کاشفی

محفلین
غزل
(بہزاد لکھنوی)
محبت سے دل کو میں آگاہ کرلوں
ذرا ٹھہرو! ہلکی سی اک آہ کرلوں

بتاؤٖ ذرا میرے ہوجاؤ گے تم
میں دل میں تمہارے اگر راہ کرلوں

مزہ چاہ کرنے کا آجائے مجھ کو
کسی بےوفا سے اگر چاہ کرلوں

اُٹھاؤ نظر، جب ہی الزام دینا
اگر اپنے دل کی میں پرواہ کرلوں

جب ہی آئیں گی لذتیں رہروی کی
ذرا اپنے دل کو میں گمراہ کرلوں

رہِ عشق میں منزل عاشقی کے
تصور ہی کو اپنے ہمراہ کرلوں

اجازت اگر ہو تو بہزادِ مضطر
فقط ایک سجدہ سرِ راہ کرلوں؟

 
Top