قمر جلالوی مجھے باغباں سے گلہ یہ ہے کہ چمن سے بے خبری رہی (قمر جلالوی)

شاہ حسین

محفلین
مجھے باغباں سے گلہ یہ ہے کہ چمن سے بے خبری رہی
کہ ہے نخلِ گلُ کا تو ذکر کیا کوئی شاخ تک نہ ہری رہی

مرا حال دیکھ کے ساقیا کوئی بادہ خوار نہ پی سکا
تِرے جام خالی نہ ہو سکے مِری چشمِ تر نہ بھری رہی

میں قفس کو توڑ کے کیا کروں مجھے رات دن یہ خیال ہے
یہ بہار بھی یوں ہی جائے گی جو یہی شکستہ پری رہی

مجھے علم تیرے جمال کا نہ خبر ہے تیرے جلال کی
یہ کلیم جانے کہ طور پر تری کیسی جلوہ گری رہی

میں ازل سے آیا تو کیا ملا جو میں جاؤں گا تو ملے گا کیا
مری جب بھی در بدری رہی مری اب بھی در بدری رہی

یہی سوچتا ہوں شبِ الم کہ نہ آئے وہ تو ہوا ہے کیا
وہاں جا سکی نہ مری فغاں کہ فغاں کی بے اثری رہی

شبِ وعدہ وہ جو نہ آسکے تو قمر کہوں گا یہ چرخ سے
ترے تارے بھی گئے رائگاں تری چاندنی بھی دھری رہی

است۔اد قم۔ر ج۔لال۔وی
 

محمد وارث

لائبریرین
کیا سلیقے سے ایک استاد (قمر جلالوی) نے ایک دوسرے استاد (سراج دکنی) کی زمین استعمال کی ہے! واہ واہ بہت خوب۔
 

محمد وارث

لائبریرین
شکریہ وارث صاحب ذرا حوالہ دے کر علم میں اضافہ فرمائے

شاہ صاحب، آج اتفاق سے یہ غزل بھی سامنے آ گئی اور آپ کا استفسار بھی :)

استاد قمر جلالوی نے یہ غزل سراج اورنگ آبادی (دکنی) کی مشہور و معروف غزل 'خبر تحیر عشق سن، نہ جنوں رہا، نہ پری رہی' کی زمین میں کہی ہے۔
 

کاشفی

محفلین
بہت عمدہ انتخاب ہے شاہ حسین صاحب۔۔آپ کا شاعرانہ ذوق بہت ہی اعلٰی اور عمدہ ہے۔۔ماشاء اللہ۔
 
Top