محبت کے موضوع پر اشعار!

نوید ملک

محفلین
محبت مٹ نہیں سکتی مٹانے سے
یہ اپنے چھپ دکھاتی ہے بہانے سے
بھڑکتی آگ تو پانی بجھا دے گا
دھواں چھپتا نہیں ہرگز چھپانے سے
۔۔۔۔۔۔۔
فاخرہ بتول
 

عمر سیف

محفلین
محبت میں فقط صحرا ہیں جاناں
محبت میں شجر کوئی نہیں ہے
خموشی چیختی جاتی ہے لیکن
کسی پر بھی اثر کوئی نہیں ہے
 

تیشہ

محفلین
ابھی محبت نہیں ہوئی تو کچھ اسلئے مسکرا رہے ہو ،
کسی کی بانہوں میں گھر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا

محبتوں میں تو پتھروں کو بھی موم ہوتے سنا ہے لیکن
تمھارے دل پہ اثر ہوا تو محبتوں کا پتہ چلے گا

وہ جسکی خاطر زمانے بھر کو بنا رہے ہو تم اپنا دشمن
وہی نہ اپنا اگر ہوا تو محبتوں کا پتہ چلے گا

بدل بدل کے ابھی تو چہرے معیار اپنا بنا رہے ہو
کوئی نہ حد نظر ہوا تو محبتوں کا پتہ چلے گا

یہ کیا بچھڑنا کہ شام ہوتے ہی اپنے پیاروں میں لوٹ آنا
کبھی جو لمبا سفر ہوا تو محبتوں کا پتہ چلے گا ۔
 

حجاب

محفلین
اخلاص و محبت ، اب افسانوں کی باتیں ہیں
ملتے ہیں کتابوں میں اب اہلِ وفا چہرے ۔۔۔
 

ماوراء

محفلین
اغراض کے لاکھ پردوں میں
الفاظ کے جھوٹے لفظوں میں
ہر شخص محبت کرتا ہے
حالانکہ محبت کچھ بھی نہیں۔​
 

حجاب

محفلین
سب محبت کا اِک پہر ہے۔
٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪

یہ جو پلکوں پہ رم جھم ستاروں کا میلہ سا ہے
یہ جو تیرے بِنا کوئی اتنا اکیلا سا ہے
زندگی تیری یادوں سے مہکا ہوا شہر ہے
سب محبت کا اِک پہر ہے

ساحلوں پہ گھروندے بنائے تھے ہم نے تمہیں یاد ہے
رنگ بارش میں کیسے اُڑائے تھے ہم نے تمہیں یاد ہے
جانے کس کے لئے گھر سجائے تھے ہم نے تمہیں یاد ہے
کوئی خوشبو کا جھونکا ادھر آنکلتا نہیں
گُم ہے میلوں خوابوں خیالوں کا رستہ کہیں
ہر خوشی آتے جاتے ہوئے وقت کی لہر ہے
سب محبت کا اِک پہر ہے

زندگی دھوپ چھاؤں کا اِک کھیل ہے بھیڑ چھٹتی نہیں
اور اِسی کھیل میں دن گزرتا نہیں رات کٹتی نہیں
پیار کرتے ہوئے آدمی کی کبھی عمر گھٹتی نہیں
دل کی دہلیز پر عکس روشن تیرے نام سے
رتجگے آئینوں میں کِھلے ہیں کہیں شام سے
ایک دریا ہے چاروں طرف درمیاں دہر ہے
سب محبت کا اِک پہر ہے۔
٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪
 

حجاب

محفلین
محبت جن سے ہوتی ہے
اُنہیں کھونے کا ڈر ہر وقت
دامن گیر رہتا ہے
یقین کی آخری منزل پر آ کر بھی
کوئی جذبہ کوئی شک
کوئی اندیشہ
بہت بے چین رہتا ہے
محبت جن سے ہوتی ہے
اُنہیں کھونے کا ڈر ہر وقت
دامن گیر رہتا ہے
کہیں یہ وصل کے لمحے
بدل جائیں نہ فرقت میں
کہیں یہ قرب کی گھڑیاں
جدائی میں نہ ڈھل جائیں
کہیں ایسا نہ کہ کوئی اُسکو
بدگماں کردے
کہیں ایسا نہ ہو وہ مہرباں
آنکھیں بدل جائے
کہیں ایسا نہ ہو یہ گرم جوشی
سرد پڑ جائے
تپاکِ جاں سے ملنے کی روِش
یخ بستہ ہو جائے
ادائے دلبرانہ بے رخی کا روپ دھارے
اور دل کا درد بن جائے
محبت جن سے ہوتی ہے
انہیں کھونے کا ڈر ہر وقت
دامن گیر رہتا ہے
کبھی محفل میں سب کے سامنے
وہ احتیاطاً بھی
نظریں چرا جائے
تو دل پر چوٹ لگتی ہے
آنسوؤں کا مئے برستا ہے
کبھی مصروفیت میں فون کی گھنٹی کا
وہ نوٹس نہ لے
اور
رابطے کا سلسلہ موقوف ہوجائے
دھڑک اُٹھتا ہے دل
کیا جانئے کیا ہوگیا اُس کو
توجہ میں کمی کیوں آگئی
کیوں اُس کی جانب
ایک سنّاٹا سا چھایا ہے
جو اپنا اس قدر اپنا تھا
آخر کیوں پرایا ہے
محبت جن سے ہوتی ہے
انہیں کھونے کا ڈر ہر وقت
دامن گیر رہتا ہے
محبت جن سے۔۔۔۔۔۔۔۔
٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪
 

ماوراء

محفلین
زندگی چاہئیے محبت میں
یہ گھڑی دو گھڑی کی بات نہیں
آپ سے کوئی بھی نہیں پہلے
آپ کے بعد کوئی ذات نہیں​
 
Top