’’کہاں ہو تم؟ کہاں رہ گئے ہو؟ میں یہاں تمہاری منتظر ہوں۔‘‘ روشنی کا یہ پیغام اسے مضطرب کر گیا اور وہ اضطراری کیفیت میں آگے کو لپکا۔ اس کا اپنا پورا وجود ایک دم کہیں سے ظاہر ہو گیا تھا۔ وہ تقریباً اڑتا ہوا بڑے دروازے کے سامنے پہنچا۔ پھاٹک بند نہیں تھا، بھِڑا ہوا تھا۔ اس کی غیرمرئی انگلیوں کے مَس ہوتے ہی کھل گیا اور ۔۔۔
۔۔۔ وہ اندر داخل ہوا تو، نہ وہ پھاٹک تھا، نہ بلند و بالا دیواریں۔ وہ ایک گھر کے صحن میں تھا، اس نے اپنے پیچھے چار فٹ کا عام سا دروازہ بند کیا، صحن میں دیکھا کہ کچھ مرغیاں گھر میں اگے موتیے کے اکلوتے پودے کے نیچے دانہ چگ رہی ہیں اور ان کے گرد سفید کلیاں بکھری پڑی ہیں؛ دو میمنے سفید اون کی بے داغ قبائیں پہنے کھلے پھر رہے ہیں۔ یہ ایک گاؤں کا سادہ سا گھر تھا۔ دائیں طرف کھرا تھا، اس سے متصل رسوئی اور سامنے کچی اینٹوں سے بنی تازہ لپی ہوئی ایک دیوار، بائیں طرف دو کمروں کے دروازے جو بھڑے ہوئے تھے۔ نکڑ والے کمرے کے ساتھ سرخ پختہ اینٹوں سے بنی سیڑھی مکان کی چھت پر جا رہی تھی۔ اور کمرے کے چونترے پر کچی مٹی کا چولھا بنا ہوا تھا۔ صحن بھی سارا کچی مٹی اور سفید گارے سے تازہ لپا ہوا تھا اور دیواریں بھی۔ اس نے سوچا مویشی دوسرے احاطے میں بندھے ہوں گے، مگر یہ میمنے؟ یہ اکیلے یہاں کیوں پھر رہے ہیں؟صحن میں ایک چارپائی بچھی تھی، جس کی پائنتی پر ڈبیوں والا کھیس سلیقے سے رکھا تھا اور سرہانے کی طرف ایک بڑا سا گول تکیہ پڑا تھا۔ سارے سوالوں کو جھٹک کر وہ بلا تکلف اس چارپائی پر بیٹھ گیا جیسے یہ اسی کے لئے رکھی ہو۔ بیٹھتے میں اس کی نظر اپنے براق سفید لباس پر پڑی تو اسے لگا کہ اس دودھیا روشنی کا منبع وہ سرمگیں آنکھیں ہیں جو اس نکڑ والے کمرے کو جگمگا رہی ہیں۔ وہ حیرت سے کبھی اپنے ہاتھ پاؤں کی طرف دیکھتا، کبھی چارپائی کی طرف اور کبھی اپنے سفید لباس کی طرف۔ ایسے میں اسے اپنے اندر سے کہیں اٹھتا ہوا مدھم سا ارتعاش محسوس ہوا کہ: ’’کہاں ہو تم؟ کہاں رہ گئے ہو؟ میں یہاں تمہاری منتظر ہوں۔‘‘ اسے معلوم تھا کہ یہ صدا نہیں انہی سرمگیں آنکھوں کی طرف سے آنے والا پیغام ہے۔ اس نے چارپائی سے اٹھنا چاہا تو جیسے وہ آپ سے آپ ہوا میں اٹھ گیا ہو۔
اس کے اپنے لباس کی سفیدی چاندنی کی طرح پھیل گئی، سارا ماحول جیسے اس میں تحلیل ہو گیا اور وہ خود بھی اسی دودھیا ٹھنڈی روشنی کا حصہ بن گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔
محمد یعقوب آسی ۔ 11 ستمبر 2014 ء


سید فصیح احمد ، سید عاطف علی ، نیرنگ خیال ، محمد اسامہ سَرسَری ، محمد خلیل الرحمٰن ، الف عین ، محمد وارث اور جملہ اصحابِ ذوق
 
آخری تدوین:
Top