لڑکی،بیٹی،ماں،خاتون،بہن،بیوی، عورت،

جاسمن نے 'اشعار اور گانوں کے کھیل' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 8, 2017

  1. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    8,468
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    جشنِ بےچارگی ۔ احسان دانش۔

    ہے داغِ دل اک شام سیہ پوش کا منظر
    تھا ظلمتِ خاموش میں شہزادۂ خاور

    عالم میں مچلنے ہی کو تھے رات کے گیسو
    انوار کے شانوں پہ تھے انوار کے گیسو

    یہ وقت اور اک دخترِ مزدور کی رخصت
    واللہ قیامت تھی قیامت تھی قیامت

    نوشاہ کہ جو سر پہ تھا باندھے ہوئے سہرا
    بھرپور جوانی میں تھا اترا ہوا چہرا

    اندوہ ٹپکتا تھا بشاشت کی نظر سے
    مرجھائے سے رخسار تھے فاقوں کے اثر سے

    کرتا بھی پرانا سا تھا پگڑی بھی پرانی
    مجبور تھی قسمت کے شکنجوں میں جوانی

    نوشاہ کے جو ساتھ آئے تھے دو چار براتی
    ہر اک کی جبیں سے تھی عیاں نیک صفاتی

    توقیر کے، الفت کے، شرافت کے مرقعے
    ایثار کے، ایمان کے، غیرت کے مرقعے

    ہمراہ نفیری تھی نہ باجا تھا نہ تاشا
    آنکھوں میں تھا بے مہریِ عالم کا تماشا

    مجمع تھا یہ جس خستہ و افسردہ مکاں پر
    تھا بھیس میں شادی کے وہاں عالمِ محشر

    دالان تھا گونجا ہوا رونے کی صدا سے
    اک درد ٹپکتا تھا عرقناک ہوا سے

    اماں کی تھی بیٹی کی جدائی سے یہ حالت
    چیخوں میں ڈھلے جاتے تھے جذباتِ محبت

    تھا باپ کا یہ حال کہ اندوہ کا مارا
    اٹھتا تھا تو دیوار کا لیتا تھا سہارا

    وہ آپ کہیں اور تھا اور جان کہیں تھی
    سینے میں کوئی شے تھی جو قابو میں نہیں تھی

    افلاس کے آرے جو جگر کاٹ رہے تھے
    ارمان سب اپنا ہی لہو چاٹ رہے تھے

    لڑکی کا یہ عالم تھا کہ آپے کو سمیٹے
    گڑیا سی بنی بیٹھی تھی چادر کو سمیٹے

    تھی پاؤں میں پازیب نہ پیشانی میں ٹیکا
    اس خاکۂ افلاس کا ہر رنگ تھا پھیکا

    انصافِ زمانہ تھا یا تقدیر کا چکر
    ماں باپ کو آیا نہ تھا جوڑا بھی میسر

    یوں کہنے کو دلہن تھی یہ مزدور کی دختر
    اماں کا دوپٹہ تھا تو ابا کی تھی چادر

    آخر نہ رہا باپ کو جذبات پہ قابو
    تھرانے لگے ہونٹ ٹپکنے لگے آنسو

    کہنے لگا نوشاہ سے اے جانِ پدر سن
    اے وجہِ سکوں، لختِ جگر، نورِ نظر سن

    گرچہ مری نظروں میں ہے تاریک خدائی
    حاضر ہے مری عمر کی معصوم کمائی

    کی لاکھ مگر ایک بھی کام آئی نہ تدبیر
    مجبور ہوں مجبور یہ تقدیر ہے تقدیر

    اس سانولے چہرے میں تقدس کی ضیا ہے
    یہ پیکرِ عفت ہے یہ فانوسِ حیا ہے

    اس کے لئے چکی بھی نئی چیز نہیں ہے
    بیٹی ہے مری دخترِ پرویز نہیں ہے

    غربت میں یہ پیدا ہوئی غربت میں پلی ہے
    خود داری و تہذیب کے سانچے میں ڈھلی ہے

    زنہار یہ زیور کی تمنا نہ کرے گی
    ایسا نہ کرے گی کبھی ایسا نہ کرے گی

    شکوہ اسے تقدیر کا کرنا نہیں آتا
    ادراک کی سرحد سے گزرنا نہیں آتا

    ہے صبر کی خوگر اسے فاقوں کی ہے عادت
    ماں باپ سے پائی ہے وراثت میں قناعت

    اسکی بھی خوشی ہو گی تمہاری جو رضا ہو
    تم اس کے لئے دوسرے درجے پہ خدا ہو

    پھر آ کے کہا بیٹی سے یہ نرم زباں سے
    بچی مری رخصت ہے تو اب باپ سے ماں سے

    اے جانِ پدر دیکھ وفادار ہی رہنا
    آئے جو قیامت بھی تو ہنس کھیل کے سہنا

    دل توڑ نہ دینا کہ خدا ساتھ ہے بیٹی
    لاج اس مری داڑھی کی ترے ہاتھ ہے بیٹی

    آیا جو نظر مجھ کو یہ جانکاہ نظارہ
    احسان نہ آنکھوں کو رہا ضبط کا یارا

    تپنے لگی ہر سانس مری سوزِ نہاں سے
    اتنا ہے مجھے یاد کہ نکلا یہ زباں سے

    اے خالقِ کونین یہ تو نے بھی سنا ہے
    دنیا کا گماں ہے کہ غریبوں کا خدا ہے

    تو جن کا خدا ان کا ہو گردش میں ستارہ
    کیا تیرے کرم کو یہ ستم بھی ہے گوارا؟

    کس طرح نہ ہو دل کو بھلا رنج و محن دیکھ
    مزدور کے اس زندہ جنازے کا کفن دیکھ

    احساس کبھی دل سے جدا ہو نہیں سکتا
    انسان ہے انسان، خدا ہو نہیں سکتا

    احسان دانش۔​
     
    • زبردست زبردست × 2
  2. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    13,048
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    صبح کا جھرنا ہمیشہ ہنسنے والی عورتیں
    جھٹپٹے کی ندیاں خاموش گہری عورتیں

    معتدل کر دیتی ہیں یہ سرد موسم کا مزاج
    برف کے ٹیلوں پہ چڑھتی دھوپ جیسی عورتیں
    بشیر بدر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  3. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    13,048
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    جہالت کے زمانوں میں
    سنا ہے باپ بیٹی کو
    وہ پیدائش پہ بیٹی کی
    گھروں سے دور لے جا کر
    کہیں پر کاٹ دیتے تھے
    یا پھر وہ دور بستی سے
    وہ لے کر ساتھ بیٹی کو
    زمیں میں گاڑ دیتے تھے
    رسول اللہ نے پھر آ کر
    دیا اکرام بیٹی کو
    بتا کر شان بیٹی کی
    بنا کر آن بیٹی کو
    دیا انعام بیٹی کو
    مری بستی میں اب لوگو
    سنا ہے لوگ کہتے ہیں
    جہالت کا زمانہ وہ
    کہیں بہتر تھا اس دن سے
    یہاں تو بیچ بستی میں
    کوئی بھی بھیڑیا آ کر
    اٹھا کر گھر سے بیٹی کو
    وہ جا کر نوچ کھاتا ہے
    جہالت کے زمانوں میں
    فقط وہ جسم کھوتی تھی
    مگر اس دور میں بیٹی
    جگر سے روح سے چھلنی
    سجائے خواب آنکھوں میں
    ہوس کے ہاتھوں مرتی ہے
    جہالت کے زمانوں میں
    پکڑ کر ہاتھ میں گڑیا
    وہ بابا سنگ جاتی تھی
    زمیں میں گاڑی جاتی تھی
    مگر جدت پہ لعنت ہو
    کوئی بھی بھیڑیا اٹھ کر
    وہ لالچ دے کے ٹافی کا
    اسے پھر نوچ کھاتا ہے
    اگر وہ جان سے مارے
    تو پھر بھی صبر آ جائے
    مگر وہ جہل کا وارث
    بدن سے روح کو نوچے
    حیا کو بے ردا کر دے
    ہوس کی آگ کا بندہ
    وفا کو ہی تبا کر دے
    سنو اے منصفو تم بھی
    مرے اے حاکموں تم بھی
    تمہارے عہد میں گر یہ
    درندے اس طرح آ کر
    مری کلیاں اجاڑیں گے
    ہوس کے زہر کو پھر یہ
    رگ و پے میں اتاریں گے
    تو پھر یہ جان لو تم بھی
    تمہارے اقتداروں کو
    کوئی بھی معجزہ آ کر
    وہ دائم رکھ نہیں سکتا
    تمہارے کھیت کا خوشہ
    کوئی بھی پک نہیں سکتا
    کوئی بھی دور تنگی کو
    کبھی بھی رکھ نہیں سکتا
    سنو جس دور میں بیٹی
    سرِ بازار لٹ جائے
    سنو اس قوم کے منصف
    پہ لازم ہے کہ مر جائے..!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  4. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    13,048
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    خدائے ارض! میں بیٹی کے خواب کات سکوں
    تو میرے کھیت میں اتنی کپاس رہنے دے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    13,048
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    پھول خوشبو ان پہ اڑتی تتلیوں کی خیر ہو
    سب کے آنگن میں چہکتی بیٹیوں کی خیر ہو

    چنریوں میں خواب لے کر چل پڑی ہیں بیٹیاں
    ان پرائے دیس جاتی ڈولیوں کی خیر ہو

    احمد سجاد بابر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  6. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    2,983
    بہت اچھا ہو اگر بیٹیاں پیدا نہ ہوں
    اگر اسی طرح ان کے ساتھ ہونا ہے
    کبھی سسکنا ہے کبھی رونا ہے
    کسی کی مار سہنا ہے
    کسی کی گھورتی نظریں
    کسی ماں کے ماتھے پر
    یہ ہیں فکر کی شکنیں
    اس سے تو بہتر ہے
    کہ بیٹیاں پیدا نہ ہوں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    13,048
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    اوٹ میں پھر چھپا لیا ماں نے
    لاش ماں کی گری دلارے پر
    احمد سجاد بابر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    13,048
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    میں نے کل شب چاہتوں کی سب کتابیں پھاڑ دیں
    صرف اک کاغذ پہ لکھا لفظ ماں رہنے دیا
    منور رانا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر