لڑکی،بیٹی،ماں،خاتون،بہن،بیوی، عورت،

جاسمن نے 'اشعار اور گانوں کے کھیل' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 8, 2017

  1. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    13,048
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے ایک لڑی۔
    یہاں ہم ایسی شاعری شئیر کریں گے جو خواتین ،لڑکیوں،بیٹیوں ،بہنوں وغیرہ سے متعلق ہو گی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
  2. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    13,048
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    بھلا کیا دکھ کے آنگن میں سلگتی لڑکیاں جانیں
    کہیں چھُپتے ہیں آنسو آنچلوں میں منہ چھُپانے سے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 8
  3. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,781
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    دادا مرحوم نے میری پھوپھی مرحومہ کی رخصتی پر یہ نظم لکھی تھی جو کسی باپ کے بیٹی کی رخصتی پر جذبات کا مکمل اظہاریہ ہے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  4. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    13,048
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    بیٹیاں پھول ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔محمود شام(مجموعہ:قربانیوں کا موسم)
    پھُول جب شاخ سے کٹتا ہے،بِکھر جاتا ہے
    پتّیاں سُوکھتی ہیں، ٹُوٹ کے اُڑ جاتی ہیں
    بیٹیاں پھُول ہیں
    ماں باپ کی شاخوں پہ جنم لیتی ہیں
    ماں کی آنکھوں کی چمک بنتی ہیں
    باپ کے دِل کا سکوں ہوتی ہیں
    گھر کو جنت سا بنا دیتی ہیں
    ہر قدم پیار بِچھا دیتی ہیں
    جب بِچھڑنے کی گھڑی آتی ہے
    غم کے رنگوں میں خُوشی آتی ہے
    ایک گھر میں اُترتی ہے اُداسی لیکن
    دُوسرے گھر کے سنورنے کا یقیں ہوتا تھا
    بیٹیاں پھُول ہیں
    ایک شاخ سے کٹتی ہیں مگر
    سُوکھتی ہیں نہ ٹُوٹتی ہیں
    ا،ک نئی شاخ پہ کچھ اور نئے پُھول
    کھِلا دیتی ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • زبردست زبردست × 1
  5. عبداللہ محمد

    عبداللہ محمد مدیر

    مراسلے:
    10,305
    جھنڈا:
    Pakistan
    شو جی کا پنجابی کلام ہے کہ

    گربھ دتی!!!

    عورت تاں اک اوہ پنچھی ہے
    جس نوں سونے دے پنجرے وچ
    مٹھ ساری بس کنگنی پاکے
    ٹنگ دتا ہے جاندا
    اولھے کندھیاں

    عورت تاں اک اوہ پنچھی ہے
    جس نوں سونے دے پنجرے وچ
    مٹھ ساری بس کنگنی پاکے
    ٹنگ دتا ہے جاندا
    اولھے کندھیاں

    پر ایہ فروی بھولا پنچھی
    کھا کنگنی دے اک دو دانے
    چنجھ بھرپی کے ٹھنڈا پانی
    رہے دعاواں دیندا
    عمروں لمبیاں

    ہے آدم دے کامی پترو
    یاں ایہ پنچھی مار مکاؤ
    یاں اس پنچھی دا کجھ سوچو
    چھڈدیوایہنوں کھلاوو
    وچ جھنگیاں
    الخ
     
    آخری تدوین: ‏مارچ 8, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  6. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    13,048
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    لکھیں:)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  7. عبداللہ محمد

    عبداللہ محمد مدیر

    مراسلے:
    10,305
    جھنڈا:
    Pakistan
    شو جی ہوراں دے ای اک ہور کلام
    "اشتہار"
    صُورت اُس دی پریاں ورگی
    سیرت دی اوہ مریم لگدی
    ہسدی ہے تاں پھل جھڑوے نیں
    ٹردی ھے تاں غزل ہے لگدی
    لَم سلّمی سرو قد دی
    عمر اَجے ہے مر کے اگ دی
    پر نیناں دی گل سمجھدی

    اِک کُڑی جہدا ناں محبت
    گم ہے ، گم ہے ، گم ہے
    ساد مردای ، سوہنی پھبت
    گم ہے ، گم ہے ، گم ہے
    الخ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • غمناک غمناک × 1
  8. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,781
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    یہ نظم دادا مرحوم نے اپنی بیٹی (میری پھوپھی مرحومہ) کی رخصتی کے موقع پر لکھی۔ احبابِ محفل کے ذوق کی نذر:
    رخصتی

    نورِ عینی لختِ دل پاکیزہ سیرت نیک نام
    بنتِ خوش اختر مری ہوتا ہوں تجھ سے ہم کلام
    عقد تیرا کر دیا بر سنتِ خیر الانامؐ
    آج تو ہم سے جدا ہو جائے گی تا وقتِ شام

    دل میں اک طوفانِ غم ہے روح میں اک اضطراب
    ہے طبیعت میں تکدر بے نہایت بے حساب
    آگ سی سینے میں ہے اک ہے جگر میں التہاب
    اک تری فرقت سے اف برپا ہیں کتنے انقلاب

    ہے تری دنیائے دل میں ہر طرف غم کا غبار
    از وفورِ سیلِ غم آنکھیں تری ہیں اشک بار
    چھٹ رہا ہے گھر تری بے چینیوں کا کیا شمار
    لیکن اے بیٹی سنبھل خود کو نہ کر یوں دلفگار

    سن توجہ سے ذرا اے دخترِ شیریں دہن
    باپ کا گھر بیٹیوں کے حق میں ہے مثلِ چمن
    جب جوانی کی بہار آ جائے اے گل پیرہن
    چھوڑنا پڑتا ہے یہ صحنِ چمن بن کر دلہن

    میں خبر دیتا ہوں تجھ کو دخترِ غمگیں مری
    تیرگئ غم کے پس منظر میں ہے اک روشنی
    ساغرِ تلخِ الم میں ہے نہاں کیفِ خوشی
    ختم ہے پامال منزل آگئی منزل نئی

    میہماں تھی تو یہاں اب تجھ کو تیرا گھر ملا
    اب قدم باہر نہ نکلیں جس سے ایسا در ملا
    ایک پاکیزہ گھرانہ نیک دل شوہر ملا
    شکر واجب تجھ پہ ہے سب کچھ تجھے بہتر ملا

    تو کہ تھی محروم لے ماں کی محبت مل گئی
    اپنے والد کی طرح ایک اور شفقت مل گئی
    پانچ بھائی اور دو بہنوں کی الفت مل گئی
    رحمتِ حق سے تجھے ہر شے بکثرت مل گئی

    ہے خسر تیرا سبحان اللہ غلامِ آں رسولؐ
    ایک سادہ دل مسلماں آدمی اک با اصول
    ہو گئیں میری دعائیں سب ترے حق میں قبول
    کیوں نصیبِ دشمناں ہوتی ہے تو اتنی ملول

    رخصتی کو جمع ہیں کیا اقربا کیا دوسرے
    جمگھٹا مردوں کا بھی ہے عورتوں کے بھی پرے
    ماں تری لاؤں کہاں سے جو تجھے رخصت کرے
    اف پرانے زخم دل کے ہو گئے اس دم ہرے

    رخصتی کا مرحلہ لاریب ہے دشوار و سخت
    آ کہ سینہ سے لگا لوں اے مری فرخندہ بخت
    دیر اب کیوں کر رہی ہے لے سنبھال اپنا یہ رخت
    ہو مبارک تجھ کو بیٹی اپنے گھر کا تاج و تخت

    اے مرے نوشاہِ خوش خو اے مرے بیٹے رفیق
    آ کہ پیشانی پہ بوسہ دوں بہ جذباتِ عمیق
    ہے قسم اس ذات کی مجھ کو جو ہے بے حد شفیق
    ہم سفر تو نے جو پایا ہے ہنر مند و خلیق

    ہے دعا گو اب نظرؔ دونوں سدا شاداں رہو
    غم نہ بھٹکے پاس کوئی خوش رہو خنداں رہو
    دہر کی نیرنگیوں میں دین کے خواہاں رہو
    با مراد و کامراں دونوں بہ ہر عنواں رہو

    محمد عبد الحمید صدیقی نظر لکھنوی
     
    • زبردست زبردست × 4
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  9. راحیل فاروق

    راحیل فاروق محفلین

    مراسلے:
    1,323
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Psychedelic
    دوسروں کی شاعری تو ہم پڑھتے نہیں۔ اس لیے اپنی ہی پیشِ خدمت ہے۔
    ماں جی سے ایک شکووں بھرا خطاب۔۔۔
     
    • زبردست زبردست × 5
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  10. ظہیر عباس ورک

    ظہیر عباس ورک محفلین

    مراسلے:
    311
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
    اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

    شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشت خاک اس کی
    کہ ہر شرف ہے اسی درج کا در مکنوں

    مکالمات فلاطوں نہ لکھ سکی ، لیکن
    اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرار افلاطوں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • زبردست زبردست × 1
  11. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,781
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    مولانا حالی کی مشہور نظم

    اے ماؤ! بہنو! بیٹیو! دنیا کی عزت تم سے ہے
    ملکوں کی بستی ہو تمہی، قوموں کی عزت تم سے ہے

    تم گھر کی ہو شہزادیاں، شہروں کی ہو آبادیاں
    غمگیں دلوں کی شادیاں، دُکھ سکھ میں راحت تم سے ہے

    تم ہو تو غربت ہے وطن، تم بن ہے ویرانہ چمن
    ہودیس یا پردیس جینے کی حلاوت تم سے ہے

    نیکی کی تم تصویر ہو، عفت کی تم تدبیر ہو
    ہودین کی تم پاسباں، ایماں سلامت تم سے ہے

    فطرت تمہاری ہے حیا، طینت میں ہے مہر و وفا
    گھٹی میں ہے صبر و رضا، انساں عبارت تم سے ہے

    مونس ہو خاوندوں کی تم، غم خوار فرزندوں کی تم
    تم بن ہے گھر ویران سب‘ گھر بھر میں برکت تم سے ہے

    تم آس ہو بیمار کی ڈھارس ہو تم بیکار کی
    دولت ہو تم نادار کی، عسرت میں عشرت تم سے ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
    • زبردست زبردست × 1
  12. یوسف سلطان

    یوسف سلطان محفلین

    مراسلے:
    3,628
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    مری آنکھوں کی ساری ان کہی پہچان لو گے
    تمھیں بیٹی عطا ہو گی تو سب جان لو گے

    سنہری نظم کالی آستیں میں ٹانک دی ہے
    اب اس ٹوٹے بٹن کا اور کیا تاوان لو گے

    مجھے معلوم ہے تکیے کے نیچے کیا پڑا ہے
    مجھے ڈر ہے کسی دن تم مجھی پر تان لو گے

    بس ایک چھیدوں بھری دانش ہے اور یہ خوش گمانی
    اسی چھلنی میں تم ساری خدائی چھان لو گے

    ستائش کے بھسلواں موڑ میں کچھ حرف زادے
    تمھیں اپنا خدا کہہ دیں تو کیا مان لو گے

    ہماری راہ چل نکلے ہو لیکن یہ نہ سمجھ
    کہ اتنی سہولت سے ہمیں تم آن لو گے

    (حمیدہ شاہین)
     
    آخری تدوین: ‏مارچ 8, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • زبردست زبردست × 1
  13. فہد اشرف

    فہد اشرف محفلین

    مراسلے:
    6,607
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Relaxed
    وہ شاخ ہے نہ پھول اگر تتلیاں نہ ہوں
    وہ گھر بھی کوئی گھر ہے جہاں بچیاں نہ ہوں
    بشیر بدر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  14. فہد اشرف

    فہد اشرف محفلین

    مراسلے:
    6,607
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Relaxed
    اگر بزم ِ انساں میں عورت نہ ہوتی
    خیالوں کی رنگین جنت نہ ہوتی
    ستاروں کے دل کش فسانے نہ ہوتے
    بہاروں کی نازک حقیقت نہ ہوتی
    جبینوں پہ نورِ مسرت نہ ہوتا
    نگاہوں میں شانِ مروت نہ ہوتی
    گھٹاؤں کی آمد کو ساون ترستے
    فضاؤں میں بہکی بغاوت نہ ہوتی
    فقیروں کو عرفان ہستی نہ ملتا
    عطاء زاہدوں کو عبادت نہ ہوتی
    مسافر سدا منزلوں پر بھٹکتے
    سفینوں کو ساحل کی قربت نہ ہوتی
    ہر اک پھول کا رنگ پھیکا سا ہوتا
    نسیمِ بہاراں میں نکہت نہ ہوتی
    خدائی کا انصاف خاموش رہتا
    سنا ہے کسی کی شفاعت نہ ہوتی
    (ساغر صدیقی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 2
  15. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    13,048
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    عورت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیفی اعظمی
    اٹھ میری جان! میرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
    زندگی جہد میں ہے صبر کے قابو میں نہیں
    نبضِ ہستی کا لہو کانپتے آنسو میں نہیں
    اڑنے کھلنے میں ہے نکہت خمِ گیسو میں نہیں
    جنت اک اور ہے جو مرد کے پہلو میں نہیں
    اس کی آزاد روش پر بھی مچلنا ہے تجھے
    اٹھ میری جان! میرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے

    گوشے گوشے میں سلگتی ہے چتا تیرے لئے
    فرض کا بھیس بدلتی ہے قضا تیرے لئے
    قہر ہے تیری ہر اک نرم ادا تیرے لئے
    زہر ہی زہر ہے دنیا کی ہوا تیرے لئے
    رُت بدل ڈال اگر پھلنا پھولنا ہے تجھے
    اٹھ میری جان! میرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے

    قدر اب تک تری تاریخ نے جانی ہی نہیں
    تجھ میں شعلے بھی ہیں، اشک فشانی ہی نہیں
    تو حقیقت بھی ہے دلچسپ کہانی ہی نہیں
    تیری ہستی بھی ہے اک چیز جوانی ہی نہیں
    اپنی تاریخ کا عنوان بدلنا ہے تجھے
    اٹھ میری جان! میرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے

    توڑ کر رسم کے بت بندِ قدامت سے نکل
    ضعفِ عشرت سے نکل وہمِ نزاکت سے نکل
    نفس کے کھینچے ہوئے حلقہء عظمت سے نکل
    قید بن جائے محبت، تو محبت سے نکل
    راہ کا خار ہی کیا گل بھی کچلنا ہے تجھے
    اٹھ میری جان! میرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے

    تو فلاطون و ارسطو ہے، تو زہرہ پروین
    تیرے قبضے میں ہےگردوں تری ٹھوکرمیں زمیں
    ہاں اُٹھا جلد اُٹھا، پائے مقدر سے جبیں
    میں بھی رکنے کا نہیں تو بھی رکنے کا نہیں
    لڑکھڑائے گی کہاں تک کہ سنبھلنا ہے تجھے
    اٹھ میری جان! میرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 2
  16. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,781
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    محبت کی پہلی اَذاں بیٹیاں
    عنایاتِ رَب کی ہے جاں بیٹیاں

    نبیؐ کو سمجھتے ہو گر خوش نصیب !!
    سعادَت کا پھر ہیں نشاں بیٹیاں

    وَہاں رَب کی رَحمت گزرتی نہیں
    جہاں پر بھریں سسکیاں بیٹیاں

    محمدؐ کا پیرو نہ خود کو کہے
    ذِرا بھی ہیں جس پہ گراں بیٹیاں

    مِرے بیٹے یہ کوئی شکوہ نہیں
    ملاتی ہیں پر ہاں میں ہاں بیٹیاں

    ہر اِک آنکھ میں اَشک بھرنے لگیں
    جنازے پہ نوحہ کناں بیٹیاں

    خدا پیار کرتا ہے ماں جیسا قیسؔ
    خدا ہی بناتا ہے ماں بیٹیاں

    شہزاد قیس
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  17. ہادیہ

    ہادیہ محفلین

    مراسلے:
    5,092
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    بیٹیاں سب کے مقدر میں کہاں ہوتی ہیں
    گھر خدا کو جو پسند آئے ، وہاں ہوتی ہیں !
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  18. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    13,048
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    ہم گھرانے کی شان رکھتے ہیں
    بند مٹھی کی آن رکھتے ہیں
    گھر کی عزت کا پاس ہے ورنہ
    ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں
    بیٹی مریم ہے ، بیٹی زہرہ ہے
    بیٹی رحمت ہے ، بیٹی زہرہ ہے
    بیٹی سیتا ہے اور ساوتری
    بیٹی عنوان درس عبرت ہے
    سلیمان خطیب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  19. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    13,048
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    بیٹی اور باپ

    '''''''''''''''''''''''''''
    باپ اور بیٹا
    گھر کے پچھلے لان میں
    کرکٹ کھیل رہے تھے
    کرکٹ کا ماہر تھا والد
    پر بیٹے کا دل رکھنے کو
    جان بوجھ کر ہار رہا تھا
    بیٹا جیت کی سرشاری میں
    خوش تھا ،نعرے مار رہا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سات برس کی پیاری بیٹی
    بینچ پہ بیٹھی
    سارا منظر دیکھ رہی تھی
    وہ ابّو کی ہار مسلسل
    سہہ نہ پائی
    دوڑ کے آئی
    باپ سے لپٹی
    رو کر بولی
    ابّو میرے ساتھ بھی کھیلیں
    آپ کو جتوانے کی خاطر
    میں ہاروں گی

    عرشی ملک
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  20. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    13,048
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    سنا یہ ہے بنا کرتے ہیں جوڑے آسمانوں پر
    تو یہ سمجھیں کہ ہر بیوی بلائے آسمانی ہے
    احمد علوی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر