محبت کے موضوع پر اشعار!

شمشاد

لائبریرین
اک بے پروا نوں دے کے دل اسی دید دا سودا کر بیٹھے
رب چاڑے توڑ محبتاں نوں اسی عشق دا دعوا کر بیٹھے

مکھ یار دا سمجھ قرآن لیا، در یار نوں کعبہ جان لیا
رب بخشے نہ بخشے اودی رضا، اسی یار نوں سجدہ کر بیٹھے

تیری محفل دا عجب دستور ڈِٹا، کوئی سرمد تے منصور ڈِٹا
جہڑے آئے تماشا ویکھن نوں، او اپنا تماشا کر بیٹھے
 

تیشہ

محفلین
اسکی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ہوگا
ایک دن آئے گا وہ شخص ہمارا ہوگا

جس کے ہونے سے میری سانس چلا کرتی تھی
کس طرح اسکے بغیر اپنا گزرا ہوگا
 

شمشاد

لائبریرین
دل میں نہ ہو جرات تو محبت نہیں ملتی
خیرات میں اتنی بڑی دولت نہیں ملتی

کچھ لوگ یونہی شھر میں ہم سے بھی خفا ہیں
ہر ایک سے اپنی بھی طبیعت نہیں ملتی
(ندا فاضلی)
 

ماوراء

محفلین
محبت اب نہیں ہو گی

ستارے جو دمکتے ہیں
کسی کی چشمِ حیراں میں
ملاقاتیں جو ہوتیں ہیں
جمالِ ابر و باراں میں
یہ ناآباد وقتوں میں
دلِ ناشاد میں ہو گی
محبت اب نہیں ہو گی
یہ کچھ دن بعد ہو گی
گزر جائیں گے جب یہ دن
یہ ان کی یاد میں ہو گی
محبت اب نہیں ہو گی
 

الف نظامی

لائبریرین
جن سے افسانہ ہستی میں تسلسل تھا کبھی
ان محبت کی روایات نے دم توڑ دیا
ہائے آدابِ محبت کے تقاضے ساغر
لب ہلے اور شکایات نے دم توڑ دیا
 
شمشاد نے کہا:
قربتوں میں بھی جدائی کے زمانے مانگے
دل وہ بیمار کہ رونے کے بہانے مانگے

اپنا یہ حال کہ جی ہار چکے لٹ بھی چکے
اور محبت وہی انداز پرانے مانگے
(احمد فراز)

شمشاد پہلے شعر کا دوسرا مصرعہ غلط ہے ، اصل مصرعہ یوں ہے

دل وہ بے مہر کہ رونے کے بہانے مانگے​
اب میری طرف سے ایک شعر

وہ بعض اوقات تو اس طرح ملتا ہے محبت سے
کہ شرم آتی ہے دل کو ہم کسے قاتل سمجھتے ہیں
 

ماوراء

محفلین
زباں ہے تو نظر کوئی نہیں ہے
اندھیرے ہیں سحر کوئی نہیں ہے
محبت میں فقط صحرا ہیں جاناں
محبت میں شجر کوئی نہیں ہے
خموشی چیختی جاتی ہے لیکن
کسی پر بھی اثر کوئی نہیں ہے
بھری بستی میں تنہا کر گئے ہو
کہ جیسے یاں خطر کوئی نہیں ہے
اگر انساں کے بارے پوچھتے ہو
بہت سے ہیں مگر کوئی نہیں ہے
میں اپنے آپ ہی سے ڈر رہا ہوں
مجھے تیرا تو ڈر کوئی نہیں ہے

(فرحت عباس شاہ)
 
ہائے کیا غزل ہے، جب پہلی دفعہ پاکستان سے آیا تھا تو ایک بہت ہی عزیز ہستی نے فرحت عباس شاہ کی ایک کتاب دی تھی ابکے دیکھا تو اس طرح الماری میں پڑی ہے۔ مگر پڑھ نہ سکا۔ حیف
 

ماوراء

محفلین
عزیز ہستی نے کتاب دی تھی۔۔۔اور پڑھ نہ سکے۔۔۔ :( :?

ہے تم سے محبت تو شکایت بھی ہے تم سے
غیروں سے نہ شکوہ نہ شکایت نہ گلہ ہے​
 

الف نظامی

لائبریرین
ترے فیضانِ محبت ترے اکرام کے بعد
اور اللہ سے کیا مانگوں اس انعام کے بعد
حسنِ یوسف کے بھی چرچے تھے جہاں میں لیکن
رنگ پر آئی ہے محفل ترے نام کے بعد
اور کیا چاہوں شہ دیں کی محبت کے سوا
اور کیا دیکھوں مدینے کے در وبام کے بعد
 

شمشاد

لائبریرین
اب تک اس کی محبت کا نشہ طاری ہے
پھول باقی نہیں خشبو کا سفر جاری ہے
(شہزاد احمد)
 

شمشاد

لائبریرین
وہ کہ ہر عہدِ محبت سے مکرتا جائے
دل وہ ظالم کہ اسی شخص پہ مرتا جائے

میرے پہلو میں وہ آیا بھی تو خوشبو کیطرح
میں اسے جتنا سمیٹوں وہ بکھرتا جائے

کیوں نہ ہم اس کو دل و جاں سے چاہیں “تشنہ“
وہ جو اک دشمنِ جاں پیار بھی کرتا جائے
(عالم تاب تشنہ)
 
Top